Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

علم کی اہمیت اور فرض مقدار

 

علم کی اہمیت اور فرض مقدار

Madinah Madinah

علم کی اہمیت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے جب اپنے آخری نبیﷺ پر اپنی ہدایات کونازل کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس کی ابتدا:

 ''اِقْرَاْ ''

سے فرمائی جس کا مطلب ہے 'پڑھو۔ پھر ان پر علم و حکمت کا فیضان کیا جس کا مقصد امت کی تعلیم و تربیت ہی تھا اور اسی لئے ان کا تعارف بھی امت سے بحیثیت معلم کرایا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

{کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُولًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَاوَ یُزَکِّیْکُمْ وَ یُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ یُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ}۔

(ترجمہ): ''جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم میں سے بھیجا ، وہ تم پر ہماری آیات پڑھتے ہیں اور تمھیں پاک کرتے ہیں اور وہ تمھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیںاور تمھیں ایسی باتیں سکھاتے ہیں جنہیںتم نہیں جانتے تھے)۔ (البقرۃ: ۱۵۱)۔

خود رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنا تعارف بحیثیت معلم کرایا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ''اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا''

یعنی میں تو صرف معلم بناکر بھیجا گیا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم)۔

 آپﷺ نے امت کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کو اپنی آخری سانس تک نبھایا اور معلم ہونے کا حق ادا کردیا۔ علم اور دین کے گہرے تعلق کی وجہ سے ہی اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کے لئے یہ حکم جاری فرمایا:

{فَسْئَلُوْ ٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ } ۔

 (ترجمہ): پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو ۔ (النحل: ۴۳)۔

اور نبی کریمﷺ نے علم دین کی طلب کو فرض قرار دیا ہے ، آپؐ نے فرمایا:

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ

یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (سنن ابن ماجہ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم)

اس حدیث مبارکہ کی تشریح علماء نے یہ کہا ہے کہ اتنا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے جس سے اس کے عقائد درست ہوجائیںاور اللہ اورا س کے رسول ﷺ کے عائد کردہ فرائض کو وہ احسن طریقہ پر ادا کرسکے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے حرام کردہ چیزوں سے بچ سکے۔

طہارت سے متعلق احکام و مسائل اور عبادات میں سے نماز اور روزہ کے مسائل کو جاننا ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر فرض ہے کیوں کہ یہ عبادتیں عموی طور پر فرض ہیں لیکن زکوٰۃ اور حج سے متعلق مسائل کا جاننا صرف ان افراد پر لازم ہے جن پر مال و دولت کی موجودگی کی وجہ سے یہ عبادتیں فرض ہوگئی ہوں۔

ان کے علاوہ اخلاقیات، معاشرت، معاملات اور اسباب معیشت کے بنیادی احکام و مسائل کو جاننا ہر ایک مسلمان پر فرض ہے کیوں کہ ان سے کسی کو چھٹکارہ نہیں بلکہ تقریباً ہر شخص کو ہی ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔

 نیز حصول رزق کے جس شعبہ کو جو اختیار کرے اس کے لئے اس شعبہ سے متعلق مسائل کی تفصیلات کا جاننا ضروری ہے ورنہ وہ حرام اور سود میں مبتلا ہوگا اور اسے خبر بھی نہ ہوگی۔

البتہ دوسرے شعبوں سے متعلق احکام کا جاننا اس کے لئے ضروری نہیں۔ شریعت کے تمام مسائل کا جاننا ہر ایک کے لئے ضروری نہیں بلکہ یہ امت کے اوپر فرض کفایہ ہے یعنی کسی شہر یا بستی میں اگر کچھ افراد بھی جملہ علوم کے عالم ہوں توسب کے ذمہ سے یہ فرض ساقط ہوجائے گا ورنہ سب کے سب گنہگارٹھہریں گے۔

اسی لیے علامہ زرنوجی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے تعلیم المتعلم میں یہ بات جامع بات لکھی ہے کہ:

”سب سے افضل علم، حال کا علم ہے اور سب سے افضل عمل اپنے حال کی حفاظت ہے“

 

 

دین و دنیا کی بھلائیوں پر مشتمل دعاء

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ دعاء یاد کروائی:

 اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِكُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ،مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ تَقْضِيهِ لِي خَيْرًا

ترجمہ: یا اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیوں کی دعاء مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں، اے اللہ ! میں تجھ سےہر  اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے، اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور  ہراس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور ہر اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے۔(مسند احمد۔ سنن ابن ماجہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor