Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

دُنیا کی حقیقت

 

دُنیا کی حقیقت

Madinah Madinah

اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک اور آخرت کے مقابلے میں یہ دنیا حقیر اور بے قیمت ہے چونکہ ہمارے اس زمانہ میں دنیا کے ساتھ لوگوں کا تعلق اور شغف وانہماک حد سے بڑھ گیا ہے اور دینوی اور مادی ترقی کو اتنی اہمیت دے دی گئی ہے کہ غالباً پہلے کبھی اسے اہمیت کا یہ مقام حاصل نہ ہوا ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہماری حفاظت فرمائیں۔ دنیا کی حقیقت جس شخص پر جتنی واضح ہو جاتی ہے وہ اتنا ہی اللہ تبارک وتعالیٰ کے قرب میں جگہ پانا شروع کر دیتا ہے۔ قرآن وحدیث کا بڑا موضوع ہی دنیا کی بے ثباتی اور حقارت اور آخرت کی زندگی کی اہمیت اور بقا ہے۔

قرآن پاک چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے روئے زمین کے انسانوں کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے اس لئے اس میں اور بھی زیادہ زور اور اہمیت کے ساتھ جا بجا مختلف عنوانات سے دنیا کی بے وقعتی اور بے ثباتی کو اور آخرت کی اہمیت اور بقا کو واضح کیا گیا ہے، کہیں فرمایا گیا:

 ’’قل متاع الدنیا قلیل والآخرۃ خیر لمن اتقیٰ ‘‘( النساء)

 اے پیغمبر! انہیں بتا دیں کہ دنیا کا سرمایہ بہت ہی قلیل ہے اور آخرت پرہیز گاروں کے لئے بہتر ہے۔

کہیں فرمایا:

’’وما الحیوۃ الدنیا الالعب ولھو‘‘(الانعام)

دنیا کی زندگی بس چند دنوں کا کھیل تماشا ہے اور آخرت کا گھربہتر ہے پرہیز گاروں کے لئے۔

 کہیں ارشاد ہے:

’’انما ھذہ الحیوۃ  الدنیا متاع وان الآخرہ لھی دار القرار‘‘(المومن)

یہ دنیوی زندگی تو بس چند دنوں کا نفع ہے اور آخرت ہی اصل رہنے کی جگہ ہے۔

 کہیں فرمایا:’’وماالحیوۃ الدنیا الامتاع الغرور‘‘( الحدید)

دنیوی زندگی تو بس دھوکہ کا سرمایہ ہے۔

پس انسان کی سعادت اور آخرت میں اس کی کامیابی کے لئے گویا یہ شرط ہے کہ دنیا کی چمک دمک زیب و زینت اور مال ودولت اس کی نظرمیںفانی، حقیر اور بے قیمت ہو اس کے دل کا رخ حصول جنت ہی کی طرف راغب ہو اور ’’الھم لا عیش الا عیش الاخرۃ‘‘اس کے قلب و جگر کی صدا ہو۔

آیات قرآنیہ سے دنیا کی حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد اب چند احادیث بھی قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کا گزر بکری کے ایک مردہ بچے پر ہوا جوراستے میں مرا پڑا تھا۔ اس وقت آپ کے ساتھ جو لوگ تھے ان سے آپ نے فرمایا:

تم میں سے کو ئی اس مرے ہوئے بچے کو صرف ایک درہم میں خریدنا پسند کرے گا؟

 انہوں نے عرض کیا، ہم تو اس کو کسی قیمت پر بھی خریدنا پسند نہیں کریں گے۔ آپﷺ نے فرمایا:

 قسم ہے خدا کی! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل اور بے قیمت ہے جتنا ذلیل اور بے قیمت تمہارے نزدیک یہ مردہ بچہ ہے۔(صحیح مسلم)

اس حدیث سے بندوں کی ہدایت اور تربیت کے اس بے پناہ جذبے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے قلب مبارک میں رکھا تھا۔ بکری کے مردار بچے سے منہ پھیرنے کی بجائے آپﷺ صحابہ کو متوجہ کر کے ایک اہم سبق دیتے ہیں کہ جس قدر تمہارے نزدیک یہ مردار بچہ حقیرو ذلیل ہے، اسی قدر اللہ کے نزدیک دنیا حقیرو ذلیل ہے۔

حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

 اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدروقیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر منکر کو وہ ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔(مسنداحمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

یعنی خدا اور رسول کے منکروں کو جو کچھ بھی مل رہا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ عنداللہ دنیا نہایت حقیر و ذلیل اور بے وقعت ہے چنانچہ آخرت جو اللہ کے ہاں قیمتی ہے، وہاں کسی دشمن کو خدا ٹھنڈے اور خوشگوار پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دے گا۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔(مسلم)

اس حدیث میں ایمان والوں کو خاص سبق دیا گیا ہے کہ یہاں دنیا میں حکم وقانون کی پاپندی کے قید خانے والی زندگی گزاریں اور دنیا سے جی نہ لگائیں اور یہ حقیقت پیش نظر رکھیں کہ اس دنیا کو اپنی جنت سمجھنا اور اس سے اپنا دل لگانا اور اس کے عیش کو اپنا اصل مقصود و مطلوب بنانا کا فرانہ طریقہ ہے۔ بس یہ حدیث گویا ایک آئینہ بھی ہے، جس میں ہرمومن اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے کہ اگر اس کے دل کا تعلق اس دنیا کے ساتھ وہ ہے جوقید خانے کے ساتھ قیدی کا ہوتا ہے، تو وہ پورامومن ہے اور اگر اس نے اس دنیا سے ایسا دل لگایا کہ اسے اپنا مقصود و مطلوب سمجھ بیٹھا تو اس کا یہ حال کا فرانہ ہے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

 جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گااور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان اٹھائے گا، پس فنا ہوجانے والی دنیا کے مقابلے میں باقی رہنے والی آخرت اختیار کرو۔(مسنداحمد،شعب الایمان للبہقی)

ظاہر ہے جوشخص دنیا اور آخرت میں سے جس کواپنا مقصود و مطلوب بنائے گا اسکی اصل فکر اور سعی اسی کے واسطے ہوگی اور دوسری چیز کو وہ یکسر نظر انداز کردے گا، جس کا نتیجہ خسارے کی صورت میں ظاہر ہوگا، پس صاحبِ ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنی محبت اور چاہت کے لئے آخرت کو منتخب کرے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے جبکہ دنیا تو پس چند روز کا کھیل تماشہ ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: خبردار! دنیااور جو کچھ دنیامیں ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور اس کے لئے رحمت سے محرومی ہے سوائے خدا کی یاد کے اور ان چیزوں کے جن کا خداسے کو ئی تعلق ہے اور سوائے عالم اور متعلم کے۔(جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں حضورﷺ نے چار چیزوں کے علاوہ باقی سب کے متعلق بتلا یا کہ ان پر اللہ کی پھٹکار ہے وہ چار چیزیں یہ ہیں۔

 (۱) اللہ کی یاد(۲) اللہ کا دین(۳) عالم(۴) متعلم

 ان کے علاوہ جو چیزیں اور جو اعمال و اشکال میں اللہ اور اللہ کے دین سے بالکل بے تعلق ہیں، جن کا نام دراصل دنیا ہے وہ سب اللہ کی رحمت سے دور اور محروم اور قابل لعنت ہیں۔ پس انسان کی زندگی اگراللہ کی یاد سے اور اس کے تعلق اور دین کے علم اور اس کے تعلم سے خالی ہے تو وہ رحمت کی مستحق نہیں بلکہ قابل لعنت ہے۔

حضرت قتادہ بن نعمانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو دنیا سے اس کو اسی طرح پرہیز کراتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے مریض کو پانی سے پرہیز کراتا ہے( جبکہ اس کو پانی سے نقصان پہنچتا ہو) (مسند احمد، جامع ترمذی)

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ جن بندوں سے محبت کرتا ہے اور اپنے خاص انعامات سے انکو نوازنا چاہتا ہے ان کو اس مردار دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح تم لوگ اپنے مریضوں کو پانی سے بچاتے ہو۔

واقعہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام انسانوں کو جیسا انسان بنانا چاہتے ہیں اور اپنی تعلیم و تربیت سے ان کی جو سیرت بنانا چاہتے ہیں، اسکی اساس وبنیاد یہی ہے کہ آدمی اس دنیوی زندگی کو بالکل عارضی اور موت کے بعد والی زندگی کو اصلی اور مستقل زندگی سمجھتے ہوئے اس کی تیاری اور فکر میں اس طرح لگارہے کہ گویا کہ وہ زندگی اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور جن لوگوں نے یہ بات جس درجے میں اپنے اندر پیدا کرلی ان کی زندگی اور سیرت اسی درجے میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم اور منشاء کے مطابق ہوگئی اور جنہوں نے اپنی زندگیاں انبیاء کی تعلیم کے تابع نہ کیں وہ اس سے محروم رہے ۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor