Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

کہیں کچھ کھو تو نہیں رہا

 

کہیں کچھ کھو تو نہیں رہا

Madinah Madinah

زندگی کی چکاچوند اور مصروفیت میں کیا کچھ پیچھے رہ گیااور کیا کچھ کھو گیا ہمیں اس کا ادارک ہو ہی نہیں ہو سکتا۔انہی بہت سی چیزوں میں ایک بہت اہم وہ جو کل کے معمار ہیں۔ہمارا مستقبل ہیں ۔ہم انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ جی ہاں ! ہماری اولاد ۔ ہم انہیں وقت دینے اور ان سے دو گھڑی بیٹھ کر بات کرنے اب وقت کا ضیاع سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ اسلاف کی روایات اس سے قطعاً الگ ہے۔ آپ سے ایک سوال ہے :اگر آپ کا بیس سالہ بیٹا یا بیٹی آپ سے قصہ کہانی سنانے کا مطالبہ کرے تو بتائیے!  آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ رکیے! جواب میں جلدی نہ کیجیے! پہلے ایک روایت سن لیجیے:

 حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

قرآن نازل ہوتا جارہا تھا، اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے رہے، ایک زمانہ گزرجانے کے بعد صحابہ کرام ‌رضی اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ ہمیں قصے بھی سنادیا کریں! چنانچہ اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی:

نحن نقص علیک احسن القصص"  (سورہ یوسف) سبحان اللہ!

 صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قصہ کا مطالبہ کیا اور جبریل علیہ السلام قرآن کی قصہ والی آیتیں لے کر آگئے، یہ کہتے ہوئے کہ اے محمد! آپ خود ان کے سامنے قصے نہ بیان کریں، ہم آپ کے لیے بھی اور آپ کے اصحاب کے لیے بھی بہترین قصہ لائے ہیں۔

قصوں کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ یا اس سے زیادہ حکایات و قصص پر مشتمل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بکثرت اپنے صحابہ کو قصے سنایا کرتے، آپ قرآنی حکم "فاقصص القصص لعلھم یتفکرون" (آپ قصے بیان کیجیے! تاکہ یہ لوگ غور و فکر کریں)  پر سو فیصد عامل تھے۔

 سیرت کا مطالعہ کرنے والے سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ آپ صغار صحابہ و کبار صحابہ کو بکثرت قصے سنایا کرتے تھے۔ آپ نے صحابہ کو اصحاب الاخدود، عبادت گزار جریج، اصحاب کہف، تین شخص جن میں ایک نابینا دوسرا گنجا اور تیسرا کوڑھی تھا کے قصے سنائے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے قصے سنائے۔

 آپ جب اپنے بچوں کو قصے کہانی سنانے کے لیے جمع کرکے ان کو سبق آموز واقعات سناتے ہیں تو آپ ایک بہت بڑی ذمہ داری کو ادا کر رہے ہوتے ہیں، اسی کے ساتھ آپ کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قصہ سنانے کی سنت کا ثواب، بچوں کی بہترین تربیت کرنے کا ثواب اور ان کے قیمتی وقت کو بہترین مصرف میں خرچ کرنے کا ثواب بھی ملتا ہے۔بچوں کی تربیت میں صرف ڈانٹ ڈپٹ سے کام نہیں لینا چاہیے، بلکہ اپنے بچوں کے لیے نرم خو، خوش اخلاق اور فرحت و مسرت کا سرچشمہ بننا چاہیے. ورنہ شیطان ان کے ذہن و دماغ میں یہ بات بٹھادے گا کہ:

 تمہارے والد تم سے محبت نہیں کرتے، تمہاری والدہ تم کو ناپسند کرتی ہے، گھر والوں کے دلوں میں تمہارا کوئی احترام کوئی ہمدردی نہیں ہے.اور اگر آپ بچوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے، انہیں عمدہ قصے کہانیاں سنائیں گے تو ان کا ضمیر اندر سے گواہی دے گا کہ میرے والدین، میرے اساتذہ بہت اچھے ہیں،  مجھ سے محبت کرتے ہیں، اور ان کا مجھے اچھے اچھے قصے سنانا اس محبت کی دلیل ہے۔

 چنانچہ ایک چالیس سالہ اماں جی کہتی ہیں: میرے بچپن کے سب سے زیادہ خوشگوار مسرت انگیز لمحات وہ تھے جو میں ابو امی کے پاس عمدہ قصے کہانی سننے کے لیے بتاتی تھی، دن رات میں جب بھی موقع ملتا وہ مجھے قصے سنایا کرتے، جہاں یہ قصے میری معلومات کے خزانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں اور مجھے ان قصوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، وہیں یہ غم کے وقت تسلی کا سامان بھی تھے، خدا تعالی اور انبیاء کرام علیھم السلام کے بارے میں اپنی معلومات کا ایک بڑا ماخذ میں انہیں قصوں کو سمجھتی ہوں جو میرے والدین مجھے اہتمام سے سنایا کرتے تھے۔ ان مشکل گھڑیوں میں  جن کا آج کے بچے سامنا کررہے ہیں- وہ قصے مجھے راہ مستقیم پر ثابت قدم رکھے ہوئے ہیں، برائیوں کا ایک سیل رواں ہے جس کے سامنے میں ڈٹ کر کھڑی ہوں، اور آج بھی جبکہ میری عمر چالیسسال ہوچکی ہے، میں ان قصوں کی لذت کو محسوس کرتی ہوں جو میرے والدین روازنہ رات کے کھانے کے بعد ہمیں سنایا کرتے تھے۔(خمسون قصۃ تحکیھا لطفلک۔ص 14/15 )

ایک شخص اپنے بچپن کی یادوں کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ ہم دادی جان کا بےصبری سے انتظار کرتے تھے کہ وہ جلد سے جلد عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر اپنا مصلی لپیٹ کر رکھیں تاکہ ہم دوڑ کر ان کے ارد گرد حلقہ لگاکر بیٹھ جائیں۔  ہماری نظریں ان کے ہونٹوں پر جمی رہتی، وہ کہتیں(صلوا علی النبی ) نبی پر درود بھیجو! اور ہم شوق سے درود شریف کی تکرار کرتے: اللھم صل و سلم علیہ، ہماری عمدہ قصے کہانیاں سننے کی حسین ابتدا اسی طرح (درود شریف سے) ہوتی، وہ ہر رات ہمیں سبق آموز عمدہ قصے سناتیں، آج جب کبھی ان قصوں میں سے کوئی قصہ ذہن میں آتا ہے تو وہ سبق تازہ ہوجاتا ہے، بلکہ اور بھی بہت سی نصیحتیں حاصل ہوجاتی ہے، جبکہ بچپن میں تو ہمارا مقصد بس ان قصے کہانیوں سے لطف انداز ہونا تھا، لیکن آج مجھے احساس ہورہا ہے کہ ان قصوں میں جو معانی اور اسباق پوشیدہ تھے وہ بچپن ہی میں ذہن کے نہاں خانے میں راسخ ہوچکے تھے، بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری شخصیت کی تشکیل میں ان قصوں کا سب سے اہم کردار رہا ہے۔( ایضاً حوالہ بالا )

اپنے بچوں کو وقت دیجئے۔ زندگی کی رونق بہت جلد بے رونقی میں بدل کو آپ کو ہمیشہ کے لئے اپنے بچوں سے دور نہ لے جائے اس سے پہلے پہلے ان کو پور ا حق دیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بچوں کی زندگی میں اس کا کیسا اثر پیدا ہوتا ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor