Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

سیرت ِپاک … ہم سب کیلئے

 

سیرت ِپاک … ہم سب کیلئے

Madinah Madinah

آج دنیا بہت سے لوگوں کے خیال میں بہت ترقی کر چکی ہے ۔ انسان اپنے قدموں سے چاند کی زمین کو روند چکا ہے اور اپنے عزائم سے ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے ۔ راحت وعیش کے سازو سامان کی اتنی فراوانی ہے کہ آج سے پہلے اس کا تصور بھی نا ممکن تھا ۔ یہ بات بھی بڑی حد تک صحیح ہے کہ اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ نے پوری دنیا کو ایک عالمی گائوں میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور مختلف قسم کی سواریوں نے سفر کو اتناآسان کر دیا ہے کہ پہلے لوگوں نے خواب میں بھی ایسا نہیں دیکھا ہو گا ۔

یہ سب کچھ بجا ، لیکن ذرا دیر رکئے اور سوچئے !

یہ سب تصویر کا صرف ایک رخ ہے جس کوکچھ لوگ بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس تصویر کا دوسرا رخ بہت بھیانک اور خوفناک ہے ۔ انسان نے صدیوں لمبا ترقی کا یہ سفر اس لیے کیا تھا کہ اُسے راحت و سکون میسر آجائے اور دنیا کا یہ نعمت کدہ ایک مثالی جگہ بن جائے لیکن پھر کیا ہوا ؟ آج دنیا میں جن ممالک نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے ‘ اُن کی حالت ِ زار کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ اُن کا خاندانی نظام تہس نہس ہو چکا ہے ۔ معاشرہ برائیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ اکثرجوانوں کیلئے سب سے پر کشش کام یہ ہے کہ وہ کسی قاتل اور ڈاکو پیشہ گینگ کے ساتھ وابستہ ہو جائیں ۔ ترقی یافتہ ممالک میں خود کشی کا رجحان باقی دنیا کی نسبت سب سے زیادہ ہے ۔ شراب نوشی ‘ جسم فروشی ‘ قتل و غارت گری سمیت کونسا وہ جرم ہے ‘ جس میں ترقی یافتہ دنیا پیش پیش نہیں ۔ پھر جس چیز کا نام دل کا سکون ہے ‘ اُس کا تو وہاں نام و نشان بھی نہیں ۔ اگر آپ ان سب کے ساتھ اُن مظالم کو بھی ملالیں جو انہوں نے بے کس اور بے بس مسلمانوں پر ڈھائے ہیں تو صاف پتہ چل جائے گا کہ موجودہ ترقی ‘ انسانیت کی ترقی نہیں بلکہ حیوا نیت کا عروج ہے ۔ اس ترقی نے انسانیت کی جھولی میں جو کچھ ڈالا ہے ‘ اُس سے کہیں زیادہ واپس چھین لیا ہے ۔ اس دنیا کی نظریاتی بے بسی کو اقبال مرحوم نے یوں بیان کیا ہے :۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا

آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا

زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

ان سب باتوں کے بعد لازمی طور پر دل و دماغ میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ پھر کامیابی کا راستہ کیا ہے ؟ وہ کونسا طریقۂ زندگی ہے جس پر چل کر انسان ابدی سعادتوں سے بہر ور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی کامیاب و کامران ٹھہر سکتا ہے ۔

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے ہمیں سیرت طیبہ کا مطالعہ پوری یکسوئی سے کرنا ہو گا ۔ یہی وہ بارگاہ ہے جس سے ہمیں نسخہ شفاء مل سکتا ہے اور یہی وہ دربار ہے جہاں راہنمائی کیلئے آنے والا کوئی شخص محروم نہیں لوٹتا ۔سیرت ِ طیبہ کی جامعیت ، ہمہ گیری اور ابدیت ایک ایسا موضوع ہے جس کو بیان کرنے کیلئے پوری ایک کتاب چاہیے لیکن یہاں میں اپنے قارئین کے سامنے عظیم ادیب اور بے مثال سیرت نگار حضرت علامہ سید سلیمان ندوی نو ّراللہ مرقدہ کا وہ طویل اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں جو ہمارے دلوں کی گرہیں کھولنے کیلئے یقینا کافی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :

’’ہر قسم کے صحیح جذبات اور کامل اخلاق کا مجموعہ صرف ’’ محمد رسول اللّٰہ ﷺ ‘‘ کی سیرت ہے ۔ جی ہاں !

٭… اگر دولت مند ہو تو مکہ کے تاجر اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو ۔

٭… اگر غریب ہو تو شعبِ ابی طالب کے قیدی اور مدینہ کے مہمان کی کیفیت سنو ۔

٭… اگر بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو ۔

٭… اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو

٭… اگر فاتح ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پہ نگاہ دوڑائو

٭… اگر تم نے شکست کھائی ہو تو معرکۂ اُحد سے عبرت حاصل کرو ۔

٭… اگر تم استاد اور معلم ہو تو صفہ کی درس گاہ کے معلمِ مقدس کو دیکھو

٭… اگر شاگرد ہو تو روحُ الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جمائو

٭… اگر واعظ و نا صح ہو تو مسجدِ مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو ۔

٭… اگر تنہائی و بے کسی کے عالم میں حق کے فرائض انجام دینا چاہتے ہو تو مکہ کے بے یارو مدد گار نبی کا اسوہ تمہارے سامنے ہے ۔

٭…اگر تم حق کی نصرت کے بعد دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزور بنانا چاہتے ہو تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو ۔

٭…اگر اپنے کاروبار اور دنیاوی جدوجہد کا نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر ، خیبر اور فدک کی زمینوں کے مالک کا نظم و نسق دیکھو ۔

٭… اگر یتیم ہو تو عبداللہ و آمنہ کے جگر گوشہ کو نہ بھولو ۔

٭… اگر بچے ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو ۔

٭… اگر تم جوان ہو تو بصریٰ کے کارواں سالار کی مثالیں ڈھونڈو

٭… اگر عدالت کے قاضی اور پنچائیتوں کے ثالث ہو تو حجرِ اسود کو کعبہ کے گوشے میں نصب کرنے والے مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظرِ انصاف میں شاہ و گدا اور امیر غریب برابر تھے ۔

٭… اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہؓ اور عائشہ ؓ کے مقدس شوہر کی حیات ِ پاک کا مطالعہ کرو ۔

٭… اگر تم اولاد والے ہو تو فاطمہؓ کے ابا اور حسن ؓ و حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو ۔

غرض تم جو کوئی بھی ہو اور جس حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لئے نمونہ ، تمہاری سیرت کی درستی کا سامان ، تمہارے ظلمت خانہ کیلئے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور ’’محمد رسول اللہ ‘‘ کی جامعیت کبریٰ کے خزانے میں ہر وقت اور ہر دم مل سکتا ہے ۔ ‘‘

آئیں ! سیرت طیبہ کا چراغ ہاتھوں میں تھامیں اور گمراہیوں کے اندھیروں سے نکل کر صراطِ مستقیم کے نور تک جا پہنچیں اور یقینا ہماری زندگیوں میں آنے والا ربیع الاول کا یہ مبارک مہینہ اس کا بہترین موقع ہے ۔   

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor