Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اَفضل ترین اَیام

 

اَفضل ترین اَیام

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہیں۔ بندوں کے پاس جتنی بھی ظاہری و باطنی اور جسمانی و روحانی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی ہی عطاء کردہ ہیں اور پھر اس میں بھی کمال یہ ہے کہ وہ سب بندوں کے ہی نفع کے لیے ہیں۔

اللہ تعالیٰ خود غنی ہے، بے نیاز ہیں، بندے سراپا محتاج ہیں اور بندوں کی اسی محتاجی کے پیش نظر رب کریم نے انعامات کی بارش برسارکھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننے کی کوشش کی جائے تو کبھی بھی اُن نعمتوں کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔

انہی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ماہِ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں جنہیں خودنبی کریمﷺ نے دنیا کے افضل ترین ایام قرار دیا ہے۔

ان افضل ترین ایام کو کس طرح قیمتی بنایا جائے؟ اگر کوئی مخلص ہو اور سمجھدار ہو، اور اپنی آخرت کے لیے حقیقی طور پر فکرمند ہو تووہ کئی مقبول طریقے اپنا سکتا ہے اور اہل علم سے بھی رہنمائی لے سکتا ہے۔ چنانچہ بعض اہل علم نے ان ایام کو قیمتی بنانے کے لیے درج ذیل اَعمال کی ایک ترتیب پیش کی ہے۔ اگر بندہ اسی کو اپنا لے تو ان شاء اللہ بہت کچھ دامن بھر جائے گا  اور ان اعمال کے اہتمام سے ان شاءاللہ اس عشرہ کی برکات بڑی حد تک حاصل ہوجائیں گی:

 پانچ وقت باجماعت نمازوں کا اہتمام کریں (خواتین گھر میں اَول وقت میں ادا کریں)

 ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا خصوصی اِہتمام کریں ورنہ محنت کے باوجود عبادات کا نور اور حقیقی نفع حاصل نہیں ہوگابالخصوص اپنی نظروں اور زبان کی حفاظت کریں-

ذولحجہ کا چاند دیکھنے سے لیکر قربانی کرنے تک اپنے جسم کے بال اور ناخن نہ تراشیں۔ یہ مستحب عمل ہے۔

 فرض نمازوں کے بعد تسبیح فاطمی (تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر۔

 کم از کم یوم عرفہ یعنی نو ذوالحجہ کا روزہ، ورنہ اس عشرے میں جتنے روزہ رکھ سکیں اتنا بہتر۔

مسجد میں نماز کے علاوہ کچھ وقت بیٹھ کر اور اسی طرح عام کاموں کے لیے چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ الله اکبر، الله اکبر، لا الہ الا الله والله اکبر، الله اکبر ولله الحمد کا وِرد کرتے رہیں۔

چلتے پھرتے زیادہ سے زیادہ تیسرے کلمے کا وِرد: سبحان الله والحمدلله ولا الہ الا الله والله اکبر(ولا حول و لاقوۃ الا باللہ العلی العظیم)

ان دنوں میں درود شریف کا بکثرت وِرد ۔

کم از کم دس پندرہ منٹ روزانہ ترتیب سے تلاوت قرآن کا اہتمام۔

نماز مغرب میں تین فرض، دوسنت اور دونفل کے بعد دو نفل مزید نمازِ اوابین کی نیت سے ادا کرلیں۔

نماز عشاء میں چار فرض، دو سنت کے بعد وِتر سے پہلے دو یا چار رکعات تہجد کی نیت سے ادا کرلیں اسکے بعد وِتر ادا کرلیں۔ اگر رات میں توفیق ہوجائے تو مزید رکعات تہجد ادا کرلیں لیکن عشاء کے ساتھ ادا کرنے سے کم از کم تہجد سے محرومی نہیں ہوگی۔

 حسب استطاعت صدقہ و خیرات، اور رات کو سونے سے پہلے تسبیح فاطمی، درود شریف، استغفار اور دعا۔

 اور سب سے بڑھ کر کوشش کریں کہ اپنی زبان یا کسی عمل سے کسی دوسرے کو ادنیٰ تکلیف بھی نہ پہنچے اور پہنچ جائے معافی مانگنے میں دیر نہ کریں۔یاد رکھیں، اللہ کے بندوں کو تکلیف پہنچاکر اللہ کی رضا کا حصول ناممکن ہے۔

 

عشرہ ذی الحجہ کے بعض اہم فضائل

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

ما العمل في أیام أفضل من ھذہ) قالوا: ولا الجهاد؟ قال: ولا الجهاد إلا رجل خرج یخاطر بنفسه وماله فلم یرجع بشيء۔

ترجمہ: (ذوالحجہ) کے دِنوں میں کئے گئے اعمال سے کوئی عمل افضل نہیں ۔ صحابہؓ نے عرض کی: جہادبھی نہیں ؟ آپؐ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں ، مگر وہ شخص جواپنی جان اور مال لے کر اللہ کے رستے میں نکلا اور کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹا۔ (صحیح البخاری)

سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ما من أیام أعظم عند اﷲ ولا أحب إلیه العمل فیھن من ھذہ الأیام العشر فأکثروا فیھن من التھلیل والتکبیر والتحمید

ترجمہ: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ کوئی دن برتر نہیں اور نہ ہی ان ایام میں کئے گئے اعمال سے کوئی عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ پس ان دنوں میں کثرت کے ساتھ اللہ کی تہلیل،کبریائی اور تعریف کرو۔(مسند احمد)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor