Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

عقیدہ ختم نبوۃ قرآن وحدیث کی روشنی میں

 

عقیدہ ختم نبوۃ قرآن وحدیث کی روشنی میں

Madinah Madinah

قرآن مجید اور حدیث نبوی نے واضح طور پر عقیدہ ختم نبوت کو بیان کرکے خاتم النبیین کے بعد کسی نبی کے مبعوث ہونے کی کلیۃً نفی کردی ہے۔

(۱)…آیت ختم نبوت

اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہماری نظر مندرجہ ذیل آیت کریمہ پر جاتی ہے جو آیت ختم نبوت کے نام سے موسوم ہے:

(ترجمہ) ’’محمد (ﷺ) تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین (یعنی آخری نبی و رسول ہیں) اور اللہ ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔‘‘(الاحزاب:۴۰)

یہ مقدس آیت اس باب میں نصِ قطعی اور برہان جلی ہے جو صراحت کے ساتھ رسول اللہ کو آخری نبی اور انبیاء کا ختم کرنے والا ظاہر کررہی ہے۔ آیت کا پہلا جز بتا رہا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کے کوئی اولاد نرینہ موجود نہیں یہ جز آیت کے دوسرے جز یعنی مضمون ختم نبوت کیلئے ایک دلیل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ازمنہ سابقہ میں سلسلہ نبوت انبیاء کی اولاد میں جاری رہا۔ نبی کریمﷺ کے جب اولاد نرینہ نہیں تو سلسلہ نبوت کیسے جاری رہ سکتا ہے۔ گویا اولادِ نرینہ نہ رہنے میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں، آیت ختم نبوت آپ نے دیکھ لی اس مسئلے پر یہ نصِ جلی اور برہان روشن ہے لیکن قرآن مجید نے اس پر اکتفا نہیںفرمایا بلکہ اللہ رب العالمین نے اس عظیم الشان مضمون کو اپنی کتاب میں متعدد مقامات پر مختلف عنوانات سے واضح فرمایا۔ پیرایہ مختلف ہے مگر یہ مضمون ثابت اور روشن ہے۔

(۲)…آیت اظہار دین

سورۂ فتح میں ہے:

(ترجمہ) ’’اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب فرما دے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘(الفتح :۲۸ )

اس آیت میں ہر دین و ملت پر دین محمدی کا غلبہ بیان فرمایا گیا ہے اگر ہم فرض کریں کہ کوئی دوسرا نبی مبعوث ہوتا ہے تو اس کا ایک مستقل دین ہوگا اور وہ حق ہی ہوگا اس لئے کہ نبی بہرحال دین حق لے کر آئے گا اس صورت میں اس کے دین پر دین محمدی کے غلبہ کے کیا معنی ہوں گے یہ معنی تو اس پر چسپاں نہیں ہو سکتے اس مقام پر ختم نبوت کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے اس حالت میں دین محمدی کے غلبہ کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ اس کا دین بھی رائج نہیں ہو سکتا اور قرب رضائے الٰہی کی نعمت اس پر عمل کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ رواج دین محمدی کو ہوگا اور یہی دین اللہ کے قرب اور ان کے رضا کے حصول کا تنہا ذریعہ رہے گا جب یہ صورت ہے تو دوسرے نبی کے مبعوث ہونے سے فائدہ ہی کیا ہو سکتا ہے جس کے معنی دوسرے الفاظ میں یہ ہیں کہ محمدﷺ پر نبوت ختم ہو چکی اور آنحضرتﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کی بعثت تاقیام قیامت قائم نہیں ہو سکتی وکفٰی باللّٰہ شہیدا کا جملہ اس مسئلہ کو اور بھی روشن کر دیتا ہے اللہ کی شہادت  کے معنی کتاب اللہ کی شہادت کے ہیں یعنی قرآن مجید کا قیامت تک محفوظ رہنا اس بات کی برہان جلی ہے کہ صاحب کتاب کی بعثت کے بعد نہ کسی دوسرے نبی کی بعثت ہوگی نہ اس کی ضرورت اس لئے کہ اس کتاب کی ہدایت دائمی و ابدی ہے۔

(۳)…آیت اکمال دین

اس سے مندرجہ ذیل آیت مقدسہ کی طرف اشارہ مقصود ہے:

(ترجمہ) ’’آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کرلیا۔‘‘(المائدہ: ۳)

اس آیت میں زمانہ نزول آیت سے لے کر قیامت تک آنے والی پوری امت کو خطاب کیا جارہا ہے اور یہ مژدہ سنایا جارہاہے کہ ہم نے تمہیںایک ایسا دین عطا فرمایا ہے جس کی مدت محدود نہیں بلکہ عمر عالم کی آخری ساعت تک یہ تمہاری ہدایت اور تمہاری اخروی و دنیاوی مصالح و فلاح کیلئے بالکل کافی وشافی ہے یہ ایک سدا بہار چمن ہے جس میں خزاں کا گزر بھی نہیں ہو سکتا اس میں ترمیم و تنسیخ کی گنجائش کبھی نہیں نکل سکتی اس دین کے کامل ہوتے ہوئے کسی دوسرے دین کی ضرورت بلکہ گنجائش ہی کہاں رہتی ہے جب دین کی ضرورت نہیں تو نبی کی کیا ضرورت گویا تکمیل دین کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت محمدﷺ پر ختم ہوگئی اور آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک کسی نبی و رسول کی بعثت نہیں ہو سکتی۔

اتممت علیکم نعمتی کا فقرہ بھی ختم نبوت کو روشن کررہا ہے کہ عطاء نعمت کی جو آخری حد بنی نوع انسان کیلئے مقرر تھی ختم ہوچکی اور اس آخری اور مکمل ترین اور اعلیٰ ترین نعمت سے امت محمدیہ کو نوازا جاچکا ہے اب نعمت کا کوئی ایسا درجہ باقی نہیں رہا جو اور کسی کو دیا جائے۔ آیت کے دونوں جز اس حقیقت کا اعلان کررہے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی کی بعثت الی یوم القیام ناممکن ہے۔

حدیث کی روشنی میں:

ختم نبوت کا عقیدہ قرآن کی طرح حدیث میں بھی موجود ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے مکان بنایا اور اسے خوب سنوارا لیکن ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس میں گھومنے پھرنے لگے اور اسکی خوبی پر تعجب کرنے لگے یہ اینٹ کیوں نہ لگا دی گئی رسول اللہ نے فرمایا کہ میں وہ (آخری) اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔(صحیح مسلم)

دوسری حدیث میں فرمایا:

حضرت جبیر بن معطم ؓسے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں، میں ماحی ہوں، یعنی اللہ میرے ذریعہ سے کفر کو مٹا دیں گے اور میں عاقب ہوں اور عاقب اسے کہتے ہیں جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔(صحیح مسلم) (یعنی میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا)

اِجماع امت:

کتاب و سنت کے بعد اجماع امت بھی ایک قوی دلیل ہے جب اس پر نظرکی جائے تو یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ صحابہ سے لے کر اس وقت تک ہمیشہ پوری امت کا اجماع اس بات پر رہا ہے کہ محمد اللہ کے آخری نبی ہیں اور آنحضور کے بعد قیامت تک کسی نبی کی بعثت نہیں ہو سکتی علامہ ابن حجر مکی اپنے فتویٰ میں تحریر فرماتے ہیں جو شخص محمدﷺ کے بعد وحی کا عقیدہ رکھے وہ باجماع مسلمین کافر کہا جائے گا۔

اسی طرح ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں ارشاد فرماتے ہیں:نبوت کا دعویٰ ہمارے نبی کریمﷺ کے بعد باجماع کفر ہے۔

آیات و احادیث اور اجماع ان سب دلائل شرعیہ کی روشنی میں یہ بات بالکل قطعی و یقینی طریقہ سے آفتاب نفس النہار کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ سید المرسلین خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی کی بعثت ہوئی ہے نہ قیامت تک ہوگی جو شخص اس کا انکار کرتا ہے یا اس میں شک کرتا ہے وہ یقینا اسلام سے خارج اور زمرہ مسلمین سے باہر ہے جن لوگوں نے آنحضور ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا یا جو آئندہ اس قسم کا دعویٰ کریں خواہ وہ اپنے باطل دعوے پر ظلی و بروزی نبوت کی خانہ ساز اصطلاح کا پردہ ڈالیں یا اصلی نبوت کے مدعی بنیں، دونوں صورتوں میں وہ کذاب، کافر، مرتد، خارج از اسلام قرار دیئے جائیں گے اور دشمنانِ مبین کے زمرہ میں داخل ہوںگے آخرت میں ان کے لئے ابد الآباد کی جہنم کے سوا اور کوئی ٹھکانہ نہیں جیسے تاریخ میںمسیلمہ کذاب کا نام آتا ہے اور زمانہ قریب میں مرزا غلام احمد قادیانی ایسے لوگوں کا کافر، مرتد اور کذاب ہونا بالکل قطعی اور یقینی ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔

جو آیتیں اور حدیثیں نقل کی گئی ہیں ان کے علاوہ بکثرت آیات و احادیث ہیں جو امت مسلمہ کے اس اجماعی اور متفقہ عقیدے  کو روزِ روشن کی طرح ثابت کررہی ہیں جیسا کہ آنحضرتﷺ کی حدیث ہے کہ میرے بعد اگر نبی آنے والا ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔ لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ طالب حق کیلئے اسی قدر بہت کافی ہے۔

اللہ تعالیٰ قادیانی جعل سازوں سے پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ہمیں غیرت دینی اور حمیت ِ اسلامی سے مالا مال فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor