Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

صحابہ، صحابہ ؓ پیارے صحابہ ؓ

 

صحابہ، صحابہ ؓ پیارے صحابہ ؓ

Madinah Madinah

’’جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے، اللہ کے ہاں اُن کے لئے بڑا درجہ ہے۔اور وہی لوگ کامیاب ہیں۔ انہیں ان کا رَب اپنی طرف سے مہربانی اور رضامندی اور باغوں کی خوشخبری دیتا ہے ہے جس میں انہیں ہمیشہ کا آرام ہو گا، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، یقینی طور پر اللہ کے ہاں بڑا ثواب ہے ۔ ( پارہ نمبر ۱۰ ، سورۃ توبہ )‘‘

حضرتِ اَقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ لکھتے ہیں :

کہ ایسے لوگوں کو رحمت ، رضامندی اور جنت کی مبارکبادیاں مل رہی ہیں، مندرجہ بالا آیات مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چند اِنعامات سے نوازا گیا ہے۔

(۱) اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا بڑا درجہ ہے (۲) یہ لوگ کامیاب ہیں دنیا اور آخرت میں (۳) صحابہ کرام پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہیں (۴) اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہیں (۵) صحابہ کرام جنتی ہیں ( ۶) ان انعامات میں صحابہ کرام ہمیشہ رہیں گے (۷) اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لئے اجر عظیم ہے۔

سورۃ توبہ میں ہی اِرشاد خداوندی ہے :

ترجمہ: ”اور وہ لوگ جو ہیں پہلے ہجرت کرنے والوں اور مدد دینے والوں میں سے اور وہ لوگ جو نیکی میں ان کی پیروی کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے ان کے لئے ایسے باغ تیار ہیں، جن کے نیچے نہریںبہتی ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ، یہ بڑی کامیابی ہے۔ “

حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒنور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں کہ: مہاجرین اور اَنصار بارگاہِ اِلٰہی کی مقبول جماعت ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ ؓ کو معیارِ حق قرار دیا۔ جس طرح صحابہ کرام ؓ سے اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں، اسی طرح صحابہ کرام ؓ کی جو تابعداری کرے گا اللہ تعالیٰ ان سے بھی راضی ہو گا۔

خاتم النبیین محمد کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام ؓ پر گالم گلوچ طعن و تشنیع کرتے ہیں تو تم کہو اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو تمہاری بُری گفتگو پر ( ترمذی ، مشکوٰۃ شریف )

جس بدنسل گروہ پر خاتم النبیین ﷺ خود لعنت بھیجیں اس گروہ کی بد نسلی ، گمراہی اور بدبختی میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے!

اِرشادِ نبوی ﷺ ہے کہ ’’ میری اُمت میں سب سے بہتر میری جماعت ہے ( یعنی صحابہ کرام ؓ ) پھر وہ لوگ جوان کے پیچھے آئیں ( یعنی تابعین عظام ؒ ) پھر وہ لوگ جو ان کے پیچھے آئیں (یعنی تبع تابعین ) ۔

حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا :

”اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو میرے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں … ان کو میرے بعد اِعتراض و طعن کا نشانہ نہ بنانا، کیونکہ جس نے ان کے ساتھ محبت کی تو حقیقتاً میرے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے محبت رکھی ، جس نے ان کے ساتھ بغض رکھا ، تو میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے اُن سے بغض رَکھا، جس نے ان کو تکلیف پہنچائی ، تو گویا اُس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی ، پس قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے گا۔ ‘‘ ( مشکوٰۃ شریف جلد نمبر ۲ )

ان کے علاوہ بہت سی آیاتِ رَبّانی اور اَحادیثِ نبوی ﷺ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و فضیلت ثابت ہے۔

صحابہ کرام میں خلفاء راشدین ہوں ، اَزواجِ مطہرات ہوں ، بناتِ رسول ﷺ ہوں ، اہلِ بیت عظام ہوں، غرضیکہ ایک لاکھ ۲۴ ہزار یا کم و بیش ایک لاکھ چوالیس ہزار صحابہ کرام ؓ سب کے سب  بَرحق ، ہدایت کے ستارے اور معیارِ حق ہیں۔ خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق ؓ ، خلیفہ سوئم حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ ، خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضیٰ ، سید الشہداء سیدنا امیر حمزہ ؓ ، حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان ؓ ، حضرت حسن بن علی ؓ ، سیدنا حسین بن علی ؓ ، سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ ، سمیت دیگر تمام صحابہ کرام ؓ آپس میں شیرو شکر ، ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کا اِحترام کرنے والے، ایک دوسرے کی بات ماننے والے تھے۔ صحابہ کرام ؓ اور اہلِ بیتِ اَطہار کے آپسی پیار اور محبت کی گواہی قرآن پاک نے”رحماء بینہم“ کہہ کر دی ہے ، کسی بھی صحابی کی گستاخی جہنم کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہوتی ہے۔ جیسے صحابہ کرام ؓ کو خاتم النبیین سے پیار تھا اور خاتم النبیینﷺ کو اپنے سارے جانثار صحابہ ؓ پیارے تھے، بالکل اسی طرح قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کو صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت اَطہار ؓ سے پیار کرنا پڑے گا۔ جس دل میں صدیق اکبرؓ ، فاروقؓ و عثمانؓ وعلیؓ و معاویہؓ، ابو سفیان ؓ  و حسنؓ و حسین ؓ ، طیبہ عائشہ و سیدہ زہراء سلام اللہ علیہما کی کدورت موجود ہے ، وہ دِل کسی مسلمان کا نہیں بلکہ منافق کا ہے۔ صحابہ ؓ سے کدورت اور اسلام سے محبت ایک دل میں سماہی نہیں سکتی۔

اسلام کے پہلے گواہ اور شارح صحابہ ؓ ہیں ، خاتم النبیین ﷺ کی نشست و برخاست کے عینی شاہد صحابہ ؓ ہیں ، آقا و مولا ﷺ کے اشارہ ابرو پر جانیں نچھاور کرنے والے صحابہ ؓ ہیں، دین کے لئے اپنی جانیں اور مال لٹانے والے صحابہؓ ہیں، قرآن و سنت کی خاطر اپنے بچوں کو ذبح کروانے والے صحابہؓ ہیں ۔

صحابہ کا غدار اسلام کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ صحابہ کرام ؓ سے دشنی دین سے دشمنی کے مترادف ہے، صحابہ کرام کی گستاخی ، اسلام کی توہین ہے، جو صحابہ کرام کا نہیں ، وہ ہمارا بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی صحابہ کرام ؓ کو نہیں ماننا چاہتا جہنم میں جائے ۔ صحابہ ؓ کی عظمت و فضائل کا تو ابوجہل بھی منکر تھا۔ لیکن صحابہ کرام ؓ کی گستاخی کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہونی چاہیے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor