Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اخلاص و للہیت اورریا

 

اخلاص و للہیت اورریا

Madinah Madinah

رسول اللہ ﷺکے ذریعہ انسانی دنیا کو اخلاق حسنہ کی جو تعلیم و ہدایت ملی ہے، اس کی تکمیل اخلاص و للہیت کی تعلیم سے ہوتی ہے۔ یعنی اخلاص و للہیت کتابِ اخلاق کا آخری تکمیلی سبق اور روحانی و اخلاقی بلندی کا آخری زینہ ہے۔

اس اخلاق و للہیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر اچھا کام یا کسی کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف اس لئے اور اس نیت سے کیا جائے کہ ہمارا خالق و مالک ہم سے راضی ہو، ہم پر رحمت فرمائے اور اس کی ناراضی اور غضب سے ہم محفوظ رہیں۔

رسول اللہ ﷺنے بتایا ہے کہ تمام اچھے اعمال و اخلاق کی روح اور جان یہی اخلاصِ نیت ہے۔ اگر بظاہر اچھے سے اچھے اعمال و اخلاق اس سے خالی ہوں اور ان کامقصد رضائے الٰہی نہ ہو، بلکہ نام و نمود یا اور کوئی ایسا ہی جذبہ ان کا محرک اور باعث ہو تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی کوئی قیمت نہیںاور ان پر کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کا ثواب جو اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا اصل صلہ اور نتیجہ ہے اور جو انسانوں کا اصل مطلوب و مقصود ہونا چاہئے وہ صرف اعمال و اخلاق پر نہیں ملتا، بلکہ جب ملتاہے جبکہ ان اعمال و اخلاق سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور اخروی ثواب کا ارادہ بھی کیا گیا ہو، اور وہی ان کے لئے اصل محرک ہو۔

جو لوگ اچھے اعمال و اخلاق کا مظاہرہ دنیا والوں کی داد و تحسین اور نیک نامی و شہرت طلبی کے لئے یا ایسے ہی دوسرے اغراض و مقاصد کے لئے کرتے ہیں، ان کو یہ دوسرے مقاصد چاہے دنیا میں حاصل ہو جائیںلیکن وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور رحمت سے محروم رہیں گے، اور ان کی اس محرومی کا پورا پورا ظہور بھی آخرت میں ہی ہوگا۔

اس بارے میں رسول اللہﷺ کی ایک حدیث مبارکہ پیش خدمت ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

 ’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے‘‘ (صحیح مسلم)

یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت کا معیار کسی کی شکل و صورت یا اس کی دولت مندی نہیں ہے، بلکہ دل کی درستی اور نیک کرداری ہے، وہ کسی بندے کے لئے رضا اور رحمت کا فیصلہ اس کی شکل و صورت یا اس کی دولت مندی کی بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس کے دل یعنی اس کی نیت کے صحیح رخ اور اس کی نیک کرداری کی بنیاد پر کرتا ہے۔

اخلاص و للہیت (یعنی ہر نیک عمل کا اللہ کی رضا اور رحمت کی طلب میں کرنا) جس طرح ایمان و توحید کا تقاضااور عمل کی جان ہے، اسی طرح ’’ریا‘‘ یعنی مخلوق کے دکھاوے اور دنیا میں شہرت اور ناموری کے لئے نیک عمل کرنا ایمان و توحید کے منافی اور ایک قسم کا شرک ہے۔

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

 ’’جس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا، اور جس نے دکھاوے کے لئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا، اور جس نے دکھاوے کے لئے صدقہ و خیرات کیا اس نے شرک کیا‘‘(مسند احمد)

حقیقی شرک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات یا اس کے افعال اور اس کے خاص حقوق میں کسی دوسرے کو شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا کسی اور کی بھی عبادت کی جائے، یہ وہ ’’شرک حقیقی ‘‘اور ’’شرک اکبر‘‘ ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں اعلان فرمایا گیا ہے،اور ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اس کا کرنے والا ہر گز ہر گز نہیں بخشا جائے گا۔ لیکن بعض اعمال اور اخلاق ایسے بھی ہیںجو اگر چہ اس معنی کے شرک نہیں ہیں، لیکن ان میں اس شرک کا تھوڑا بہت شائبہ ضرور ہے۔ ان ہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اللہ کی عبادت یا کوئی اور نیک کام اللہ کی رضا جوئی اور اس کی رحمت طلبی کے بجائے لوگوں کے دکھاوے کے لئے کرے، یعنی اس غرض سے کرے کہ لوگ اس کو عبادت گذار اور نیکو کار سمجھیں اور اس کے معتقد ہو جائیں، اسی کو ’’ریا‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اگرچہ حقیقی شرک نہیں ہے، لیکن ایک درجہ کا شرک اور ایک قسم کا نفاق اور سخت درجہ کا گناہ ہے۔ ایک دوسری حدیث مبارکہ میں اس کو ’’شرک خفی ‘‘کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس حدیث مبارکہ میں نماز، روزہ ، صدقہ اور خیرات کا ذکر صرف مثال کے طور پر کیا گیا ہے، ورنہ ان کے علاوہ بھی جو نیک عمل لوگوں کے دکھاوے کے لئے اور ان کی نظروں میں معزز و محترم بننے کے لئے یا ان سے کوئی دنیوی فائدہ حاصل کرنے کے لئے کیا جائے گا، وہ بھی ایک درجہ کا شرک ہی ہوگا، اور اس کے کرنے والا بجائے ثواب کے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق ہوگا۔

حضرت ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ (اپنے حجرہ مبارک سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت ہم آپس میں مسیح دجال کا کچھ تذکرہ کر رہے تھے، تو آپﷺ نے ہم سے فرمایا:

’’کیا میں تمہیں وہ چیز بتلاؤں جو میرے نزدیک تمہارے لئے دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟‘‘

 ہم نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسولﷺ! ضرور بتلائیے! آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ وہ شرک خفی ہے، (جس کی ایک مثال یہ ہے) کہ آدمی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو، پھر اپنی نماز کو اس لئے لمبا کر دے کہ کوئی آدمی اس کو نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ)

رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کا مطلب غالباً یہ تھا کہ دجال جس کھلے شرک و کفر کی دعوت دے گا اور جس کے لئے لوگوں کو وہ مجبور کرے گا، مجھے اس کا زیادہ خطرہ نہیں ہے کہ میرا کوئی سچا امتی اس کی بات ماننے کے لئے آمادہ ہوگا، لیکن مجھے اس کاخطرہ ضرور ہے کہ شیطان تمہیں کسی ایسے شرک میں مبتلا کر دے جو بالکل کھلا ہوا شرک نہ ہو ، بلکہ خفی قسم کا شرک ہو، جس کی مثال آپﷺ نے یہ دی کہ نماز اس لئے لمبی اور بہتر پڑھی جائے کہ دیکھنے والے معتقد ہو جائیں۔

سنن ابن ماجہ ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک دفعہ اپنی امت کے شرک میں مبتلا ہونے کا خطرہ ظاہر فرمایا تو بعض صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! کیا ایسا ہوگا کہ آپ کے بعد آپ کی امت شرک میں مبتلا ہو جائے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ یہ تو اطمینان ہے کہ میرے امتی چاند سورج کو اور پتھروں اور بتوںکو نہیں پوجیں گے، لیکن یہ ہو سکتا ہے اور ہو گا کہ ’’ریا‘‘ والے شرک میں وہ مبتلاہوں‘‘

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

 ’’مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خطرہ ’’شرک اصغر‘‘ کا ہے‘‘

 بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ!شرک اصغر کا کیا مطلب ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

 ’’ریا‘‘ (یعنی کوئی نیک کام لوگوں کے دکھاوے کے لئے کرنا) (مسند احمد)

رسول اللہﷺ کے ان ارشادات کا اصل مقصد و منشاء اپنے امتیوں کو اس خطرہ سے خبر دار کرنا ہے تاکہ وہ ہوشیار رہیں، اور اس خفی قسم کے شرک سے بھی اپنے دلوں کی حفاظت کرتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ شیطان ان کو اس خفی قسم کے شرک میں مبتلا کر کے تباہ کر دے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

 ’’میں شرک اور شرکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ، پس جو شخص کوئی عمل کرے جس میں میرے ساتھ کسی اور سے بھی کچھ شریک کرے(یعنی اس سے اس کی غرض میری رضا اور رحمت کے علاوہ کسی اور سے بھی کچھ حاصل کرنا یا اس کو معتقد بنانا ہو) تو میں اس کو اور اس کے شریک کو دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں‘‘

 ایک اور روایت میں ہے کہ ’’میں اس سے بیزار اور بے تعلق ہوں، وہ عمل (میرے لئے بالکل نہیں بلکہ) صرف اس دوسرے کے لئے ہے جس کے لئے اس نے کیا‘‘ (صحیح مسلم)

 حضرت ابو سعید بن ابی فضالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فریا:

’’جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جس کے آنے میں کوئی شک نہیںہے ، سب انسانوں کو جمع کرے گا تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا ، جس شخص نے اپنے کسی ایسے عمل میں جو اس نے اللہ کے لئے کیا کسی اور کو بھی شریک کیا تھا وہ اس کا ثواب اسی دوسرے سے جا کر طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سب شرکاء سے زیادہ بے نیاز ہے شرک سے‘‘ (مسند احمد)

دونوں احادیث مبارکہ کا حاصل اور پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف اس نیک عمل کو قبول کرتا ہے اور اسی پر ثواب دے گا جو اخلاص کی کیفیت کے ساتھ صرف اس کی رضا اور اس کی رحمت کی طلب میں کیا گیا ہو، اور اس کے برخلاف جس عمل سے اللہ کے سوا کسی اور کی بھی خوشنودی یا اس سے کسی قسم کی نفع اندوزی مطلوب و مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بالکل قبول نہ کرے گا، وہ نہایت بے نیاز اور شرک کی لگاوٹ سے بھی بیزار ہے۔

یہ انجام تو ان اعمال کاہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے کئے جائیں، لیکن نیت میں پورا خلوص نہ ہو بلکہ کسی طور پر اللہ کے سوا کسی اور کی بھی لگاوٹ ہو، لیکن جو ’’نیک اعمال ‘‘ محض ریاکارانہ طور پر کئے جائیں ، جن سے صرف نام و نمود، دکھاوا ، شہرت اور لوگوں سے خراج عقیدت وصول کرناہی مقصود ہو تو وہ نہ صرف یہ کہ مردود قرار دے کر ان عمل کرنے والوں کے منہ پر مار دئے جائیں گے بلکہ یہ ریاکار اپنے ان ہی اعمال کی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔

 اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ہمارے اعمال صالحہ میں اخلاص وللہیت عطا فرمائیں اور ریاسے ہماری حفاظت فرمائیں۔ آمین

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor