Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

ہر ہفتے عید کا دِن

 

ہر ہفتے عید کا دِن

Madinah Madinah

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا :

مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو (طبرانی۔ مجمع الزوائد)

اس امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتنی بڑی مہربانی ہے کہ اِسے ہر ہفتے میں ایک عید کا دن نصیب فرمادیا، جو بہت سی ظاہری خوشیوں سے بھی لبریز ہے اور باطنی نعمتیں تو اس دن میں ہیںہی بہت زیادہ اور بے شمار۔

اس مبارک دن کے بہت سے نام ہیں اور ہر نام کسی نہ کسی الگ اور ممتاز خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے:

سیدالایام (دنوں کا سردار)

خیرالایام (بہترین دن)

افضل الایام (زیادہ فضیلت والا دن)

شاھدٌ (حاضری کا دن)

یوم المزید (نعمتوں کی زیادتی کا دن)

عیدالمومنین (مسلمانوں کی عیدکا دِن)

جب کہ زمانہ جاہلیت میں اس دن کو یومِ عروبہ (رَحمت کا دن) کہا جاتا تھا۔

جمعہ دراصل ایک اسلامی اصطلاح ہے۔ یہود کے یہاں ہفتہ کا دن عبادت کے لیے مخصوص تھا کیونکہ اسی دن خدا نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات بخشی تھی۔ عیسائیوں نے اپنے آپ کو یہودیوں سے علیحدہ کرنے کے لیے اتوار کا دن از خود مقرر کرلیا۔ اگرچہ کہ اس کا کوئی حکم نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا نہ انجیل میں اس کا ذکر ہے۔ اسلام نے ان دونوں ملتوں سے اپنی ملت کو ممتاز کرنے کے لیے ان دونوں دنوں کو چھوڑ کر جمعہ کو اجتماع عبادت کے لیے اختیار کیا اور اسی بناء پر جمعہ کو مسلمانوں کی عید کا دن کہتے ہیں۔

تفسیر قرطبی میں اس دن کو جمعہ کہنے کی ایک دلچسپ وجہ بھی لکھی ہے ۔فرماتےہیں:

نبی اَکرم ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورہٴ جمعہ کے نزول سے قبل اَنصار صحابہ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن ، اور نصاریٰ اِتوار کے دِن جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں؛ لہٰذا مدینہ منورہ کے ان مسلمانوںنے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کا ذکر اور عبادت کرنے کے لیے جمع ہوں؛ چنانچہ حضرت اَبو اُمامہ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے، حضرت اسعد بن زُرَارَہ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ لوگوں نے اپنے اِس اجتماع کی بنیاد پر اِس دن کا نام ”یوم الجمعہ“ رَکھ دِیا۔ (تفسیر قرطبی)

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے ہاں اس دن کی کتنی اہمیت ہے! اس کا کچھ اندازہ اُن احادیث مبارکہ سے ہوسکتا ہے جن میں اس دن کی اہمیت و عظمت مختلف طریقوں سے سمجھائی گئی ہے اور بار بار سمجھائی گئی ہے۔

معلوم ہوا کہ اس کی عظمت اور اہمیت کی یاددہانی بار بار ہوتی رہنی چاہیے، تاکہ وقتاً فوقتاً مختلف عوارض کی وجہ سے غفلت کے جو پردے پڑ چکے ہوں وہ دور ہوں ، اور مسلمانوں میں اس دن کی عظمت و اہمیت کا احساس پوری طرح باقی رہنا چاہیے۔

اب اس دن کے متعلق رسول اللہﷺ کے چند ارشادات ملاحظہ کیجیے!

(1)رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دِنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں :

(۱)اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔

(۲) اِسی دن اُن کو زمین پر اُتارا۔

(۳)اِسی دن اُن کو موت دی۔

(۴)اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں؛ بشرطیکہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔

(۵)اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔

تمام مقرب فرشتے ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے؛ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی (ابن ماجہ)

(2) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دِنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے (صحیح ابن حبان)

(3) اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورہٴ بروج میں”وشاھد ومشہود“ کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک قول یہی بتایا گیا ہے کہ ”شاہد“ سے مراد جمعہ کا دن ہے یعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن قیامت کے دن اُس آدمی کے اُس نیک عمل کی گواہی دے گا۔

(4) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز‘ جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے (طبرانی ، بزاز)۔

اس دن کی ایک عجیب خصوصیت یہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ :

جہنم کی آگ روزانہ دِہکائی اور تیز کی جاتی ہے؛ مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دِہکائی جاتی ۔ (زاد المعاد ۱ / ۳۸۷)

یاد رہے کہ جمعہ کے دن کی خصوصیت جمعرات شام سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور جمعہ شام تک باقی رہتی ہے۔

جمعہ کے دن کے چند خصوصی اعمال:

درود و سلام کی کثرت:

جمعہ کے خصوصی اَعمال میں سے ایک عمل درودو سلام کی کثرت ہے اور ساتھ یہ بھی ترغیب ہے کہ جمعرات کی شام ، جمعہ کی رات سے ہی اس عمل کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے دُرود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا (بیہقی)۔

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اِس دن کثرت سے دُرود پڑھاکرو؛کیونکہ تمہارا دُرود پڑھنا مجھے پہونچایا جاتا ہے (مسندِ احمد، سنن ابوداوٴد، صحیح ابنِ حبان )۔

جمعہ کے دن فجر کی باجماعت نماز:

چنانچہ اوپر یہ حدیث درج ہوچکی ہے کہ:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز‘ جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے (طبرانی ، بزاز)۔

عام دنوں میں بھی فجر کی نماز اور باجماعت نماز بڑی فضیلت رکھتی ہے مگر جمعہ کے دن اس کی فضیلت اور اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت:

اس بارے میں جو احادیث ہیں ان میں کل تین مضمون ہیں:

بعض احادیث میں پوری سورہ کہف پڑھنے کی ترغیب ہے

بعض احادیث میں سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات پڑھنے کی ترغیب ہے

بعض احادیث میں سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات کےساتھ، آخری دس آیات پڑھنے کی ترغیب ہے

اور ان سب کا اہم ترین فائدہ دجال کے فتنے سے حفاظت ہے۔

چونکہ اس امت کے حق میں دجال سب سے خطرناک ترین فتنہ ہوگا ، اس لیے اس سے بچاؤ کا بہترین وظیفہ جمعہ کے دن رکھا گیا جو اس امت کے حق میں سب سےا فضل اور خیر والادن ہے

جمعہ کی نماز اور خطبہ:

رَسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک ، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم) ۔

پھر جمعہ کے دن نماز اور خطبے کی اہمیت اس سے بھی واضح ہے کہ قرآن کریم میں خصوصیت کے ساتھ اس کی تاکید کی گئی ہے:

”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر اِلٰہی کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو تمہارے لیے یہی بات بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو “ (سورۃ الجمعۃ)

جمعہ کے بعد:

اللہ تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں:

”پس جب نماز ادا ہو چکے تو زمین میں چلو پھرو اور الله کا فضل تلاش کرو اور الله کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ “ (سورۃ الجمعۃ)

اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو کس طرح پورا کیا جائے؟ اس بارے میں ایک طرز عمل وہ ہے جو ہمیں ایک جلیل القدر بزرگ کی رہنمائی میں پتہ چلتا ہے۔

حضرت عراک بن مالکؒ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوتے تو مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوجاتے اور یہ فرماتے :

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَجَبْتُ دَعْوَتَکَ وَ  صَلَّیْتُ فَرِیْضَتَکَ  وَ  انْتَشْرَتُ کَمَا اَمَرْ تَنِیْ  فَارْزُقْنِیْ مِنْ فَضْلِکَ وَ  أَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ (تفسیر صابونی)

”اے اللہ! بے شک میں نے آپ کے بلاوے کو قبول کیا اور میں نے آپ کی فرض نماز پڑھی اور میں نکل آیا جیسا کہ آپ نے مجھ کو حکم دیا پس آپ مجھ کو اپنے فضل سے رِزق عطاء فرما اور آپ ہی بہترین رزق دینے والے ہیں۔“

جمعہ کی عصر کے بعد:

یہ قبولیت کا خاص وقت ہے۔ اس وقت میں دو عبادات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے:

درود شریف :

چنانچہ بعض احادیث میں اس وقت بغیر تعداد کے اور بعض میں تعداد (مثلاً اَسَّی مرتبہ) کے ساتھ درود شریف پڑھنے کی ترغیب موجود ہے۔ اگرچہ وہ احادیث سنداً ضعیف ہیں ، اس لیے ان پر عقیدہ کی بنیاد رکھنا درست نہیں مگر عمل اور فضیلت کے ممکنہ حصول اور اُمید کے لیے انہیں قبول کرنا درست ہے اور اسی لیے علمائے امت نے ان احادیث کوترغیب دِلانے کے لیے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور اپنے مواعظ میں زبانی اس کی ترغیب بھی دیتےہیں۔

دعاء:

رَسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے، اللہ اُس کو ضرور عطا فرمادیتے ہیں۔ اور وہ وقت عصر کے بعد ہوتا ہے (مسندِ احمدبن حنبل)

اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس دن کے آداب اور شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی فضیلت کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ امام محمد رواس رفاعی ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جس کا جمعہ غفلت،اور معصیت سے سلامتی کے ساتھ گزرتاہے تو اسے پورا ہفتہ غفلت اور معصیت سے بہت زیادہ سلامتی حاصل رہتی ہے۔

اس مبارک دن کے اجمالی آداب درج ذیل ہیں:

غسل کرنا

سفید اور عمدہ لباس پہننا

مسواک کرنا

بال درست کروانا

ناخن کاٹنا

مونچھیں بنوانا

عمدہ دستیاب خوشبو لگانا

جلد از جلد جمعہ کے لیے جامع مسجد پہنچنا

اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع وخضوع اورعاجزی کے ساتھ جانا

مسجد میں اعتکاف کی نیت سے جانا

مسجد میں لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگنا

نمازیوں کے سامنے سے نہ گزرنا

پہلی صف پانے کی کوشش کرنا

اللہ تعالیٰ کے ذکر و تلاوت میں مشغول رہنا

دنیاوی باتوں سے اجتناب کرنا

اگر ہوسکے تو جمعہ سے لے کر مغرب تک ورنہ عصر سے مغرب تک مسجد میں ٹھہرنا

قبولیت کے وقت کی امید رکھنا

فقراء کو کچھ صدقہ دینا

پورے دن میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر تصور کرنا

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor