Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

ریاست ِمدینہ کی خصوصیات اوربنیادی اصول

 

ریاست ِمدینہ کی خصوصیات اوربنیادی اصول

Madinah Madinah

اسلامی نظام ِسیاست ریاست کی تشکیل کے لیے چندزریں اصول فراہم کرتاہے جن کوملحوظ رکھنانہایت ضروری ہے۔ ان اصولوں پرعمل کے نتیجے میںریاست کی منفردپہچان اوراسلامی تشخص واضح ہوتاہے ۔عصرِحاضرمیںانہی اصولوںکی بنیادپرفلاحی ریاست کی تشکیل ممکن ہے۔

ریاست ِمدینہ کی تشکیل میں کارفرما چند اصولوں کامختصرجائزہ حسب ِذیل ہے:

حاکمیت ِاعلیٰ اورنیابت ِارضی کااصول

علم ِسیاست کی اصطلاح میںیہ لفظ اقتدار ِاعلیٰ یااقتدار ِمطلق کے معنی میں مستعمل ہے۔اس حیثیت کے حامل فردیاجماعت کولامحدوداختیارات حاصل ہوتے ہیں۔افراداس کی غیرمشروط اطاعت کے پابنداوران کے حقوق اسی کے مرہون ِمنت ہوتے ہیںجنہیںوہ جب چاہے سلب کرسکتاہے۔وہ تمام قوانین سے ماورااوراس کاحکم دوسروںکے لیے قانون کادرجہ رکھتاہے۔اس کے اپنے ارادہ کے سواکوئی خارجی امریاطاقت اس کے اختیارات کوسلب یامحدود نہیں کرسکتی۔

دیگرنظامہائے سیاست میںیہ مقام کسی فرد ِواحدیاجماعت کوحاصل ہوتاہے لیکن حاکمیت کامفہوم اورخصوصیات اس امرسے مانع ہے کہ یہ مقام فرد ِواحدیاکسی جماعت کے لیے تسلیم کیاجائے۔ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق یہ مقام صرف باری تعالیٰ کوحاصل ہے۔چونکہ وہی خالق ِکائنات ہے اس لیے زمین وآسمان میں حکومت وبادشاہت اسی کوزیباہے۔کلی اقتدارواختیارکامالک ،غیرجوابدہ اورتمام عیوب سے منزہ ومقدس ذات وہی ہے۔قرآن مجیدکی متعددآیات اس حقیقت کوواضح کرتی ہیں۔

بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْْء ٍ وَہُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْْہ’’

جس کے ہاتھ میں ہرچیزکی بادشاہی ہے اوروہ پناہ دیتاہے اوراس کے مقابل کوئی کسی کوپناہ نہیں دے سکتا۔‘‘          

فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ’’

جوچاہتاہے سوکرڈالتاہے۔‘‘

کائنات کی تخلیق اس بات کاتقاضا کرتی ہے کہ اس کا نظم ونسق خالق کی ہی مرضی سے طے ہو۔جس طرح مافوق العادۃ اموراللہ تعالیٰ کی منشاکے مطابق طے پاتے ہیں اسی طرح ماتحت العادۃ اموراس لائق ہیں کہ اسی کی منشاکے مطابق طے کیے جائیں۔چنانچہ حاکمیت واقتداراعلیٰ کے غلبہ اورنفاذ کی خاطرانسان کوبطورخلیفہ ونائب پیداکیاگیاہے جوجملہ قوانین کاپابنداورالٰہی احکام کی تنفیذکے لیے حاکم ِاعلیٰ کادیاہوااختیاراس کے حکم ومنشاکے مطابق استعمال کرسکتاہے۔اس اصول کوخلافت ِارضی سے تعبیرکیاجاتاہے جس کاوعدہ شروع ہی سے تمام نیکوکاروں سے رہاہے۔ارشاد ِربانی ہے:

وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِیْ الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ’’

اورجولوگ تم میں سے ایمان لائے اورنیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کاوعدہ ہے کہ ان کوملک کاحاکم بنادے گاجیساکہ ان سے پہلے لوگوں کوبنایاتھا۔‘‘

آیت میںایمان وعمل ِصالح کے وصف سے متصف افرادکی حکومت کوخلافت سے تعبیرکرنے میں اس امرکی طرف لطیف اشارہ ہے کہ ان کوحاصل قوت واقتدارعطیہ خداوندی ہے جس کااستعمال اسی کے احکام کے مطابق لازم ہے۔آدم علیہ السلام سے لے کرمحمدﷺتک تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کے نائب اورنمائندہ ہونے کی حیثیت سے جلوہ افروزہوئے اوران کے بعدیہ خلافت ارباب ِحل وعقدکوحاصل ہے جنہیں’’اولی الامرمنکم‘‘سے تعبیراوران کی اطاعت کاحکم دیاگیاہے۔تاہم ان کاہرغیرشرعی حکم واجب الردہوگا کیونکہ خالق کی نافرمانی میںمخلوق کی اطاعت کی کوئی حیثیت نہیں۔خلافت ِارضی کے اس اصول کی بناپراسلامی ریاست کے سربراہ کونیابت ِرسول حاصل ہوتی ہے جس کاتقاضاہے کہ سربراہ ِمملکت اپنے اختیارات شریعت کے دائرے میںرہ کرہی استعمال کرسکتاہے۔قانون سازی ہویاقانون پرعمل کسی مرحلہ پرشریعت کوفراموش نہیںکیاجاسکتا۔

معیار ِقیادت واہلیت اورتفویض ِاختیارات

ریاست ِمدینہ کی ایک امتیازی خوبی قیادت واہلیت کااعلیٰ معیارقائم کرناہے۔اہل ِاسلام کاقائدان کابہترین اورفہم وفراست،تقویٰ وللہیت اورصلاحیت کے لحاظ سے فائق ترفردہوتاتھاجس کاہرعمل امت کی فلاح وصلاح کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔خلفاء ِراشدین رضی اللہ عنہم کے ورع وتقویٰ مثالیںتاریخ میںموجودہیںکس طرح اپنی ذات کوپس ِپشت ڈال کرامت کی نفع رسانی میںکوشاںرہتے۔تمام قسم کے تعیشات بالائے طاق رکھ کرسادگی کی اعلیٰ مثال قائم کیں۔دن کونظم ِحکومت اوررات کوعبادت کااہتمام ان کاروزمرہ کاشعارتھا۔یہی وجہ ہے کہ خدائی مددکے بل بوتے ایک فلاحی معاشرے کے قیام میںکامیاب ہوئے۔

قیادت کااعلیٰ معیارطے کرنے کے بعدتفویض ِاختیارات ریاست کی تشکیل کاایک اہم اصول رہاہے۔تفویض ِاختیارات کامطلب یہ ہے کہ حامل ِعہدہ ان اموراورمعاملات میںآزادانہ تصرف کاحقدارہواوروظائف کی ادائیگی میںہروقت امیرکی اجازت کامنتظرنہ ہوجواسے بطورنیابت سربراہ ِمملکت کی جانب سے حاصل ہوئے ہیں۔ریاستی نظم ونسق مقررومعہودطریق پررواں دواںرہنامعاشرتی عدل وانصاف،مساوات،حریت اوربنیادی ضروریات کی تکمیل کاباعث ہے تودوسری جانب ریاستی امورمیںتعطل معاشرے کی زبوں حالی کی عکاسی کرتاہے۔وقت کی قلت،مسائل کااژدہام اس بات کامتقاضی ہے کہ حاکم ِوقت اپنے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرے اورہرایک اپنے اپنے دائرہ کارکی حدتک امور کی انجام دہی یقینی بنائے۔وزیریامعاون ِکارکے تقررکااشارہ موسیٰ علیہ السلام کی باری تعالیٰ سے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو شریک ِکاربنانے کی درخواست سے ملتاہے۔الماوردی تفویض ِاختیارات کی اہمیت کے بارے لکھتے ہیں:

’’و لان ما وکل بہ الی الامام من تدبیر الامۃ لا یقدر علی مباشرۃ جمیعہ الا بالاستنابۃ و نیابۃ الوزیر المشارک  لہ فی التدبیر اصح فی تنفیذ الامور من تفردہ بہا لیستظہر بہ علی نفسہ و بہا یکون ابعد من الزلل و امنع من الخلل‘‘

’’امت کانظم ونسق چلانے کے لیے امام پرجوذمہ داریاں عائدہوتی ہیں بدوں نیابت ان کی ادائیگی ممکن نہیں۔شریک کاروزیرکونائب بناکراختیارسونپنازیادہ درست ہے تاکہ امیرکیلئے سہولت بھی ہواوراس کے ذریعے لغزش اورخلل واقع ہونے سے بچاؤبھی۔‘‘

اصول ِتنقید و محاسبہ اورمعزولی

تنقید،محاسبہ اورمعزولی ایک ہی عمل کے مختلف مراحل ہیں۔تنقید سے شروع ہونے والاعمل محاسبہ کے ذریعے قصوروارثابت ہونے کے نتیجے میںصاحب ِمنصب کی معزولی پراختتام پذیرہوتاہے۔امربالمعروف ونہی عن المنکرکوامت ِمحمدیہ کی بعثت کابنیادی فریضہ قراردیاگیاہے۔

اس اصول کی روسے ہرفردپرلازم ہے کہ بقدراستطاعت برائی کے سدباب میںاپناکرداراداکرے،چنانچہ منکرات پرتنقیدکرناہرفردکاشرعی حق ہے جس کی تصدیق ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:’’من رأی منکم منکرافلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذالک اضعف الایمان‘‘

’’جوتم میں سے برائی دیکھے اسے چاہیے کہ بزور ِبازواسے روکے،اگرایسانہ کرسکے تواسکے خلاف آوازاٹھائے اوراگریہ بھی نہ کرسکے تودل میں اسے براجانے اوریہ ایمان کاکمزورترین درجہ ہے۔‘‘

اسی طرح روایات میںدین ِاسلام کونصیحت سے تعبیرکیاگیاہے اورخیرخواہی کاتقاضاہے کہ جہاں کہیںکوئی منکرسامنے آئے اس کی نشاندہی کی جائے۔اس بناپرریاست ِمدینہ میںہرشخص حکومت پرنظررکھتااورجہاںکوتاہی نظرآتی اس کے حل کی پوری کوشش کرتا۔البتہ اتنی بات ضرورہے کہ تنقیدمخلصانہ اورتعمیری ہونی چاہیے۔تنقیدبرائے تنقیص امور ِسلطنت میںتعطل اورپریشانی کاباعث ہوکربسااوقات معاشرے میںانتشاراورخلفشارپیداکردیتی ہے۔

مختصریہ کہ تنقید،محاسبہ اورمعزولی کاعمل کسی حقیقی مصلحت کی بناپرہوناچاہیے۔ ذاتی مفاد اورضدوعنادکے نتیجے میں کسی اہل اور باصلاحیت شخص کوعہدہ سے سبکدوش کرناناصرف مذموم بلکہ انسانیت کونفع سے محروم کرناہے۔

.........................................................................................

 

گمراہی سے حفاظت، قرضوں کی ادائیگی اور محتاجی سے حفاظت کی دعاء

اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَ رَبَّ الْأَرْضِ وَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، رَبَّنَا وَ رَبَّ کُلِّ شَیْئٍ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَ النَّوَیٰ ، وَ مُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَ الْإِنْجِیْلِ وَ الْفُرْقَانِ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْئٍ اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ  وَ أَنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَ أَنْتَ الظَّاہِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَ أَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْئٌ اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَ أَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ

اے اللہ!آسمانوں کے رب، زمین کے رب ، عرش عظیم کے رب، ہمارے رب اور ہرچیز کے رب، دانے اور گھٹلی کو پھاڑ نے والے، تورات، انجیل اور فرقان (قرآن کریم)کو نازل کرنے والے، میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں ہر چیز کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے۔ اے اللہ! آپ ہی سب سے پہلے ہیں، آپ سے پہلے کچھ نہیں، آپ ہی سب سے آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں، آپ ہی سب پر غالب ہیں ، آپ پر کوئی بھی غالب نہیں، آپ ہی سب سے پوشیدہ ہیں، آپ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں، ہمارے قرضے اداء کرادیجئے اور ہمیں فقر و محتاجی سے بے نیاز اور غنی بنا دیجئے۔ ( مسلم)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor