Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اپنا گھر

 

اپنا گھر

Madinah Madinah

بے شک مساجد اللہ تعالیٰ کی ہیں پس ( ان میں) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ پکارو‘‘ ( الجن: ۱۸)

اُس چیز کی عظمت،رفعت اور اہمیت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے جس کی نسبت عظمتوں والے رب نے اپنی طرف فرمائی ہو؟ ہر گھر کا مرتبہ اِسی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ یہ صدر کا گھر ہے، وزیر اعظم کا گھر ہے،فلاں بڑے بزرگ کا گھر ہے، یہ زمانے کے کسی بادشاہ،وزیر یا رئیس کا گھر ہے،یہ پرانے زمانے کے کسی بڑے شخص کا گھر ہے۔ ہر گھر اِس طرح کی نسبتوں سے ہی معزز و مکرم ہوتا ہے نہ کہ اپنی تعمیر کی وجہ سے۔ فن تعمیر کے اعتبار سے اچھا سے اچھا گھر نہ کوئی امتیاز حاصل کر پاتا ہے نہ اختصاص۔بس ایک گھر ہی کہلاتا ہے۔جبکہ نسبت کسی ظاہری طور پر معمولی گھر کو بھی اونچا کر دیتی ہے۔کائنات کی ساری نسبتیں قربان اُن سارے گھروں پر جن کی نسبت اللہ رب العزت نے اپنی ذات کی طرف فرما دی۔ یہی سب سے اونچے گھر ہیں، سب سے معزز و مکرّم گھر ہیں اور ہاں ! سب سے محبوب بھی…

ان سے محبت بھی اب ایمان کا لازمی تقاضا بن گئی ہے کیونکہ محبوب حقیقی نے محض ان کی نسبت اپنی طرف نہیں فرمائی بلکہ انہیں اپنی محبوب ترین جگہ ہونے کے اعزاز سے بھی نواز دیا ہے۔اب جو ’’اُن‘‘ سے محبت کا دعویدار ہو اُس پر لازم ہے کہ محبوب کی پسندیدہ جگہ سے بھی محبت کرے،والہانہ محبت،قلبی محبت، گہری محبت اور دائمی محبت

احب البلاد الی اللہ مساجدھا وابغض البلاد الی اللہ اسواقھا ( مسلم)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ جگہ مساجد اور سب سے ناپسندیدہ جگہ بازار ہیں۔

محبوب حقیقی نے تو اپنی پسند، نا پسند بتا دی۔ اب عاشقوں کا معیار کیا ہے؟ اپنے گریبان میں جھانک کر باآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے۔

اور محبت بھی کیسی مطلوب ہے؟

ایسی جیسی اپنے گھر سے ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر…

ایک مسلمان ’’متقی‘‘ ہو چکا ہے یا نہیں؟ اسے عشق و محبت حاصل ہو چکے یا نہیں؟

پتا کیسے چلے گا؟

مسجد کے ساتھ اس کے تعلق سے پتا چل جائے گا…

فرمایا:

المسجد بیت کل تقی( ابو نعیم)

’’مسجد ہر متقی مومن کا گھر ہے‘‘…

جس کا دل مسجد کی طرف یوں کھنچا رہتا ہو جیسے مسافرت اور غربت میں اپنے گھر کی طرف کھنچتا ہے،جسے مسجد بنانے کی فکر اپنا گھر بنانے کی طرح ہو، مسجد میں یوں قرار و سکون آتا ہو جیسے اپنے گھر میں آتا ہے،مسجد کی صفائی ستھرائی کی اپنے گھر جیسی فکر ہو ، مسجد میں وقت گزارنا اچھا لگتا ہو، گویا ہر طرح سے مسجد اس کا گھر ہی بن چکی ہو اسے مبارک ہو۔ اسے ’’تقویٰ‘‘ نصیب ہو چکا ہے اور تقویٰ ہی تو ایمان ہے،تقویٰ ہی تو محبت ہے،تقویٰ ہی تو راہِ نجات ہے…

مالدار لوگوں کا ایک شوق یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ہر جگہ اپنے گھر بنائیں۔اس طرح ان کی مالداری کا اظہار اور شہرہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جن کو دین میں مالداری اور غناء عطا فرمایا ہے وہ اسی طرح ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے گھر بنانے کی فکر کرتے ہیں۔اس سے ان کی دینی ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔

ہمارے آقا حضرت محمد ﷺ جہاں گئے ،جہاں رُکے مسجد بنائی۔مدینہ منورہ تشریف لاتے ہوئے سفر کا اختتام بعد میں ہوا، اسلام کی سب سے پہلی مسجد ’’قبائ‘‘ پہلے تعمیر ہوئی۔ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو مسجد کی فکر فرمائی، اس کی ترغیب فرمائی،اس کے لئے مال طلب فرمایا،اور اس کی تعمیر میں مشقت اٹھائی،گارا ڈھویا اور زمین کھودی۔جب مسجد بن گئی تو بعد میں اپنے بھی چھوٹے چھوٹے حجرے تعمیر فرمائے۔بتا دیا کہ ایک مسلمان جہاں جائے مساجد بناتا جائے،جہاں رہنا چاہے مسجد کا قرب اختیار کرے اور پہلے مسجد کی فکر کرے بعد میں اپنے گھر کی ۔پھر ان کے غلام دین کے جھنڈے لے کر دنیا بھر میں نکلے تو ہر جگہ زمین کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت سے اسی طرح آباد کرتے چلے گئے۔ مسجد پکی بنا دیتے اور خود خیمے میں یاکچی کوٹھڑیوں میں رہ لیتے۔ یوں زمین کا سینہ محبوب گھروں سے سجاتے گئے۔ آج دنیا میں ان کے آثار نہ تو اونچے محلات ہیں نہ بلند وبالا قلعے۔ نہ برج ہیں اور نہ مینار۔اگر ہیں تو بس مساجد ہیں۔

اس لئے اب مساجد بنانا اِتباع رسولﷺ اور اِقتدائے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تقاضا ٹھہرا۔سوچئے ! اس کا بدلہ کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی یہ کام کرنا لازم تھا مگر رحمت ہی رحمت۔اتنا بڑا بدلہ مقرر فرما دیا کہ اب اس کام سے پیچھے رہنا کیسے گوارا ہو سکتا ہے؟…

من بنی اللہ مسجدا من مالہ بنی اللہ لہ بیتافی الجنۃ ( ابن ماجہ)

’’جس نے اپنے مال سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا‘‘…

جنت کا گھر …سبحان اللہ! جنت …جس کی ایک اینٹ دنیا کی ساری دولت کو دس گنا بڑھا دیا جائے تو اس سے بھی قیمت میں بڑھ کر ہو گی۔اس جنت کا پورا گھر…اس پوری دنیا سے بھی بڑا گھر…اچھا یہ گھر بڑی مسجد بنانے پر ملے گا یا چھوٹی پر بھی؟… لیجئے وضاحت آ گئی:

وعن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ:من بنی للہ مسجدا صغیرا کان اوکبیرا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ( ترمذی)

’’جس نے اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے مسجد بنائی چھوٹی ہو یا بڑی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا‘‘…

ایمان والوں میں جو لوگ اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے کہ ایک چھوٹی سی مسجد ہی تعمیر کر سکیں کیونکہ چھوٹی سی مسجد بھی آج کے زمانے میں تو لاکھوں روپے میں جا کر بنتی ہے تو کیا وہ اس اجر سے محروم رہ گئے؟

ہرگز نہیں۔اس سے آگے کی وضاحت بھی ارشاد فرما دی گئی ہے جسے حاصل کرنا تو سب کی دسترس میں ہے:

وعن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ انہ قال:من بنی للہ مسجداولوکمفحص قطاۃ لبیضہا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ( مسند احمد)

’’جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی رضا ءکے لئے مسجد بنائی اگرچہ چکور انڈے دینے کے لئے جو گھونسلا بناتے ہیں اس کے بقدر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا‘‘…

سبحان اللہ!

یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے چند فٹ جگہ مسجد کی بنا دی اس کے بدلے میں جنت کا بے بدل گھر اللہ تعالیٰ عطاء فرمائیں گے۔

اب یہ کام بھی کوئی مشکل ہے؟چند دن کھانے پینے اور دیگر ضروری اخراجات میں معمولی احتیاط کر کے ہر غریب سے غریب آدمی بھی اتنا حصہ اللہ تعالیٰ کی مسجد میں ضرور ڈال سکتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor