Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

’’سرفروش‘‘

 

’’سرفروش‘‘

Madinah Madinah

قدیم حکایتوں میں حکمت و دانائی کے بڑے راز پوشیدہ ہوتے ہیں اور بڑے کام کی باتیں ان سے سمجھی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک حکایت ہے کہ ایک بادشاہ ایک بھیک مانگنے والی عورت پر دِل ہار بیٹھا اور اسے بیاہ کر شاہی محل میں لے آیا۔ بہترین حصہ محل کااس کے رہنے کے لئے مختص کیا۔ خدمت کے لئے نوکر چاکر مہیا کئے۔ خادماؤں کی ایک فوج ظفر موج اسے عطاء کی۔ ہر طرح کے سامان عیش و آرام اس کے لئے مختص کئے۔ انواع و اقسام کے کھانے تیار کرنے والے باورچی اس کی خدمت میں دئیے لیکن بھکارن ملکہ کی صحت دن بدن کمزور ہونا شروع ہوئی اور اس سے بجائے خوش رہنے کے وہ غمگین رہنے لگی۔

بادشاہ سلامت پریشان ہوئے۔ طبیبوں کی حاضری لگی۔ پیر فقیر بلائے گئے۔ ہر ایک نے اپنے علم و فن سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ بھکارن ملکہ تو بیمار تھی ہی اس کے غم میں بادشاہ سلامت بھی بیمار رہنے لگے۔ بالآخر ایک مرد ِدانا کا اُدھر گذر ہوا ۔ صورتحال سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد اس نے بادشاہ سلامت سے جان کی امان طلب کی اور پھر ارشاد فرمایا : 

’’ حضور فیض گنجور ماجرا یہ ہے کہ ملکہ صاحبہ پیشہ ور بھکارن ہیں اور عادی بھکاریوں پر سوائے مانگے کے مال کے نہ تو کوئی اور طعام اثر انداز ہوتا ہے نہ کوئی پوشاک جچتی ہے۔ اس طرح بلا سوال ملنے والا رزق کھانے کی چونکہ انہیں کوئی مشق نہیں اور بدن و روح اسی سے غذا پانے کے عادی ہیں اس لئے یہ صورتحال پیش آئی ہے۔ اگر بادشاہ سلامت کو اپنا اور شاہی محل کا وقار ملحوظ ہے تو ملکہ بھکارن کو واپس اس کی قوم میں بھیج دیں اور اگر انہیں رکھنا ہی مطلوب ہے تو ملکہ حضور کو اجازت دی جائے کہ وہ شاہی نعمت خانے سے کاسہ گدائی پھیلا کر طعام حاصل کیا کریں تو دِنوں میں ہی فرق ملاحظہ ہو۔ ‘‘

بادشاہ سلامت کو بات سمجھ آ گئی۔ انہوں نے سوچا کہ میں کون سا نسلی بادشاہ ہوں کہ وقار وغیرہ کو بچانے کی اُلجھن میں پڑوں۔ لوہار تھا ، پارٹ ٹائم سینما کی ٹکٹیں بلیک کیا کرتا تھا اور جو کمائی ہوتی اسے کھیل کود پر اُڑا دیتا تھا۔ حادثاتی طور پر قوم کی بد اعمالیوں کے بدلے میں ان کا بادشاہ بن بیٹھا لہٰذا میں کیوں ان کی عزت و وقار کے خیال میں اپنا جی ہلکان کروں۔ چار دن کی بادشاہت ہے کیوں نہ انجوائے کروں ۔

لہٰذا حکم ہوا کہ ملکہ بھکارن کے لئے سونے کا کشکول بنایا جائے ۔ اس پر ہیرے جواہرات جڑے جائیں۔ نفیس چاندی کی زنجیر اس کے اطراف میں نصب کی جائے۔ انواع و اقسام کے کھانے پکا کر خادمائیں دسترخوان پر حاضر ہوں اور ملکہ بھکارن ان کے سامنے کاسہ گدائی پھیلا کر اس میں کھانا لیں اور تناول فرمایا کریں۔ سب انتظام مہیاہوا اور ملکہ بھکارن دنوں میں تندرست و توانا ہو گئیں۔ رنج و غم کافور ہوا، خوشیاں لوٹ آئیں اور چہرے بشرے کی رونق بحال ہوئی۔

حکایت کا سبق یا مورل آف دا سٹوری یہ ہے کہ نسلی عادات حالات کے ساتھ نہیں بدلتیں، حالات کو ان کے مطابق بدلنا پڑتا ہے اور بادشاہ صرف اپنی خواہشات کا خیال رکھتے ہیں قوم کی عزت و وقار کا نہیں۔

عوام حیران ہیں کہ ایک ایسا عالمی ادارہ جس کا کچھ عرصہ پہلے تک نام بھی کبھی یوں میڈیا پر نہیں آیا تھا کہ اس کا بھی عالمی سطح پر پالیسی سازی میں کوئی کردار ہے۔ وہ بھی ملکوں کے سیاسی اور معاشی احوال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس کے ذریعے بھی بین الاقوامی بلیک میلنگ ہو سکتی ہے اور ملکوں کو جھکایا جا سکتا ہے۔ اچانک کہیں سے نووارد ہوا اور ہمارے لئے خارجہ داخلہ پالیسی کا سب سے اہم ایشو کیسے بن گیا ؟ کس طرح وہ ایک وائسرائے کی طرح ہمارے لئے پالیسیاں متعین کر رہا ہے ؟ کیا ہمارے علاوہ بھی دنیا میں کوئی دوسرا ملک ہے جس کے لئے اس ادارے کے اَحکام یہ حیثیت رکھتے ہوں ؟ دنیا میں کوئی اور خطہ بھی ایسا ہے جہاں اس ادارے کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جیلیں بھری جاتی ہوں اور ایف آئی آروں کے انبار لگائے جاتے ہوں ؟ آپ پوری تحقیق کر لیجئے آپ کو ایسا کہیں نہیں ملے گا۔ پھر ہمارے ہاں ایسا کیوں ہے ؟ ہمارے حکمران مجرموں کی طرح اس ادارے میں حاضر ہوتے ہیں ، ہر حاضری بلکہ پیشی پر اَگلے تین ماہ کی تاریخ اور ذلت ناک مطالبات کی ایک نئی فہرست لے کر واپس لوٹ آتے ہیں، اگلے تین ماہ پوری ذلالت کے ساتھ ان مطالبات پر عمل کرتے ہیں اور پھر اگلے تین ماہ کی پرچی۔ یہ کھیل کب سے جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔

آپ کو اس کی وجہ معلوم ہے ؟ …

وجہ اس کی یہ ہے کہ ہماری جس وزارت کے ذمہ اس معاملے سے نمٹنا ہے اس پر براجمان شخص خاندانی اور نسلی طور پر ’’سرفروش‘‘ ہیںاور چونکہ اس ادارے اور اسے ہم پر مسلط کرنے والوں کا مقصد بھی کچھ ’’سر‘‘ خریدنا ہے اس لئے سر خرید اور سرفروش کے باہمی تعاون سے یہ سلسلہ دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ آپ کو پتا ہے کہ اس سے خلاصی پانا ممکن ہی نہیں۔ اس کا سودا ایک بار جس سر میں سما جائے مر کر ہی نکلتا ہے۔ موصوف کے آباؤ و اجداد بھی معروف سرفروش تھے۔ انگریز کے زمانے میں یہ خدمت سر انجام دینے کے حوالے سے خاصی شہرت کمائی اور اس کے صلے میں خاصی دولت بھی۔ ہر وہ سر جو انگریز کے خلاف اُٹھتا یہ اسے بیچ دیا کرتے تھے اور اس کے بدلے میں زمین پاتے۔ زندہ سر فروخت کرنے کی الگ قیمت تھی اور کٹا ہو سر پہنچانے کی الگ۔ اور ساتھ ساتھ انگریز کو سرفروش سپاہی مہیا کرنے کا دھندا بھی جاری رہتا تھا۔

سرفروشی کی ایسی ایسی ہوشرباداستانیں ان چند خاندانوں نے رقم کی ہیں کہ آج بھی تاریخ کے طالبعلم کا سر انہیں پڑھ کر جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان سرفروش جیالوں کا ہر طاقت کے سامنے یہ شعار رہا ہے اور انہوں نے یہ شعر تختی پر لکھ کر ہمیشہ اپنے گلے میں لٹکائے رکھا ہے :

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے مال کتنا کیسہ گاہک میں ہے

بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ اس ادارے سے بات کرنے کو اسی سلسلہ سر فروشان کے وارث اور گدی نشین مقرر ہوئے۔ گئے تھے قوم کو نجات دِلانے۔ وہاں جاکر علم ہوا کہ یہ تو سروں کے سودے کا معاملہ ہے تو بس پرانی عادات نے جوش مارا۔ نسلوں کی یاد تازہ ہوئی۔ خون کے اثر نے کام دکھایا اور

قشفہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

کا منظر ہو گیا ، اب قوم انتظار میں ہے کہ کب نجات کی نوید سنائی جائے اور ادھیر پیہم یہ اصرار ہے کہ:

جانے کی باتیں جانے دو

اس لئے وہ سوائے پیشی پر پیشی لانے کے اور کوئی کام نہیں کر رہے اور مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ جن سروں کا مطالبہ ہے انہیں فروخت کرنے کی کوئی عملی صورت بن پائے تو آباؤ اجداد کی قبور پر جا کر فخر سے انہیں اپنا کارنامہ سنا کر ان کی ارواح کو شاد کر سکیں۔ بادشاہ چونکہ ان کے عشق میں مبتلا ہیں اس لئے انہیں بھی پرواہ نہیں کہ عزت کا کیا بنتا ہے۔ بس ان معشوقوں کی عادتیں پوری ہوتی رہیں اسی میں وہ خوش ہیں۔

لیکن صاحب ! یہ تو سوچئے کہ جس طرح آپ کو سرفروشی کی عادت ہے اسی طرح آپ جن سروں کے درپے ہیں ان کی بھی تو کوئی عادت ہے۔ ان پر بھی تو کوئی نشہ طاری ہے ، کوئی دھن سوار ہے وہ بھی تو سرفروش ہیں اور بڑی مہنگی قیمت پر اپنے سر بیچ چکے ہیں۔ آپ اگر اپنی گندی عادت سے نسلیں گذر جانے کے باوجود دستبردار نہیں ہوئے تو وہ اپنی اچھی عادت کو کس طرح خیر باد کہہ سکتے ہیں ؟

سرفروشی کے اس مقابلے میں آپ بھی ہار جائیں گے صاحب جس طرح آپ کے آباؤ اجداد اور ان کے سرپرست ہار گئے۔ آپ بیچ بیچ کر ناکام رہے وہ خرید خرید کر۔ جنہیں بیچا گیا، جن کے سودے کئے گئے وہی تو ہمیشہ غالب رہے، بامراد رہے اور کامیاب ٹھہرے۔

سو اے قوم !

اس ذلت سے نجات چاہئے تو دعا کیجئے ان اداروں سے بات کرنے پر کوئی اچھے لوگ مامور ہوں یہ ’’سرفروش‘‘ ہی پیش ہوتے رہے تو بس اپنی نسلی عادتیں پوری کرنے پر ملک و قوم کی عزت ہی نیلام کرتے رہیں گے۔ احکامات لاتے رہیں گے اور وفاداریاں نبھاتے رہیں گے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor