Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

ہم آپ کی طرف سے کافی ہیں!

 

ہم آپ کی طرف سے کافی ہیں!

Madinah Madinah

اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کی ذات بہت غیور ہے، وہ اپنے محبوب بندوں کو ستانے والوں سے جب انتقام لیتے ہیں تو انہیں بالکل ہی نیست و نابود اور ہمیشہ کی ذلت میں گِرا دیتے ہیں۔ پھر نبی کریمﷺ کی شان و عظمت کے تو کیا ہی کہنے کہ آپ کا مذاق اُڑانے والوں کے بارے میں تو صاف صاف کہہ دیا گیا:

انا کفیناک المستہزئین

”بے شک ہم آپ کی طرف سے مذاق اُڑانے والوں کے لیے کافی ہوچکے ہیں“

معلوم ہوا کہ ازل سے یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ ، جو بھی حضرت آقامدنی کریمﷺ کی شان اَقدس میں گستاخی کرے گا وہ رب کریم کے قہر و انتقام کانشانہ بنے گا اور خود رب کریم اپنے نبی کی طرف سے اس کا بدلہ لیں گے اور رب کریم جب چاہے اور جیسے چاہے اس انداز سے بدلہ لیتے ہیں کہ اُن گستاخی کرنے والوں کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں بتاتے ہیں کہ ایک دن رسول کریمﷺ مکہ مکرمہ کے ایک راستے سے گزر رہے تھے تو وہاں موجود بعض مشرکین نے نبی کریمﷺ کو اپنی آنکھوں وغیرہ کے اشارے سے چھیڑاتو اسی وقت حضرت جبریل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے ان مشرکین کو ایسی چُوک ماری کہ ان کا جسم ایسے ہوگیا جیسے کسی نے نیزوں سے پوری بدن چھلنی کردیا ہو اور پھر وہ مشرکین اسی تکلیف میں ہلاک ہوگئے۔

سبحان اللہ! دیکھا آپ نے کہ جس وقت نبی کریمﷺ مکہ مکرمہ میں تنہا ہیں، اور ابھی تک جہاد کی اجازت بھی نازل نہیں ہوئی مگر اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کو رسول کریمﷺ کی گستاخی اس قدر ناگوار گزری کہ اس کا بدلہ لینے کے لیے حضرت جبریل علیہ السلام کو زمین پر نازل فرمادیا اور ان کی مار سے ان مشرکین کو ہلاک کردیا۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے دیگر چند بڑے بڑے گستاخوں کے انجام کو بھی ذکر کیا ہے ۔

چنانچہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریمﷺ طواف فرما رہے تھے تو حضرت جبریل علیہ السلام بھی تشریف لے آئے اور وہاں بیت اللہ کے پاس کھڑے ہوگئے۔ اسی دوران ایک مشرک اسود بن عبدیغوث جو آپﷺ کی گستاخی کیا کرتاتھا اور آپ کو زبانی طور پر بہت ستایا کرتا تھا وہاں سے گزارا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف ایک ایسا اشارہ کیا کہ اس سے اسے پیٹ کی بیماری لاحق ہوگئی اور اور وہ اسی بیماری میں مَر گیا۔

پھر اسی موقع پر ایک اور گستاخ ولید بن مغیرہ نامی وہاں سے گزرا جس کے پاؤں پہلے ہی کسی وجہ سے زخمی تھا ، حضرت جبریل علیہ السلام نے اُس کی طرف بھی اشارہ کیا تو اس کا وہ زخم بہت زیادہ پھول گیا اور اور وہی زخم اسے موت کے منہ میں لے گیا۔

پھر وہاں سے عاص بن وائل نامی گستاخ گزرا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا۔ یہ آدمی کچھ دنوں بعد طائف کی طرف سفر پر گیا تو راستے میں چلتے چلتے اپنے گدھے سے گرااور گرتے ہی اس کے تلوے میں ایک کیل گھس گئی جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

اور ایک گستاخ حارث نامی تھا، حضرت جبریل علیہ السلام نے اُس کے سر کی طرف اشارہ کیا تو اس کے سر سے خون جاری ہوگیا اور پھر اتنا خون بہاکہ وہ بھی ہلاک ہوگیا، اور اپنے اَنجامِ بد کو پہنچ گیا۔

یہ رب کریم کی قدرت کی کچھ نشانیاں ہیں جو ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ رب کریم کا قرآن بھی گواہ ہے۔ بقول سیدامین گیلانی مرحوم:

کس کی گستاخی پہ تھی ”سُوْرَہ تَبَّتْ“ اُتری

کس کے دشمن کو کہا تھا ”ھُوَ الْاَبْتَرْ“ بولو!

کس کی ہم شان پہ مرنے کے لیے ہیں تیار

کون ہے سارے مسلمانوں کا دلبر بولو!

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی نبی حضرت آقا محمد مدنیﷺ کی شان بہت بلند بنائی ہے اور اُس شان میں ایسی ترقی رکھی ہے کہ ہر لمحہ ،ہر دن، ہررات، اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ اُس شان اور عظمت میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے اور اب بھی جب کہ کفر اور اس کے سرغنے اپنی ترقی کا عروج دیکھ کر اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لیے پُراُمید ہو چکے تھے اور ہیبت ناک ایجادات کے بل بوتے یہ سمجھ رہے تھے کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کو راستے سے ہٹا دیں گے مگر یہاں بھی رب کریم کی قدرت سے انہیں روزبروز کئی ناکامیوں کا سامنا ہورہا ہےا ور انہی ناکامیوں کی وجہ سے اُن کے بدبخت ترین ، اور بدبودار ترین لوگ شانِ رسول اکرمﷺ دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے بھننے لگتے ہیں اور اسی جلن میں بے قابواور خود کو بے بس اور ناکام دیکھ کر گستاخی پر اُتر آتے ہیں مگر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے وہ خود اپنی ہلاکت کو ہی دعوت دے رہے ہوتے ہیں اور اپنے اس عمل سے گویا وہ اسی ضرب المثل کا نمونہ ہوتے ہیں:

”آ بیل مجھے مار“

ان بے وقوفوں کو کیا سمجھ کہ اُن کی سو بدکاریاں ایک طرف اور رسول کریمﷺ کی شانِ اَقدس میں گستاخی کا جرم ایک طرف۔یہ ایسا جرم ہوتا ہے کہ رب قہار ازل سے اس کے بارے میں فیصلہ کر چکے ہیں کہ اس جرم کے مرتکبین کے لیے وہ خود کافی ہوجاتے ہیں۔

ایسے گستاخ بلند و بالا پہاڑوں یا مضبوط اور محفوظ ترین علاقوں میں ہی کیوں نہ ہوں مگر رب کا انتقام انہیں ایسے انداز سے پکڑتا ہے کہ انہیں کچھ سُجھائی نہیں دیتا اور یہ گستاخ پوری انسانیت کے سامنے ایک گالی اور نفرت کا استعارہ بن جاتےہیں، صرف یہی نہیں بلکہ انسانوں کے ساتھ ساتھ فرشتوں کی لعنت بھی اُن پر برستی ہے اور وہ دنیا و آخرت میں لعنت اور جہنم کے گڑھے میں پھینک دیے جاتے ہیں۔

فرانس کے بدبختوں نے ایک بار پھر گستاخی کا اِقدام کیا ہے، فرانسیسی ہفت روزہ جریدے ”چارلی ایبڈو“ میں نبی کریمﷺ کے وہ خاکے پھر سے شائع کیے ہیں جن کی بنا پر سنہ 2015 میں اس جریدے کے آفس پر حملہ ہوا تھا۔چارلی ایبڈو پر یہ حملہ سات جنوری 2015 کو کیا گیا تھا۔اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں خاکے بنانے والا مشہور کارٹونسٹ بھی شامل تھا۔مگر اب پھر چارلی ایبڈو کے تازہ ترین جریدے کے سرِورق پر وہ خاکے دوبارہ شائع کیے گئے ہیں جو اس سے قبل ایک ہالینڈ کے اخبار میں چھاپے گئے تھے۔

اس جریدے کا مدیر نہایت ہی گستاخ اور بے عقل انسان ہے۔ اس کا مدیر پہلے بھی ایسے خاکوں کی اشاعت کو ”آزادی رائے کی ایک علامت“ قرار دے کر اس اپنی اس قبیح حرکت کا دفاع کرتا ہے۔ اس نے سنہ 2012 میں امریکی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ”فرانس کے قوانین کے تحت رہتے ہیں نہ کہ قرآن کے قوانین کے تحت۔“

مگر کوئی اس بدبخت کو یہ بھی بتادے کہ تم رب کی زمین پر رہتے ہو، یہ زمین و آسمان تمہارے باپ دادا کا نہیں ہے۔ یہ ساری دھرتی محمدﷺ کے رب کی ہے۔ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تم اپنی ہر قسم کی رائے ظاہر کرنے میں آزاد ہو توسنو! مسلمان بھی اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرنے میں آزاد ہیں۔ اس موقع پر ہر دور میں کوئی نہ کوئی خوش قسمت شخص ضرور آگے بڑھتا ہے جو مسلمانوں کی آزادی کو اپنے عمل سے دکھاتا ہے اور ایسے گستاخوں کو جو اپنے گمان میں سیکیورٹی کا مضبوط بندوسبت کرچکے ہوتےہیں انہیں جا پکڑتا ہے اور انہیں ایسے خوف اور دہشت کا شکار کرتا ہے کہ جس کا انہوںنے تصور بھی نہیں کیا ہوتا اور انہیں ان کے انجام بد تک پہنچا کر دَم لیتا ہے اور بھلا ایسا کیوں نہ ہو! ان بدبختوں نے آخر کار اس دنیا سے جانا ہی توہوتاہے مگر عموماً عام اور سادہ طریقے کے بجائے انہیں عبرت کا نشان بنا کر آخرت کے عذاب کی طرف دھکیلا جاتا ہے، تاکہ ایسی گستاخی کرنے والے خود نیست و نابود ہوں اور ان کے ساتھ ہمدردیاں اور دوستیاں رکھنے والے خوف اور دہشت میں مبتلا ہوں اور اسلام کی شان و شوکت کے رُعب سے وہ خود کو پست اور ذلیل و رُسوا سمجھنے لگیں۔

بلاشبہ آنکھیں تَر ہیں، دل بے قابو ہے، ہاتھ اور پاؤں لرز رہے ہیں، اپنی کمزوری اور بے بسی الگ سامنے ہے مگر ہم اپنے رب سے مایوس نہیں، ہم اُسی سے التجاء کرتے ہیں کہ اے رب! ہماری کوتاہیوں سے درگرز فرما، ہم آپ کے دین اور آپ کے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں تک نہیں پہنچ پا رہے مگر آپ کی دسترس سے تو کوئی بھی باہر نہیں ہے، آپ اپنی قدرت سے ان گستاخوں کا عبرت ناک انجام پوری دنیا کو دِکھا دیجیے، جس طرح پہلے گستاخ ہلاک ہوئے انہیں بھی ہلاک فرما دیجیے۔ اے رب ! ہم لاچار ہیں ، شاید اسی لیے آپ نے ازل سے ہی یہ ذمہ داری اپنے پاس بتادی ہے کہ:

انا کفیناک المستہزئین

”بے شک ہم آپ کی طرف سے مذاق اُڑانے والوں کے لیے کافی ہوچکے ہیں“

اے اللہ! ہم آپ کو کافی سمجھتے ہیں، آپ کافی ہوجائیے! آپ کافی ہوجائیے!

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor