Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

ایک نادیدہ خزانہ

 

ایک نادیدہ خزانہ

Madinah Madinah

دعاء ایک عظیم نعمت اور انمول تحفہ ہے ۔ اس دنیا میں کوئ بھی انسان کسی بھی حال میں دعا سے مستغنی نہیں ہوسکتا ۔ دعا اللہ کی عبادت ہے۔ دعا اللہ کے متقی بندے اور انبیا ئے کرام علیہم السلام کے اوصافِ حمیدہ میں سے ایک ممتاز وصف ہے ۔ دعا اللہ تعالیٰ کے دربارِ عالیہ میں سب سے باعزت تحفہ ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

’’ لَیْسَ شَیْءٌ أکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجّلَّ مِنَ الدُّعاء‘‘

دعاء سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی چیز باعزت نہیں۔

 دعا ءاللہ تعالیٰ کے یہا ں بہت پسندیدہ عمل ہے۔

 سَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہ فَانَّہ یُحِبُّ أنْ یُسْأَلَ

 اللہ سے اس کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اپنے سے مانگنے کو پسند کرتاہے ۔

 دعاء شرحِ صدر کا سبب ہے۔ دعاء سے اللہ تعالیٰ کے غصہ کی آگ مدھم پڑتی ہے۔ دعاء آفت و مصیبت کی روک تھام کا مضبوط وسیلہ ہے۔ بلاشبہ دعاء اپنی اثر انگیزی اور تاثیر کے لحاظ سے مومن کا ہتھیار ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:

 اَلدُّعَاءُ سِلاَحُ الْمُؤمِنِ وَعِمَادُ الدِّیْنِ وَنُوْرُ السَّمٰواتِ وَالأرْضِ

دعاء موٴمن کا ہتھیار ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کی روشنی ہے ۔

 اللہ نے اپنے بندوں کو دعا کی تاکید کی ہے اور اس کی قبولیت کا وعدہ کیاہے نیز اس پر انبیاء کرام علیہم السلام اور رسولوں کی تعریف کی ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

 إنَّہُمْ کَانُوْا یُسَارِعُوْنَ فِیْ الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَرَہَبًا وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْن

بے شک وہ سب نیک کاموں میں جلدی کرنے والے تھے اور وہ ہمیں امید اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف صاف اعلان کیا :

 وَإذَا سَألَکَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَإنِّي قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃ الدَّاعِ إذَا دَعَانِ

جب میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں ، تو میں قریب ہوں ، دعا کرنے والاجب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔

  حدیثِ قدسی میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 کُلُّکُمْ ضَالٌّ الاَّ مَنْ ہَدَیْتُہ فَاسْتَہْدُوْنِيْ اَہْدِکُمْ یَا عِبَادِيْ، کُلُّکُمْ جَائِعٌ الاَّ مَنْ أطْعَمْتُہ فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ اُطْعِمْکُمْ یَا عِبَادِيْ انَّکُمْ تَخْطَئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَأنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْلَکُمْ

 اے میرے بندے! تم بے راہ ہوجب تک میں تمہیں ہدایت نہ دوں، لہٰذا تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ، میں تمہیں ہدایت دوں گا ، اے میرے بندے تم سب بھوکے ہو،سوائے اس شخص کے جسے میں کھلاؤں ، لہٰذا تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندے، تم رات اور دن غلطیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہواور میں تمام گناہوں کو بخشنے والا ہوں ، لہٰذا تم مجھ سے مغفرت طلب کرو ، میں بخشش کرنے والا ہوں۔

 لہٰذا دعا کا حیاتِ انسانی سے گہرا تعلق ہے اور اپنے اثرات کے لحاظ سے ایک مسلمہ تاریخ ہے اور ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں سے بھی اس کا عظیم ربط وتعلق ہے ۔

حضرت موسی علیہ السلام کی دعاکی وجہ سے بنی اسرائیل پر نادیدہ خزانوں کے منہ وا ہوگئے اور صحرائے سنین میں وہ لطف اندوز ہوتے رہے ، من وسلویٰ کا نزول ہوتا رہا اور بادلوں کے سائے سایہ فگن رہے ، جب پیاس لگی تو لاٹھی ماری ۱۲ قبیلوں کے لیے بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔ علماء نے لکھا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ دونوں حالتوں میں یادکرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور اس کو نوازتا ہے ۔ اس کی مثال حضرت یونس علیہ السلام ہیں کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یادکرتے تھے ۔ اسی کی تسبیح وتحمید کیا کرتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل اعتماد تھا۔ چنانچہ جب مچھلی کے پیٹ میں بند ہوگئے، اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کو یادکیا :

 لَاإلٰہَ إلّا أنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن

کوئی إلٰہ نہیں سوائے تیرے اور میں ظالموں میں سے ہوں ۔

 بس اللہ تعالیٰ نے اس سے نکلنے کی سبیل پیداکردی اور تین اندھیریوں کی گرفت سے نجات نصیب ہوئی ۔

 فَلَوْلاَ أنَّہ کَانَ منَ الْمُسَبِّحِیْنَ لَلَبِثَ فِيْ بَطْنِہ الیٰ یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ

 کہ اگر وہ تسبیح کرنے والے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے اور وہی ان کے لیے قبر بن جاتی۔

 دعا انبیا ئے کرام علیہم السلام کی سنت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہی تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقدیر بدل گئی اور اسلام کے صفحہء اول میں داخل ہوگئے۔

اَللّٰہُمَّ اَعِزَّ الْاسْلاَمَ بِأحَدِ الْعُمْرَیْنِ عُمَرَیْنِ الْخَطَّابِ أوْ عُمَرَ بْنَ ہِشَامٍ

اے اللہ! عمرین عمر بن خطاب یا عمر بن ہشام میں سے کسے ایک کے ذریعہ اسلام کو تقویت عطاکر۔

بدر کے سنگلاخ میدان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نے جبرئیلِ امین کو لا کھڑا کیا اور شیطان کو شکست کھانی پڑی۔ اُحد میں فتح کے بعد فاتحِ لشکر کو مدینہ منورہ کے دروازے پردستک دینے کی ہمت نہ ہوئی۔ حالاں کہ ظاہری اعتبار سے اب کوئی رکاوٹ نہ تھی اور کوئی رکاوٹ تھی تو وہ نالہء نیم شب کی اثر انگیزی تھی کہ وہ بد قسمت لشکر مدینہ کے بجائے مکہ روانہ کردیاگیا ۔ جنگِ خندق میں دعاؤں نے افواج عرب کو ہواؤں اور ان دیکھے لشکروں کے ذریعے پسپا کردیا ۔ جنگ یرموک میں بھی وہی ہواؤں کا ریلا مدد کو موجود تھا۔ اسی طرح قادسیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی پشت پرایرانیوں کے خلاف وہ تیزوتندہواؤں کا لشکر موجود تھا۔

یقیناً دعا مومن کا ہتھیار ہے ۔ ربِ کریم کے نادیدہ خزانوں کی چابی ہے۔ دعا مومن کا بہت اہم خزانہ ہے ۔ دعا عبادت کا مغز ہےلیکن اس کی حقیقت عقلیت پسندوں کی سمجھ میں نہیں آتی جب کہ یہ تو جبلِ ہمالیہ سے کہیں بڑھ کر ٹھوس اور باوزن ہے اور بدیہی اعتبار سے ثابت بھی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے نادیدہ خزانوں کا عظیم وعمیق ربط دعا سے ہے ، جس کی قبولیت کے مختلف انداز ہیں ، کبھی بعینہ وہی مل جائے یا اس کا بدل بلکہ نعم البدل مل جائے ، جو ں کاتوں قبول نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس کا کوئی عمل حکمت سے خالی نہیں اور وہ انسان کے انجام سے بخوبی واقف ہے۔ چنانچہ اس کے ذریعہ کوئی مصیبت دور کردے یا یہ کہ اسے مومن کے لیے بطور توشہء آخرت محفوظ کردیاجائے لیکن دعاکی قبولیت کے ان گونا گوں انداز کو عقلیت پسند ذہن تمسخر کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے لیکن انھیں یہ پتا ہو نا چاہیے کہ پُرخلوص کوشش اور دعا سے وہ نتائج نکلتے ہیں جن کی عقلی لحاظ سے بالکل امید نہیں ہوتی ۔

دعا کی قبولیت کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے خوب خوب بندگی کرے۔ تقوی اور پرہیزگاری کی راہ اور روش اپنائے۔ یقیناً دعامیں تقوی کَالْمِلْحِ فِی الطَّعَامِ کا درجہ رکھتا ہے۔

دعا کی قبولیت میں بے شمارموانع ہیں، مثال کے طور پر حرام کھانا ، حرام پینا اور حرام لباس زیب تن کرنا ، اللہ کے رسول ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا :

 اَلرَّجُلُ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ أغْبَرَ، یَمُدُّ یَدَہ الٰی السَّمَاءِ، یَارَبِّ، یَارَبِّ، وَمَطْعَمُہ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُہ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأنّٰی یُسْتَجَابُ لَہ۔

آدمی لمبا لمبا سفر کرے گا ، پراگندہ حال ، غبار آلود معلوم ہوگا، وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے گا، یارب یارب (کہے گا) اور اس کا کھانا حرام ، اس کا پینا حرام ، اس کا لباس حرام اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہو ئی ہو تو اس کی دعا کہا ں سے قبول کی جائے گی ؟

ایک دوسری حدیث میں ہے:

 اَطِبْ مَطْعَمَکَ تَکُنْ مُجَابَ الدَّعْوَۃ

 اپنے کھانے کو عمدہ کرو ۔ حلال کھانا کھاؤ۔ تمہاری دعا قبول کی جائے گی

 دوسری چیز جو موانعِ دعا میں سے ہے وہ اخلاص کی کمی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

 فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہ الدِّیْنَ

 پس اللہ تعالی کو پکارو ، اسی کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے ۔

 ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

 فَلَاتَدْعُوْامَعَ اللّٰہِ أحَدًا

 اللہ تعالی کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو

 اللہ تعالیٰ غافل کی دعا قبول نہیں کرتا ہے۔ چنا نچہ مستدرکِ حاکم میں مروی ہے :

 اُدْعُوا اللّٰہَ وَأنْتُمْ مُوْقِنُوْنَ بِالإجَابَۃ

 اللہ تعالیٰ سے دعاکرو اور قبولیت کا یقین رکھو!یعنی اللہ تعالیٰ غافل اور لاپرواہ دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتاہے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

 إنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُلْحِیْنَ فِی الدُّعَاءِ

اللہ تعالی دعامیں بہت زیادہ تضرع اور خضوع وخشوع کرنے والے اور بہت زیادہ مانگنے والے کو پسند کرتاہے ۔

 دعا عبادت ہے ، نجات کا ذریعہ ہے، لہٰذا جو بھی دعا سے اعراض کرے ، اللہ سے نہ مانگے، اللہ ان سے ناراض ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

 وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِيْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ انَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ

 لیکن اس کے برعکس جو خوب اللہ تعالیٰ سے مانگے گا اس کے سامنے آہ و فغاں اور خشوع وخضوع کرے گا وہ اس دعا کی وجہ سے جنت میں داخل کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن میں ہے :

 اور ان میں سے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوگا آپس میں پوچھتے ہوئے وہ کہیں گے بے شک ہم اس سے پہلے اپنے اہلِ خانہ میں ڈرتے تھے تو اللہ تعالی نے ہم احسان کیا اور گرم ہوا کے عذا ب سے بچالیا، بے شک وہ بہت ہی احسان کرنے والا اور رحم کرنے والاہے۔

  ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

 اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً انَّہ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ وَلاَ تُفْسِدُوْا فِي الْأرْضِ بَعْدَ اصْلاَحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَطَمَعًا انَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ

 اپنے رب کوپکاروگڑگڑاکر اور آہستہ سے ، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور فساد نہ مچاؤزمین میں اس کی اصلاح کے بعد ، اور اسے پکارو ڈرتے اور امید رکھتے ہوئے ، بے شک اللہ تعالی کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں سے۔

 بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت قریب ہے۔ لہٰذا اسی سے سب کچھ ہونے کی لولگائیں، وہی حاجت روا مشکل کُشا ہے، اس کی رحمت سے کبھی بھی مایوس نہ ہوں اور ہرلمحہ ، ہرپل اسی سے مانگیں، وہ بہت نوازنے والا اورخوب دینے والا ہے۔

٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor