Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اچھے شوق ،کامیابی کی ضمانت

 

اچھے شوق ،کامیابی کی ضمانت

Madinah Madinah

شوق،شوق ہوتا ہے اور انسان اپنے شوق کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے،اسی لیے بڑے کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے اچھے شوق مانگا کرو ۔ نماز کا شوق ،مسنون روزوں کا شوق،اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کا شوق ،راہِ خدا میںا اپنی جان کھپادینے کا شوق،غریبوں،ضعیفویں اور کمزوروں کی مدد کرنے کا شوق،راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے پیارے مالک جل شانہ کے سامنے آنسو بہانے اور اپنے گناہوںپراستغفار کرنے کا شوق اور ایسے دیگر اچھے اچھے کاموں کا شوق۔

اَچھا شوق مل جانا ،یہ توفیق الٰہی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں کے بڑے انعامات میںسے ایک انعام ہے۔ نیکی کا شوق،جذبہ اور توفیق،اسباب کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ اس رب تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتے ہیں ،جوخود مسبب الاسباب ہے۔اسباب اور وسائل اس کے اشارہ کُن کے محتاج ہیں۔اُس کی طرف سے جب نیکی کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے تو اسباب و وسائل کے بند دروازے خودبخود کھلنے لگتے ہیںا اور منزلیں خود مسافر کو پکارتی ہیں۔

جس طرح اللہ تعالیٰ سے اچھے شوق مانگنا ضروری ہے،ویسے ہی بڑے شوق سے اللہ تعالیٰ کی پناہ بھی ہمیشہ مانگتے رہنا چاہئے۔گناہ بڑا ہو یا چھوٹاوہ آگ ہے اور عقلمند انسان جیسے آگ کے شعلوں سے ڈرتا ہے،ویسے ہی چنگاریوں سے بھی بچتا ہے۔گانے بجانے کا شوق،بدنظری کا شوق، غیبت ،جھوٹ اور بیکار زبان چلانے کا شوق،بُرے خیالات اور وساوس پالنے کا شوق، دوسروں کا مال ناحق کھانے کا شوق،نمازیں چھوڑنے کا شوق اور لغویات میں اپنی زندگی کے قیمتی اوقات بربادکرنے کا شوق،یہ سب تباہی کے راستے ہیں،۔یہ گندے اور غلیظ شوق جب تک انسان کی دنیا اور آخرت تباہ نہ کرڈالے،تب تک یہ انسان کا پیچھا نہیںچھوڑتے۔انسان اپنی جیب سے قیمت اداکرکے یہ غلیظ شوق پالتا ہے اور پھر یہ شوق اُس کو برباد کرکے چھوڑتے ہیں۔

جب بُرے شوق انسان کے حواس پر چھاجائیں تو سوائے اللہ تعالیٰ کے اورکوئی تباہی سے نہیں بچاسکتا،یہ جادو جب سر چڑھ کربولتا ہے تو اچھے اچھے ذہین اور سمجھدار لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان کرلتیے ہیں،تب کوئی نصیحت کی بات کام دیتی ہے ،نہ ہی عبرت کا کوئی واقعہ کارگر ہوتا ہے۔حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ کے مواعظ میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک جواری ،جوا کھیل رہاتھا۔داؤ چل رہا تھاکہ اتنے میں گھر سے اطلاع آئی کہ اکلوتا بیٹا شدید بیمار ہے،طبیعت سخت خراب ہے،جلدی گھر پہنچو۔اس نے جواب دیا کہ ابھی آیااور پھر جوئے میں مصروف ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر سخت تقاضے کا پیغا م پہنچا کہ حالت بہت ہی نازک ہے اور سانس اُکھڑ رہی ہے،جلدی آو،لیکن اس کے دل ودماغ پر تو جوے کی نحوست سوار تھی،اس نے پھر کہا کہ ابھی آیااور جوئے میں لگارہا۔اتنے میں خبر آگئی کہ بیٹا چل بسا۔اب سرپیٹنے اور واویلا کرنے لگا،لیکن اب کیا ہوسکتا تھا؟یہ برے شوق انسان کو ایسے ہی تباہ کردیتے ہیںاور پتہ تب چلتا ہے جب پانی سر سے گزرچکا ہوتا ہے۔

 ’’پانی سر سے گزرجانا‘‘ تو ایک عام سا محاورہ ہے،لیکن کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ دنیاکے کاموں میں تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اور بگڑا کام ،بن نہ سکے تو پانی سر سے گزرچکا ہوتا ہے اور اب نقصان کی تلافی ممکن نہیں رہتی ،لیکن آخرت کے معاملے رب رحمان جل شانہ نے اتنا کرم فرمایا ہے کہ جب تک دم میںدم ہے،سانس چل رہی ہے،حواس سلامت ہیں اور انسان ہوش میں ہے تو پانی سر سے نہیں گزرا،توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔کوئی شخص کتنا بدکردار کیوں نہ ہواور اس نے اپنی عمرِ عزیز کو کتنے ہی بیکار اور فضول کاموں میں کیوں نہ برباد کیا ہو،وہ صبح واپس آنا چاہے تو آسکتا ہے،شام کو واپس آنا چاہے تو آسکتاہے۔بس شرط یہ ہے کہ دل ندامت سے رورہاہو اور آنکھیںبھی آنسو بہارہی ہوں۔ یہ میں تو نہیںکہہ رہا ،آپ  کا قرآن عالی شان اعلان کررہا ہے !

قل یاعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتقنطوا من رحمۃ اللّٰہ، ان اللّٰہ یغفرالذنوب جمیعا،انہ ھو الغفور الرحیم  [الزمر: 53]

ترجمہ:کہہ دو کہ :’’اے میرے وہ بندو!جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کررکھی ہے،اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔یقین جانو! اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔یقینا وہ بہت بخشنے والا،بڑا مہربان ہے‘‘۔

آپ نے وہ حدیث پاک تو سن رکھی ہوگی ،جس میںرحمت ِ دوعالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

فطوبی لعبد جعلہ اللہ مفتاحا للخیرمغلاقا للشروویل لعبد جعلہ اللہ مفتاحاللشر مغلاقا للخیر (سنن ابن ماجہ ,باب من کان مفتاحا للخیر)

’’خوشخبری ہے اس بندے کے لیے جسے اللہ تعالیٰ خیر کے کاموں کے لیے ’’چابی‘‘ بنادیں اوربرائی کے کاموں ے لیے ’’تالا‘‘ بنادیں۔اور تباہی ہے اس شخص کے لیے جس کو اللہ تعالیٰ برائی کے کاموں کے لیے ’’چابی‘‘ بنادیں  اور بھلائی کے کاموں کے لیے ’’تالا‘‘ بنادیں ‘‘۔

چابی کا مطلب یہ ہے کہ وہ کام اس سے پھیلا اور یہ اُن کا ذریعہ بن جائے ،جب کہ تالا بننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ذریعے یہ کام رک جائیں اور یہ ان کی رکاوٹ بن جائے۔

اب آپ غورفرمائیں کہ وہ لوگ جو نیک کاموں کا ذریعہ بنتے ہیں ،کیسے کیسے ہیں اور کہاں کہاں ہیں ؟ بسااوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ خود ان کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ذریعے کس طرح کے سلسلے چل رہے ہیں اور وہ کن کن بھلائیوںکا سبب بن رہے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ جو برائی پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں،وہ خود بھی بسا اوقات نہیںجانتے کہ ان کے ذریعے کہاں کہاں شر پھیل رہا ہے۔

 

 

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کےہاتھوں آزمائش میں نہ ڈالیے اور اپنی رَحمت سے ہمیں کافر لوگوں سے نجات دیدیجیے۔(سورۃ یونس:85۔86)

أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ  وَ اكْتُبْ لَنَا فِي هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ

یا اللہ! آپ ہی ہمارے رکھوالے ہیں، اس لیے آپ ہمیں معاف کردیجیے، اور ہم پر رحم فرمائیے۔ بے شک آپ سب سے بہتر معاف کرنے والے ہیں اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجیے اور آخرت میں بھی۔ (سورۃ الاعراف: 155۔156)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor