Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

شاہِ مدینہ ﷺ کے گھر میں …۴

 شاہِ مدینہ ﷺ کے گھر میں …۴

Madinah Madinah

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر سے اپنے دولت کدہ منتقل ہو گئے تو شروع میں ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ذریعہ معاش نظر نہیں آتا اور اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ انصار مدینہ خصوصاً پڑوسی انصاریوں نے اپنے خلوص و محبت وعقیدت و ارادت اور جذبہ ایثار کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل بیت نبوی کے کھانے اور دیگر اخراجات کے سلسلے میں متفکر نہیں ہونے دیا ۔ انصار کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کے مرد اور عورتیں مختلف ہدایا (کھانے پینے کی چیزیں ) بھیج کر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرتے اور نظر التفات چاہتے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم کے پاس ہدیہ دینے کے لیے کوئی چیز نہ تھی انہوں نے یہ حسرت اپنا بیٹا انس بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خدمت کے لیے پیش کر کے پوری کی ۔ (ایضاً ،۱۹۳،۱)

آپ کے ننھیالی عزیز اور صاحب حیثیت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور اسد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی عقیدت کا تو یہ عالم تھا کہ روزانہ بلاناغہ ان کے کھانے کا پیالہ دولت کدہ نبوی میں پہنچتا تھا ۔ (ایضاً )

انصار کی اس پر خلوص محبت کی تائید صحیحین اور دیگر کتب حدیث میں موجود ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ :

قد کان لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیران من الانصار وکانت لہم منائع فکا نوایمنحون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من البانھم فیسقینا۔

’’ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند پڑوسی انصار میں سے تھے جن کے پاس اونٹنیاں تھیں وہ (از راہ محبت) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ بھیجا کرتے تھے تو وہ دودھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں پلا دیتے تھے‘‘۔

(صحیح بخاری ، کتاب الہبہ و فضلہا ، ۹۰۷:۲ ،الرقم ۲۴۲۸)

علاوہ ازیں مدینہ منورہ کے انصار صحابہ زراعت کے پیشہ سے منسلک تھے ۔ ان میں سے صاحب ثروت حضرات نے اپنے اپنے باغوں میں ایک ایک درخت کو نشان زدہ کر دیا تھا کہ اس کا پھل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا ۔ چنانچہ ہر سال کھجور کی فصل کاٹنے پر اس درخت سے جتنی کھجوریں حاصل ہوتیں وہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچا دی جاتیں ۔ (ڈاکٹر محمد حمید اللہ ، خطبات بہاولپور ، خطبہ نظام مالیہ و تقویم ،ص ۲۷۵)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کھجوریں قبول فرماتے رہے مگر جب ۳۔۴ھ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر کے املاک اور زرعی زمینیں بطور’’ فئے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تصرف آگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخلصین انصار کے یہ باغات (درخت ) ان کو واپس فرما دئیے تھے ۔

انصار مدینہ کے یہ پر خلوص ہدیے اور نذرانے ان غلاموں و عقیدت مندوں کی تسکین خاطر عزت افزائی اور بلندی درجات کے لیے قبول کئے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال بچوں کی غذائی ضروریات کے لیے دودھ دینے والی کچھ بکریاں اور اونٹنیاں ذاتی طور پر خرید لیں تھیں اور کچھ لوگوں نے بطور ہدیہ پیش کی تھیں ۔ (البلاذری ، انساب الاشراف :۵۱۲:۱ ،تا ۵۱۴)

ان بکریوں اور اونٹنیوں کے لیے شہر مدینہ کے مضافات میں ایک چراگاہ معین کی گئی جہاں ایک صحابی رضا کارانہ طور پر ان جانوروں کی نگہداشت کرتے، انہیں چرانے کا فریضہ انجام دیتے اور روزانہ دودھ اس مقام سے مدینہ منورہ لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پہنچایا کرتے تھے ۔ اہل خاندان اس دودھ کو استعمال کرتے تھے ۔

2ھ رمضان المبارک میں غزوہ بدر پیش آیا اور اس کے بعد غزوات کا ایک مستقل سلسلہ شروع ہو گیا ۔

دشمنان اسلام پر فتح کے نتیجہ میں ان کی املاک اور سازو سامان غنیمت کے طور پر ہاتھ لگتا ۔ اللہ کریم نے سابق انبیاء کرام اور ان کی امتوں کے برعکس اس مال غنیمت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور خاص حلال قرار دیا ۔

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

احلت لی الغنائم

’’ میرے لیے غنیمتیں حلال کر دی گئیں‘‘۔(مشکوٰۃ ، ص ۵۱۲)

ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

فلم تحل الغنائم لا حد من قبلنا ذلک بان اللہ رای ضعفنا وعجز نا فیطبھا لنا۔

’’ ہم سے قبل کسی کے لیے یہ غنیمتیں حلال نہ تھیں ۔ اللہ نے ہماری کمزوری اور عجز کو دیکھا تو غنیمت کو ہمارے لیے حلال کر دیا‘‘۔

(مسلم ، باب تحلیل الغنائم لہٰذہ الامۃ خاصہ ،۱۳۶۶:۳ ؍الرقم ۱۷۴۷)

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے لیے یہ ایک آمدن کا ذریعہ بن گیا ۔ قرآنی ہدایات کے مطابق جو کچھ مال غنیمت حاصل ہوتا اس کا ۵؍۱حصہ (خمس ) نائب الٰہی سربراہ مملکت اور رسول خدا ہونے کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (سرکاری) تحویل میں آتا اور باقی ۵؍۴حصہ (منقولہ) مجاہدین اور غازیوں میں تقسیم کر دیا جاتا ۔ کل مال غنیمت کا ۵؍۱حصہ میں اللہ کریم نے پانچواں حصہ یعنی کل کا ۲۵؍ ۱،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مختص فرما دیا ۔

چنانچہ ارشاد ہوا:

واعلموا انما غنمتم من شیی فان اللہ خمسہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل ۔

’’ اور جان لو کہ جو کچھ مالِ غنیمت تم نے پایا ہو تو اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے اور (رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے)قرابت داروں کے لیے(ہے) اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے‘‘۔(الانفال:۴۱)

تمام غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف شریک ہوتے بلکہ امیر لشکر بھی ہوتے تھے ۔ اس لیے مال غنیمت کا ۵؍۴ حصہ جو مجاہدوں اور غازیوں میں پیدل اور سوار میں تھوڑے سے فرق( پیدل کے لیے ایک اور سوار کے لیے دو حصے)کے ساتھ تقسیم کیا جاتا تھا ۔ اس میں دیگر مجاہدین کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی برابر کا حصہ ملتا ۔ یوں مال غنیمت سے ملنے والا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدن کا ایک معقول ذریعہ تھا ۔

بعض غزوات میں تو کثیر مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا تھا مثلاً صرف ہوازن سے جو مال غنیمت حاصل ہوا اس میں واقدی اور ماوردی کی صراحت کے مطابق چھ ہزار غلام و باندیاں ، چوبیس ہزار اونٹ ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی تھی۔

(واقدی ، کتاب المغازی ،۹۴۳:۳)

3ھ میں جب غزوہ احد پیش آیا تو اس میں اگرچہ مسلمانوں کو کوئی مال غنیمت نہیں ملا تھا تاہم اللہ کریم نے اپنے وعدہ

ومن یتق اللہ یجعل لہ محزجا ویر زقہ من حیث لا یحتسب ۔

’’ اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے(دنیا و آخرت کے رنج و غم سے) نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے ۔ جس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتا‘‘۔(الطلاق ،۲:۳)

کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے اس موقعہ پر اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی جگہ سے رزق بہم پہنچایا ۔ جس کا بظاہر دور دور تک کوئی امکان اور گمان تن نہ تھا۔ چنانچہ مورخین کا بیان ہے کہ مخیریق نامی یہودی بنو نضیر میں ایک معتبر عالم تھا ۔ اس کے پاس سات زمینیں یا سات باغات تھے ۔ غزوئہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوئے اور وصیت کی کہ اگر میں شہید ہو جائوں تو میرے ساتوں باغات(بمع زمین)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوں گے ۔ چنانچہ وہ شہید ہو گئے تو ان کے سارے باغات حسب وصیت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملکیت میں آگئے ۔ (الماوردی ، احکام السطلانیۃ ،ص ۲۷۲)

(جاری ہے…)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor