Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

قربانی کا ایک اہم سبق

 

قربانی کا ایک اہم سبق

Madinah Madinah

قربانیوں کا موسم آپہنچا ہے اور اہل ایمان‘ اللہ تعالیٰ کی رضاء کیلئے قربانی پیش کرنے کی تیاریاں بڑے ذوق و شوق سے کر رہے ہیں اور ایسا کیوں نہ کریں کہ اُن کے کانوں میں تو اپنے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کا یہ ارشاد مبارک گونج رہا ہے :

ما عمل ابن آدم من عمل یوم النحر احب الی اللہ من اھراق الدم وانہ لیاتی یوم القیمۃ بقرونھا واشعارھا واظلافھا وان الدم لیقع من اللہ بمکان قبل ان یقع بالارض فطیبوا بھا نفساً ( سنن الترمذی ، کتاب الاضاحی )

’’ یوم نحر یعنی عید الاضحی کے دن انسان کا کوئی عمل ‘ اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ‘ بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ لہٰذا تم لوگ خوشی خوشی قربانی کیا کرو ۔‘‘

اس آخری جملے کو بار بار پڑھیں ’’ تم خوشی خوشی قربانی کیا کرو ‘‘ یہ کتنا میٹھا اور پیارا جملہ ہے ، بالکل ایسا لگتا ہے جیسے منہ میں مٹھائی آگئی ہو ۔

 محبوب حقیقی جلّ شانہ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنا ، کتنا پیارا اور دلکش کام ہے ‘ یہ تو کسی محب صادق اور سچے عاشق سے پوچھیں ۔ مادی فلسفوں کے مارے ہوئے ، دل کے اندھے ، بے چارے اس کی لذت اور مزے کو کیا جانیں ۔ سچے عاشق کی تو یہ طلب اور تڑپ ہوتی ہے کہ کس طرح میں اپنا سب کچھ محبوب پر نثار کر دوں ‘ کس طرح میرا محبوب مجھ سے راضی ہو جائے چاہے اس کے بدلے مجھے اپنی جان ، اپنا مال اور اپنا سب کچھ ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑے ۔ محب صادق کے دل سے تو ہمیشہ یہی صدا آتی ہے :

’’ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز ‘‘

( اپنی قیمت بڑھا دیں کہ ابھی تو محبت کا سودا سستا ہے)

آخر کیا بات تھی کہ دونوں جہانوں کے سردار ، ہمارے پیارے آقاﷺ یوں فرمایا کرتے تھے :

’’ قسم ہے اُس ذات کی ‘ جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں قتل کر دیا جائوں ‘پھر زندہ کیا جائوں پھر قتل کیا جائوں ‘ پھر زندہ کیا جائوں پھر قتل کیا جائوں۔‘‘ ( صحیح البخاری )

یہ ہے سچی محبت اور حقیقی عشق کہ محبوب کی رضا کیلئے سب کچھ قربان کرنے کا شوق اور جذبہ پیدا ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس محبت کا کوئی حصہ عطاء فرما دیں تو زہے نصیب ۔

قربانی دینے والے ‘ وہ اپنی جان کی قربانی ہو یا اپنے جانور کی ، کس خوشی سے ، کسی مستی سے اور کیسے محبت سے جھوم جھوم کر قربانی پیش کرتے تھے ، اس کی ایک ایمان افروز مثال سیدنا حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی دعا ہے ۔

مدینہ منورہ کے پڑوس میں اُحد کا میدان سجا ہوا ہے ۔ ایک طرف نبی الملاحمﷺ اپنے سات سو جاں نثاروں کے ساتھ کھڑے ہیں تو دوسری طرف ابو سفیان ( جو بعد میں سیدنا حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ بنے) اپنے لشکر کے ساتھ خیمہ زن ہے ‘ جس کی تعداد تین ہزار سے بھی متجاوز ہو رہی ہے ۔ اسلام اور کفر کا معرکہ برپا ہونے ہی والا ہے کہ اتنے میں حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اپنے ساتھی اور دوست حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے ہیں : ’’ آئو سعد ! ہم دونوں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں ۔‘‘

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم دونوں کسی گوشہ میں سب سے علیحدہ ہو کر ایک طرف بیٹھ گئے ۔ پہلے میں نے دعاء مانگی :’’ اے اللہ! آج میرا ایسے دشمن سے مقابلہ ہو جو نہایت شجاع اور دلیر اور نہایت غضبناک ہو۔ کچھ دیر میں اس کا مقابلہ کروں اور وہ میرا مقابلہ کرے۔ پھر اس کے بعد اے اللہ تعالیٰ! مجھے اس پر فتح نصیب فرما یہاں تک کہ میں اسے قتل کر دوں۔‘‘

 حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے آمین کہی اور پھر انہوں نے یہ دعاء مانگی :’’ اے اللہ آج میرا ایسے دشمن سے مقابلہ ہو جو بڑا ہی سخت زور آور اور غضب ناک ہو میں محض تیرے لیے اس سے قتال کروں اور وہ مجھ سے قتال کرے بالآخر وہ مجھے قتل کر دے اور میری ناک اور کان کاٹے اور اے پروردگار! جب میں تجھ سے ملوں اور تو پوچھے: اے عبداللہ! یہ تیرے ناک اور کان کہاں کٹے‘ تو میں عرض کروں اے اللہ! تیری اور تیرے پیغمبر کی راہ میں اور تو اس وقت یہ فرمائے تو نے سچ کہا۔‘‘

 حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی دعاء میری دعا ءسے بہتر تھی اور میں نے شام کو دیکھا کہ ان کے ناک کان ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے ہیں ۔ ( المستدرک، کتاب الجہاد )

اے ایمان والو ! قربانی دینے والے ایسے ہوتے ہیں اور یوں ذوق و شوق سے اپنے رب جلّ شانہ سے اپنی جانوں کے سودے کرتے ہیں ۔ قربانی کی تاریخ نامکمل رہے گی اور عشق و وفا کی داستانیں ناقص رہیں گی ، اگر ایک سچے عاشق کا تذکرہ نہ کیا جائے اور اُن کی بے مثال قربانی کا منظر نہ پیش کیا جائے ۔ یہ سیدنا حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ انہیں مشرکین مکہ نے دھوکے سے گرفتار کر لیا اور مکہ مکرمہ لے آئے ۔

کچھ عرصہ تک قید میں رکھنے کے بعد مشرکین مکہ ان کو حرم سے باہر لائے اور سولی پر لٹکانے کے وقت آخری خواہش پوچھی ؟ انہوں نے فرمایا مجھے اتنی مہلت دی جائے کہ میں دو رکعت نماز پڑھ لوں ۔ انہوں نے دو رکعتیں نہایت اطمینان سے پڑھیں اور پھر فرمایا:’’ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت سے ڈر کی وجہ سے زیادہ دیر کر رہا ہوں تو میں اور لمبی نماز پڑھتا ۔‘‘

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے یہ ایک اچھا طریقہ جاری فرمایا کہ قتل کے وقت دو رکعتیں پڑھی جائیں ۔ اس کے بعد ہر مسلمان کے لئے یہ طریقہ مسنون ہو گیا ۔ اس کے بعد حضرت خبیبؓ نے یہ دعاء کی: یا اللہ! کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جو میرا سلام تیرے رسول پاک ﷺ کو پہنچائے لہٰذا آپ سلام پہنچا دیجئے ۔ چنانچہ اسی دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو خبیب رضی اللہ عنہ کا سلام پہنچا دیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ وعلیک السلام یا خبیب ‘‘

 آپ ﷺ نے حاضرین سے فرمایا کہ خبیب ؓ کو قریش نے قتل کر دیا ۔ قتل کے بعد چالیس دن تک سولی پر جسم کو لٹکائے رکھا ‘ زخموں سے خون جاری تھا جس سے مشک کی خوشبو آرہی تھی ۔

 جب حضرت خبیب ؓ کو زندہ سولی پر لٹکایا گیا تو آپ نے کفار کے حق میں یہ بد دعا کی :

اللھم احصھم عدداً و اقتلھم بددا ولا تبق منھم احدا

( اے اللہ ! ان میں سے ہر ایک کو تو اپنے شمار میں رکھ اور ہر ایک کو الگ الگ قتل فرما اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑنا)

حضرت خبیب ؓ کو سولی پر لٹکا کر جب نیزے سے ان کا بدن چھلنی کیا گیا تو اس وقت ان سے کافروں نے قسم دے کر پوچھا :’’ کیا تجھے یہ پسند ہے کہ تیری جگہ محمد(ﷺ) ہوں ‘‘۔

حضرت خبیب ؓ نے جواب دیا :’’ واللہ العظیم! مجھے یہ بھی گوارا نہیں ہے کہ چھوٹ جائوں اور اس کے بدلے میں میرے آقا (روحی فداہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے مبارک قدم میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے ۔‘‘

جب یہ عاشق صادق ‘ سولی پر چڑھا دئیے گئے اور کفار ان کے جسم مبارک کو نیزوں سے چھلنی کرنے کیلئے آگے بڑھے تو یہ خوشی سے جھومتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہے تھے :

فلست ابالی حین اقتل مسلما

علی ای شق کان للہ مصرعی

ذلک فی ذات الا لہ وان یشاء

یبارک علٰی اوصال شلو ممزعٖ

’’ جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کیا پرواہ کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کس پہلو پر گر کر تڑپتا ہوں ۔ میری یہ (قربانی کی) حالت تو اللہ تعالیٰ کی ذات کیلئے ہے جو چاہے تو ٹکڑے ٹکڑے کیے ہوئے جسم کے حصوں میں بھی برکت دے دے ۔‘‘( صحیح البخاری ، کتاب الجہاد ، باب غزوۃ الرجیع۔الشفاء فی معرفۃحقوق المصطفیٰ)

اب تو ہمیں قربانی کی لذت اور سرشاری کا کچھ اندازہ ہو گیا ہو گا اور ہم سمجھ چکے ہوں گے کہ عید الاضحی کے موقع پر یہ جانور کیوں ہمارے ہاتھوں سے ذبح کروائے جاتے ہیں ۔ اس قربانی کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ ہم خود جب جانور کی گردن پر چھری چلائیں تو ہماری زبان اور ہمارے دل پر یہی صدا جاری ہو :

ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للّٰہ رب العالمین

’’ بے شک میری نماز اور میری تمام عبادتیں ، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہی ہے ‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

اسی ایک جملے میں بندگی کے جذبے کا اظہار بھی ہے اور قربانی کے فلسفے کا بیان بھی ۔ یہی سیدنا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا وہ نظریہ تھا ، جس کی بناء پر اُن کی طرف سے کی گئی قربانی قیامت تک ، مادی فلسفے کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کیلئے مینارئہ نور اور نشانِ منزل بن گئی ۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor