Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

علم حاصل کرو!

 

علم حاصل کرو!

Madinah Madinah

’’ کہہ دیجئے برابر نہیں علم والے اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے ‘‘( سورۃ الزمر ۹)

اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جنہیں علمِ صحیح، علمِ نافع اور اس علم پر عمل کی توفیق ملتی ہے اُن بندوں پر رتبے اور فضیلت میں فائق ہیں جو علم سے محروم یا حاصل شدہ علم  پر عمل سے محروم ہیں…

علم کے ساتھ عمل اور عمل کے ساتھ علم کی شرط کیوں؟

اس لئے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ثابت ہی نہیں ہوتے …

علم بغیر عمل کے فضیلت نہیں، وبال ہے … اور عمل بغیر علم کے ضلال ( گمراہی ) ہے ۔

٭…٭…٭

علم کا حصول فرض ہے …

نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

’’ علم کا طلب کرنا فرض ہے ہر مسلمان پر ‘‘ ( ابن ماجہ)

حدیث مبارکہ میں جس علم کا سیکھنا فرض قرار دیا گیا اور اوپر مذکور آیت مبارکہ میں جس علم کے حاصل کرنے والے لوگوں کو دوسروں سے افضل قرار دیا گیا …

اس سے مراد شریعت کا علم ہے …

یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کا جاننا…

اس سے دنیا جہان کے تمام علوم مراد نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال اور دعوت ہے …

علم کا وہ درجہ جس کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ، فرائض کا علم ہے …

اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو فرض فرمایا… ان کے بارے میں ضروری معلومات کا حاصل کرنا…

سب سے پہلا علم ان کی فرضیت کا جاننا ہے ۔

نماز، روزہ، زکوۃ، حج، جہاد

قرآن مجید میں ان پانچ اعمال کو فرض بتایا گیا…

ہر مسلمان اس بات کو جانے …

دوسرا علم ان سب کے ضروری احکام کا جاننا ہے …

نماز پڑھنے کا جو انسان مکلف ہوا وہ یہ جانے …

کہ

کتنی نمازیں فرض ہیں؟…

ہر نماز کی کتنی رکعات فرض ہیں؟…

ہر رکعت میں کیا کیا افعال فرض ہیں؟…

نماز کے ارکان و شرائط کیا ہیں؟…

اسی طرح روزے کے احکام… زکوۃ و حج کے احکام اور جہاد کے وقت اس کے احکام…

تیسرا علم حرام و حلال کا جاننا ہے …

تاکہ انسان حرام سے بچ سکے اور ان میں مبتلا ہو کر جہنم کی طرف نہ جائے …

اللہ تعالیٰ نے کھانے کی کیا کیا چیزیں حرام کی ہیں؟

پینے میں کیا حلال ہے اور کیا حرام؟…

اعمال میں محرمات کیا کیا ہیں اور اقوال میں کیا کیا؟…

قرآن مجید میں ارشاد ہے :

‘’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ‘‘( التحریم )

حبر الامۃ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی…

’’ خود کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے بچاؤ۔ حرام و حلال کا علم حاصل کر کے اور اپنے گھر والوں کو اُن کا علم دے کر ، اس لئے کہ جو شخص حرام سے نہیں بچتا وہ جہنم کے کنارے پر کھڑا ہے ‘‘ ( اللباب فی شرح الکتاب)

خلاصہ یہ کہ فرائض پر عمل فرض ہے اس لئے ان کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے …

حرام سے بچنا اور خود کو جہنم سے بچانا فرض ہے اس لئے محرّمات کا جاننا بھی فرض ہے …

اور اس فرضیت میں مسلمان مرد و عورتیں…

عوام و خاص سب برابر ہیں…

٭…٭…٭

اس ضروری حصے سے زائد شریعت کا علم حاصل کرنا…

احکام کی جزوی تفاصیل کا جاننا… تاکہ شریعت کے تمام احکام کی حفاظت ہو اور امت کی رہنمائی کی جا سکے ۔

واجب علی الکفایہ ہے …

یعنی مسلمانوں میں اتنے لوگوں کا یہ علوم حاصل کر نا ضروری ہے جو عامۃ المسلمین کی راہنمائی کے لئے کافی ہو سکیں…

ان کی شرعی الجھنوں کو نمٹا سکیں اور انہیں پیش آمدہ مسائل کا صحیح حل بتا سکیں…

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ترجمہ: ’’ ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ ( جہاد کے لئے ) نکلا کرے ، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں ) وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لئے محنت کریں،  اور جب ان کی قوم کے لوگ ( جو جہاد میں گئے ہیں ) ان کے پاس واپس آئیں  تو یہ ان کو متنبہ کریں ، تاکہ وہ ( گناہوں سے ) بچ کر رہیں۔‘‘( سورۃ التوبۃ ۱۲۲)

یہ علوم حاصل کرنے والے لوگ ’’علماء ‘‘ کہلاتے ہیں… ان کا بڑا مقام ہے …

یہ امت کے پیشوا اور سردار ہیں…

انبیاء کرام علیہم السلام کے ورثاء اور بمنزلہ نائبین کے ہیں…

مسلمانوں پر ان کا اکرام و اعزاز واجب ہے …

یہ علماء کرام قرآن مجید … سنت رسول ﷺ …اجماع امت اور قیاس صحیح سے مسائل کا استنباط کرتے ہیں…

اور ان اصول کی روشنی میں امت کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرتے ہیں…

تاکید کے ساتھ مسلمانوں کو حکم ہے کہ مسائل میں ان کی طرف رجوع کیا کریں…

ترجمہ: ’’ لہذا اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو نصیحت کا علم رکھنے والوں سے پوچھ لو‘‘ ( سورۃ الانبیاء ۷)

البتہ ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائے …

نبی کریم ﷺ اس امت کے معلِّم اول ہیں…

‘‘ تعلیم  یعنی علم ’’ بانٹنے کو آپکی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے بتایا گیا ہے …

’’ ویعلمہم الکتاب ‘‘( البقرۃ )

ترجمہ : اور وہ نبی لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیتے ہیں…

اور آپ ﷺ نے خود بھی فرمایا:

’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘

اس لئے علم صحیح وہی ہے جو نبی کریم ﷺ  نے امت کو سکھایا…

اور آپ ﷺ کے شاگردوں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے امت تک پہنچایا…

لہٰذا ’’ عالم ‘‘ وہی شخص کہلائے گا جس کا سلسلۂ تعلم نبی کریم ﷺ تک متصل ہو…

اور اس نے اہل صفہ کی ترتیب پر ’’استاذ ‘‘ سے علم حاصل کیا ہو…

وہ شخص جس نے استاذ سے علم حاصل نہیں کیا…

یا اس کا علم نبی کریم ﷺ کے فرامین کے مطابق نہیں…

اس کا طریق اہل صفہ اور صحابہ کرام جیسا نہیں…

اور اس کی سند نبی کریم ﷺ تک متصل نہ ہو…

وہ نہ عالم ہے اور نہ اس سے علم کا حصول جائز…

نہ اس سے مسئلے کا حل چاہا جائے اور نہ اس کی تشریحات  کو قبول کیا جائے …

اگرچہ القاب میں کتنا بڑا ’’ علامہ ‘‘ اور ڈگریوں میں کتنا بڑا ’’ ڈاکٹر ‘‘ کیوں نہ ہو…

علم کا سلسلہ مسجد نبوی سے چلا تھا…

جس علم کا سلسلہ واپس وہیں نہ لوٹے وہ معتبر نہیں…

٭…٭…٭

علم حاصل کرنا… بہت فضیلت والا کام ہے …

طالب علم اللہ تعالیٰ ا ور رسول اللہ ﷺ کا محبوب ہے …

اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات کا محبوب ہے …

چند روایات ملاحظہ فرمائیں…

(۱)  علمائ، انبیاء کے وارث ہیں…

نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

’’ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ بے شک انبیاء وراثت میں دینار، درہم نہیں چھوڑ گئے ، ان کا ورثہ علم ہے ، لہذا جس نے علم  حاصل کیا اس نے کامل حصہ پایا‘‘ ( مشکوۃ )

(۲) صاحبِ علم عابد سے افضل…

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ عالم ‘‘ کی فضیلت عابد پر ایسے ہے جس طرح چودھویں کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے ‘‘ (مشکوۃ)

دوسری روایت میں ہے :

’’ عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہے جیسی میری فضیلت اس شخص پر جو تم میں کم درجے والا ہو ‘‘ ( مشکوۃ )

(۳) طلب علم کے لئے سفر… راہ جنت

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ‘‘( مشکوۃ )

دوسری روایت ہے :

’’ جو شخص کسی راستے کو ( خواہ چھوٹا ہو یا بڑا) علم دین حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کے راستے پر چلاتا ہے ‘‘( مشکوۃ )

 اور فرمایا :

’’ایک فقیہ شخص، شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے بھاری ہے ‘‘( مشکوۃ )

طالبعلم اور معلم کا اعزاز…

’’فرشتے طالب علم کی رضامندی کے لئے اپنے پروں کو بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے ہر وہ چیز جو آسمانوں کے اندر ہے ( یعنی فرشتے ) اور جو زمین کے اوپر ہے ( یعنی جن و انس ) نے اور مچھلیاں جو پانی کے اندر ہیں دعائے مغفرت کرتی ہیں‘‘( مشکوۃ )

اور فرمایا :

’’بے شک اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتے اور آسمانوں، کا زمینوں کی تمام مخلوقات، یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بل میں اور مچھلیاں پانی میں اس شخص کے لئے دعا کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی ( علم دین ) سکھاتا ہے ۔‘‘ ( مشکوۃ )

’’ علم دین ‘‘ چونکہ ذخیرہ آخرت ہے اس لئے اس کے حصول میں نیت خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کی ہونا لازم ہے …

جو شخص اس علم کو دنیوی غرض مثلاً نام و نمود، مال ، منصب یا کسی بھی دیگر غرض سے حاصل کرتا ہے اس کا یہ علم اس کے لئے وبال بن جاتا ہے …

یہی وہ علم ہے جس سے پناہ مانگی گئی ہے …

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’ جس شخص نے اس علم کو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جاتی ہے اس غرض سے سیکھا کہ اس کے ذریعے دنیا کی متاع حاصل کرے تو قیامت کے دن اسے جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہو گی ‘‘ ( مشکوۃ )

اسی طرح روایات میں ہے کہ جہنم میں سب سے پہلے ڈالے جانے والے تین اشخاص میں سے ایک وہ ہو گا جس نے علم حاصل کیا اور پڑھایا مگر اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ نیت شامل ہو گئی…

اللہ تعالیٰ ہم سب  کی حفاظت فرمائے اور ہمیں علم نافع عطا فرمائے …

٭…٭…٭

آئیے ! بات کا خلاصہ کرتے ہیں…

(۱) فرائض اسلام کا بنیادی علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے …

جن سے اب تک غفلت ہوئی ہے وہ توبہ کریں اور ترتیب بنائیں…

مرد کسی عالم دین سے سیکھیں اور گھر کی عورتوں کو خود سکھائیں…

اور جو مرد اس نیک اور عظیم مقصد کے لئے سفر کر سکتے ہوں وہ بڑا اجر کمائیں…

علم بھی حاصل کریں اور سفر کا ثواب بھی پائیں…

مرکز عثمانؓ و علی ؓ میں پڑھایا جانے والا پندرہ روزہ نصاب ‘ ‘ دورہ اساسیہ ’’ …

اس ضرورت کو بہترین انداز میں پورا کرتا ہے …

یہ نہ سمجھیں کہ طلب علم کے لئے سفر کا ثواب اور طلب علم کے فضائل صرف مدارس کے طلبہ کے ساتھ خاص ہیں…

ایسا نہیں… بلکہ حصول علم کی نیت سے جو شخص بھی چند قدم چل کر جائے گا وہ یہ سارے فضائل پائے گا…

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں آپ سے تشہد سیکھنے کے لئے ملک شام سے آیا ہوں…

حضرت عمرؓ یہ سن کر رو پڑے اور فرمایا:

’’مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے جہنم میں نہ ڈالے گا ‘‘…

(۲) حرام چیزوں کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے …

کہ اس کے بغیر تقویٰ والی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی…

(۳) علم کے بڑے فضائل ہیں… ان فضائل کے حصول کے لئے جس قدر زیادہ ہو سکے علم حاصل کرنے کی حرص کی جائے …

(۴) علماء کرام امت کے پیشوا اور امام ہیں…

ان کی عزت کی جائے … اکرام کیا جائے اور ان سے راہنمائی لی جائے …

(۵) صحیح عالم کی پہچان یہ ہے کہ اس کا علم اور تعلیم نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے پر ہو…

وہ امت میں نئی بات پھیلانے والا نہ ہو…

سلف صالحین کا ناقد نہ ہو…

اور اپنے علم پر عامل ہو…

تقویٰ اور ورع کا رنگ اسکی زندگی پر نمایاں ہو…

ایسے علماء کو پیشوا بنایا جائے …

(۶) خواتین اپنے گھروں میں با حیائ، باپردہ ترتیب میں فرض علم حاصل کریں…

خواہ اپنے مردوں سے یا مستند دینی کتب سے … یا کسی عالمہ سے …

(۷) علم بغیر عمل کے وبال ہے … جو بات علم میں آ جائے اس پر عمل کی فوری ترتیب بنائی جائے اور اس کے خلاف نہ کیا جائے …

 

درود شریف کے دس فوائد

1) …درود شریف پڑھنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہے ۔

 2) …حضور اقدسﷺ پر دورد شریف بھیجنا اللہ تعالیٰ کی رضاء کا سبب ہے ۔

 3) …درود شریف پڑھنے میں اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے عمل سے موافقت ہے ۔

4) …اللہ تعالیٰ کی قربت کا ذریعہ ہے ۔

 5)… حصولِ معرفتِ الٰہی کا زینہ ہے ۔

 6)… ایک دفعہ دورد شریف پڑھنے پر دس رحمتیں نازل ہوتی ہے ۔

 7) …دس گناہ معاف ہوتے ہیں۔

8)… دس درجات بلند ہوتے ہیں۔

9)… جتنا زیادہ درود شریف پڑھا جائے گا، اسی قدر جنت میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت عطاء ہوگی۔

 10) …خواب میں آقائے دو جہاںﷺ کے دیدار کی نعمت ملنے کاسبب ہے۔

 

مصیبت کے وقت پڑھنے جانے والے کلمات

(۱) لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمُ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمُ(صحیح مسلم)

(۲)اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِي إِلٰی نَفْسِي طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَ أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِي کُلَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ (أبو داود)

 باب السلام اور باب الصدیق کا قدیم منظر

توسیع جدید سے پہلے(۱۳۹۹ھ)

تعمیر جدید ابتدائی مراحل میں

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor