Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

شاہِ مدینہﷺ کے گھر میں…

 

شاہِ مدینہﷺ کے گھر میں…

Madinah Madinah

رسولِ اکرم ﷺکی زندگی کے شب و روز جن گھروں میں بسر ہوئے ‘ جن درو دیوار کو یہ شرف حاصل ہوا کہ وہاں وحیٔ الٰہی نازل ہوئی اور نبوت کی ضیاء پاشیاں جن چار دیواریوں سے نکل کر پورے جہان تک پہنچیں‘ ان کے بارے میں تمام سیرت نگار اور مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ایک طرف تو وہ بالکل سادہ طرزِ تعمیر اور معمولی سازو سامان پر مشتمل تھیں تو دوسری طرف ان کو اتنی خوبی سے بنایا گیا تھا کہ اتنی جگہ اور اتنے محل و قوع پر اس سے بہترین اور فائدہ مند تعمیر ممکن نہیں ہو سکتی تھی۔

کاشانۂ نبوت کی سادگی کی بات آگئی تو یہاں ایک بات کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کہ اس زمانے میں شاید اعلیٰ تعمیرات کا تصور ہی نہیں تھا اور ابھی انسانیت نے بلند و بالا اور غیر معمولی عمارتوں کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا‘ حالانکہ یہ بات تاریخی حقائق کی روشنی میں درست نہیں ہے ۔

ٹھیک اس زمانے میں جب رحمت دو عالمﷺ مدینہ منورہ کے ایک سادے سے حجرئہ مبارکہ میں اقامت پذیر تھے‘ اسی وقت بادشاہانِ عالم بڑے بڑے محلات میں رہائش پذیر تھے ۔ قیصر رو م کا صرف ایک محل‘ جو شام کے شہر ’’حمص ‘‘ میں واقع تھا ‘ اس کے بارے میں صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

’’ فاذن ہرقل لعظماء الروم فی دسکرۃ لہ بحمص ثم امر بابوابھا فغلقت‘‘

’’ پھر ہرقل نے روم کے سرداروں کو اپنے اُس محل میں بلایا جو ’’حمص‘‘میں واقع تھا اور پھر ہرقل کے حکم پر اس محل کے دروازے بند کر دئیے گئے‘‘۔ (البخاری :۷)

’’دسکرۃ‘‘ جس کا ترجمہ محل سے کیا گیا ہے‘ اس کا معنی عربی کی مشہور لغت’’ لسان العرب‘‘ میں لکھا ہے:

’’الدسکرۃ : بناء کا لقصر حولہ بیوت للاعاجم یکون فیھا الشراب والملاھی‘‘

’’دسکرہ : محل نما عمارت ‘ جس کے اردگرد عجمی لوگوں کیلئے کمرے بنے ہوتے ہیں‘ جن میں شراب نوشی اور گانے بجانے کے آلات کا انتظام ہوتا ہے‘‘۔

پھر ایران کے کسریٰ کا محل اور ایوان‘ جس کے آثارِ قدیمہ آج بھی پورے جاہ و جلال کے ساتھ موجود ہیں‘ اتنے بلند و بالا تھے کہ ایک باذوق عرب نے ان کو دیکھ کر یہ تبصرہ کیا تھا :

’’ أصنع انس لجن ام صنع جن لانس ‘‘

’’ یہ کسی انسان نے کسی جِن کیلئے بنائے ہیں یا کسی جن نے کسی انسان کیلئے تعمیر کیے ہیں؟‘‘

ایران کے دارالحکومت ’’مدائن‘‘ میں تعمیر کیے گئے محلات کا تذکرہ‘ شام کے محلات کے ساتھ ان احادیث ِ مبارکہ میں بھی ملتا ہے‘ جن میں غزوئہ خندق کے موقع پر رحمت ِ دو عالم ﷺ کا اپنے ہاتھ مبارک سے ایک سخت چٹان کو توڑنے کا ذکر ہے۔ ایک روایت ملاحظہ فرمائیں:

’’ عرضت لنا فی بعض الخندق صخرۃ لا ناخذ فیھا  المعاول ‘ فاشتکینا ذلک الی النبی ﷺ ، فجاء فأخذ المعول فقال: بسم اللہ ، فضرب ضربۃ فکسرثلثھا ، وقال : اللہ اکبر اعطیت مفاتیح الشام ، واللہ انی لا بصر قصور ھا الحمراء الساعۃ ، ثم ضرب الثانیۃ فقطع الثلث الآخر، فقال: اللہ اکبر ، اعطیت مفاتیح فارس ، واللہ انی لا بصر قصر المدائن ابیض ، ثم ضرب الثالثۃ وقال : بسم اللہ، فقطع بقیۃ الحجر فقال: اللہ اکبر اعطیت مفاتیح الیمن ، واللہ انی لابصر ابواب صنعاء من مکانی ھذا الساعۃ‘‘(السنن الکبریٰ ، النسائی رقم الحدیث ۸۸۵۸)

’’خندق کھودتے ہوئے ہم ایک ایسی چٹان تک پہنچے‘ جس پر ہم سے کدال نہیں چل رہی تھی ‘ ہم نے اس بات کی شکایت رسول اکرم ﷺ سے کی ‘ تو آپ خود تشریف لائے اور کدال لے کر ‘ بسم اللہ پڑھ کر ‘ ایک ضرب لگائی تو ایک تہائی چٹان ٹوٹ گئی اور آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر! مجھے شام کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں‘ اللہ کی قسم! میں ابھی شام کے سرخ محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ پھر آپ نے دوسری ضرب لگائی تو چٹان کا دوسرا تہائی حصہ بھی ٹوٹ گیا ‘ تب آپ نے ارشا د فرمایا : اللہ اکبر! مجھے ایران کی چابیاں عطاء کر دی گئی ہیں‘ اللہ کی قسم! میں مدائن کے سفید محل دیکھ رہا ہوں ۔ پھر آپ نے اللہ کا نام لے کر تیسری ضرب لگائی تو باقی چٹان بھی ٹوٹ گئی ، تب آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر! مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی ہیں‘ اللہ کی قسم! میں ابھی اسی جگہ سے صنعاء (یمن کے دارالحکومت ) کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ بادشاہانِ عالم کے عالی شان محلات نہ صرف اُس زمانے میں موجود تھے بلکہ عرب عام طور پر ان سے واقف بھی تھے ۔

پھر ظاہری شان و شوکت والی تعمیرات کا یہ سلسلہ صرف دنیا کے دیگر علاقوں تک ہی محدود نہیں تھا ‘ بلکہ خود مدینہ منورہ میں بھی اس کے کئی مظاہرے اور نمونے دیکھے جا سکتے تھے۔ کعب بن اشرف‘ بنی نضیر کے یہودیوں کا سردار تھا اور رسولِ اکرم ﷺ کے حکم پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سن دو ہجری میںاس کو قتل کر دیا تھا ‘ اس کی رہائش جس بلند و بالا مکان میں تھی‘ اس کو کتابوں میں کہیں ’’ القصر‘‘ (محل) کہیں ’’ الحصن‘‘ ( قلعہ) اور کہیں’’ المنزل ‘‘ (گھر ) بتایا گیا ہے ۔ ’’صحیح بخاری‘کتاب المغازی‘ باب قتل کعب بن اشرف‘‘ میں بھی اس کا تذکرہ آیا ہے‘ اس قلعہ نما محل کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں اور غالباً ۱۴۲۵ھ کے سفرِ مدینہ طیبہ میں جب ہم نے نشانِ عبرت بنے ہوئے یہ درودیوار دیکھے تو صاف پتہ چلتا تھا کہ آج سے چودہ سو برس پہلے اس کی ظاہری بناوٹ کتنی اعلیٰ اور عمدہ ہو گی ۔

رحمت ِ دو عالم ﷺ نے ان سب مثالوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی اپنے لیے ان کو بالکل پسند نہیں فرمایا ۔ پھر یہ تاریخ انسانیت کی عظیم ترین مثال ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے باوجود قدرت کے ‘ اپنی ذاتی زندگی کو بالکل سادہ رکھا اور دنیاوی شان و شوکت سے کنارہ کشی اختیار فرمائی ‘ آپ کے گھر آپ کے اسی ذوق کی مثال تھے ۔

اس آسمان و زمین نے رسول اکرم ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں دیکھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر کوئی محبت کا حق ادا کرنے والا نہیں دیکھا۔ اگر پیارے آقا ﷺ معمولی سا اشارہ بھی فرما دیتے تو صحابہ کرام ‘ جنہوں نے حضورﷺ کی رضا مندی کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر ڈالا تھا ‘ آپ کیلئے ایسی عظیم الشان رہائش گاہ تیار کرتے کہ رہتی دنیا تک وہ ایک یاد گار بن جاتی۔

رسول اکرم ﷺ کا فقر ، آپ کی سادگی اور جفا کشی سب کچھ اختیاری تھا ، آپ کی مجبوری ہرگز نہ تھا ۔ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒنے اپنی شہرئہ آفاق کتاب’’ النبی الخاتم ﷺ‘‘  میں اس بارے میں ایک جملہ ایسا لکھا ہے جس کو بلا اختیار چوم لینے کو جی چاہتا ہے‘ وہ تحریر فرماتے ہیں:

’’ خاک کے فرش کے سوا جس کے پاس کوئی فرش نہ تھا ‘ وہ اگر خاک پے سویا تو کیا خاک سویا ۔جو تخت پر سو سکتا تھا‘ وہ مٹی پر سویا تو اسی کا سونا ایسا خالص سونا ہے‘ جس میں کوئی کھوٹ نہیں‘‘۔

شاہِ مدینہ ﷺ کی سیرت طیبہ کو دنیا کے دیگر بادشاہوں کے طور طریقوں سے جو سب سے بڑا امتیاز حاصل ہے‘ وہ یہ ہی ہے کہ یہاں جو کچھ کہا جاتا تھا ‘ خود سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اس پر عمل کر کے دکھایا جاتا تھا ۔

رحمت ِ دو عالم ﷺ کے تمام گھر ‘ امت کیلئے سادہ طرزِ زندگی اور اس دنیاکے فانی ہونے کی ایسی جیتی جاگتی مثالیں تھیں کہ جب خلفاء ِ بنو امیہ کے دور سن ۸۸ھ میں یہ گھر‘ مسجد نبوی شریف کی توسیع کیلے گرائے گئے تو اس وقت سید التابعین حضرت سعید بن مسیب ؒ نے یہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے تھے:

’’ لیتھا ترکت لیری الناس مارضی اللہ تعالیٰ لنبیہ ﷺ و مفاتیح خزائن الدنیا بیدہ  وما رؤی یوماً فی المدینۃ اکثر بکاء ، الا ماکان من بکاء فی وقت وفاۃ رسول اللہ ﷺ ‘‘(البدایۃ والنہایۃ ۳؍۲۶۷)

’’ کاش کہ ان گھروں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ‘ تاکہ آئندہ آنے والے لوگ دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کیلئے کیسے گھر پسند فرمائے تھے‘ حالانکہ دنیا کے تمام خزانوں کی چابیاں آپ کے ہاتھ میں تھیں… مدینہ منورہ میں نبی پاک ﷺ کی وفات کے بعد‘ اس دن سے زیادہ لوگ کبھی نہیں روئے تھے‘ جس دن یہ گھر گرائے گئے تھے‘‘۔

 اس مفہوم کے جملے بہت سے اہل فضل و کمال سے منقول ہیں ۔

 (جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor