Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

سلام ہو صدیق پر(۱)

 

سلام ہو صدیق پر(۱)

Madinah Madinah

وہ ”صدیق“ ہیں اور صرف صدیق نہیں صدیقِ اَکبر یعنی صدیقین کے اِمام ہیں۔ اُن کا یہ نام زمین پر نہیں رَکھا گیا، آسمان سے نازل ہوا ہے۔ گواہی دیتے ہیں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کہ جبرئیل علیہ السلام اُن کا یہ لقب آسمان سے لے کر اُترے۔ بس وہ اسی نام سے مشہور ہو گئے اور یہی ان کا مقام قرار پایا۔

وہ حراء پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، حراء خوشی سےجھوم اُٹھا ، آقا ﷺ نے اپنا قدم مبارک اس پر مارا اور فرمایا :

”ٹھہر جا ! تجھ پر اس وقت اللہ کا نبی ، صدیق اور شہید موجود ہیں“

اُن کا ”ایمان“ سب سے منفرد شان اور بلندی والا تھا ۔فوری اور اٹل۔ نہ کوئی شک نہ تردد بلکہ وہ تو تفکر اور تدبرکر کے ماننے کے قائل بھی نہ تھے۔ سوال کیا گیا :

ابوبکر بتائیے ایک شخص کہتا ہے کہ میں رات کے ایک پہر میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ پہنچ گیا اور پھر وہاں سے آسمان پر گیا ، ساتوں آسمانوں کی سیر کی، عجائب دیکھے، ملاقاتیں کیں ، جنت کے احوال کا مشاہدہ کیا اور پھر اسی رات واپس اپنے بستر پر لوٹ آیا ، کیا ایسا ممکن ہے ؟

ابوبکر رضی اللہ عنہ فاصلوں ا ور راستوں سے لا علم نہیں، مکہ سے شام و فلسطین سفر کر چکے ہیں، جانتے ہیں یہ سفر کتنا وقت لیتا ہے ۔ زمین و آسمان کے بُعد کو بھی اچھی طرح پہچانتے ہیں لیکن ان سب عقلی اندازوں کے پیشِ نظر فوراً جواب نہیں دے دیا بلکہ سوال فرمایا :

کہنے والا کون ہے ؟

آپ کا دوست اور ساتھی محمد ( ﷺ) …

اب آگے یوں نہیں فرمایا کہ اچھا ان سے جا کر پہلے پوچھتا ہوں کہ فرمایا بھی یا نہیں ؟ اور اگر فرمایا تو تفصیل معلوم کرتا ہوں ۔ ہرگز نہیں ۔ ایمان فوراً بول اُٹھا:

”اگر یہ بات میرے محمد ﷺ نے فرمائی ہے تو بالکل حق ہے۔ ایسا واقعہ تو ان کے ساتھ روز پیش آتا ہے کہ دن کی ایک گھڑی میںوحی آسمان سے ان پر نازل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ان کا خود بنفسِ نفیس اس بلندی سے ہو کر آ جانا کیسے بعید ہو سکتا ہے۔ “

صدیق کا ”ایمان و ایقان“ ”ایمان بالغیب“ کا معنیٰ سمجھاتا ہے۔ سچے اور قابلِ قبول اِیمان کی شرطِ ثالث ”ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا“ کی عملی تفسیر دِکھاتا ہے اور شانِ صدیقیت کا نقشہ متعین کرتا ہے۔ بات جب اللہ اور اس کے رسول کی طر ف لوٹ جائے تو عقل کے پیمانے طاق پر رَکھ دئیے جائیں ۔ اِلحادِی فکر نے قرآن مجید کی آیاتِ تدبر کی غلط تفسیر کر کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ جو بھی ماننا ہے سمجھ کر عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر مانو۔ کیا ایسا ماننا بھی اِیمان کہلا سکتا ہے ؟

کیا ایسا ماننا ایمان کی سب سے بنیادی شرط ”بالغیب“ پر پورا اُتر سکتا ہے؟

اس فکر نے ایمان کے چراغ بجھا دئیے اور الحاد کے میدان سجا دئیے۔ لوگ جوق درجوق اس پر ٹوٹ رہے ہیں اور صدق و صدیقیت سے محروم ہو رہے۔ واللہ المستعان

جب ”صدیق“نے ایک بار ثابت فرما دیا کہ اللہ و رسول کے باب میں ان کے ایمان کا معیار اور مقیاس کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ ان کے ایمان کے ایسے گواہ ہوگئے کہ صدیق موجود نہ ہوں اور کوئی ایسا ”بالغیب“ ایمان کا معاملہ پیش آئے آقا ﷺ ان کی طرف سے ایمان کی شہادت اِرشاد فرما دیتے ہیں۔ فرمایا :

”ایک شخص نے گائے کو ہل پر جوت دیا اور کھیت میں لا کر اسے کام پر لگا دیا ، گائے نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور بولی:

مجھے اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا

لوگوں نے حیرت سے کہا

سبحان اللہ ! گائے نے کلام کیا ؟

فرمایا : ہاں ! میں بھی اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہما ) بھی“

ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا ، کچھ دیر کو ا ن سے غافل ہو کر ایک درخت کے سائے میں سستانے جا بیٹھا۔ بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بکری کا بچہ اچک لیا، چرواہا اس کے پیچھے دوڑا اور بھیڑئے کے جبڑے سے بچہ چھڑا لیا ، بھیڑئے نے اسے کہا ! 

آج تو تم نے مجھ سے یہ بچہ چھڑا لیا اس دن ان بکریوں کا کیا عالَم ہو گا جب ان کا میرے سوا کوئی چرواہا نہ ہو گا۔

لوگوں نے حیرت کی۔

سبحان اللہ ! بھیڑئے نے کلام کیا ؟؟

فرمایا : ہاں اور اس بات پر میرا بھی ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی

اور وہ دنوں اس مجلس میںموجود نہ تھے۔

”صدیق“ اس تصدیق میں اوّل بھی ہیں اور اکبر بھی۔ اس لئے ان کا مقام بھی اوّل وَ اکبر ہے۔

فرمایا :

”اَنبیاءِ کرام کے بعد ابوبکر سے بہتر شخص پر دِن طلوع نہیں ہوا۔“

وہ انبیاء کرام کے بعد ساری مخلوق میں مقام میں ”اوّل“ قرار پائے۔

فرمایا :

”صدیق کے لئے اللہ تعالیٰ نے رِضوانِ اَکبر کا مقام تیار فرمایا ہے۔“

صحابہ تمام کے تمام مقامِ رِضوان پر ہیں۔ ”رضی اللہ عنہم “کا قرآنی فیصلہ ان کے حق میں اُتر چکا ہے لیکن ”صدیق“ رضوان کے مقام اکبر پر ہیں۔ جس کا ایمان منفرد اس کا مقام بھی جدا۔

 ٭٭٭

وہ ”صاحب“ ہیں اور یہ اعزاز بھی ان کے لئے اوپر سے آیا ہے ۔ ”اذیقول لصاحبہ “

ان کے شرفِ صحابیت پر مہرِ تصدیق محکم تنزیل نے ثبت کی ہے جو انمٹ ہے۔ وہ پوری امت میں اس اعزاز سے نوازے جانے میں اوّل بھی ہیں اور آخر بھی۔ نہ کوئی ان کا سہیم ہے نہ شریک۔ اور حضرت آقا مدنی ﷺ محبت کےساتھ ا ن کا ذکر اسی اعزاز کو ملا کر فرمایا کرتے۔ ”صاحبی“ میرا ساتھی میرا دوست میرا رفیق۔ کتبِ حدیث کی وَرق گردانی کیجئے۔ بار بار آقا مدنی ﷺ انہیں اس مقام محبت سے یاد فرماتے نظر آئیں گے۔ سبحان اللہ اس اعزاز کے قربان … یوں ہی تو حضرت سیدنا عمر الفاروق جیسے فضائل ومناقب سے مالا مال اور عبقریت کے مقام سے سرفراز انسان ان کے بارے میں یہ فرماتے دکھائی دیتے ہیں:

خدا کی قسم ! عمر تو بس ابوبکر کی ایک نیکی جتنا ہے

اور

”خدا کی قسم ! عمر اور عمر کا پورا خاندان ابوبکر کی ایک نیکی سے بھی کمتر ہیں“

رضی اللہ عنہم وارضاھم

٭٭٭

شیرِخدا منبر پر جلوہ افروز ہیں۔ فرمایا ! لوگو سب سے بہادر کسے شمار کرتے ہو ؟

اَمیر المومنین ! وہ آپ کے سوا کون ہو سکتا ہے ؟ آپ اسد اللہ ہیں۔ بدر کے سابق ( سب سے پہلے نکلنے والے ) اور خیبر کے فاتح ۔ کفار کی تلواروں کے سائے میں آقا ﷺ کے بستر پر آرام فرمانے والے ، مرحب جیسے جنگجو کا سر دوٹکڑے کرنے والے اور ابن عبدوُدّ جیسے پہلوان کو خاک چٹانے والے۔

نہیں ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم بدر کے دن کفار سے لڑنے کے بارے میںنبی کریم ﷺ کی موافقت بھی سب سے پہلے ابوبکر نے کی، جب کفار قریش نے مبارزت کے لئے پکارا تو سب سے اوّل ابوبکر اٹھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کا دامن پکڑ کر فرمایا : ابوبکر تم میرے ساتھ رکو اور مجھے اپنی ذات سے نفع مند کرتے رہو ۔ اور بدر کے دن جب بھی ہم کفار کے ہلے سے آڑ ڈھونڈتے تو خود کو ابوبکر کے پیچھے پاتے، وہ ہجرت کے سفر میں حضور ﷺ کے رفیق بنے جب ان کے علاوہ کوئی آقا ﷺ کا محافظ نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو ( غزوہ تبوک کے موقع پر ) ان کی اکیلے تعریف فرمائی اور ہم سب کو تنبیہ فرمائی

( اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللہُ الآیۃ)

”لوگو! گواہ رہو سب سے بہادر شخص ابوبکر تھے“

ہاں ! جو ایمان میںاوّل ، صحبت میں اوّل وہ جہاد اور شجاعت میں اوّل نہ ہو کیسے ہو سکتا ہے ؟

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor