Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

عمر عمر ہے

 

عمر عمر ہے

Madinah Madinah

اَللہ تعالیٰ کا شکر اور اِحسان کہ اُس نے ہمیں ایک بار پھر دِکھایا کہ اِسلامی معاشرے کو لبرل ازم ، مداہنت، عدمِ تشدد، برداشت اور بے حمیتی کے جتنے بھی رنگ چڑھا لئے جائیں جونہی غیرت، محبت اور عزیمت کا کوئی ستارہ چمکتا ہے یہ اُمت اُسے فوراً سر آنکھوں پر بٹھا لیتی ہے اور وہ پلک جھپکتے اَکثریت کا ہیرو بن جاتا ہے۔ پھر نہ کوئی اس کی ذات اور قومیت پوچھتا ہے، نہ اس کی مسلکی وابستگی زیرِ بحث آتی ہے، نہ اس کے سیاسی رُجحانات کی تفتیش کی جاتی ہے اور نہ اس کے ظاہری حلیے اور شباہت پر کوئی غور کرتا ہے۔

دیکھئے! ایک کھلنڈرا سا نوجوان چند لمحوں کی غیرت و عزیمت کے سبب اِس قدر معتبر ٹھہرا کہ وقت کے شیخ الاسلام اور فقیہِ زمانہ اس پر اپنا بڑھاپا فدا کرتے دِکھائی دے رہے ہیں اور اس کی رَفاقت کی تمنا کا اِظہار فرما رہے ہیں۔

بے شک اِسلام غیرت، حمیت اور قربانی والا دین ہے، بے شک جہاد اس کی سب سے بلند چوٹی ہے، بے شک کفار سے سختی اس دین کا عظیم شعار ہے لہٰذا جو بھی انہیں اختیار کرتا ہے وہ اس دینی رشتے میں سب سے معزز گردانا جاتا ہے اور سب سے محترم مانا جاتا ہے۔

عمر دھابہ نے ایک حدِ فاصل کھینچ دی اور اس فرق کو مزید واضح کر دیا۔

ایک طرف یہ سوچ ہے کہ ہر وقت ’’ کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ‘‘ وِرد ِزبان رہے۔ وقتی مصلحتیں ، ذاتی مجبوریاں، قانونی قدغنیں ، آئینی جکڑ بندیاں، زمین ، نوکری ، تحفظ اور کفار کے ہاں مقبولیت بس یہ باتیں مطمع نظر ہوں۔ ہر حکم میں رعایت اور رُخصت کی تلاش ہو۔ نفس کی خاطر حدود اللہ اور نصوصِ شریعت میں تاویلات ہوں۔ مکالمہ ہو اور وہ بھی کفار کے مقررکردہ اُصولوں پر نہ کہ اسلام کے تعلیم فرمودہ منہجِ مجادلہ پر۔ بغض فی اللہ کا جذبہ اور اس کا اظہار تو کیا اس کا نام تک نہ لیا جائے، ہر معاملے میں برداشت اور مداہنت کی دعوت ہو۔ کفار کے ان بدبودار اور گندے شنیع اَفعال کو روکنے کے لئے انہی کے قانون کا سہارا لیا جائے۔ ان سے درخواست کی جائے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اسلام ، رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید سے اپنی عداوت ترک کر دیں۔ ان کے وہ آئین جو ان سارے اَفعالِ بد کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہیں، اُنہی سے اس مسئلے کا حل چاہا جائے، عزت اور غیرت کی ہر بات پر جذبات اور ناعاقبت اندیشی کی بھپتی کَسی جائے۔ مسلمان کے اندر سے ردِعمل کا ہر جذبہ اس طرح کھرچ کھرچ کر ختم کر دیا جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اَقدس ، قرآنِ مجید ، شعائر اللہ اور اُمتِ مسلمہ کے اَفراد کے حق میں اَدنیٰ سے اشتعال کابھی شکار نہ ہو۔ اس مقصد کی خاطر اسلام کے منسوخ شدہ اَحکام سے دلیل لینے کی غیر اصولی رَوِش کو اپنایا جائے اور اُمتِ مسلمہ کے ہر طبقے کے ذہن میں بس انہی نصوص کو گھسانے کی ہر کوشش ہو۔

آج سے چند سال قبل ناموسِ رسالت مآب ﷺ کو ایک منظم اور مربوط طریقے سے نشانہ بنانے کے واقعات کا تسلسل، اس کے بعد قرآن مجید کو گستاخی اور بے حرمتی کا نشانہ بنانے کی مہم اور ساتھ ساتھ اُمتِ مسلمہ کے جسد کے کسی عضو پر قتلِ عام اور عزتوں کی پامالی کا سلسلہ، جب جب بھی اس طرح کے واقعات ہوئے یہ طبقہ فوراً سرگرم ہوا اور جس قدر محنت اور کوشش کفار نے ان ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر صَرف کی اس سے دو چند محنت اس طبقے نے اِسلام کی حفاظت کے گمان سے اس بات پر صرف کر ڈالی کہ کوئی مسلمان ان کے ردِعمل میں کوئی غیرت کا قدم نہ اُٹھا لے اور کفار کو تکلیف پہنچا کر کفار کے زیرِ سایہ اَمن و اَمان اور عیش و آرام کے مزے لوٹتے ان اسلام کے نام نہاد خیرخواہوں کا عیش مکدر نہ کر دے۔ اور انہیں کفار کی زبانی کوئی طعنہ اور طنز نہ سننا پڑ جائے۔ یہ کسی ردعمل کا شکار نہ ہو جائیں۔ ان کے معاش پر کوئی بڑا اَثر نہ پڑ جائے اور ان کے بزعم خویش بڑے بڑے کاموں میں کوئی خلل اور رخنہ نہ واقع ہو جائے۔

دوسری طرف وہ چند مسلمان رہے جنہوں نے ہر اس موقع پر وہ طرزِ عمل اپنایا جو اِسلام کا طغرائے اِمتیاز ہے۔ انہوں نے اللہ و رسولﷺ کی ناموس کو اپنی جانوں سے اَولیٰ جانا جیسا کہ قرآن نے انہیں حکم دیا۔ انہوں نے اپنی بے سروسامانی، اپنی عددی قلت، اپنی ظاہری کمزوری کو خاطر میں نہ لایا جیسا کہ انہیں اسلام نے اپنی روشن تاریخ سے سکھایا ہے۔ انہوں نے کمزور ابابیلوں کی طرح اپنی ناتواں چونچوں میں چھوٹے چھوٹے میسر کنکر اُٹھائے اوراَصحابِ فیل پر بَرسا دئیے جیسا کہ انہیں صحابۂ کرام کی معیارِ حق جماعت نے سبق دیا ہے۔ انہوں نے کفار کے بنائے دستور اور آئین کا کمزور اور بے اثر سہارا پکڑنے کی بجائے جہاد کی ’’حبل اللہ المتین‘‘ کو تھاما اور گستاخوں سے باز آنے کی درخواست کرنے کی بجائے انہیں جان کے خوف میں مبتلا کیا اور سخت ردِعمل کا نمونہ دکھا دیا۔

نتیجہ کیا نکلا ؟ …

(۱) پہلے طبقے نے سالہا سال کی محنت سے جو اَثر قلوب و اَذہان پر قائم کیا تھا وہ آناً فاناً تارِ عنکبوت کی طرح اُڑ گیا اور دوسرے طبقے نے ایک قبولِ عام حاصل کر لیا۔ چارلی ہیبڈو پر موت بن کر ٹوٹ پڑنے والے کواشی برادران سے عمر دھابہ تک ایک ہی داستان ہے۔ چند گولیوں کی گھن گرج ، ایک چھوٹے سے دھماکے کی گونج اور دو چار لاتوں گھونسوں کی خفیف سی آہٹ نے پورے فلسفے کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ بڑی بڑی ضخیم تحقیقی کتابیں ، تلبیسات سے پُر مقالات اور فیس بک ٹوئٹر پر چھائے تشکیک کے گہرے بادل ان جہادی آندھیوں میں ایسے بہہ گئے کہ ان کا نام ونشان بھی کہیں باقی نہ رہا اور ہر طرف اہلِ عزیمت کے نعرے گونجے، ان کا نام بلند ہوا، ان کا بول بالا ہوا اور انہیں ایسی عزت اور پذیرائی ملی جس کا عشر عشیر بھی ان ناصحین کو کبھی نصیب نہ ہو سکا۔

(۲) بڑے بڑے مظاہروں، اونچی اونچی عدالتوں میں دائر کئے ہوئے کیس، ایوانوں میں پیش کئے جانے والے میمورنڈم اور عالمی فورمز پر کی گئی گونج دار تقریروں سے ان نتائج کاعشر عشیر بھی بر آمد نہ ہو سکا جو اہل ایمان کی چھوٹی چھوٹی کاروائیوں اور ابابیلوں کی انفرادی کاوشوں سے برآمد ہوا۔

یہ بات محض لفاظی نہیں ۔ آپ تھوڑا سا اپنے ذہن پر زور دیجئے۔ گستاخانہ خاکوں کی مہم کس زوردار انداز میں چل رہی تھی اور یورپ کا ہر ملک اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہا تھا۔ ہر طرح کے مظاہروں اور یادداشتوں کے باوجود سلسلہ رُکنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر زور پکڑ رہا تھا کہ چند نوجوانوں نے کفر کے قلب پر ایک وار کیا۔ کہنے کو تو اس حملے کے بعد ساری دنیا کے کافر حکمرانوں نے مل کر یہ اعلان کیا کہ’’ ہم سب چارلی ہیں‘‘ لیکن جواب میں ایک نحیف اور کمزور سی آواز ہی اٹھی کہ پھر ہم سب بھی کواشی ہیں، جس طرح بھی ہو سکا اور جہاں بھی ہو سکا چارلیوں کو نشانِ عبرت بناتے رہیں گے۔ کیا اس کے بعد یہ مہم اس منظم انداز میں پھر رونما ہو سکی؟ یہی معاملہ قرآن مجید کی بے حرمتی والی منظم مہم کے ساتھ ہوا اور اس کے رد عمل میں افغانستان میں علانیہ طور پر چند کارروائیاں عمل میں آئیں، چند مغربی ممالک کے فوجی قافلے ان کا نشانہ بنے اور مہم دَم توڑ گئی اور کئی ممالک میں باقاعدہ ان دونوں جرائم کی روک تھام کے قوانین بھی بن گئے۔

اس کے بعد ان مہمات کے پس پردہ طاقتور ہاتھوں نے اِکادُکا واقعات کے ذریعے جب بھی اُمتِ مسلمہ کا اس حوالے سے ایمانی درجہ حرارت چیک کرنے کی کوشش کی ان پر یہی آشکار ہوا کہ شیر جاگ رہے ہیں۔

ناروے کے حالیہ واقعہ پر عمر دھابہ نامی نوجوان نے جب اسی طرز عمل کو دُہرایا اور دیکھتے دیکھتے وہ اُمتِ مسلمہ کی آنکھوں کا تارا بن گیا تو اسلام کے نام نہاد وکیلوں کا یہ طبقہ پھر سرگرم ہوا اور نوحہ و بین کرتی ایک تحریر ہر طرف گردش کرنے لگی جس میں یورپی معاشرے کی مدح سرائی اور قصیدہ خوانی کے بعد یہی پیغام تھا کہ ایسا ردِعمل مفید کی بجائے نقصان دِہ ثابت ہو گا اور قرآن مجید کی گستاخی روکنے کے لئے ناروے کے آئین میں مجوزہ ترمیم کا کیس کمزور ہو گا اور گستاخوں کا مقصد پورا ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس طبقے کے ہر فرد نے صحیفۂ آسمانی کی طرح اس تحریر کی ہر طرف تبلیغ شروع کر دی تاکہ ان مسلمانوں کے جذبات پر اوس ڈالی جائے جو اس وقت بیک زبان ’’عمر‘‘ کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے تھے۔ ایک فورم پر اس تحریر پر گرما گرم بحث میں بندہ نے عرض کیا کہ ’’عمر ‘‘ کا عمل ہی اس فعل کا صحیح ترین جواب ہے اور اگر اب کوئی قانون سازی ہوئی بھی تو اس کی بنیاد عمر کے گھونسے اور لاتیں ہوں گی نہ کہ آپ کا درج کرایا ہوا مقدمہ۔ اس پریورپ میں مقیم ایک صاحب نے جو بدقسمتی سے نام کے ساتھ مولانا کا لاحقہ بھی رکھے تھے بندہ کو سخت سست سنائیں اور بات اس پر ختم کی کہ آپ جیسے لوگوں کے ہوتے ہوئے عقل کی کوئی بات فروغ نہیں پا سکتی اور امت کا کوئی مسئلہ خوش اُسلوبی اور امن سے حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے لہجے میں چونکہ ہمارے پیارے مجاہد’’عمر‘‘ کے لئے بھی سخت اَلفاظ تھے اس لئے جواب میں اتنا عرض کر کے اس مجلس سے کنارا کشی اختیار کر لی:

’’اللہ کا شکر ہے جس نے ذلت پستی اور غلامی پر قانع گدھوں کے ساتھ عزت غیرت اور وقار کے ساتھ جینے والے گھوڑے بھی پیدا فرمائے ہیں- جب تک گھوڑا دنیا میں موجود ہے گدھا معزز جانور کا مقام نہیں پاسکتا‘‘ …

الحمد للہ مجاہد ’’عمر ‘‘ نے باعزت رہائی پائی اور قانون بھی بنا جس میں صراحت کے ساتھ لکھا گیا کہ ایسے اَفعال پر چونکہ خونی ردِعمل کا اندیشہ ہے اس لئے انہیں ہر جگہ پر بزور روکنا لازمی ہے۔‘‘

تحریر لکھنے اور ایک مجاہد پر طعن و تشنیع کے نشتر چلانے والے وہ بے شرم صاحب پتا نہیں اب زندہ ہیں یا شرم سے ڈوب کر مر چکے ہیں۔

شیخ الاسلام حضرت اَقدس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ناروے کے واقعہ پر شدید غم و غصے کا اِظہار کیا اور اس نوجوان کو خراجِ تحسین کے چند کلمات لکھ دئیے جس پر انہیں بھی نشانہ بنایا گیا اور وہ تحریر انہیں بھی بھیج کر اس پر غور کرنے کی دعوت دی گئی۔ حضرت نے اس پر جو ایمانی تبصرہ کیا وہ ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔ اس تحریر کو تبرکاً ان کے زریں اَلفاظ پر ختم کر رہا ہوں تاکہ ہر اہلِ دل مسلمان انہیں حرز جان بنائے اور یہ ایمانی جذبہ اپنے اندر پیدا کرے اور ان لوگوں کے لئے یہ الفاظ تازیانہ عبرت سے کم نہیں جن کی سوچ چند الفاظ اور اصطلاحات تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

’’ شکریہ مگر مسلمان اس ’’باشعور معاشرے‘‘ کی کب تک خوشامد کرتے رہیں گے، صرف اس لئے کہ ان کی ملازمت یا کاروبار اس ’’باشعور معاشرے‘‘ سے وابستہ ہے۔تحمل بردباری اور حکمت اچھی صفات ہیں بشرطیکہ وہ مداہنت تک نہ پہنچیں نیز دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دو چیزیں ایسی ہیں جنکی حرمت کے بارے میں ہر مسلمان کا جذباتی ہونا لازم ہے ایک قرآن کریم اور ایک رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ۔اللہ تعالیٰ اُس نوجوان پر اپنی رحمتوں کا سایہ فرمائے جس نے دُنیا کو یہ بتا کر فرضِ کفایہ اَدا کیا۔ کاش اس کے ساتھ میں بھی ہوتا اور اپنا بڑھاپا اُس نوجوان پر قربان کردیتا‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor