Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

کامیابیوں کا مکمل پیکج

 

کامیابیوں کا مکمل پیکج

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہواور مانگنے والے اولوالعزم نبی علیہ السلام ہوں تو یقیناً ہر دعاء ہی بہت اہم ہوگی لیکن آج جس دعاء کا قصہ ہم آپ کو سنانے جارہے ہیں،یہ ایسی بابرکت دعاء ہے کہ زندگی کی ہر بھلائی کا سوال اس میں سمٹ کر آجاتا ہے۔

عام طور پر انسان اللہ تعالیٰ سے کیا مانگنا چاہتا ہے؟

ایمان اور جان کی سلامتی،دشمنوںاور براچاہنے والوں سے حفاظت،تسلی بخش روزگار کی فراہمی ، رہنے کے لیے پرسکون رہائش،نیک سیرت اور اچھی صفات کا پیکر شریک حیات،زندگی میں قدم قدم پر آنے والی آزمائش سے نمٹنے کے لیے کسی مشفق ومحترم ہستی کی سرپرستی اور حیات مستعار کی دین کی خدمت کے لیے قبولیت…اس کے علاوہ بھی یقینا بہت کچھ بندہ اپنے مہربان رب جل جلالہ سے مانگنا چاہتا ہے۔

اب آپ نے ان سب کاموں کے لیے الگ الگ دعائیں تو یقینا مانگی ہوں گی اور مانگنی بھی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جاننے کے باوجود یہ چاہتے ہیں کہ بندہ ان سے مانگے اور روکر مانگے ، عاجزی وانکساری سے مانگے ،زاری کر کے مانگے،آنسوبہاکرمانگے اور خوب دل لگا کر اپنی حاجتیں ہمارے دربار میں پیش کرے۔

لیکن اگر ایک دعاء آپ کو ایسی بتادی جائے جس میں دنیا وآخرت کی تمام خیرات وبرکات کا سوال بھی ہواور وہ دعاءبھی اللہ تعالیٰ کے ایک عظیم پیغمبر علیہ السلام کی زبان سے نکلی ہو،پھر صرف یہی نہیں بلکہ اس دعاءکو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرماکرقیامت تک آنے والے انسان کیلئے محفوظ بھی فرمادیا ہوتو یقیناً آپ کو بہت خوشی بھی ہوگی اور آپ اس کو اپنی زندگی کے معمولات میں بھی شامل کرلیں گے۔

دعاءبتانے سے پہلے مختصر طور پر وہ قصہ بھی سنتے جائیںتاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ کس نازک وقت میں اور کتنی بے بسی کی حالت میں یہ دعاءدل سے نکلی اور سیدھی عرش تک جاپہنچی اور وہاں سے ایک بھلائی نہیں بلکہ بھلائیوں اور کامیابیوں کا پوراایک پیکج لے کر واپس آئی۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی مبارک کے بہت سے حصے ہیں اور قرآن مجید میں ان کو مختلف سورتوں میں الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔آج کا جوقصہ ہم پڑھنے جارہے ہیں،اس کا تعلق آپ علیہ السلام کی زندگی کے اس دور سے ہے،جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے لیکن ابھی تک آپ علیہ السلام کو باقاعدہ نبوت عطاء نہیں ہوئی تھی۔

فرعون مصرکا بادشاہ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو قتل کروادیتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیں کہ بنی اسرائیل کے جس بچے کے ہاتھوں اس کی سلطنت کا خاتمہ ہونا تھا اور اس کا سر پُر غرور خاک میں ملنا تھا،وہ خود اسی کے محل میں پرورش پارہا تھا۔

یہی بچہ آگے چل کر’’سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام‘‘ کے خوبصورت روپ میں سامنے آیا اور فرعون کا اقتدار انہی کے ہاتھوں زوال پذیر ہوا۔ ایک دن سیدنا موسیٰ علیہ السلام شاہی محل سے نکل کر جارہے تھے اور یہ ایسا وقت تھا کہ عام لوگ ابھی گھروں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔آپ نے دیکھا کہ دوآدمی آپس میں لڑائی جھگڑا کر رہے ہیں۔

جب آپ علیہ السلام قریب گئے تو پتہ چلا کہ ایک تو آپ کی قوم بنی اسرائیل کا شخص ہے اور دوسرا مصر کا رہنے والا ’’ قبطی‘‘ ہے۔بنی اسرائیل چونکہ مصر میں غلامی اور مظلومیت کی زندگی گزار رہے تھے اور ’’قبطی‘‘ ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھایا کرتے تھے،اس لیے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہی خیال ہواہوگا کہ یہ میری قوم کا فرد مظلوم ہے اور اس کے مقابل ظالم۔انہوں نے قبطی کو ظلم سے باز رکھنے کے ایک مکا مارا تو اس کا کام ہی تمام ہوگیا اور وہ گر کر مرگیا۔

سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہ صورتحال بالکل غیر متوقع تھی، اس لیے وہ اس پر پچھتائے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش کی دعاءبھی مانگی۔قبطی کے قتل کی خبر تو عام ہوگئی لیکن چونکہ اس راز سے صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کا فرد ہی واقف تھے،اس لیے یہ راز ہی رہا اور کسی کو پتہ نہ چلا کہ حکمران قوم کے ایک شخص کو قتل کرنے کی جسارت کس نے کی ہے۔

اب اگلے دن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پھر گزر ہوا تو دیکھتے ہیں کہ وہی کل والا اسرائیلی شخص ایک دوسرے ’’قبطی‘‘ سے جھگڑ رہا ہے۔اس نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پھر مدد کے لیے پکارا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسرائیلی شخص بہت بے راہ محسوس ہوا کہ یہ تو روز کسی نہ کسی کے ساتھ جھگڑا ڈال کر کھڑا ہوتا ہے، اس لیے آپ علیہ السلام نے پہلے تو اس کو احساس دلایا کہ تیرا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے اور پھر اس ارادہ سے آگے بڑھے کہ ’’قبطی‘‘ کو ظلم سے باز رکھیں لیکن اسرائیلی گھبرا گیا کہ شایدآج میری باری آگئی ہے اور وہ آپ کے مکے کی طاقت تو کل دیکھ ہی چکا تھا اس خوف اور رعب کی حالت میں اس نادان دوست نے وہ راز اگل دیا جو ابھی تک حکومت اور لوگوں سے پوشیدہ تھا۔

وہ کہنے لگا: اے موسیٰ! آپ آج مجھے بھی مارڈالنا چاہتے ہیں جیسے کل آپ نے ایک شخص کو قتل کیا تھا۔یہ بات’’قبطی‘‘ نے سنی تو وہ ساری بات سمجھ گیا کہ کل میری قوم کا جو فرد قتل ہوا تھا، وہ کسی اور نے نہیں شاہی محل میں پرورش پانے والے موسیٰ( علیہ السلام) نے کیا تھا۔ اس نے یہ اطلاع حکومتی اداروں کو دیدی جہاں سے آپ علیہ السلام کی گرفتاری اور قتل کے احکامات جاری ہوگئے۔

اللہ تعالیٰ نے جب کسی کی حفاظت کرنی ہو تو اس کیلئے اسباب بھی پیدا فرمادیتے ہیں، شاہی محل والے علاقے سے ایک شخص نے آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پوری صورت حال بتائی اور یہ مخلصانہ مشورہ دیا کہ آپ فوری طور پر کسی اور شہر میں منتقل ہوجائیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے چلے، پورا صحرائے سینا عبور کیا اور مدین پہنچ گئے۔ سات دن کے انتہائی پر مشقت سفر جس میں کوئی زادِ راہ بھی پاس نہ تھا، اس کی مشکلات کا اندازہ کرنا بھی ہمارے لئے آسان نہیں ہے۔آپ علیہ السلام مدین پہنچے تو آپ نے عجیب منظر دیکھا کہ مرد تو اپنے جانوروں کو کنویں سے پانی پلارہے ہیں لیکن دو عزت مآب خواتین اپنے جانوروں کو ایک طرف روکے کھڑی ہیں تاکہ جب سب واپس چلے جائیں تو وہ یہ فریضہ سرانجام دیں۔

دوسروں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا، اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور نیکی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خمیر میں شامل تھی، ان سے دو بے بس عورتوں کی یہ حالت دیکھی نہ گئی اور انہوں نے پوچھا کہ آپ ایسے کیوں ایک طرف کھڑی ہیں، ان اللہ کی بندیوں نے جواب دیا کہ ہم شرم و حیاء کی وجہ سے مردوں کے درمیان جانہیں سکتیں اور ہمارے گھر میں صرف بہت بوڑھے ہمارے والد ہیں وہ یہاں آنہیں سکتے، اس لئے ہمیں انتظار ہی کرنا پڑتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے باوجود بھوک، تھکاوٹ اور پردیس کے، خالص رضائے الہٰی کے لئے ان خواتین کے جانوروں کو پانی پلایا اور پھر ایک سایہ دار جگہ پر آکھڑے ہوئے اور اس وقت یہ دعاء مانگی۔دعاء کے الفاظ پڑھنے سے پہلے ذرا چشم تصور سے یہ منظر دیکھیںکہ سات دن سے بھوک اور فاقہ، پردیس میں کوئی سہارا نہ ٹھکانہ، مستقبل کے وسوسے اور اندیشے الگ، ایسے میں آپ علیہ السلام کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:

رَبِّ اِنِّی لِمَا اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ

(اے میرے رب! جو بھلائی بھی آپ میری طرف بھیج دیں، میں اس کا سخت محتاج ہوں)

ذرا غور فرمائیں کہ اس مختصر ترین دعاء میں بندگی کا عجیب اظہار ہے، ایک طرف اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے محتاج اور ضرورت مند ہونے کا ذکر فرمارہے ہیں کہ اس پر دیس میں جہاں کوئی جان پہچان والا نہیں، زندگی کی ہر چیز کی ضرورت درپیش ہے اور دوسری طرف خود اپنی طرف سے کوئی نعمت تجویز کرنے کے بجائے یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رہے ہیں کہ آپ جو بھی بھلائی کی صورت پسند فرما کر مجھ پر نازل کریں گے، بس میں اسی کا محتاج اور ضرورت مندہوں۔یہ دعاء کیسے قبول ہوئی اور اس کے نتیجے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تمام مسائل کیسے حل ہوئے، یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن اتنا یاد رکھیں کہ بہترین رہائش مل گئی، مناسب روزگار بھی مہیا ہوگیا، اچھی جگہ رشتہ بھی ہوگیا، حضرت شعیب علیہ السلام کی سرپرستی بھی نصیب ہوگئی اور بالآخر نبوت کے اعزاز سے بھی سرفراز ہوگئے۔

یہ دعاء ہم سب کے لئے بہت بڑا خزانہ اور کامیابیوں کا ایک مکمل پیکج ہے، کاش کہ ہم اس سے مکمل طور پر فائدہ اُٹھا سکیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor