Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

یُحِبُّ الْجَمَالْ

 

یُحِبُّ الْجَمَالْ

Madinah Madinah

صحیح مسلم اور دیگر متعدد کتب حدیث میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمان منقول ہے کہ:

اِنَّ اللہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ

”بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہیں اور جمال کو پسند فرماتے ہیں“

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہی جمیل ہیں، اس کے سب نام بھی خوبصورت، اس کی سب صفات بھی خوبصورت اور اس کے سب افعال بھی خوبصورت۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ اقدس عیب اور نقص سے بالکل پاک ہے بلکہ عیب اور نقص کی مجال ہی نہیں کہ اس پاک بارگاہ کی طرف جاسکیں۔

سورہ فاتحہ کے آغاز میں ہی بتایا گیا:

اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

سب خوبیاں ، سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہیں، وہ بے حد مہربان اور نہایت مہربان ہے۔

لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُولٰی وَ  الْآخِرَۃْ

اُسی کے لیے ہیں سب خوبیاں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی

وہ اپنے فضل وکرم سے جسے چاہتا ہے خوبیاں عطاء فرما دیتا ہے، اس کا فضل وسیع اور اس کی عطاء وسخاوت اور جُود و کرم بے بہااور بےا نتہاء ہے۔ آسمان اور زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں۔

اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ

”وہی کامل غنی اور کامل خوبیوں والا، تعریف کے لائق ہے“

اُسی نے حسن و جمال کا ایک بہترین مرقع رحمۃ للعالمین سیدنا محمدﷺ کی شکل میں مخلوقات کو عطاء کیا ہے، کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کی مدح کرتے ہوئے کہتے ہیں:

و احسن منک لم تر قط عین

و اجمل منک لم تلد النساء

خلقت مبرا من کل عیب

کانک قد خلقت کما تشاء

”آپ سے زیادہ حسین کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، اور آپ سے زیادہ جمیل کسی ماں نے جنا نہیں۔آپ ہر عیب سے پاک پیدا کیے گئے گویا جیسا آپ چاہتے تھے ویسے ہی باکمال انداز میں آپ کو پیدا کیا گیا۔ “

اس سب کا تقاضا یہ ہے کہ بندے بھی اپنے اندر جمال پیدا کریں، کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ کو جمال پسند ہے تو جو جمال اختیار کرے گاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوبیت کا مقام پالے گا اور دوسری جانب یہ بھی طئے ہے کہ جوبھی جمال پانا چاہتا ہےتو اُسے ”صاحبِ جمال، رحمۃ للعالمینﷺ“ کی پیروی اوراتباع سے ہی یہ مقام مل سکتا ہے۔

اب آپ یہ دیکھیں کہ انسان اپنے آپ کو مرقعِ جمال کیسے بنا سکتا ہے؟ کہ جس کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ کو پسند آ جائے۔

اس کا جواب حضرت سیدنا اِمام ابو العباس اَحمد الرفاعی رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عمدگی اور جامعیت سے بیان فرما دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

انسان کے دل کاجمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔

انسان کی عقل کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ مخلوقات میں عبرت والاغور وفکر ہے۔

انسان کی روح کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی شکر ہے۔

انسان کی زبان کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ باتوں سے خاموشی ہے۔

انسان کے چہرے کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہے۔

انسان کی نیت کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ سے غافل کرنے والے خیالات و خطرات کو ترک کرنے میں ہے۔

انسان کے دل کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں پر حسد نہ کرنے میں ہے۔

انسان کے نفس کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں میں نفس کی مخالفت کرنے میں ہے۔

انسان کے باطن کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کے لیے صبر کرنے میں ہے۔

انسان کے حال کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کے لیے استقامت میں ہے۔

انسان کی زندگی کے سفرکا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر سر تسلیم خم کرنے میں ہے۔

انسان کی خدمت کا جمال اور خوبصورتی ادب میں ہے۔

انسان کے کلام کا جمال اورخوبصورتی سچائی میں ہے۔

انسان کی راہِ عمل کا جمال اور خوبصورتی شریعت کی موافقت میں ہے۔

اور ان سب چیزوں کا جمال اور خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”توفیق“ کا ثمر اور فیضان ہے۔

ان میں سے ہر جملہ ایک مکمل مضمون ہے۔ ایک مکمل سبق ہے۔ ایک مکمل رہنمائی ہے۔ ایک مکمل درس ہے۔ ایک مکمل کتاب ہے۔ ایک مکمل ہدایت ہے۔ ایک مکمل نشانِ منزل ہے۔

OOO

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor