Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اخلاق حسنہ کی اہمیت و عظمت (۲)

 

اخلاق حسنہ کی اہمیت  و عظمت (۲)

Madinah Madinah

2)نرم خوئی، متحمل مزاجی، بردباری، عفو و درگزر اور ایثار و قربانی:

یہ ساری صفات دراصل اعلیٰ ظرفی اور بالغ نظری سے پیدا ہوتی ہیں اور عالی ظرفی اور بالغ نظری مومن کے خمیر میں شامل ہوتی ہے۔ خدائے واحد و قہار پر ایمان انسان کے اندر جس قسم کی بالغ نظری کی افزائش چاہتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی تمام مذموم صفات، جو ان کی شخصیت کا لازمہ ہوتی ہیں، محمود صفات کے لئے جگہ خالی کر دیں۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیثِ نبوی میں بے شمار مقامات پر مندرجہ بالا صفات کی تحسین کی گئی ہے اور اپنی شخصیتوں میں ان کو پروان چڑھانے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ یہ صفات، مشتعل مزاجی، منتقم طبیعت، بد خوئی، درشتیٔ طبع، جلد بازی، عدم تدبر اور بخل و تنگدلی کی ضد ہیں اور ان سے اسلامی معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی مزاج کا آب و رنگ معین ہوتا ہے۔

ارشاد ہوا: ’’تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے: بردباری اور وقار و سنجیدگی۔‘‘ (مسلم)

حدیث قدسی ہے کہ:’’جو نرمی سے محروم ہوتا ہے وہ ہر طرح کی بھلائی سے محروم ہو جاتا ہے۔‘‘ (مسلم)

ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے نصیحت کی درخواست کی تو حضورﷺنے فرمایا: لَا تَغضَب، (غصے میں نہ آؤ)۔ اس شخص نے متعدد مرتبہ یہی درخواست کی تو حضورﷺنے ہر مرتبہ اسے یہی نصیحت فرمائی۔(بخاری)

قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ:

’’اور انہیں معاف کر دینا چاہئے اور درگزر کرنا چاہئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے‘‘ (النور: 22)

مسلم، مسند احمد اور بخاری میں رسول اللہ ﷺکا یہ ارشاد گرامی نقل ہوا ہے، فرمایا: بخل و تنگ دلی سے بچو کیونکہ بخل و تنگ دلی ہی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اس نے ان کو ایک دوسرے کے خون بہانے اور دوسروں کی حرمتوں کو اپنے لیے حلال کر لینے پر اکسایا۔

شُح نَفس (بخل و تنگ دلی) کو محدود معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔ یہ چیز دراصل فیاضی و فراخدلی اور ایثار و قربانی کی ضد ہے اور مختلف معاملات میں مریضانہ طرزِ فکر اور غیر صحت مند طرزِ عمل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ رواداری، وسعتِ نظر اور ایک دوسرے کے جذبات کی پاسداری کی صفات، جو معاشرتی زندگی کی خواشگواری اور ہمواری کی ضمانت ہوتی ہیں، اس کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ اس لئے اس سے سخت اجتناب کی تاکید فرمائی گئی ہے اور اس کے برعکس عالی ظرفی اور فراخدلی کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ ان صفات کے بغیر اسلامی طرزِ معاشرت کی امتیازی شان اُجاگر نہیں ہو سکتی۔

3)اُخوت اور باہمی خیر خواہی:

رسول اللہ ﷺکا ارشادِ گرامی ہے کہ:

’’مسلمان، مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو قوت پہنچاتا ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست کر کے بتایا۔ (متفق علیہ)

فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (متفق علیہ)

حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’دین خیر خواہی ہے۔‘‘ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس کے لئے؟ فرمایا: ’’اللہ کے لئے اور اس کی کتاب کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے قائدین کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔‘‘ (مسلم)

اخوت اور نصیحت (خیر خواہی) دو ایسی بنیادیں ہیں جن پر اسلامی معاشرے کے اندر افراد کے باہمی تعلق کی عمارت استوار کی گئی ہے۔ حقیقی بھائی چارے اور باہمی ہمدردی و خیر خواہی کا جو مفہوم بھی کسی معاشرے کے اندر ممکن ہو سکتا ہے وہ سب اسلامی معاشرے کے اندر مطلوب ہے، لیکن اس امتیاز کے ساتھ کہ اسلامی معاشرے میں یہ رشتۂ اُخوت دین کے انہی آداب و مقاصد کا پابند ہے جو اس کے لئے متعین فرما دیئے گئے ہیں۔ اس رشتۂ اُخوت کو مضبوط و مستحکم بنانے والی ہر چیز پسندیدہ اور مستحسن ہے اور اس کو نقصان پہنچانے والی ہر چیز قابلِ نفرت اور لائق باز پرس ہے۔

اسلامی معاشرے کے افراد کے درمیان اخوت کی روح وہ نصیحت و خیر خواہی ہے، جسے دوسرے لفظوں میں حسن اخلاص اور حسن نیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس کیفیت کا نام ہے جس میں ایک مومن کی سوچ کا ہر رخ اور عمل کا ہر انداز ملّت اسلامیہ کی انفرادی و اجتماعی فلاح اور دینِ خداوندی کی سرفرازی و کامرانی کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔

4)صداقت شعاری، دیانت و امانت اور پاسِ عہد:

نبی کریم ﷺکا ارشادِ گرامی ہے:’’بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘ (متفق علیہ)

مزید ارشاد ہوا:’’جو چیز تجھے شک میں ڈالتی ہے اسے چھوڑ کر اس کو اختیار کر جو شک میں ڈالنے والی نہیں ہے، کیونکہ سچ قلبی اطمینان (کا نام) ہے۔ اور جھوٹ شک و اضطراب (پیدا کرنے والی چیز) ہے۔‘‘(ترمذی)

قرآن و حدیث میں صداقت شعاری کی تاکید بے شمار مقامات پر آئی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ صفت اسلام کی تعلیم کردہ صفات میں ایک بڑا اونچا مقام رکھتی ہے۔ اس صفت کو محدود معنوں میں نہیں لینا چاہئے۔ دین میں سچائی دراصل قول و فعل میں مقصود ہے۔ صداقت شعاری کا تعلق صرف زبان کے ساتھ سچ بولنے سے نہیں ہے بلکہ پوری عملی زندگی سے ہے۔ ایک چیز پر ایمان لانا اور پھر اس کے عملی تقاضوں کو نظر انداز کر دینا یا اس کے برعکس طرزِ عمل اختیار کرنا راست بازی اور صداقت شعاری کے خلاف ہے۔ اسی لئے روزے جیسی اہم عبادت کے مقصودِ حقیقی کو ذہن نشین کرنے کے لئے ارشاد فرمایاکہ اللہ کو اس شخص کے روزے کی کوئی حاجت نہیں ہے جس نے جھوٹ اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا۔

سورۃ الصف میں فرمایا گیا:’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم وہ بات کہو جو کرتے نہیں۔‘‘ (الصف)

صداقت ہی کا ایک شعبہ دیانت و امانت اور پاسِ عہد ہے اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنا لازمۂ ایمان ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’منافق کی تین نشانیاں ہیں اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو اور روزہ رکھتا ہو اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہو، یہ کہ جب بولے تو جھوٹ بولےاور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب کوئی امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کر گزرے۔‘‘ (متفق علیہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor