Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

فضیل بن عیاض اور خلیفہ ہارون الرشید

 

فضیل بن عیاض اور خلیفہ ہارون الرشید

Madinah Madinah

ایمان دل میں جما ہوا ہو، تو دنیا کی بادشاہت اور کوئی بھی رعب داب انسان کو متاثر نہیں کر سکتا۔

خلیفہ ہارون الرشید کے نا م سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو، اپنے وقت میں مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ اس وقت پوری دنیا میں سب سے بڑی سلطنت کا بادشاہ تھا، لوگ اس کے دربار میں پر مارنے سے بھی ڈرتے تھے، بلکہ کتنے ہی لوگ اس دربار میں حاضر ہونے کے لیے تڑپتے تھے، لیکن ایک وقت وہ بھی آیا کہ یہ خلیفہ خود ایک عالم ربانی حضرت فضیل بن عیاض کے پاس حاضر ہوا۔واقعہ کیا ہوا؟ آپ خود راوی کی زبانی سنیے:

فضیل بن ربیع کہتے ہیں کہ ایک شب میں شب باشی کے کپڑے پہن کر سونے ہی لگا تھا کہ اچانک کسی نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے غصے سے پوچھا کہ کون ہے؟

جواب ملا: امیر المومنین آپ کو بلا رہے ہیں

میں جلدی سے باہر نکلا، تو دیکھا خود امیر المومنین سامنے موجود تھے، میں نے کہا: آپ نے کیوں تکلیف کی، مجھے ہی بلا لیتے

امیرالمومنین نے جواب دیا: نہیں ! پریشانی ہی کچھ ایسی تھی کہ مجھے خود آناپڑا۔ اب ایسا کرو کہ کسی عالم ربانی کے پاس لے چلو، جن سے جاکر میں اپنی پریشانی کہہ سکوں۔

فضیل بن ربیع کہتے ہیں کہ: میں خلیفہ کو لے کر فضیل بن عیاض کے پاس چل پڑا

جب ہم وہاں پہنچے تو فضیل بن عیاض نماز میں مشغول تھے اور درج ذیل آیت کریمہ پڑھ رہے تھے:

ترجمہ: ’’وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں، کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اُن جیسا بنا دیں گے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے؟ ایسے لوگوں کی زندگی اور موت برابر ہے، یہ لوگ بہت ہی برا فیصلہ کربیٹھے ہیں‘‘

یہ سن کر خلیفہ نے کہا: اگر ہمیں کسی سے نفع ہو سکتا ہے تو اسی بندے سے ہوسکتا ہے

چنانچہ ان کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، انہوں نے پوچھا: کون ؟

جواب دیا گیا کہ: امیر المومنین حاضر ہیں

فضیل بن عیاض نے اب بھی دروازہ نہیں کھولا، بلکہ کہنے لگے: امیر المومنین کو مجھ سے اور مجھے امیرالمومنین سے کیا کام؟

خلیفہ کے ساتھ موجود قاصد نے کہا: سبحان اللہ! کیا آپ پر امیرالمومنین کی بات ماننا لازم نہیں ہے!( مطلب تمہیں سوال و جواب کرنے کے بجائے فوراً دروازہ کھول دینا چاہیے تھا)

یہ سن کر فضیل بن عیاض نے گھر کا دروازہ کھولا، اور فوراً گھر کے بالائی حصے میں جاکر چراغ بجھا دیا، اور خود ایک کونے میں بیٹھ گئے، سب لوگ ان کو تلاش کرنے لگے ، اسی دوران خود خلیفہ کا ہاتھ انہیں جالگااور جیسے ہی خلیفہ کا ہاتھ انہیں لگا تو انہوں نے کہا:

واہ کتنا ہی نرم ہاتھ ہے ، کاش کہ یہ کل قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے نجات پالے

خلیفہ کہنے لگے: اے فضیل ہم جو ہدیہ آپ کے لیے آج لائے ہیں آپ اسے قبول فرما لیجئے۔

فضیل بن عیاض نے جواب دیا:آپ بھلا کس لئے لائے ہیں؟ آپ تو خود اپنی رعایا کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لادے ہوئے ہیں، بلکہ آپ کے جتنے مشیر و وزیر ہیں ان کے گناہ بھی قیامت کے دن تمہارے گناہوں میں شامل کردیے جائیں گے، کیوں کہ تمہاری قوت اور عدم احتساب کے بل بوتے وہ ظلم ڈھاتے ہیں، پھر افسوس تو اس پر بھی ہے کہ وہ اس سب کے باوجود دیگر لوگوں کی بہ نسبت زیادہ آپ سے بغض رکھتے ہیں، اور قیامت کے دن یہی لوگ تم سے دوردور بھاگیں گے، اور اگر تم ان میں سے کسی سے کوئی ایک بوجھ بھی اٹھانے کا کہو گے ، تو وہ انکار کردے گا۔

اور ہاں جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے تین کبار اہل علم سالم بن عبداللہ، محمد بن کعب اور رجاء بن حیوۃ کو اپنے پاس بلا کر ان سے مشورہ لیا تھا، اس موقع پر سالم بن عبد اللہ نے ان سے کہا تھا: اگر آپ کل قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے سے بڑے ہر مسلمان کو اپنے باپ جیساسمجھ کر ان کے ساتھ اچھا برتاو کرو،اور اپنی عمرکے مسلمانوںکو اپنے بھائیوں جیسا سمجھ کر انہیں عزت دواور چھوٹوں کو اپنی اولاد جیسا سمجھ کران پر شفقت کرو۔

جب کہ رجاء بن حیوۃ نے کہا: اگر آپ کل قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے نجات چاہتے ہیں تو جو کچھ اپنے لیے پسند ہے وہی کچھ باقی سب مسلمانوں کے لیے پسند کرو، اور اپنے لیے جو کچھ ناپسند ہو وہ ان کے لیے بھی پسند نہ کرو، پھر بے فکر ہوجاؤ تمہیں جب بھی موت آئے کوئی پروا نہیں۔

اور اے ہارون ! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس دن کا ہے جس دن لوگوں کے پاؤں پھسل جائیں گے۔

یہ سب سن کر خلیفہ ہارون الرشید رونے لگے۔

ابن ربیع نے فضیل بن عیاض سے کہا: امیر المومنین کے ساتھ کچھ نرمی والا برتاؤ کیجیے

فضیل بن عیاض نے کہا: انہیں قتل تو تم اور تمہارے رفقاء کررہے ہیں اور نرمی کا مجھے کہہ رہے ہو!

پھر فضیل بن عیاض نے خلیفہ ہارون الرشید سے کہا: اے خوبصورت چہرے والے! یاد رکھو کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے تم سے ہی ان بندوں کے بارے میں سوال کرنا ہے، اس لیے اگر اپنے اس خوبصورت چہرے کو جہنم کے عذاب سے بچا سکتے ہو تو بچالو، اور ہاں صبح و شام کسی بھی وقت اپنے دل میں اپنی رعیت میں سے کسی کے بارے میں بھی کھوٹ، اور دغابازی وغیرہ مت رکھنا، کیوں کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ:

’’جو اپنی رعیت کے ساتھ دھوکہ بازی کرنے والابناتو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا‘‘

خلیفہ ہارون الرشید نے حضرت فضیل بن عیاض کے اس رویے سے متاثر ہو کرانہیں کچھ مال بطور ہدیہ پیش کرنا چاہا تو حضرت فضیل بن عیاض نے اسے لینے سے انکار کردیا اور فرمایا: یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میں تو آپ کو نجات کا راستہ بتا رہا ہوں اور آپ مجھے اس کا یہ (ہلاکت کاسبب بننے والا)بدلے دے رہے ہیں؟

الغرض کہ خلیفہ ہارون الرشید ایک ایمان والے عالم ربانی سے ایمان اور تقویٰ کا درس لے کر واپس لوٹے اور وہ عالم ربانی اس بادشاہ کے مال و دولت سے اپنا دامن بچاکر نجات کا راستہ بتا گئے۔

٭…٭…٭

 

حفاظت کے لیے صبح و شام (کم از کم) ایک ایک بار

نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو شخص حم(یعنی سورۃ ا لمومن) کی ابتدائی تین آیات اور آیت الکرسی صبح پڑھ لے وہ شام تک اور جو شام کو پڑھ لے وہ صبح تک حفاظت میں رہے گا۔(بحوالہ: ترمذی شریف)

آیت الکرسی اور سورۃ المؤمن کی ابتدائی تین آیات درج ذیل ہیں:

 اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَيُّ الْقَیُّومُ  لَا تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ  لَّہُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَ مَا فِی الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِندَہُ إِلَّا بِإِذْنِہِ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ  وَلَا یُحِیطُونَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہِ إِلَّا بِمَا شَائَ  وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَ لَا یَئُودُہُ حِفْظُہُمَا وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ( البقرۃ)

حٰمٓ تَنْزِیلُ الْکِتَابِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیزِالْعَلِیمِ غَافِرِالذَّنبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ  لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ  إِلَیْہِ الْمَصِیْرُ(سورۃ المؤمن)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor