Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

نظریہ

 

نظریہ

Madinah Madinah

نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں، ایمانی نظریات اور شیطانی نظریات۔ ایمانی نظریات وہ ہوتے ہیں، جن کا مبنی انسانیت کی فلاح وبہبود اور دونوں جہانوں میں کامیابی ہوتا ہے، ایک انسان کو انسانیت کا ہمدرد وغمخوار، اعلیٰ مقاصد کا طلبگار، خالق کا پیروکار اور بدی کی طاقتوں سے برسرپیکار بنانے والا نظریہ ہی انسانی نظریہ کہلانے کا حقدار ہوتا ہے، اور اس کے برخلاف جو نظریہ انسان کو نفس کا پجاری، مال کا بھکاری، عزتوں کا شکاری اور شیطان کا حواری بنادے وہ حقیقت میں شیطانی نظریہ ہوتا ہے۔

اس وقت دنیا میں نظریاتی جنگ عروج پر ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو دین اسلام کو ایک مکمل نظریۂ حیات قرار دیتے ہیں اور اس کے ہر ہر حکم پر عمل کرنے کو واحد ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں اور انسانیت کی ترقی اور اس کے گمبھیر مسائل کا حل مکمل دین اسلام میں مضمر مانتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ کھلے الفاظ میں تو نہیں لیکن اشارات وکنایات میں پورے اسلام کو نعوذباﷲ ایک شیطانی نظریہ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے خلاف مختلف حیلوں اور بہانوں سے نفرت پھیلا رہے ہیں اور ایک بھرپور ابلاغی مہم کے ذریعے اسے انسانیت مخالف اور ترقی دشمن نظریہ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ان دونوں کے بیچ ایک طبقہ اور ہے جو اس پروپیگنڈہ مہم سے متاثر ہو کر اپنے نظریہ کے بارے میں شکوک وشبہات کا شکار ہوچکا ہے اور دشمنوں کے سامنے شرمساری سے بچنے کیلئے اس میں مسلسل قطع وبرید کرتا چلا جارہا ہے تاکہ اسے ان کی نظروں میں قابل قبول بنا سکے ۔

’’الذین ضل سعیہم فی الحیوۃ الدنیا وہم یحسبون انہم یحسنون صنعا‘‘ (الکہف)

(یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری محنت دنیا میں اکارت ہوگئی اور وہ اپنے گمان میں کچھ اچھا کام کرتے رہے) کا مصداق یہ لوگ نہیں تو اور کون ہے؟ جو اپنی اس بے کار محنت ومشقت سے نہ اﷲ کو راضی کر رہے ہیں اور نہ ہی یہ کافر لوگ ان سے رضامند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس مہم میں جس چیز کو سب سے زیادہ ہدف بنایا جارہا ہے وہ اسلام کا نظریہ جہاد ہے۔ ہرطرف یہ شور مچا یا جارہا ہے کہ جہاد دہشت گردی کا دوسرا نام ہے، جہاد کے نام سے کی جانے والی کارروائیاں اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، لوگ جہاد کی وجہ سے اسلام سے ہی متنفر ہوتے جارہے ہیں، مدارس کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں صرف اس بناء پر کہ ان میں جہاد کا سبق پڑھایا جاتا ہے، نعوذباﷲ قرآن پاک سے ان سینکڑوں آیات کو نکالنے کی بات کی جارہی ہے جن میں جہاد وقتال کا حکم آیا ہے، اس لفظ کے معنی میں تحریف وتبدیلی کا ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ہر آئے دن اس کے بارے میں کسی دانش خور کی کوئی نئی تحقیق منصہ شہود پر جلوہ گر ہو رہی ہے۔ اسلام قتل وغارت کا حکم دیتا ہے، اسلام لوٹ مار کی ترغیب دیتا ہے، اسلام کہتا ہے کہ کافروں کو ختم کردو، ان کے اموال تباہ کردو، مسلمان ہمیشہ سے دنیا میں جنگیں پھیلاتے آرہے ہیں، اسلام تلوار کے زور پر زبردستی پھیلایا گیا وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب کچھ اتنی شدت سے کیا جارہا ہے کہ مسلمان اس کی رو میں بہتے چلے جارہے ہیں اور اب ایک بڑی تعداد نے اس جھوٹ کے سیلاب کے آگے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور اعلان کردیا ہے کہ اسلام میں جہاد کا معنی قتال نہیں بلکہ اس سے مراد دوسرے ہزاروں قسم کے جہاد ہیں جن میں سر فہرست خود مجاہدین اور مدارس کے خلاف جہاد کرنا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ کیا اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں نے لڑائیاں نہیں کیں؟ کیا انہوں نے مذہب کے نام پر مقدس جنگیں برپا نہیں کیں؟ کیا ان کی تاریخ کا دامن اس کشت وخون سے یکسر خالی ہے جو اسلامی تاریخ میں دکھایا جارہا ہے؟

اور کیا جنگ صرف اور صرف ایک شیطانی نظریہ ہے یا اسے انسانیت کے فلاح وبہبود کے لئے بھی عمل میں لایا جاسکتا ہے؟ اگر ہے تو صرف اسلام کی نہیں سب کی جنگوں کو ہدف تنقید بنایا جانا چاہئے اور اگر نہیں تو تاریخ عالم کے صفحات کھنگال کر تمام حروب اور ان کے نتائج کو نظر میں لاکر موازنہ کرنا چاہئے کہ کون کون سی جنگیں شیطانی نظریئے کے تحت لڑی گئیں اور کن معرکوں کے نتیجے میں انسانیت کے اعلیٰ نظرئیے کی اشاعت ہوئی۔

پہلے ہم اسلامی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں، حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم پر جب اﷲ رب العزت کی طرف سے حکم جہاد وقتال نازل ہوا تو صرف یہ نہیں کہہ دیا گیا کہ تلوار اٹھائیے، نیزہ سنبھالئے اور جو کافر نظر آجائے اسے ختم کردیجئے بلکہ قتال کے حدود وقیود ساتھ اتارے گئے، جب لڑنے کیلئے نکلئے تو سب سے پہلے اسلام کی دعوت دیجئے، اگر قبول کرلی جائے تو اب وہ بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح اسلامی جماعت کا حصہ ہیں، ان کا جان ومال محفوظ ہے اور ان سے کسی قسم کا تعرض جائز نہیں، زکوٰۃ وعشر جو عام مسلمان پر عائد ہیں وہی ان پر بھی ہیں کوئی زائد ٹیکس نہیں، اسلامی معاشرے میں ان کا مقام پہلے مسلمانوں کے برابر ہے کوئی فرق ان سے روا نہیں۔

اگر وہ کلمۂ حق کو قبول نہیں کرتے اور اپنے سابق دین پر قائم رہتے ہیں تو انہیں کہا جائے کہ وہ جزیہ ادا کریں، ایک معمولی سا ٹیکس، اس کے بدلے میں انہیں جان ومال کا تحفظ فراہم کیا جائے گا، ان کے جملہ حقوق کی رعایت کی جائے گی، اور انہیں مذہبی آزادی کے ساتھ اسلامی معاشرے میں رہنے کی اجازت ہوگی، کوئی مسلمان اگر ان کے جان ومال سے تعرض کرے گا تو اسے اسلامی قانون کے مطابق سزادی جائے گی۔ ان کے عبادت خانے سلامت رکھے جائیں گے اور مذہبی رسوم کی آزادی ہوگی، جو لوگ جزیہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ان کو معاف کردیا جائے گا، اس معمولی ٹیکس کے علاوہ ان سے کوئی مالی تاوان نہیں لیا جائے گا۔

اور اگر وہ اس بات پر بھی راضی نہیں ہوتے تو انہیں کہا جائے گا کہ جنگ کیلئے صف بندی کرلیں۔ اسلام کسی قوم پر دعوت اسلام اور جزیہ کے مطالبہ سے قبل اچانک حملے کی اجازت نہیں دیتا،ہاں جب وہ میدان جنگ میں آجائیں تو ان پر حملہ کیا جائے، فتح یابی کی صورت میں زخمیوںکو قتل نہ کیا جائے بلکہ انہیں علاج کی سہولت فراہم کی جائے، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو کسی حال میں کوئی گزند نہ پہنچائی جائے، ماسوائے اس کے کہ وہ کسی صورت میں جنگ میں شریک ہوں، لاشوں کی بے حرمتی نہ کی جائے، اموال، گھربار، باغات وغیرہ نہ جلائے جائیں۔ جو لوگ قیدی بنیں ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، فدیہ دینے پر راضی ہوں تو اس کے بدلے انہیں رہائی دے دی جائے، اگر دوران جنگ کفار صلح پر آمادہ ہوجائیں تو اچھی شرائط پر ان سے صلح کرلی جائے،جو معاہدہ کیا جائے اسے ہرحال میں نبھایا جائے، اسلام معاہدے کی خلاف ورزی کی قطعی اجازت نہیں دیتا الا ّ یہ کہ کفار خود شرائط معاہدہ سے انحراف کریں، فوج کو اپنی مرضی سے مال لوٹنے نہ دیا جائے بلکہ حاصل شدہ غنائم جمع کرکے امیر لشکر شریعت کی ہدایات کے مطابق ان میں تقسیم کرے تاکہ افواج مال کی حرص میں مبتلا نہ ہوں۔

ان تمام حدود کے اندر رہتے ہوئے اسلام حکم دیتا ہے کہ جہاد کیا جائے۔ پھر جب ان شرائط کا پاس رکھتے ہوئے اسلامی لشکر جنگ کیلئے نکلتا ہے تو اس کے پیش نظر تین مقاصد میں سے کوئی ایک ہوتا ہے

 (۱)حفظ الدعوۃ،یعنی اس سچے دین کی دعوت کا تحفظ جو دنیا وآخرت کی کامیابی کا ضامن ہے، جس میں انسانیت کی فلاح وبہبود کا ہر راز پنہاں ہے، جو انسان کو حقیقت میں انسان بناتا ہے اور اسے انسانیت کا پیکر بناتا ہے، کافر اپنا گندہ اور شیطانی نظریہ بچانے کیلئے اس دعوت کو ختم کرنے اور اس کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے اس دعوت کی حفاظت کیلئے مسلمان شمشیر بکف میدان میں اترتا ہے تاکہ اسے ہر انسان کے کانوں تک بلا روک ٹوک پہنچا سکے اور اگر کوئی رکاوٹ آئے تو اسے دور کرسکے۔

(۲)نصرۃ المستضعفین،یا کوئی اسلامی لشکر مظلوموں کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے انہیں پنجۂ استبداد سے نجات دلانے کیلئے نکلے گا، خواہ وہ مظلوم مسلمان ہوں یا غیر مسلم، کیونکہ اسلام ایک عظیم انسانی نظریہ ہے وہ کسی ظلم وجبر کو برداشت نہیں کرتا، وہ اپنے پیرؤوں کے دل میں انسانیت کی ہمدردی کا جذبہ اجاگر کرتا ہے اس لیے وہ مظلوم کی پکار کا جواب دینا اپنا انسانی فرض سمجھتے ہوئے سربکف میدان میں نکل آتے ہیں۔

(۳) رد العدوان، یعنی جب کوئی شیطانی نظریہ طاقتور ہونے لگے اور اس کی طاقت انسانیت کیلئے خطرہ بننے لگ جائے، اس کی سرکشی عام ہوجائے اور وہ انسانی نظریات کو مٹانے کے درپے ہوجائے تو اسلام حکم دیتا ہے کہ اس کی طاقت مٹانے اور غرور خاک میں ملانے کیلئے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں اور اس کے خلاف مسلح جدوجہد کریں تاکہ اس فتنہ کا خاتمہ ہو اور انسانی نظریات فروغ پائیں۔

اب دیکھئے! جب اسلامی لشکر ان حدود وقیود کا پابند ہو کر اور ان اعلیٰ مقاصد کا حامل بن کر نکلتا ہے اور اس کی جنگ اور جدوجہد اسی دائرے کے اندر رہ کر انجام پذیر ہوتی ہے تو صورتحال یوں نظر آتی ہے کہ فوجیں اﷲ کی تسبیح وتحمید کرتی ہوئی نکل رہی ہیں، سپہ سالار کا سر عاجزی کی وجہ سے کجاوے پر جھکا ہوا ہے، روتے ہوئے اور اﷲ سے مدد مانگتے ہوئے جیسا تیسا سامان ساتھ لے کر روانہ ہورہے ہیں، میدان جنگ میں ایک دوسرے کے لئے ڈھال بن رہے ہیں، ہر آدمی کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بھائی کی جگہ قربان ہوجائے، اپنے منہ کا نوالہ اور ہونٹوں سے لگا ہوا پانی دوسرے کے لئے چھوڑا جارہا ہے، اسلام چونکہ آخرت کے اجر کو اصل کامیابی اور وہاں کی زندگی کو ہی حقیقی زندگی قرار دیتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو اسی کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے اس لیے دنیا کا مال ومتاع ان کی نظر میں پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ چنانچہ اسلامی افواج کسی کے مال پر دست اندازی نہیں کر رہی ہیں۔ اسلام عفت وعصمت کا درس دیتا ہے، حیاء کی تعلیم کرتا ہے اس لیے مجاہد کسی کی عزت وحرمت پر ہاتھ نہیں اٹھارہے۔ اسلام ذاتی اغراض کی نفی کرتا ہے اور معافی کو بدلے سے بہتر قرار دیتا ہے اس وجہ سے فتح مند لشکر اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کو معاف کر رہا ہے، اگر جوش جذبات میں کسی کے منہ سے ’’الیوم یوم الملحمۃ‘‘ (آج گھمسان کی لڑائی کا دن ہے) نکل جائے تو اسے مرحمۃ (رحم کرنے) کی ترغیب دی جارہی ہے، دشمن کے سینے پر چڑھ بیٹھے ہوئے سپاہی پر دشمن نے تھوک دیا تو اس نے دشمن کو قتل کرنے کی بجائے معاف کردیا تاکہ نفسانیت کا شبہ نہ آنے پائے، میدان جنگ میں مجاہدین دشمنوں کے زخمیوں کی مرہم پٹی کر رہے ہیں، قیدیوں کو اپنا کھانا کھلا رہے ہیں، مسلمانوں کے امیر مفتوحہ قوم کی عبادت گاہ میں نماز نہیں ادا کر رہے تاکہ مسلمان اسے مسجد بنانے کیلئے قبضہ نہ کرلیں، شہر کے فاتح اتنی سی بات پر مفتوحہ علاقہ چھوڑ دیتے ہیں کہ ایک شخص آکر کہہ دیتا ہے کہ تم نے اس شہر پر قبضہ کرنے کیلئے حدود شرع سے تجاوز کیا، اربوں مالیت کا مال غنیمت جارہا ہے اور کوئی لشکری اس میں سے ایک کیل چوری نہیں کرتا۔ اگر ایسے اعلیٰ انسانی اقدار کے واقعات کا شمار کرنے کی کوشش کی جائے جو میدان جنگ میں وقوع پذیر ہوئے تو لاکھوں صفحات ناکافی ہوجائیں۔ یہاں مقصد صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ایسی مقدس جنگ جو سراسر انسانیت کی فلاح کیلئے ہو اور اس کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آئے وہ اتنی ارفع اقدار کا حامل ہو اسے شیطانی نظریہ کہنا کس طرح درست ہوسکتا ہے؟ ان چیزوں کا تو خود غیر مسلم مؤرخین برملا اعتراف کرتے آئے ہیں کہ جہاد کے ذریعے وجود میں آنے والا اسلامی معاشرہ ہی دراصل ایک انسانی معاشرہ تھا جس کی مثال تاریخ عالم میں ناپید ہے، اس کے برخلاف اگر خود ان لوگوں کی تاریخ میں ذرا سا جھانکا جائے اور ان کے حرب وضرب کے میدانوں پر ایک نظر دوڑائی جائے جو اسلامی نظریہ ٔ جہاد کو نعوذباللہ ایک شیطانی نظریہ قرار دے رہے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، اور ماضی کیا ان کا تو حال ہی اس بات کا شاہد عدل ہے کہ شیطانی نظریوں کے اصل پرچارک اور حاملین یہی لوگ ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor