Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

مساجد کی آبادکاری

 

مساجد کی آبادکاری

Madinah Madinah

اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کی عظمت کا ہی یہ سب سے بڑا اظہار ہے کہ انہیں "اللہ کا گھر" کہا جاتا ہے، روئے زمین پر یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین جگہیں ہیں۔ اس جگہ رات ودن اور صبح وشام صرف اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور اسی کو یاد کیا جاتا ہے۔یہاں ایسے لوگ آتے ہیں جو اللہ کی اطاعت وبندگی کرنے والے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيها بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقامِ الصَّلاةِ وَإِيتاءِ الزَّكاةِ يَخافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصارُ 

’’ وہ نور ملتا ہے ایسے گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے، ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنہیں اللہ کی یاد اقامت نماز اور ادائیگی زکاۃ سے نہ کوئی سوداگری غفلت میں ڈال سکتی ہے اور نہ ہی کوئی خرید و فروخت ان کے آڑے آسکتی ہے، وہ ڈرتے رہتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس میں الٹ دئیے جائیں گے دل اور پتھرا جائیں گی آنکھیں۔ ‘‘(النور37,36)

مسجدیں مسلمانوں کے حالات کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔مسجدیں مسلمانوں کو شقاوت وبدبختی سے نکال کر سعادت وخوش بختی کی دہلیز پر پہنچا دیتی ہیں۔ تنگی واضطراب اور بے چینی سے نکال کرخوشحالی اور چین وسکون کی فضا میں پہنچا دیتی ہیں۔ مساجد کی حاضری سے مسلمانوں کے دل نرم اور صاف وشفاف ہو جاتے ہیں، ان کے دلوں پر اگر گناہوں اور معصیتوں کا زنگ چڑھا ہوتا ہے تو اسے صاف کر کے اسے مانجھ دیتے ہیں۔یہاں اللہ کی رحمتیں برستی اور یہاں موجود فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں۔طبرانی نے المعجم الکبیر میں ایک روایت نقل کی ہے:

عن ابنِ عبَّاسٍ قالَ المساجدُ بيوتُ اللَّهِ في الأرضِ تضيءُ لأهلِ السَّماءِ كما تضيءُ نجومُ السَّماءِ لأهلِ الأرضِ

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مساجد روئے زمین پر اللہ کے گھر ہیں جو آسمان والوں (فرشتوں) کو اس طرح چمکتی نظر آتی ہیں جس طرح زمین والوں کو آسمان کے ستارے چمکتے نظر آتے ہیں ۔(رواه الطبراني)

مسجدیں مسلمانوں کی تربیت کی بہترین جگہ ہے، یہاں مسلمانوں کو اخوت وبھائی چارگی اور مساوات وبرابری کا درس دیا جاتا ہے۔سارے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے، ایک صف میں کھڑے ہوتے اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔یہاں مالک وخادم، مالدار ونادار، غنی وفقیر، عالم وجاہل، پیرومرشد اور مرید وعام انسان ، حاکم ومحکوم اور شاہ و گدا کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ سب کے سب اللہ کے سامنے اسی طرح برابر ہوتے ہیں، جس طرح قبرستان میں بظاہر سب برابر ہوتے ہیں، ان میں کسی کو کسی کے اوپر کوئی برتری نہیں ہوتی، ہاں اسلام میں برتری کی وجہ صرف اور صرف تقویٰ وپرہیزگاری ہے، جس کا تعلق قلب سے ہے اور اس کا اظہار اعضاء وجوارح سے عبادات ومعاملات میں ہوتا ہے۔ یہ مسجدیں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ ہم اپنے سماج اور اپنے ملک وشہر میں برابری کے ساتھ رہیں، ایک دوسرے سے متحد اور جڑے رہیں،کوئی ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے اور نہ ہی حسب ونسب، جاہ ومنصب اور عہدہ وعمل کی بنیاد پربرتری جتائے۔بلا شبہ مسجد اسلام کی عظیم درسگاہ ہے جو سماجی اصلاح اور شہری فلاح کے مقصد سے قائم کردہ تنظیموں، کمیٹیوں اورسوسائٹیوں سے ہزار ہا درجہ برتر و بہتر ہیں۔ ہماری اپنی قائم کردہ تنظیموں کے بارے میں ہمارا تاثر ہوتا ہے کہ سماجی و معاشرتی اصلاح کیلئے یہی ادارہ سب سے بہتر ہے اور وہی بہتر خدمات پیش کر رہی ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور انہیں ہر طرح کی خرابیوں سے پاک کر کے سیدھے ڈگر پر لانے والی اگر کوئی بہتر سے بہتر درسگاہ ہو سکتی ہے تو وہ مسجد ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد تعمیر کرنے کی طرف توجہ دی۔ مدینہ منورہ کی شکل میں نئی اسلامی مملکت کی آباد کاری و  شیرازہ بندی اور لوگوں کو مجتمع کرنے کے لئے مسجد قائم کی گئی۔مسجد کا کردار صرف اس حد تک محدود نہیں کہ مسلمان وقت پر آئیں اور باجماعت نماز ادا کر کے یہاں سے رخصت ہو جائیں اور مسجدیں مقفل کر دی جائیں بلکہ اس کا مقصد اس کے ساتھ ہی امت کی شیرازہ بندی کرنا ، ملک میں امن وامان کی فضاء قائم کرنا، دلوں کو جوڑنا، آپس میں میل محبت اور جذبہ احترام پیدا کرنا، اخوت وبھائی چارگی کو پروان چڑھانا، ہمدردی وغمگساری اور رحمدلی وتعاون کا ولولہ پیدا کرنا اور مسلمانوں میں اسلام کی روح پھونکنا ہے۔ ایک مسلمان جب مسجد آتا اور ایک امام کے پیچھے دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا اور قدم سے قدم ملا کر نماز پڑھتا اورخطیب کے خطبہ کو سنتا ہے تو اس سے اس کے اندر اسلام کے اونچے اقدار پروان چڑھتے اسلام کی عظمت اور اس کی صاف ستھری تہذیب کا احساس پیدا ہوتا اور عفوودرگزر، میل ملاپ، بھائی چارگی، امن وسلامتی اور خوشگوار ماحول کی فضاء قائم کرنے کا رجحان اُجاگر ہوتا ہے۔جب انسان ہشاش وبشاش چہرے سے دوسروں سے ملتا، مصافحہ کرتا اور معانقہ کرتا ہے تو فطری طور پر دلوں سے کدورتیں، رنجشیں اور فاصلے دور ہوتے ہیں اور الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی دور حکومت میں ہر جگہ مسجدوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔اسے مسلم سماج کے افراد کی اصلاح و تربیت کے مرکز اوراصلاح باطن وتزکیہ نفوس کے حلقوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔اس کی زندہ مثال خود مسجد نبویؐ ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہاں آتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقۂ درس میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے، تزکیہ کرتے اور روحانی ترقی کے مدارج طے کرتے تھے۔وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین ودنیا سے متعلق جو چاہتے سوال کرتے اور اس کا جواب پاتے تھے۔ یہ مسجد ساری انسانیت کے لئے سرچشمہ نورِ ہدایت بنی۔ اس درسگاہ سے بڑے بڑے علماء، قد آور ہستیاں، عظیم قائدین، جنریل اور بے مثال سپہ سالار اور ماہرین فن  نے فراغت حاصل کر کے دنیا کو روشنی پہنچائی، امن و امان کے علمبردار اسلام کا جھنڈا بلند کیا، اس دین متین کو دنیا کے چپہ چپہ تک پہنچانے میں ناقابل فراموش رول ادا کیا۔ اس نمونے کے مطابق دنیا کی مسجدوں میں حلقۂ درس اور افادہ واستفادہ کا سلسلہ جاری ہوا۔پہلے باضابطہ مدارس نہیں تھے، یہی مسجدیں درسگاہوں کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ علماء مختلف مساجد کے اندر جگہ کا انتخاب کرتے اور حلقہ درس لگایا کرتے تھے۔تاریخ شاہد ہے کہ ایک زمانہ میں بغداد، کوفہ، بصرہ، قاہرہ، قیروان، قرطبہ، دمشق ، موصل، سمرقند و بخارا اور دوسرے اسلامی ملکوں کے مختلف شہروں کی مسجدیں تعلیم وتعلم اور علم ومعرفت کے گہوارے بنتے گئے۔ پوری اسلامی تاریخ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ علم ومعرفت اور تہذیب وثقافت کو پھیلانے اور عام کرنے میں مساجد ہی کا اہم کردار رہا ہے اور جب تک مساجد کو مرکزیت حاصل رہی اسلام کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا اور جب تک مسلمان مساجد سے جڑے رہے ان کا بول بالا اور دبدبہ رہا ہے۔مساجد جس طرح علم ومعرفت اور بحث وتحقیق کے مراکز رہے ہیں، اسی طرح یہاں حلم وبردبار، نرمی ورواداری اور اُخوت وبھائی چارگی سکھائی جاتی ہے    مسجدوں کی حاضری و پابندی اور ان کی آبادی،اس کا التزام بڑا ہی بابرکت اور باعث خیر عمل ہے اور یہ انسان کی مغفرت کا سبب بنتا ہے، اسی لئے اگر کوئی نمازوں میں مسجد آتا اور پابندی سے باجماعت نماز ادا کرتا ہے ، ہم کسی لیت ولعل اور تردد کے بغیر اس کے ایمان کی گواہی دے سکتے ہیں کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

’’ اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو ایمان رکھتے ہوں اللہ پر اور قیامت کے دن پر، جو قائم رکھتے ہوں نماز کو اور ادا کرتے ہوں زکاۃ اور وہ کسی سے نہ ڈرتے ہوں سوائے اللہ کے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں امید ہے کہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘(التوبہ18)  

 تاریک راتوں ، ناہموار راستوں اور گوناگوں ظاہری دشواریوں کے باوجود اگر کوئی ان مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے نماز کے لئے مسجد پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب میں گوناگوں اضافہ کرتا ہے، اسے دنیا میں بھی اجردیتا ہے اور قیامت کے دن اس کے لئے ایسی روشنی کا انتظام کر دیتا ہے جس کی روشنی میں وہ چلے گا اور یہ روشنی اس کی راہوں کو روشن کئے رہے گی، اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے:

’’تاریک راتوں میں مساجد کی طرف قدم بڑھانے اور پیدل چل کر آنے والوں کیلئے قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری ہے۔‘‘(ترمذی)

مسلمان جب تک مساجد سے جڑے رہے خیرو بھلائی پر رہے۔ہمارے اکابر واسلاف مساجد کو آباد کرنے پر خاص توجہ دیتے تھے، ہر نماز میںمسجد کی حاضری کو ضروری سمجھتے تھے، ان کے دل مسجدوں میں معلق ہوتے تھے، یہاں نماز کے علاوہ دروس اور وعظ ونصیحت کی محفلیں سجی ہوتی تھیں، ایک رونق ہوتی تھی جو دلوں کو تازگی پہنچانے والی تھیں، منبروں سے چوٹی کے علماء وفضلاء فقہاء ومحدثین کے بیانات کی صدائیں گونجتی تھیں، جس سے مسلمان اور دیگر برادرانِ وطن مستفید ہوتے تھے۔    آج مسجدیں برائے نام رہ گئی ہیں۔مسجدیں مسلمانوں کی زبوں حالی پر نوحہ کنا ہیں۔آج مسلمان ہوٹلوں میں، پارکوں میں گلیوں میں، لہوولعب کے مقامات پر، ڈانسوں اور ناچ گانے کی محفلوں میں، سنیما گھروں میں، ٹی وی کی سیریلوں کے مشاہدہ میں، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر دل بستگی میں گھنٹوں ہی نہیں پوری پوری رات گزار دیتے ہیں اور یہ ان کیلئے بار گراں نہیں ہوتامگر مسجد میں آکر آدھا گھنٹہ بیٹھنا، وعظ ونصیحت سننا، فرض سے پہلے یا بعد میں سنن ومستحبات پڑھنا، ذکر واذکار اور تلاوت کرنا بڑا ہی شاق اور گراں گزرتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد کے ساتھ اپنے تعلق اور لگاؤ کو مضبوط کیا جائے۔

آج مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ عام انسانوں کو ایسی جگہوں کی تلاش ہے، جہاں ان کے دل کو اطمینان وسکون مل سکے، ان کے نفس کو راحت پہنچے۔ اسی مقصد سے اور انہی چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے لوگ پارکوں، تفریح گاہوں، ہوٹلوں، سنیما گھروں اور کلبوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ شب وروز کی محنت اور کاروباری زندگی کی مشغولیتوں کی تکان کو دور کر سکیں، بے فکری سے چند روز اور کچھ وقت گزار کر کچھ راحت وسکون حاصل کر سکیں، اپنی روح اور ضمیر کو فرحت وانبساط سے بہرہ ور کر سکیں۔یہی چیز حاصل کرنے کیلئے کچھ لوگ ڈاکٹروں کا رُخ کرتے ہیں، دل کا علاج کرانے اور ٹینشن و ڈِپریشن کا مداوا کرنے کی سعی کرتے ہیں اور لوگ اس کے علاوہ بھی طرح طرح کی تدبیریں اختیار کرتے ہیں، مگر انہیں مایوسی ہوتی ہے، انہیں وہ چین وسکون کہیں حاصل نہیں ہوتا اور اگر ہوتی بھی ہے تو عارضی وچند روزہ، پائیدار نہیں۔یہ راحت وسکون اور اطمینان قلبی انسان کو اِدھر اُدھر نہیں بلکہ مسجد میں اور اللہ کا ذکر کر کے حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ

 ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب (رعد28)

رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں نادار و غریب مسلمان جو خود کو علم دین اور غزوات و سرایا کے لیے وقف کر چکے ہوتے وہ مسجد نبویؐ ہی میں رات گزارا کرتے تھے۔انہیں اصحاب صفہ کے نام سے ہم جانتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں مساجد کی حیثیت کیا ہے؟ یہ صرف پنچ وقتہ نماز ہی کیلئے نہیں بلکہ یہ درسگاہ بھی ہے اور دعوت و تبلیغ کا مرکز بھی، یہ مسلمانوں کے صلاح وفلاح اور امور سیاست و جہاد کی مشاورت کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے اور سماجی تعاون کے لیے باہمی تعارف کا ذریعہ بھی، یہ مسلمانوں کے درمیان الفت ومحبت پیدا کرنے کا ادارہ بھی ہے اور بوقتِ ضرورت ان کی ضروریات کا انتظام کرنے کا سینٹر بھی، زکوٰۃ وصدقات جمع کر کے اسے فقراء ومساکین کے درمیان تقسیم کرنے کی جگہ بھی ہے۔ اسی لئے اسلام نے مسجدیں تعمیر کرنے اور اسے آباد کرنے پر بہت زور دیا ہے۔اسے ذکر واذکار، نماز اورتلاوت قرآن کیلئے بھی آباد کیا جا سکتا ہے اور حلقۂ درس اور مجالس تعلیم و تعلم اور ذکر و اذکار کے ذریعہ بھی۔ اسلام نے مسلمانوں کی زندگی میں مساجد کے رول کو اجاگر کیا اور مساجد کے کردار کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا کرنے کو تخریب کاری اور فتنہ بازی و ظلم سے تعبیر کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کے(پاک) نام کے ذکر سے روکے، اور انکی ویرانی کی کوشش کرے؟ ایسوں کو تو ان (پاکیزہ مقامات)میں داخل ہونے ہی کا حق نہیں الا یہ کہ یہ لوگ ان میں داخل ہوں (اس کی عظمت و کبریائی سے) ڈرتے (اور کانپتے ) ہوئے ،ان کیلئے دنیا میں بڑی رسوائی ہے اورآخرت میں بہت بڑا(اور ہولناک) عذاب۔‘‘(البقرہ114)

نبی کریم ﷺ نے مساجد کی آباد کاری کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

 ”بیشک مساجد ذکرِ الہٰی، نماز اور تلاوتِ قرآن کے لیے ہیں۔“ (مسلم)

یعنی مساجد کی آباد کاری ذکر اور علم کے ذریعے ہوگی ان گھروں میں جن کے بلند (یعنی آباد)کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالی نے مسجدوں کو نیکیوں سے آباد کرنے والوں کی تعریف فرمائی اور یہ اعزاز بخشا کہ اللہ تعالی نے انہیں دنیا کے فتنے سے محفوظ فرما لیا ہے،اس لئے ایمان والوں کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ مساجد سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔ مساجد کی آبادکاری میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں مساجد سے جڑی رہیں اور فتنہ و فساد سے محفوظ رہ سکیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor