Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

السلام علیکم

 

السلام علیکم

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ کی کتنی بے پایاں رحمت اور بے بدل احسان ہے کہ ہمیں آپس میں ملاقات اور بات چیت کے لئے بھی اپنا مبارک نام عطاء فرمایا اور نام بھی کیسا؟…دنیا و آخرت میں سلامتی کا ضامن’’السلام‘‘…

نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث مبارک پڑھئے:’’ السلام اللہ تعالیٰ کا نام ہے، جو اس نے تمہارے درمیان رکھ دیا ہے،اسے باہم خوب پھیلاؤ‘‘ …

یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے، اس لئے نبی کریم ﷺ کی ہر نماز کے بعد کی دعاء یوں منقول ہے:اللہم انت السلام ومنک السلام ( الحدیث)’’ اے اللہ! آپ ’’السلام‘‘ ہیں اورآپ کی طرف سے ہی سلامتی ہے‘‘…

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کے پاس جا کر انہیں سلام کریں۔وہ جو جواب دیں، بس وہی آپ کی اولاد کا باہمی سلام و جواب ہو گا…

حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو کہا: السلام علیکم، جواب میں فرشتوں نے کہا:السلام علیک ورحمۃ اللہ( بخاری)یوں سلام و جواب مقرر ہو گیا…

پھر ہمیں قرآن مجید میں تاکید سے حکم دیاگیا کہ ہم اسے عام کریں اور باہم رواج دیں…

ترجمہ :مومنو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم) یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ شاید تم یاد رکھو ۔(سورہ نور آیت ۲۷)

اور فرشتوں کے اسی عمل کو اختیار کرنے کا بھی حکم کہ جواب بڑھا کر دیں۔جیسا کہ انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کا جواب بڑھا کر دیا۔

ترجمہ:اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ( سورۃ النساء ۸۶)

نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا: اسلام میں بہترین عادات کیا ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا:کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کرو، اسے جانتے ہو یا نہیں…

اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اے لوگو! سلام کو عام کرو،کھانا کھلاؤ،رشتہ داریاں جوڑ کر رکھو،اور راتوں کو جب لوگ سوتے ہوں اٹھ کر نماز پڑھو،سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل کر دئیے جاؤ گے۔

اور ایک روایت میں جنت کے ضامن ان اعمال کا تذکرہ یوں آیا ہے:اے لوگو!سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ اور کفار کی گردنیں اُڑاؤ،جنتوں کے مالک بن جاؤ گے…

اسلامی طریقہ اور شعار یہ ہے کہ دو مسلمان جب بھی آپس میں ملیں تو بات چیت سے پہلے ایک دوسرے کو سلام کریں۔جاہلیت کا دستور یہ تھا کہ لوگ سلام کیا کرتے تھے مگر جب بے تکلفی ہو جاتی اور کسی سے میل جول بڑھ جاتا اس سے سلام کرنا اور گھر آنے سے پہلے دستک دے کر اجازت طلب کرنا بند کردیتے تھے…یوں جب کسی دوست یا رشتہ دار کے گھر جاتے تو اندر جا کر بتاتے کہ میں آ گیا ہوں۔نبی کریم ﷺ کے ساتھ بھی لوگوں نے ایسا معاملہ کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا۔

شریعت میں ’’استیذان ‘‘ یعنی کسی کے گھر داخل ہونے کے لئے دستک دینا اور اجازت طلب کرنا لازم قرار دیا گیا اور اس کی سخت تاکید وارد ہوئی اور آشنائی کے بعد سلام ترک کر دینے کی روش کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی تاکہ اسلامی معاشرے میں سلامتی کی دعا اور محبت کے اس تحفے کا رواج برقرار رہے اور ماحول اس کی وجہ سے برکت اور سلامتی سے پُر رہے۔

اس لئے فرمایا:’’جو شخص تم سے سلام کئے بغیر کلام شروع کر دے اسے جواب نہ دو‘‘…

ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اخلاق سے تخلق کریں یعنی انہیں اپنائیں اور سلام اللہ تعالیٰ کا اسم شریف بھی ہے اور عمل بھی…یوں اسے اپنا کر ہم گویا اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنانے والے بن جائیں گے۔’’سلام فرمان ہو گا رب رحیم کی طرف سے‘‘ (یس)یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کو انہی الفاظ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔

ہمیں نبی کریم ﷺ کی مبارک عادات کو اپنانے کا حکم ہے اور سلام کرنا آپ ﷺ کی دائمی عادت مبارکہ بھی ہے اور تاکیدی حکم بھی۔’’تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک مومن نہ بن جاؤ اور (کامل) مومن نہیں بن سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔کیا تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جسے کرنے لگو تو تمہاری آپس میں محبت ہو جائے؟…’’باہم سلام کو عام کرو‘‘…

حضرات صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بھی تشریف لاتے سلام فرماتے اور اگر مجلس بڑی ہوتی تو تین بار دہراتے تاکہ ہر طرف کے لوگوں کو آواز چلی جائے۔حتی کہ رات کو آخری پہر جب آپ مسجد میں تشریف لاتے تو بھی اتنی آواز میں سلام فرماتے کہ جاگنے والے سن لیں اور سننے والوں کی نیند میں خلل نہ آئے۔

اور دیکھئے یہ تو زندوں کے ساتھ معاملہ ہوا ۔نبی کریم ﷺ کا گذر جب قبور پر ہوتا تو ان مسلمانوں کو بھی سلام کے لفظ سے ہی خطاب فرماتے جو دنیا سے جا چکے ہیں۔’’ السلام علیکم دار قوم مومنین‘‘اور آپ ﷺ کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے حکم کا امتثال تھا:’’(اے نبی) جب آپ کے پاس ایمان والے آئیں تو کہئے ’’سلام علیکم‘‘ ( الانعام)اس لئے آپ ﷺ نے سلام کی عادت کو اختیار فرمایا اور اپنی امت کو ہمیشہ رحمت کی اس دعا سے نوازا۔

صحابہ کرام کو اشتیاق رہتا تھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی اس دعاء کو زیادہ سے زیادہ حاصل کریں، اس لئے بسا اوقات جب آپ ﷺ کسی کے گھر تشریف لے جا کر دستک دیتے اور سلام کر کے اندر آنے کی اجازت طلب فرماتے، تو اہل خانہ اس نیت سے کہ آپ ﷺ بار بار انہیں سلام فرمائیں، جان بوجھ کر آہستہ جواب دیتے تاکہ آپ ﷺ تک آواز نہ پہنچے اورآپ بار بار سلام فرمائیں۔

فرشتے اللہ تعالیٰ کی مقرب اور نورانی مخلوق ہیں۔ہر طرح کی نافرمانیوں سے پاک اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول۔سلام کہنا ان کا بھی عمل ہے،یوں سلام کہنے والا ملکوتی صفات سے بھی متصف ہو جاتا ہے۔دیکھئے قرآن مجید میں ان کا عمل مذکور ہے۔دنیا میں جب وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس آئے تو کیا کہا؟’’ جب وہ (ابراہیم) کے گھر آئے تو کہا ( سلاماً) سلامتی ہو تم پر‘‘ ( الذاریات ) اورآخرت میں اہل جنت سے وہ کس طرح مخاطب ہوں گے؟’’سلام علیکم طبتم‘‘’’سلام علیکم بما صبرتم‘‘اور پھر دیکھئے! جنت میں سلام کا ماحول ہو گا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام،فرشتوں کی طرف سے سلام اور آپس میں بھی ہر وقت سلام سلام …

ترجمہ:’’ (اور یہ اہل جنت) نہیں سنیں گے جنت میں فضول بات اور نہ ہی گناہ کی بات،مگر ہر طرف کہا جانا سلام سلام۔‘‘ ( سورۃ الواقعہ)یعنی سلام ہی سلام ہو گا، کوئی لغو اور بری بات نہ ہو گی۔

اب سوچئے جو معاشرہ سلام سلام کی آواز میں گونجتارہے اور اس میں سلام کا رواج ہو جنت نظیر بن جائے گا یا نہیں؟…ایک ایسا معاشرہ جو باہمی دشمنیوں سے اَٹا ہوا، قتل و غارت اور بغض و عناد سے بھرا ہوا تھا،اس میں سلام کا چلن ہوا تو وہی معاشرہ قیامت تک کے لئے محبت ،ایثار اور اخوت کی بے مثل مثال بن گیا اور آج ہر طرف سلامتی سے محرومی ہے، حسد، بغض اور عناد کا دور دورہ ہے،نفرتوں کا چلن ہے اور دل کٹے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے اس عظیم تحفے کی ناقدری نہیں تو اور کیا ہے؟…

گھروں میں سلام کا رواج نہیں، ایک ماحول میں رہنے والے لوگ کچھ دنوں بعد ایک دوسرے کو سلام کرنا بند کر دیتے ہیں،بالکل دور جاہلیت کے طریقے کے مطابق ، مساجد و مدارس میں سلام کا عمل متروک ہوتا جارہا ہے ، بے دین لوگوں کو تو چھوڑئیے ، اہل دین بھی اس باب میں شدید تساہل کا شکار نظر آ رہے ہیں اور ہم سب اس غفلت کی وجہ سے کتنی نعمتوں سے محروم ہو رہے ہیں اس کا ہمیں ادراک و شعور بھی نہیں۔

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سلام کا کتنا اہتمام تھا اور اس عمل کی ان کی نظر میں کتنی اہمیت تھی اس کا اندازہ اس ایک واقعے سے لگا لیجئے۔طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے ساتھ بازار چلنے کا حکم فرمایا کرتے اور بازار جا کر ہر دوکاندار،ہر مسکین اور ہر خریدار کو سلام کرتے۔ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بازار چلنے کا فرمایا؟ میں نے عرض کیا:آپ بازار جا کر نہ کچھ خریدتے ہیں، نہ اشیاء کی قیمت معلوم کرتے ہیں اور نہ دوکانداروں کے پاس بیٹھتے ہیں تو پھر بازار جانے کا مقصد؟ آپ یہیں بیٹھئے ہم ادھر ہی باتیں کرتے ہیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:موٹے بھائی(مزاحاً انہیں اس لقب میں پکارا ) ہم بازار جاتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو سلام کریں۔ جو بھی ملے گا اسے سلام کر کے لوٹ آئیں گے۔دیکھئے! حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اس عمل کی فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے بازار تشریف لے جارہے ہیں اور سوائے سلام کے کوئی اور کام درپیش نہیں اور ہم کہیں جانا تو دور کی بات، اپنے ماحول میں رہتے ہوئے بھی اس فضیلت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔آئیے! اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے اس پسندیدہ عمل کو فروغ دیں اور سلامتی والا معاشرہ اور محبت والا ماحول پا لیں۔غفلت کو ترک کریں،اس عمل پر نہ مال خرچ ہوتا ہے اور نہ وقت۔پھر سستی کی کیا وجہ؟…

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor