Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

بائیکاٹ مہم

 

بائیکاٹ مہم

Madinah Madinah

گزشتہ چند ہفتوں میں فرانس کے اندر مسلم دشمنی اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے پے درپے ایسے واقعات ہوئے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں تشویش اور غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ فرانس کا صدر میکرون کوئی پہلا حکمران نہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھتا ہے بلکہ یہ فرانس کے سیکولرازم کی پرانی روایت ہے۔ میکرون نے تو صرف نوآبادیاتی زہریلے ورثے پر پڑے ہوئے منافقت کے پردے کو سرکاتے ہوئے فرانس کے مکروہ چہرے کو پھر سے عیاں کیا ہے۔ اُس نے اقتدار سنبھالتے ہی فرانس میںہر انتہاپسندی کو مسلمانوں کے عقیدے، ثقافتی علامات مثلاً داڑھی، برقع، حجاب، نماز اور حلال کھانا وغیرہ سے جوڑتے ہوئے ان علامات پر عائد پابندیوں کو مزید سخت کیا۔ اس کے بعد رسوائے زمانہ اخبار چارلی ہیبڈو کی جانب سے ایک مرتبہ پھرگستاخ آمیز خاکوں کی اشاعت ہوئی۔ ساتھ ہی ایک فرنچ ٹیچر کی طرف سے گستاخ آمیز خاکے، کلاس کے اندرطالب علموں کو دکھائے گئے، جس کے ردعمل میں ٹیچر کا قتل ہوا اور بعد میں پولیس کے ہاتھوں ٹیچرکےقاتل کا ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد میکرون حکومت نے پیرس کے ایک مصروف مضافاتی علاقے میں اس مسجد کو 6 ماہ تک بند کر نے کا حکم دیا۔ اس دوران ایفل ٹاور کے قریب 2 سفید فام خواتین نے 2 مسلمان خواتین پر چاقوؤں کے وار کرکے زخمی کر دیا۔ ان واقعات کے تناظر میں فرانس میں ایک بار پھر شروع ہونے والی اسلاموفوبیا کی بدترین لہرسے اقلیتیں غیر محفوظ ہو گئیں۔

فرانسیسی صدر عمانویل میکرون نے مذکورہ ٹیچر کے قتل کے واقعے کو مسلم دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ یہ حملہ اسلامی شدت پسندوں نے کیا ہے اور اس ٹیچر کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ آزادی اظہار کا درس دے رہا تھا۔مزید کہا کہ حکومت اب نیا قانون لا رہی ہےجس کے ذریعے مقامی سطح پر مذہبی اور سماجی تنظیموں کے مالی معاملات کی بہتر نگرانی کی جائے گی، انتہا پسندی پھیلانے والے نجی مدارس کے خلاف کارروائی ہوگی اور فرانس میں پبلک سیکٹر میں کام کرنے والی خواتین پر حجاب پہننے کی پابندی کو اب نجی شعبے میں بھی لاگو کیا جائے گا۔ ترک صدر رجب طیب اِردوان نے فوری طور پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدرمیکرون کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ کوئی سربراہ مملکت اپنے ملک میں بسنے والی ایک مذہبی اقلیت کے لاکھوں شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھتا ہے؟ ایسے لوگوں کو سب سے پہلے اپنے دماغ کا معاینہ کروانا چاہیے۔

چنانچہ ترک صدر نے اپنے خطاب میں اپنے اور عرب ممالک کے عوام اور تمام ایشیائی مسلمان ممالک سے اپیل کی کہ فرانسیسی صدر کی جانب سے پیغمبر اسلام ﷺکے بارے میں گستاخ آمیز خاکوں کا دفاع کرنے کی وجہ سے وہ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔اس اعلان کے بعد ایک عجیب جوش و ولولہ دیکھنے میں آیا۔ نہ صرف ایشیائی ممالک بلکہ دوسرے عرب ممالک نے بھی ان مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ فرانس کی 60 فیصد سے زائد مصنوعات کا پھیلاؤ عرب ممالک میں موجود ہے۔ اس اعلان کے بعد کویت میں ایک بڑی تجارتی یونین کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس یونین میں کویت کی 70 سے زیادہ تنظیمیں شامل ہیں اور ان کا کویتی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ اُردن، قطر اور کویت میں کچھ سپر مارکیٹس سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹا دیا گیا تھا۔ قطر یونیورسٹی نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرانس کی ثقافت پر منعقدہ ایک تقریب کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔ اِس وقت ترکی، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، مراکش، فلسطینی علاقوں، الجزائر، تیونس سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں بائیکاٹ فرانس ہیش ٹیگ بہت مقبول ہو رہا ہے۔ عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب میں فرانسیسی سپرمارکیٹ چین کارفور کے بائیکاٹ سے متعلق ہیش ٹیگ دوسرے نمبر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔لیبیا، غزہ اور شمالی شام میں فرانس مخالف مظاہروں کا انعقاد بھی ہوا۔ اُردن میں حزبِ اختلاف کی ایک اسلامی جماعت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے۔

 پاکستان میں گزشتہ ہفتے سے فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے۔ پاکستان میں بڑے اسٹورز سے مصنوعات کے ہٹانے کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ ٹوٹل کمپنی تقریباً دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے پر امن احتجاج کرنا، اپنے مقصد اور ہدف کے حصول کا ایک موثر طریقہ ہے۔ فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ انسانی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا اس طریقے کو دنیا بھر میں ایک زمانے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے قبل ڈنمارک میں جب گستاخ آمیز خاکے شائع ہوئے تھے تو اسلامی دنیا میں ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی ہوا تھا۔ جب کوئی بائیکاٹ کامیاب ہوتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ حالیہ بائیکاٹ کے دو، تین دن کے اندر ہی فرانس کو محسوس ہونے لگا کہ اس بائیکاٹ سے اسے معاشی طو رپر کوئی بڑا نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے فرانس نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسلمانوں کی اس غیرت اور حمیت کو دیکھتے ہوئے دنیا انگشت بدنداں ہے۔ اس بات میں شک نہیں کہ مسلمان آپس میں متحد نہیں ۔ لیکن ناموس رسالت کے معاملے میں ادنیٰ سی ادنیٰ امتی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتا۔ کیونکہ بس یہی ایک چیز ہی باقی ہے مسلمانوں میں۔ مغرب چاہتا ہے کہ یہ چیز بھی مسلمانوں سے چھین لی جائے، لیکن شاید وہ بھول رہا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے اس غیرت کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ وہ جس قدر اس طرح کی سازشیں کرتا رہے گا ایمان والوںکے دل اسی قدر رسول اللہ ﷺ کی محبت میں لبریز ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ پیمانہ ہر لحظہ بھرتا چلا جائے گا۔ ان شاء اللہ

حالیہ بائیکاٹ کے نتیجے میں فرانس کے صدر نے ٹی وی کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ ’’گستاخانہ خاکوں کےحوالے سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں،یہ حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہیں جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا حامی ہوں حالانکہ یہ خاکے نجی صحافتی داروں نے شائع کیے، جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں‘‘۔ کیا اب بھی آپ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور اسلامو فوبیا کی لہر کے ردعمل میں مسلمانوں کا متحد ہونا اور نتیجتاً فرانسیسی صدر کا جھوٹی وضاحتیں دے کر اپنی گرتی معیشت کو بچانے کے لیے گڑگڑانا پورے یورپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

دنیا بھر کو معلوم ہے کہ صدر میکرون جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کی حکومت، وہ خود اوراکثر حکومتی عہدیدار مسلمان شہریوں پر ظلم و ستم ڈھانے ، خاکے شائع کرنے اور ایسے نفرت انگیز اقدامات کرنے والوں کی حمایت میں براہ راست ملوث ہیں لیکن مالی مفادات کی خاطر اسے بالآخر یہ جھوٹ بولنا پڑا کہ ان معاملات میں اس کی حکومت ملوث نہیں۔ ابھی اسکا دماغ مکمل طور پردرست نہیں ہوا، صرف اس کے ایک حصے نے کام کرنا شروع کیا ہے ۔مسلم امہ اگر متحد ہو کر اس کے ان جنگی اقدامات کا جواب اعلان جہاد کی صورت میں دیتی تو اس کا دماغ مکمل طور رپر درست ہو سکتا تھا۔ ان شاء اللہ اگر ایسے ہی مسلمانوں میں جذبہ حب رسول ﷺ قائم و دائم رہا تو یہ لوگ ایسے اقدام کرنے سے پہلے 100 بار سوچیں گے کہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے یا نہیں۔ فداک ابی وامی  ﷺ

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor