Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

منتظر

 

منتظر

Madinah Madinah

ستائیس اکتوبر کا دن پورے مقبوضہ کشمیر میں، پاکستان میں اور دنیا بھر میں جہاں کہیں کشمیری موجود ہیں، وہ اس دن کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طورپر مناتے ہیں۔ کیونکہ ستائیس اکتوبر تاریخ کا وہ سیاہ ترین دِن ہے جس دن بھارت نے غاصبانہ طور پر اپنی فورسز کو کشمیر میں اُتارا تھا۔حالانکہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ نے استصواب رائے کا حق دے رکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے تازہ ترین حالات کے بارے میں کوئی بھی نہیںجانتا لیکن جو تازہ ترین ذرائع سے خبریں وصول ہو رہی ہیں وہ انتہائی افسوس ناک اور قابل تشویش ہیں۔ بھارتی حکومتی رپورٹ کے مطابق چند روز قبل کشمیر میں بی ڈی کونسل کے انتخابات منعقد ہوئے ، جس کا بائیکاٹ مقبوضہ کشمیر کی بڑی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس نے پہلے ہی کر دیا تھا جبکہ ٹوٹل 316 بلاکس میں سے 307 بلاکس میں انتخابات ہوئے جن کی پولنگ صبح نو بجے سے ایک بجے تک رہی۔ان میں سے ستائیس بلاکس کے امید وار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے اور 81 پر بی جے پی جبکہ 217 سیٹوں پر آزاد امیدواروں کو کامیابی ملی۔اگر ہم اس الیکشن کا جائزہ لیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جب کشمیر بھر میں کرفیو نافذ ہے ، جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں، لوگوں کو زندگی گزارنے کیلئے بنیادی مسائل کا سامنا ہے اور کشمیر کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اس الیکشن کا بائیکاٹ کر رہی ہیں تو یہ انتخابات شفاف کیسے ہو سکتے ہیں؟

کون نہیں جانتا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کو تین مہینے کا طویل عرصہ ہونے والا ہے، بھارتی ظالم مودی سرکار نے عملاً پورے کشمیر کو دُنیا سے الگ تھلگ کررکھا ہے۔ تمام مقامی حریت رہنما جیل میں ہیں یا نظر بندی کی قید میںہیں۔ بہت سے مقامی سیاستدان بھی منظر عام سے غائب کر دیے گئے ہیں اور خود انڈیا کے سیاستدانوں کو کشمیریوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

مقبوضہ وادی کے عوام تو بھارتی قبضے کے اول روز سے ہی مظالم اور پابندیوں کا شکار چلے آ رہے ہیں مگر ، آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد سے تو خصوصاً ان کی ہر طرح سے بے دست وپا بنادیا گیا ہے جس کی وجہ سے عام کشمیری عوام بھی شدید ترین مشکلات میں مبتلا ہوچکے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت کشمیری عوام موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

اس کے علاوہ پوری وادی میں سیشن 144نافذ ہے۔ کشمیری رہنماؤں کی نظر بندی یا گرفتاری کی وجہ سے عام لوگ مزید غصے میں مبتلا ہیں اور بھارت سرکار سے نفرت میں روز بروز اضافہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے، اور بھارت سرکار کشمیری عوام کی اس نفرت اور غصے کو میڈیا پر سخت ترین قدغن کے ذریعے چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔

عالمی برادری بھی اس بار ے میں بہت کچھ جاننے کے باوجود محض سادہ سی بیان بازی کررہی ہے، اور اس وقت اطلاعات ہیں کہ یورپی سیاستدانوں کا ایک گروپ مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھارت میں پہنچا ہوا ہے۔

یورپی پارلیمان کے 28ارکان پر مشتمل یہ گروپ انڈیا میں پہنچا ہے اورانڈیا کی جانب سے آئین کے آرٹیکل370کے خاتمے کے بعد غیر ملکی ممبرانِ پارلیمان کا یہ کشمیر کایہ پہلا دورہ ہوگا۔

اس گروپ نے مودی سے بھی ملاقات کی ہے اور مودی کا جوبیان سامنے آیا ہے وہ یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ عالمی دنیا قابض بھارت اور مقبوضہ وادی کے مظلوموں میں سے کس کو ظالم اور مظلوم یا کس کو دہشت گرداور کس کو دہشت گردی کا شکار سمجھتی ہے۔

ان اراکین سے ملاقات میں مودی نے کہا کہ:

’’دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں اور اس کو فروغ دینے والوں کے خلاف زبردست کارروائی ہونی چاہئے اور ان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہئے‘‘

مودی سرکار کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ وہ ابھی بھی پوری ضداور ہٹ دھرمی کے ساتھ دنیا کے سامنے خود کو مظلوم دِکھا رہی ہے اور اپنی قومی وملی آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے جدو جہد کرنے والی کشمیری قوم کو دہشت گردسمجھ رہی ہے۔

حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی برملا خلاف ورزی ایسی حقیقت ہے کہ جس کااعتراف ایک بار نہیں، بلکہ بار باراقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بھی ہوچکا ہے تو کیا اس کے بعد بھارت کو یہ کہنے کی اجازت ہونی چاہئے؟ لیکن عالم کفر کے باہمی مفادات ایسے جڑے ہوئے ہیں کہ وہ بھارت کی سرکاری دہشت گردی کے واشگاف ہونے کے باوجود اسے دہشت گردی کا مرتکب کہتے ہوئے کتراتے ہیں، تو ایسے میں ان سے کسی خیر کی توقع کہاں تک درست ہوسکتی ہے!!

یورپی پارلیمانی اراکین کا یہ دورہ کس قدر شفاف ہوگا اور بھارتی سرکار اس سے کیا مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے؟ اس کی ایک جھلک ایک برطانوی رکن کے اس بیان سے دیکھیں کہ یہ دورہ شفاف ہے یا بھارتی سرکار کو مزید پاک پوتر دِکھانے کے لیے؟

 برطانیہ میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے مطابق اس کے یورپی پارلیمان کے رکن کرس ڈیوس کو انڈیا نے کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔لیکن ایک بیان میں ڈیوس نے کہا کہ جب انھوں نے زور دیا کہ وہ وہاں مقامی لوگوں سے آزادی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے دعوت نامے کو فوراً واپس لے لیا گیا۔ کرس ڈیوس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’میں مودی حکومت کے لیے تعلقات عامہ بہتر کرنے کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ ہی یہ دکھانے کے لیے کہ سب ٹھیک ہے ۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کشمیر میں جمہوری اصولوں کو توڑا گیا ہے اور دنیا کو اس کا نوٹس لینا ہو گا۔‘‘

گویااس دورے کا ایک مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ مفاداتی زبان استعمال کرتے ہوئے دورے کے بعد ایسے تاثرات کا اظہار کریں جو بھارت کے لیے کسی بھی بڑے خطرے پر مشتمل نہ ہوں اور یوں عالمی برادری بھی یہ کہہ سکے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کوئی بڑا ایشو ہے ہی نہیں اور اقوام متحدہ وغیرہ ادارے اگر اس پر کوئی بڑا ایکش نہیں لے رہے تو ان پر بھی تنقید کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

الغرض کہ اس وقت بظاہر تمام زمینی تدابیر اور نقشے مظلوم کشمیریوں کے خلاف ہیں مگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہیں، وہ تو کل کائنات کا رب ہے، وہی رات کی جگہ دن کا نکالتا ہے، وہی اندھیرے کی جگہ روشنی لاتا ہے، وہی زندگی اور موت کا مالک ہے، وہی بنجر زمین کو بارش برسا کر سرسبز و شاداب بنادیتا ہے، وہ بے جان پانی کے قطروں سے زندہ خوبصورت انسان کو پیدا کرتا ہے، تو وہ یقینا اس پر بھی قادر ہے کہ اپنے ایمان والے بندوں پر آئی مشکلات کو دور کرے اور ان کے لیے اپنی جانب سے کوئی حمایتی اور مددگار کھڑا کردے اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ایسا ضرورہوگا،ہم بھی منتظر ہیں، اہل کشمیر بھی منتظر ہیںاور دشمن بھی منتظر رہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor