Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

نئے سال کا جشن

 

نئے سال کا جشن

Madinah Madinah

ایک اورشمسی سال رخصت ہوا ۔ سال 2020 کی آخری ساعتیں اور 2021 شروع ہو نے ہی والا ہے۔ہر سال اس موقع پر پوری دنیا میں جشن منایا جاتا ہے۔ لوگ پورے سال کی بد اعمالیوں ، پریشانیوں اور غفلتوں کو کچھ لمحوں کے لیئے دور بھگا کر نئے سال کا جشن منانے کسی نہ کسی مقام پر جمع ہو جاتے ہیں۔ کیا اس بار بھی یہی ہونے جا رہا ہے ؟ اس کا جواب تو شاید میں نہ دے سکوں۔ مگر نئے سال کا جشن آخر کس لئے ؟ نئے سال کی مبارکبادیں کیوں ؟ مغرب میں تو چلیں یہ بات سمجھ بھی آتی ہے مگر ہمارے برصغیر پاک وہند کے اسلامی معاشرے میں یہ جشن کس لئے ؟

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سال کا جشن منایا؟ کیا صحابہ کرام نے آپس میں ایک دوسرے کونئے سال کی مبارک باد دی؟کیا تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں اس رسم کو منایاگیا؟ کیا دیگر مسلمان حکمرانوں نے اس جشن کی محفلوں میں شرکت کی؟ حالانکہ اس وقت تک اسلام ایران، عراق، مصر، شام اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک تک پھیل چکا تھا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر عقل مند شخص نفی میں دے گا۔ پھر آج کیوں مسلمان اس کام کو انجام دے رہے ہیں؟آخر یہ کس نے ایجاد کیا؟ کو ن سی قوم نئے سال کا جشن مناتی ہے؟ کیوں مناتی ہے؟ اور اس وقت مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

مغرب میں نئے سال کے جشن کے موقع پر پورے ملک کو رنگ برنگی لائٹوں اور قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور 31دسمبر کی رات میں 12 بجنے کا انتظار کیا جاتاہے اور12بجتے ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ہے، کیک کاٹا جاتا ہے، ہر طرف ہیپی نیو ائیر کی صدا گونجتی ہے، آتش بازیاں کی جاتی ہیں اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتاہے، جس میں شراب و شباب اور ڈانس کا بھر پور انتظام رہتا ہے۔یہی مغربی معاشرت ہمارے ہاں بھی در آئی ہے۔آج ا ن کی طر ح بہت سے مسلمان خصوصاً عرب ممالک میں نئے سال کے منتظر رہتے ہیں اور 31 دسمبر کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے، ان مسلمانوں نے اپنی اقدارو روایات کو کم تر اور حقیر سمجھ کر نئے سال کا جشن منانا شروع کر دیا ہے۔آج مسلمان نئے سال کی آمد پر جشن مناتا ہے کیا اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس نئے سال کی آمد پر اس کی زندگی کا ایک برس کم ہوگیا ہے ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش قیمتی نعمت ہے اور نعمت کے زائل یاکم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا بلکہ افسوس کیا جاتاہے۔گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسیں یادیں، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہوجاتا ہے اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کر الوداع کہتا ہے، سال ختم ہوتاہے تو حیات مستعار کی بہاریں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان اپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہوتا رہتا ہے۔

حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہوگیا جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔(قیمة الزمن عند العلماء)

یہ مختلف طر ح کے جشن یہود و نصاری اور دوسری قوموں میں منائے جاتے ہیں۔ جیسے مدرز ڈے، فادرز ڈے، ویلنٹائن ڈے، چلڈرنز ڈے اور ٹیچرز ڈے وغیرہ۔ اس لیے کہ ان کے یہاں رشتوں میں دکھاوا ہوتا ہے۔ ماں باپ کو الگ رکھا جاتا ہے، اولاد کو بالغ ہوتے ہی گھر سے نکال دیا جاتاہے اور کوئی خاندانی نظام نہیں ہوتا، اس لیے انہوں نے ان سب کے لیے الگ الگ دن متعین کر رکھے ہیں جن میں ان تمام رشتوں کا دکھلاوا ہوسکے۔ مگر ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے اسلام نے سب کے حقوق مقرر کردیے ہیں اور پورا ایک خاندانی نظام موجود ہے۔ اس لیے نہ ہمیں ان دکھلاووں کی ضرورت ہے اور نہ مختلف طرح طے ڈے منانے کی۔ بلکہ مسلمانوں کو اس سے بچنے کی سخت ضرورت ہےتاکہ دوسری قوموں کی مشابہت سے بچا جاسکے۔ اس لیے کہ ہمارے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غیروں کی اتباع اور مشابہت اختیار کرنے سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے۔‘‘ ( ابوداؤد)

اب سوال یہ ہے کہ اس موقع پر مسلمانوں کو کیا رویّہ اختیار کرنا چاہیے جو قرآن و احادیث کی روشنی میں صحیح ہو؟

نئے سال سے متعلق کسی عمل کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو قرون اولی کا کو ئی اور عمل تو مل نہ سکا۔ البتہ بعض کتب حدیث میں یہ روایت نگاہوں سے گذری کہ جب نیا مہینہ یا نئے سال کا پہلا مہینہ شروع ہوتا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو یہ دعاء سکھاتے اور بتا تےتھے:

 ”اللّٰہُمَّ أدْخِلْہُ عَلَیْنَا بِالأمْنِ وَ الإیْمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالإسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجِوَازٍمِّنَ الشَّیْطَانِ“ (المعجم الاوسط للطبرانی)

 ترجمہ: اے اللہ اس نئے سال کو ہمارے اوپر امن وایمان، سلامتی و اسلام او راپنی رضامندی؛ نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔

اس موقع پر اس دعا کو پڑھنا چاہیے ۔ نیز اس وقت مسلمانوں کو دو کام خصوصا کر نے چاہئیں یا دوسرے الفاظ میں کہ لیجیے کہہ نیا سال ہمیں خاص طور پر دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے :

 (۱) ماضی کا احتساب (۲) آگے کا لائحہ عمل۔

(۱)ماضی کا احتساب

نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے۔ کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

ہمیں عبادات، معاملات، اعمال، حلال و حرام، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے میدان میں اپنی زندگی کا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں، اس لیے کہ انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچ سکتا۔ اس لیے ہم سب کو ایمان داری سے اپنا اپنا موٴاخذہ اور محاسبہ کرنا چاہیے اور ملی ہوئی مہلت کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ یہ مہلت ختم ہوجائے ۔ اسی کو اللہ جل شانہ نے اپنے پاک کلام میں ایک خاص انداز سے ارشاد فرمایا ہے:

 ”وَأنْفِقُوْا مِنْ مَا رَزَقْنَاکُمْ مِنْ قَبْلِ أنْ یَأتِيَ أحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْلاَ أخَّرْتَنِيْ إلیٰ أجَلٍ قَرِیْبٍ فَأصَّدَّقَ وَأکُنْ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ، وَلَنْ یُّوٴَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا إذَا جَاءَ أجَلُہَا وَاللّٰہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ“(القرآن)

 ترجمہ: اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے اے میرے پروردگار مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاوٴں ۔ اور جب کسی کا وقت مقرر آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالی ہرگز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالی اچھی طرح باخبر ہے۔

(۲)آگے کا لائحہ عمل

اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد اس کے تجربات کی روشنی میں بہترین مستقبل کی تعمیر اور تشکیل کے منصوبے میں منہمک ہونا ہوگا کہ کیا ہماری کمزوریاں رہی ہیں اور ان کو کس طرح دور کیا جاسکتا ہے؟ دور نہ سہی تو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟انسان غلطی کا پتلا ہے اس سے غلطیاں تو ہوں گی ہی ، کسی غلطی کا ارتکاب تو برا ہے ہی اس سے بھی زیادہ برا یہ ہے کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے اور اسی کا ارتکاب کیا جاتا رہے۔یہ منصوبہ بندی دینی اور دنیوی دونوں معاملات میں ہو ۔

آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ ہر نیا سال خوشی کے بجائے ایک حقیقی انسان کو بے چین کردیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کو اس بات کا احساس ہوتا ہے میری عمر رفتہ رفتہ کم ہورہی ہے اور برف کی طرح پگھل رہی ہے ۔ وہ کس بات پر خوشی منائے؟ بلکہ اس سے پہلے کہ زندگی کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہوجائے کچھ کر لینے کی تمنا اس کو بے قرار کردیتی ہے اس کے پاس وقت کم اور کام ز یادہ ہوتاہے۔ہمارے لیے نیا سال وقتی لذت یا خوشی کا وقت نہیں،بلکہ گزرتے ہوئے وقت کی قدر کرتے ہوئے آنے والے لمحا تِ زندگی کا صحیح استعمال کرنے کے عزم و ارادے کا موقع ہے اور از سر نو عزائم کو بلند کرنے اور حوصلوں کو پروان چڑھانے کا وقت ہے۔

 

دومسنون دعائیں

(1) اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ

اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ہر خیرکا، چاہے وہ فوری یا ہوموخر ہو، وہ جو میرے علم ہو اور وہ بھی جو میرے علم میں نہ ہو، اور میں ہر شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، چاہے وہ فوری ہو یا موخرہو، وہ جو میرے علم میں ہو اور وہ بھی جو میرے علم میں نہ ہو۔  (سنن ابن ماجہ)

(2) اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ  وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ  وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ

اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں جنت کااور ہر اُس کام اور بات کا جو جنت کے قریب کرنے والے ہوں اور میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں جہنم کی آگ سے، اور ہراس کام اور بات سے جو اس آگ کے قریب لے جانے والے ہوں۔(سنن ابن ماجہ)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor