Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

تمام جہانوں کیلئے رحمت

 

تمام جہانوں کیلئے رحمت

Madinah Madinah

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسانوں ہی کیلئے رحمت بنا کر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کیلئے سراپا رحمت تھے ، اسی لیے تعلیمات نبوی میں انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ حیوانات کے حقوق بھی بتائے اور سکھائے گئے ہیں ۔ آئیں اس کی چند مثالیں حدیث پاک کی مستند کتابوں سے پڑھتے ہیں :

 رسول اللہ صحابۂ کرامؓ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ مسلمانوں نے ایک مقام پر پڑائو کیا ۔ آپ  ﷺ قضائے حاجت کے لیے گئے ۔ چند صحابہؓ ایک جھنڈمیں داخل ہوئے ۔ انہیں ایک چڑیا نظر آئی جس کے ساتھ دو بچے بھی تھے ۔ انہوں نے وہ دونوں بچے اٹھالیے ۔ چڑیا اُن کے سروں پر اڑنے اور پھڑ پھڑانے لگی ۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ نے یہ دیکھ کر دریافت کیا :

’’ اسے اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے ؟ اس کے بچے اسے واپس کردیجئے ۔ ‘‘

ایک دن رسول اللہ ﷺ نے چیونٹیوں کا جلا ہوا بل دیکھا تو پوچھا :

’’ اسے کس نے آگ لگائی ہے ؟‘‘

ایک صحابیؓ بولے :’’ میں نے ۔ ‘‘

’’آگ کے رب کے علاوہ کوئی آگ کا عذاب دے ، یہ مناسب نہیں ۔ ‘‘ (ابو دائود )

آپ ﷺنے ناراض ہو کر فرمایا ۔

ایک روز رسول اللہ  ﷺ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جس نے ایک بکری کو زمین پر پچھاڑ کر اوپر پائوں رکھا ہوا تھا اور اسی حالت میں چھری تیز کر رہا تھا ۔ بکری کی نظر چھری پر تھی ۔ رسول اللہ  ﷺ نے اسے دیکھا تو سخت غصے میں آکر فرمایا :

’’ آپ اسے کتنی بار مارنا چاہتے ہیں ؟ اسے پچھاڑنے سے پہلے چھری تیز کیوں نہ کر لی ؟‘‘ (مستدرک حاکم)

ایک روز رسول اللہ ﷺ دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو اپنے اپنے اونٹوں پر سوار گپ شپ میں مصروف تھے ۔ آپ کو اونٹوں پر رحم آیا ۔ آپ نے سواریوں کو کرسیاں بنا کر بیٹھ رہنے سے روک دیا ۔ (ابن خز یمہ )

یعنی بوقت ضرورت جانوروں پر سواری کی جائے ۔ سفر تمام ہو تو انہیں سستانے کے لیے چھوڑ دیاجائے

آپ ﷺنے سواری کے منہ پر نشان لگانے سے بھی منع کیا ہے ۔

نبی کریمﷺکے پاس ایک اونٹنی تھی ۔ اس کا نام عضباء تھا۔ مشرکین نے مدینہ کے نواح میں چرتے مسلمانوں کے چند اونٹوں پر ہلہ بول دیا اور انہیں ہانک کر لے گئے۔ عضباء بھی انہی میں تھی۔ انہوں نے ایک مسلمان عورت کو بھی گرفتار کیا اور ساتھ لے گئے ۔ راستے میں جہاں کہیں وہ پڑائو کرتے اونٹوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیتے ۔ ایک منزل پر انہوں نے پڑائو کیا ۔ رات کو سب سو گئے تو عورت نے بھاگنے کی کوشش کی ۔ سواری کے لیے اسے کسی جانور کی ضرورت تھی ۔ وہ اونٹوں کی طرف آئی ۔ جس اونٹ پر بیٹھنے کی کوشش کرتی وہ چلااٹھتا۔ وہ اس ڈر سے ایک ایک کر کے سب اونٹوں کو چھوڑتی گئی کہ قافلے والے جاگ جائیں گے ۔ وہ عضباء کے پاس پہنچی، اسے ہلایا تو وہ ایک مطیع و فرماں بردار اور تربیت یافتہ اونٹنی نکلی ۔ عورت اونٹنی پر سوار ہو گئی اور اس کا رخ مدینے کی جانب پھیر دیا ۔ عضباء تیزی سے سفر طے کرنے لگی ۔ عورت کو جب یقین ہوا کہ وہ دشمنوں کے نرغے سے نکل آئی ہے تو اس نے خوش ہو کر کہا :

’’ اے اللہ ! میں تیرے لیے نذر مانتی ہوں کہ تونے اس اونٹنی پر سوار مجھے دشمن کے گھیرے سے نکال د یا تو میں اس اونٹنی کو نحر (ذبح) کر دوں گی ۔ ‘‘

عورت نجات پاکر مدینہ جا پہنچی ۔ لوگوں نے نبی  ﷺ کی اونٹنی پہچان لی ۔ عورت اپنے گھر پر اتر گئی ۔ لوگوں نے عضباء کو نبی  ﷺ کے گھر پہنچا دیا ۔ وہ عورت گھر سے باہر آئی تو اونٹنی دروازے پر نہیں تھی ۔ وہ اس کی تلاش میں نکلی تاکہ اسے ذبح کر کے اپنی نذر پوری کر سکے۔ ڈھونڈتی ڈھونڈتی نبی  ﷺ کے گھر پہنچ گئی اور آپ کو اپنی نذر سے آگاہ کیا ۔

آپ ﷺنے فرمایا :

’’ اللہ نے تمہیں اس اونٹنی پر نجات دی اور تم نے اس کی وفا کا یہ صلہ دیا کہ اس کو ذبح کرنے کی نذر مان لی۔ اللہ کی نافرمانی میں مانی ہوئی نذر اور اس شے کی نذر کوئی قدروقیمت نہیں رکھتی جو انسان کی ملکیت نہ ہو اور ایسی نذر پوری کرنا بیکار ہے ۔ ‘‘ (مسلم)

رسول اللہ ﷺ جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگایا کرتے تھے ۔ انصار کی ایک عورت نے پیش کش کی :’’ اے اللہ کے رسول  ﷺ ! میں آپ کے بیٹھنے کے لیے کوئی چیز نہ بنوا دوں ؟ میرے پاس ایک بڑھئی غلام ہے ۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا : ’’ اگر آپ چاہتی ہیں توٹھیک ہے ۔‘‘

اس نے ایک منبر بنوا دیا ۔ جمعے کا دن آیا ۔ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو کھجور کا تنا ایسے رونے لگا جیسے بیل ڈکار تا ہو ۔ اس کی آواز سے مسجد گونج اٹھی ۔ نبی  ﷺ منبر سے اترے ، اس سے لپٹ گئے اور اسے پیار کیا۔ کھجور کا تنا اس بچے کی طرح بلکنے لگا جسے تھپکی دے کر چپ کرایا جاتا ہے ۔ آہستہ آہستہ وہ خاموش ہو گیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر میں اس سے نہ لپٹتا تو یہ قیامت تک اسی طرح روتا رہتا ۔ ‘‘ (دارمی )

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor