Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اپنی قدر پہچانیں

 

اپنی قدر پہچانیں

Madinah Madinah

’’ طفیل ؓبن عمرو قبیلۂ دوس کے سردار و مقتداتھے۔ وہ ایک روز کسی کام سے مکہ آئے ۔ معززین ِ قریش نے انہیں دیکھا تو دریافت کیا :’’ تم کون ہو ؟‘ ‘

انہوں نے بتایاکہ ’’ میں دوس کا سردار طفیلؓ بن عمرو ہوں ۔ ‘‘

قریش کو خدشہ ہوا کہیں طفیلؓ بن عمرو ،رسول اللہ  ﷺ سے ملاقات کر کے متاثر نہ ہو جائیں۔ انہوں نے طفیل ؓسے کہا :’’ یہاں ایک آدمی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے ۔ اس کے قریب بیٹھنے اور اس کی باتیں سننے سے پرہیز کیجئے گا ۔ وہ ساحر ہے ۔ اگر آپ اس کی باتیں سننے بیٹھ گئے تو دماغ خراب ہو جائے گا ۔ ‘‘

طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :’’ واللہ ! وہ مجھے ڈراتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے طے کر لیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات نہیں سنوں گا اور نہ اُن سے کلام کروں گا اور تو اور میں نے اس ڈر سے کانوں میں روئی ٹھونس لی کہ کہیںمیں رسول اللہ ﷺکے قریب سے گزر رہا ہوں اور آپ کی کوئی بات میرے کانوں میں پڑ جائے ۔ اگلی صبح میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ میں آپ کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا ۔ آخر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے رسول ﷺ کے الفاظ سنا کر چھوڑے ۔ یہ بڑا عمدہ کلام تھا ۔ میں نے دل میں کہا :’’ میری ماں کی بربادی ! واللہ ! میں اچھا خاصا عقل مند آدمی ہوں ۔ بُرا بھلا خوب جانتا اور سمجھتا ہوں ، پھر میں اس آدمی کا کلام کیوں نہ سن لوں ۔ اگر اس کی باتیں اچھی ہوئیں تو قبول کر لوں گا ، بری ہوئیں تو چھوڑ دوں گا ۔ میں وہاں ٹھہرا رہا ۔ رسول اللہ ﷺ نماز مکمل کرکے گھر کو روانہ ہوئے تو میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا ۔ آپﷺ اپنے گھر چلے گئے ۔ میں بھی پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہو گیا ۔ میں نے کہا :

’’ محمد ! آپ کی قوم یہ اور یہ کہتی ہے ،واللہ ! وہ مجھے خوفزدہ کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تاکہ آپ کی باتیں نہ سن سکوں ۔ اب میں آپ کی ایک بات سن چکا ہوں جو مجھے اچھی لگی ہے ، اس لیے آپ اپنا معاملہ میرے سامنے پیش کریں ۔ ‘‘

طفیل رضی اللہ عنہ کی یہ باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ خوش ہوئے ۔آپ نے طفیل رضی اللہ عنہ کے سامنے اسلام پیش کیا اور قرآن کی تلاوت کی ۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے وہیں اسلام قبول کر لیا ۔ انہوں نے کہا :’’ اے اللہ کے نبی ! قوم میری بات مانتی ہے ۔ میں جاکر اُنہیں اسلام کی طرف بلائوں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کرطفیل رضی اللہ عنہ مکہ سے نکلے اور وقت ضائع کیے بغیر اپنی قوم کے پاس پہنچے ۔ والد ملنے آئے جو نہایت عمر رسیدہ تھے اور زندگی کے دن گن رہے تھے ۔ طفیل رضی اللہ عنہ نے پکے لہجے میں انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کہا :

’’ ابا جان! آپ مجھ سے دور رہیے ۔ آپ کا مجھ سے اور میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ‘‘ وہ بہت گھبرائے، پوچھا :’’ آخر کیوں ، بیٹے ؟‘‘

کہا:’’ میں مسلمان ہو کر محمد ﷺ کے دین کا پیرو کار بن گیا ہوں ۔ ‘‘

والد کہنے لگے :’’ پیارے بیٹے ! میرا دین بھی وہی ہے جو تیرا ہے ۔ ‘‘

طفیل  رضی اللہ عنہ نے کہا :’’ پھر جاکر غسل کیجئے اور پاک صاف ہو کر آئیے تاکہ میں آپ کو وہ باتیں بتائوں جو میں نے سیکھی ہیں ۔ ‘‘

طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے والد گئے ۔ غسل کر کے پاک صاف ہوئے ، پھر طفیل کے پاس آئے ۔ طفیل رضی اللہ عنہ نے اُن کے سامنے اسلام پیش کیا ۔ وہ مسلمان ہو گئے ۔ ادھر سے فارغ ہو کر طفیل رضی اللہ عنہ پنے گھر گئے ۔ بیوی دوڑی دوڑی شوہر سے ملنے آئی ۔ انہوں نے کہا :

’’ دور رہو ۔ میرا تم سے اور تمہارا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ‘‘

وہ کہنے لگی :’’ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیوں ؟‘‘

طفیل ؓنے کہا :’’ اسلام نے میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دی ہے ۔ میں محمد  ﷺ کے دین کا پیرو بن چکا ہوں ۔ ‘‘

بیوی بولی:’’ میرا دین بھی وہی ہے جو آپ کا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا :’’ جائو اور پاک صاف ہو کر آئو ۔ ‘‘

بیوی گئی ۔ اسے ڈر لگا کہ قوم کے بت کی پوجا چھوڑ دی تو وہ بچوں کو مار ڈالے گا ۔ یہ سوچ کر واپس آئی اور کہا :’’ میرے ماں باپ آپ پر قربان ! بچوں کے متعلق آپ کو ذوالشریٰ سے ڈر نہیں لگتا ؟‘‘

ذوالشریٰ ان کے بت کا نام تھا ۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ جو شخص اس کی پوجا چھوڑ دے وہ اسے اور اس کے بال بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے ۔

طفیل  رضی اللہ عنہ کہنے لگے :

’’ جائو ۔ میں تمہیں ضمانت دیتا ہوں کہ ذوالشریٰ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ ‘‘

وہ گئی اور غسل کر کے آئی ۔ انہوں نے اسلام کے متعلق بتایا تو اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس کے بعد طفیل بن عمرو ؓ  قوم کے گھر گھر جا کر اسلام کی دعوت دینے لگے۔ وہ اُن کی مجلسوں میں جاتے اور چوراہوں میں کھڑے ہو کر توحید کا ڈنکا بجاتے ۔

قوم کے لوگوں نے ان کی بات مان کربتوں کی پوجا چھوڑ دینے سے انکار کر دیا ۔ طفیل بن عمرو ؓ اُن کے اس رویے سے سخت ناراض ہوئے ۔ انہوں نے رخت سفر باندھا اور مکہ روانہ ہو گئے ۔

مکہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے اور کہا :’’یا رسول اللہ! دوس کے لوگوں نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔ آپ اُن پر بد دعا کیجئے  ‘‘

نبی ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ آپ نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے ۔ طفیل ؓ نے دل میں کہا :’’ میرے قبیلے دوس کی شامتِ اعمال آگئی ۔ ‘‘

لیکن رحم دل نبی ﷺ نے یوں دعاء فرمائی :

اللھم اھد دوسا ، اللھم اھد دوسا

’’ اے اللہ ! دوس کو ہدایت دے ۔ اے اللہ ! دوس کو ہدایت دے ۔ ‘‘

پھر طفیل رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :

’’ آپ اپنی قوم کے پاس واپس جائیے اور اُنہیں نرم گفتاری سے اسلام کی طرف بلائیے ۔ ‘‘

طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ واپس گئے اور قوم کو اسلام کا پیغام سناتے رہے ، یہاں تک کہ سب لوگ مسلمان ہو گئے‘‘ ۔ ( دلائل النبوۃ بیہقی، بخاری)

 آج بھی امت میں بحمد للہ تعالیٰ با صلاحیت افراد کی کمی نہیں ہے بس ضرورت ہے کہ صلاحیت کو صحیح رخ پر ڈالا جائے اور اپنی جدوجہد کو دین کی فکر کے ساتھ جوڑ دیا جائے ۔ آج کا سب سے بڑا المیہ قیمتی صلاحیتوں کا ضائع ہونا ہے ، بڑے بڑے با صلاحیت افراد جن سے امت کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے وہ اپنی محنتیں محدود نفع پر لگا رہے ہیں اور آخرت کے لازوال نفع کا تصور ان کے ذہنوں سے ختم ہوتا جا رہا ہے ، اس ضیاع اور محرومی پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے ، آج محلہ محلہ اور گھر گھر وقت ضائع کرنے کے باقاعدہ اڈے بن گئے ہیں ، کہیں ’’ویڈیو گیم‘‘ کی نحوست ہے ، تو کہیں ’’موبائل فون‘‘ کی مصیبتیں ہیں۔اگر کوئی میچ ہو جائے تو پوری قوم دنیا جہاں سے بے غرض ہو کر بس ہار جیت کے نشہ میں مست ہو جاتی ہے۔ نوجوانوں کی مجلسوں میں جائیے تو یا تو فلموں کے فحش تذکرے ہیں یا کرکٹ کے میچوں اور کھلاڑیوں پر تبصرے ہیں ، بڑوں کی محفلوں اور چائے کے ہوٹلوں پر چلے جائیں تو سیاست کی ایسی بحثیں سننے کو ملیں گی کہ گویا اسمبلی اور پارلیمنٹ یہیں اٹھ کر آگئی ہے ۔ ان سب باتوں کا نتیجہ محض صفر ہے ، نہ دین کا فائدہ نہ دنیا کا ، اگر یہ فکری صلاحیت جو اِن ’’بے ہنگم اڈوں‘‘ پر بیٹھ کر ضائع ہو رہی ہے ذکر اذکار میں لگے یا تلاوت قرآن کریم میں صرف ہو یا دین کی اشاعت اور تحفظ میں خرچ ہو تو کس قدر عظیم فائدہ حاصل ہو سکتا ہے مگر اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ، بس غفلت میں زندگی گزر رہی ہے ۔

سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چھٹے نمبر پر اسلام لانے والے نہایت جلیل القدر صحابی ہیں ۔ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخصوص خدام میں تھے اور اس کثرت سے آپ کی خدمت مبارکہ میں حاضر رہتے کہ لوگ آپ کو اہل بیت ہی کا ایک فرد سمجھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فقہی بصیرت اعلیٰ درجہ کی عطا فرمائی تھی اور ساتھ میں اصلاح امت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔

 ایک مرتبہ آپ کا گذر ایک ایسی مجلس پر ہوا جہاں کچھ من چلے لوگ جمع تھے…اور موج و مستی کے ساتھ گانے بجانے کا دور چل رہا تھا ، ایک بہترین آواز والا ’’ گلوکار ‘‘ جس کا نام ’’ زاذان کندی‘‘ تھا اس نے اپنی طرب انگیز آواز سے مجلس گرم کر رکھی تھی ، سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کی دل کش آواز سن کر ایک جملہ ارشاد فرمایا اور آگے بڑھ گئے وہ جملہ یہ تھا :

’’ یہ آواز کتنی اچھی ہے کاش! اس آواز سے اللہ کی کتاب قرآن کو پڑھا جاتا ‘‘۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی گفتگو کی کچھ جھلک ’’زاذان ‘‘ نے بھی سن لی اور پوچھا کہ یہ کون صاحب تھے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ صحابیٔ رسول سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ تھے ۔ پھر اس نے پوچھا کہ وہ کیا کہہ کر تشریف لے گئے؟ لوگوں نے بتا دیا کہ حضرت ؓ یہ فرما کر گئے ہیں’’ کہ کیا اچھا ہوتا کہ اس دل کش آواز سے اللہ کی کتاب کو پڑھا جاتا ‘‘ ۔

 بس یہ بات سن کر ’’ زاذان ‘‘ کے دل کی حالت بدل گئی انہوں نے وہیں تمام آلات طرب و مستی توڑ ڈالے اور گلے میں رومال ڈال کر بے تحاشا روتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کی خدمت میں توبہ کی غرض سے حاضر ہوئے ۔ حضرت ؓ نے انہیں سینے سے لگا لیا اور ان کی ندامت اور سچی توبہ کو دیکھ کر خود آپ پر بھی رقت طاری ہو گئی اور فرمایا: اس شخص نے توبہ کر کے اپنے کو اللہ کا محبوب بنا لیا ہے اس لئے میرے دل میں بھی اس کی محبت راسخ ہو گئی ہے ، اس کے بعد یہی ’’زاذان ‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہ پڑے اور قرآن و سنت کا عظیم الشان علم حاصل کر کے اپنے وقت کے امام کہلائے ، آج بھی ذخیرئہ احادیث میں بے شمار روایتیں آپ کے واسطے سے مروی ہیں ۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃً( کتاب التوابین لا بن قدامہ ۲۰۷)

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا اس واقعہ میں یہ ارشاد کہ ’’ کاش اس آواز سے اللہ کی کتاب قرآن مجید کو پڑھا جاتا ‘‘ بہت ہی بصیرت افروز اور سبق آموز جملہ ہے ۔ اس کا تعلق ہم سب کی زندگیوں سے ہے کہ ہماری وہ صلاحیتیں جو بے کار کاموں میں لگ کر برباد ہو رہی ہیں ، کاش کہ وہ صلاحیتیں صحیح جگہ خرچ ہونے لگ جائیں تو آج امت ِ مسلمہ کے حالات کا نقشہ بدل سکتا ہے ۔

آئیں ! ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں اور طاقتیں دی ہیں ، انہیں ہم اُسی کی رضا کی خاطر وقف کر دیں تاکہ دنیا و آخرت میں سرخرو اور کامیاب ٹھہریں ۔

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor