Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

مضبوط موقف

 

مضبوط موقف

Madinah Madinah

دوکان میں سوشل ڈسٹنس کی پابندی لازمی نہیں مسجد میں لازمی ہے۔

مارکیٹ میں اندھا دھند رش سے کرونا کا خطرہ نہیں ، مسجد میں صفوں کے درمیان فاصلہ نہ ہوا اور نمازی ساتھ کھڑے ہوئے تو مرض پھیل جائے گا۔

جمعہ کی نماز کے لئے طے شدہ معاہدے کی پابندی لازمی ہے اور اس کی خلاف ورزی قابل دست اندازی پولیس جرم ہے جبکہ جلوس کے لئے سرے سے کوئی ایس او پیز ہیں ہی نہیں۔

مارکیٹ کمیٹی سے شورٹی بانڈ نہیں مانگے گئے جو طے شدہ ضابطے کی خلاف ورزی پر ضبط کر لئے جائیں لیکن مسجد کمیٹی اور امام مسجد کے لئے لازمی ہے کہ وہ شورٹی بانڈ جمع کرائیں۔

جلوس میں لاک ڈاؤن کی دھجیاں بکھیر دی گئیں لیکن کوئی زنانہ مردانہ یا درمیانہ ایس ایچ او اپنا چشمہ تڑوا کر مظلومیت کا استعارہ بننے وہاں نہیں پہنچا۔ مساجد کے باہر ہر نماز کے وقت اس مقصد کے لئے مستعد اور چوکس کھڑے رہتے ہیں۔

سبزی منڈی ، سپر سٹور اور جانور منڈی کھل گئی ہیں لیکن مدرسہ نہیں کھل سکتا…

جلوس آزاد ہو گئے ہیں لیکن اعتکاف پر قدغن باقی ہے…

عید کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کھولی جا رہی ہے جس میں آزادانہ نقل و حرکت ہو گی لیکن نماز عید پر ایس او پیز کی تلوار لٹکتی رہے گی۔

لیکن آپ اس سب پر سوال نہیں اٹھا سکتے اور اگر اٹھائیں گے بھی تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگے گی۔ میڈیا آپ کو ہی مذاق بنا کر رکھ دے گا۔ آپ نماز کے لئے ان کی مرضی کا معاہدہ کر کے بھی میڈیا پر دفاعی پوزیشن میں تھے اور ہر جنس کے اینکروں کی یلغاروں میں اپنی آواز سنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب آپ میڈیا، حکومت ، انتظامیہ سب کا دوغلا پن آشکار کرنے کے لئے شور کر رہے ہیں لیکن صدا بصحرا ثابت ہو رہا ہے…

کیوں ؟؟ …

اس لئے کہ دین کے ایک محکم فریضے ’’جہاد‘‘ پر شرعی اور آئینی ترتیب کے مطابق عمل کرنے والے آپ کے اپنوں کو کالعدم قرار دے کر ان پر ظلم توڑا گیا تھا آپ خاموش رہے تاکہ مسجد اور مدرسے کو کچھ نہ ہو۔ ابھی چند ماہ پہلے آپ نے ہی مدرسے مدرسے میں فرق کر دیا۔ کچھ مدارس پر ملکیت کے بورڈ لگ گئے، اساتذہ سے ناروا سلوک ہوا، ان سے جبراً کوائف لئے گئے۔ مساجد کو مقفل کیا گیا آپ صرف خاموش نہیں رہے بلکہ یوں کہہ کر گزر گئے کہ یہ تو فلاں فلاں کے ہیں ہمارے تو محفوظ ہیں۔ اب وہ بھی ان کے ساتھ بند ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ ہوا کسی کی نہیں ہوتی سب کے چراغ برابر بجھاتی ہے۔

آج معاہدے کی بابت بات اس لئے باوزن نہیں ہو گی کہ اساطین امت کے خون اور قاتلوں کی آزادی پر بھی تو خاموشی اختیار رکھی گئی تھی۔حدود بل جیسے اہم شرعی معاملہ پر مسلسل آوازاُٹھائے رکھنے کے اپنے عہد کو پورا نہیں کیاگیا اور خاموشی اختیار کرلی گئی تھی۔ جن پر ایک وقت میں گزر رہی ہوتی ہے وہ برداشت کرتے ہیں بددعاء نہیں دیتے کہ کسی اور پر بھی گزرے لیکن خاموشی اور بے رخی اختیار کرنے والوں کا عمل خود ان کے لئے بددعاء بن کر ان کا پیچھا کرتا ہے تاوقتیکہ انہیں بھی لپیٹ میں لے لے۔ جو اپنا بازوئے شمشیر خود کاٹ کر دشمن کے سامنے پھینک دے اور اپنی مزاحمتی قوت سے خود دستبرداری کا اعلان کر دے اس قوم کے ساتھ اس کے علاوہ اور کیا پیش آ سکتا ہے۔ کیا تاریخ میں یہ مثال بار بار نہیں دہرائی گئی؟؟ کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟ کوئی ہے جو عبرت پکڑے …

جلتے گھر کو دیکھنے والو! پھوس کا چھپر آپ کا ہے

آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے ، آگے مقدر آپ کا ہے

اس کے قتل پر میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا

میرے قتل پر آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے

٭…٭…٭

عوام میں شدید بے چینی ہے، وہ علماء کرام کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ایک متفقہ لائحہ عمل کے انتظار میں ہیں۔ مساجد میں نماز باجماعت ، جمعہ اور اعتکاف سے متعلق جو ضوابط حکومت کے ساتھ طے ہوئے وہ لاک ڈاؤن کے دوران ان فرائض کی ادائیگی سے متعلق تھے۔ حکومت نے جب دیگر شعبوں سے لاک ڈاؤن عملاً اٹھا لیا ہے اور ان پر ایسی کوئی شرائط بھی عائد نہیں کیں تو یہ معاہدہ اس لاک ڈاؤن کے اٹھتے ہی از خود غیر موثر نہیں ہو گیا ؟  اب اس کی پابندی سے متعلق فتوی اور ہدایات کی کیا وہی حیثیت باقی رہے گی یا بدل جائے گی ؟ …

دوسری بات یہ ہے کہ معاہدے کے ایک فریق نے جب بدترین خیانت اور بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک طبقے کی خود ساختہ مذہبی رسومات مکمل سرپرستی اور پروٹوکول میں بغیر ان ضوابط کے ادا کروائی۔ نہ اس پر ان کے خلاف کوئی کاروائی کی اور نہ اس پر کسی تشویش کا اظہار کیا تو یہ معاہدہ اللہ و رسول کی ارشاد فرمودہ عبادات کے حق میں کس طرح باقی رہ سکتا ہے؟ اور دوسرا فریق اس پر عمل کا کیونکر پابند گردانا جائے گا؟ عوام الناس میں خصوصاً دینی طبقے کا ہر وہ فرد جو ان سرکاری اقدامات سے روز اول سے نالاں ہے اور جگہ جگہ دوغلے پن اور بددیانتی کے مناظر دیکھ رہا ہے لیکن صرف علماء کرام کے کہنے پر ان احکامات کی پابندی کر رہا ہے اب اس کی بے چینی عروج پر ہے اور قبل اس کے کہ یہ بے چینی علماء کرام سے عمومی بدظنی اور بے زاری میں بدل جائے اور اس کے دین ، ایمان اور علماء پر اعتماد کی قاتل ثابت ہو علماء کرام کو اس بارے میں ایک متفقہ پالیسی اور موقف زبانی بھی سامنے لانا چاہیے اور اس پر عمل بھی کر کے دکھانا چاہیے۔ عوام الناس کا دین پر قیام اہل علم پر اعتماد کی صورت میں ہی باقی رہ سکتا ہے ورنہ دوسری صورت انہیں دین سے ہی دور کر دیتی ہے۔ لوگ مسجد میں آنا چاہتے ہیں، جمعہ و جماعت کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں، اعتکاف نہ ہو سکنے پر رنجیدہ ہیں۔ ائمہ مساجد کے ساتھ انتظامیہ کے رویے سے نالاں ہیں ایسے میں اگر ہمارا اصرار بھی ان پر یہی رہے کہ وہ سب مسجد سے دوری پر صبر کریں اور ترک جماعت و جمعہ کی عادت بنائے رکھیں تو ان میں رہے سہے دین کا بھی کیا بچے گا؟ …

اب جبکہ حکومت نے ایک بالکل جائز وجہ ایک نئے موقف کی فراہم کر دی ہے تو اس میں تاخیر کرنا دین سے محبت رکھنے والے طبقے کے ساتھ ظلم کے مترادف ہو گا اور دینی قوتوں کو مقتدر حلقوں کے سامنے مزید کمزور کرنے کا باعث بھی جس کا مستقبل میں جو کچھ نقصان ہو گا وہ مخفی نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor