Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

عصرِحاضر اور چند اہم نبوی پیشین گوئیاں

عصرِحاضر اور چند اہم نبوی پیشین گوئیاں

Madinah Madinah

اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین بنایا ہے، اسی لیے آپ کی تعلیمات میں ہر زمانے کے حالات میں رہنمائی کا وافر سامان میسر ہے، اگر کہیں کمی ہوسکتی ہے تو وہ رہنمائی لینے والوں میں ہو سکتی ہے ، خود ان تعلیمات میں کہیں کوئی کمی اور عیب نہیں ہے۔ آج کی مجلس میں نبی کریمﷺ سے منقول صرف دو ایسی احادیث اور ان کی تشریح پڑھتے ہیں جن میں ہمارے زمانے کے لیے لحاظ سے بہترین ہدایت موجود ہے۔

(1)اُم المومنین حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: یارسول اللہ !کیا ہم ایسی حالت میں بھی ہلاک ہوسکتے ہیں، جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں گے ؟ فرمایا:ہاں !جب (گناہوں کی)گندگی زیادہ ہوجائے گی۔(متفق علیہ)

اس حدیث کو نقل کرنے والی حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہیں ،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ زوجہ ہیں، جن کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر کیا۔

یہ سوال حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اس لیے کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یاجوج وماجوج کے فتنے اور ان کی طرف سے پیش آنے والے شرو فساد کا ذکرکیا، تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے خیال فرمایا کہ ابھی تواتنے صحابہ ہیں اور بہت سے نیک ،صالح ومتقی ومقرب لوگ زندہ ہیں اور خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں، تو اس فتنے سے ڈر وخو ف کی کیا وجہ ؟کیا ان نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے ہم ہلاک ہوجائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں! ایسا ہوسکتا ہے، جب کہ خبث زیادہ ہوجائے ’’خَبَثْ‘‘خا اور با کے فتحے کے ساتھ ہو،تو اس کے معنے ہیں:فسق وفجور اور بُرائی؛ یعنی کفر وشرک اور معصیت زیاہ ہوجائے ۔اور بعض نے خُبْث خا پر پیش اور باپر جزم کے ساتھ پڑھا ہے، جس کے معنے ہیں: ’’بے حیائی‘‘ دونوں کا نتیجہ ومقصود ایک ہے۔(مرقاۃ المفاتیح)

غرض یہ کہ نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی برائی اور فسق وفجور زیادہ ہوجائے، تو ایساہو سکتا ہے کہ بُروں کے ساتھ ان صالحین ومتقین کو بھی ہلاک کردیاجائے؛ چناں چہ ملا علی قاری لکھتے ہیں:’’مقصود یہ ہے کہ جب مثلاً:آگ کسی جگہ پڑتی ہے اور بھڑک اٹھتی ہے، تو وہ خشک وتر، دونوں کو کھائی جاتی ہے اور ناپاک و پاک ،سب پر حاوی ہوجاتی ہے اور مؤمن و منافق اور مخالف وموافق میں کوئی فرق نہیں کرتی۔(مرقاۃ المفاتیح)

ہاں! جب قیامت میں اٹھایا جائے گا، تو اچھوں کو ان کے اچھے اعمال کے موافق اور بُروں کو ان کے برے اعمال کے موافق جزا وسزا ہوگی؛ چناں چہ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جماعت کعبے کو ڈھانے کے لیے نکلے گی،جب وہ ایک میدان میں ہوں گے، تو وہاں کے سب لوگوں کو زمین میں دھنسادیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! سب کو کس طرح دھنسا دیا جائے گا، جب کہ ان میں بُرے بھی ہوں گے اور وہ بھی، جو ان میں سے نہیں ہیں ؟!!(یعنی اچھے لوگ بھی ہوں گے )آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب کو دھنسا دیا جائے گا ؛پھر ان کی نیتوں کے مطابق ان کو اٹھا یاجائے گا۔(صحیح البخاری)

معلوم ہوا کہ دنیا میں اچھے لوگ اگر برائی کو دور نہ کریں گے اور بُروں اور برائیوں کی کثرت ہوجائے گی، تو عذاب میں سب گرفتار ہوں گے؛ یہ بڑا فتنہ اور مصیبت ہے۔ اس مضمون پر قرآن کی ایک آیت بھی شہادت دیتی ہے ۔

وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ

ترجمہ : اور بچتے رہو اس فساد سے جو تم میں سے خاص ظالموں ہی پر نہیں آئے گا اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔(سورۃا لا ٔنفال:۲۵)

مذکورہ بالاآیت ِکریمہ کی تفسیر میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’اور جس طرح تم پر اپنی اصلاح کے متعلق طاعت واجب ہے، اسی طرح یہ بھی طاعتِ واجبہ میں داخل ہے کہ بہ قدرِ وسعت دوسروں کی اصلاح میں بہ طریقِ امر بالمعروف ونہی عن المنکر،با لید یا باللسان، ترکِ اختلاط یا نفر ت بالقلب ،جو کہ آخری درجہ ہے، کوشش کرو!ورنہ در صورتِ مداہنت، ان منکرات کاوَبال جیسا مرتکبینِ منکرات پر واقع ہوگا، ایساہی کسی درجے میں ان مداہنت کرنے والوں پر بھی واقع ہوگا۔ جب یہ بات ہے، تو تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا، جو تم میں ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں؛ (بل کہ ان لوگوں کو دیکھ کر جنھوں نے مداہنت کی ہے، وہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور اس سے بچنایہی ہے کہ مداہنت مت کرو) اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ سخت سزادینے والے ہیں (ان کی سزا سے خوف کرکے مداہنت سے بچو !!)‘‘ ۔ (بیان القرآن)

غرض یہ کہ اہل ِدین واہل ِصلاح کی ذمہ داری ہے کہ دین وصلاح کو غالب رکھیں اور بے دینی اور فساد کو مغلوب کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہیں، اگر ان لوگوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور فساد اور بے دینی کا غلبہ ہوگیا ،تو اس کی وجہ سے سب کو عذاب میں گرفتار کرلیا جائے گا۔

(2) ایک حدیث میں نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ہے کہ:

لوگوں پر بہت سال ایسے آئیں گے ،جن میں دھوکا ہی دھوکا ہوگا ،اس وقت جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گااور سچے کو جھوٹا، بددیانت کو امانت دار تصور کیا جائے گاا ور امانت دار کو بددیانت اور رُوَیْبَضَہ (گرے پڑے نا اہل لوگ )قوم کی طرف سے نمائندگی کریں گے۔ عرض کیا گیا: رُوَیْبَضَۃسے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ نا اہل اور بے قیمت آدمی ،جو عام لوگوں کے اہم معاملات میں رائے زنی کرے۔(مسند احمد۔ سنن ابن ماجہ)

اس حدیث میں چند امو ربیان کیے گئے ہیں :

۱) ’’ سَیَاتِي عَلَی النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌ ‘‘(یعنی لوگوں پر چند سال ایسے آئیں گے، جو خداعات ہیں)

خَدَّاعَاتٌ لفظ ’’خداع‘‘ سے مبالغے کا صیغہ ہے اور’’خداع‘‘کے معنے: دھوکہ دینے کے ہیں اورسَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌکے معنے ہوئے ’’بہت دھوکہ دینے والے سال‘‘ اس کی شرح میںبعض علما نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بارش تو خوب ہوگی، جس سے پیداوار میں کثرت کی امید بندھے گی؛ مگر جب وقت آئے گا، تو کچھ بھی پیدا وار نہ ہو گی اور قحط پڑجائے گا، یہی ان سالوں کا دھوکہ ہوگا۔

اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ ’’خَدَّاعَاتٌ‘‘ کا لفظ ’’خدع الریق‘‘ سے ماخوذ ہے، یہ اس وقت بولتے ہیں جب ’’منہ کا تھوک خشک ہوکر بدبو ہونے لگے ‘‘ اور سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتٌکا مطلب یہ کہ بارش کی کمی کی وجہ سے کھیتیاں اور باغات اور ندی نالے سب خشک ہوجائیں گے ۔

اور بعض اہل علم نے یہ بھی کہا ہے کہ’’سَنَوَات خَدَّاعَات‘‘ کو لغوی معنے پر محمول کرتے ہوئے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے سال آئیں گے، جن میں دھوکہ اور فریب زیادہ ہوجائے گا، مکرودجل کی گرم بازاری ہوگی اور سچ وجھوٹ،کفر وایمان اور حق وباطل میں امتیازدشوار ہوجائے گا اوریہ تشریح حدیث میں آئے ہوئے اور جملو ں سے مطابق وموافق بھی ہوجائے گی جیسا کہ آگے آرہا ہے اور سال کوخداع ودھوکے بازکہنا ،مجازاً ہے، مراد اہلِ زمانہ ہیں کہ اس زمانہ کے لوگ دھوکہ اور فریب کے عادی؛بل کہ ماہر ہوجائیں گے ،جیسا کہ آج بھی یہ کیفیت مشاہد ومحسوس ہورہی ہے؛ پہلے دھو کہ بازی کو دھوکہ بازوں اور مکاروں کی جماعت میں دیکھا جاتاتھا اوراب ان میں بھی دیکھا جارہاہے ،جو اہلِ دین واہلِ دیانت کہلاتے ہیں ؛حتی کہ اہلِ علم میں علمائے سو کا گروہ دین میں غیر دین اور سنت میں بدعت کی ملاوٹ کررہا ہے، جس سے ایک خالی الذہن متلاشئی حق کو تلاشِ حق کی راہ میں رکاوٹ پیش آتی ہے؛ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہمیشہ علمائے حق کے ایک گروہ کو علمائے سو کی جاری کردہ وپیدا کردہ بدعات وخرافات اور تحریفات وتاویلات کی نقاب کشائی اور ان کی اصلیت وحقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے تیار رکھتے ہیں اورو ہ دلائل وبراہین کی روشنی میں ان کا قلع قمع کرتے رہتے ہیں؛تاہم انجانے لوگوں کے لیے علمائے سو کی تحریفات وتاویلات اور دین میں ایجادات واحداثات حیراں وسرگرداں کردیتے ہیں ۔

اس حدیث میں دوسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ:

۲)یُکَذَّبُ فِیْہَا الصَّادِقُ وَیُصَدَّقُ فِیْہَا الکَاذِبُ(یعنی اس زمانے میں سچے آدمی کوجھوٹا اورجھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا)۔

مطلب یہ ہے کہ سچ و جھوٹ میں اور سچے اور جھوٹے میں امتیازمشکل ہوجائے گا، جس کی وجہ سے لوگ سچ کے بارے میں شک کرنے لگیں گے اور اس کو بھی جھوٹا سمجھ لیں گے اور اس کا اعتبار نہ کریں گے اور جھوٹے لوگوں کاامتیاز نہ ہوسکنے کی وجہ سے، ان پر اعتماد کرلیں گے اور ان کو دھوکے سے سچا خیال کر بیٹھیں گے۔یا یہ مطلب ہے کہ جھوٹے لوگ ایسی چکنی چپڑی باتیں اور فریب اور دھوکہ بازی سے کام لیں گے کہ لوگ ان کو سچا سمجھیں گے اور ان پر اعتماد کرلیں گے اور جب ان پر اعتماد کرلیں گے، تو نتیجۃً سچوں کو جھوٹا اور نا قابلِ اعتبار سمجھیں گے ۔

اس حالت کا بہت کچھ اندازہ ہمارے زمانے میں بھی ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ آج بھی سچ اور جھوٹ میں امتیاز مشکل ہوگیا ہے اور جھوٹے اور مکار لوگ مختلف ذرائع اور تدابیر سے اپنے جھوٹ کی نشر واشاعت اور اس کو ماننے کی تر غیب ودعوت دے رہے ہیں اور سچے لوگ لوگوں کی نظر میں ناقابلِ اعتماد اور مشکوک بنے ہوئے ہیں، اس کی زندہ اور تازہ مثال یورپی و مغربی وہ قوتیں ہیں جو دنیا بھرکے کئی ممالک میں اپنی قوت و طاقت کے نش میں دھت ہو کر دہشت گردی کر رہی ہیں اور دنیا والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے جھوٹ کو سچ باور کراتی ہیں اور خود ہزاروں ہزار بے خطا اور معصوم انسانوں پر ظلم ڈھاکر دہشت گردی کاکھیل کھیلتی ہیں،مگراپنی اس اصلی دہشت گردی کو اس نےامن عالم اور انسانیت نوازی کا جھوٹا نام دے رکھا ہے ۔ چنانچہ اس صورت حال میں ’’یُصَدَّقُ فِیْہَا الکَاذِبُ وَ یُکَذَّبُ فِیْہَا الصَادِقُ‘‘کا کھلی آنکھوں مشاہدہ ہورہا ہے۔ اسی طرح ’’بی- جے- پی‘‘ اور وشواہندوپریشد(VHترجمہ )وغیرہ آئے دن مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہا ڑتو ڑرہے ہیں، کشمیر پر ظالمانہ قبضہ و جارحیت مسلسل جاری رکھی جا رہی ہے اور اسی طرح ’’بابری مسجد‘‘ کو شہید کرکے اپنی دہشت گردی کا کھلا اورننگا ناچ دکھا چکے ہیں؛مگر دنیا ان کو دہشت گرد کہنے کے بہ جائے دنیا بھر میں اسلامی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور اہلِ مدارس کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔فیا للعجب!

اور اس مبارک حدیث میں تیسری بات یہ بیان ہوئی ہے کہ:

۳)وَیُخَوَّنُ فیھَا الأَمِیْنُ وَیُؤتَمَنُ فِیھَا الخَائِنُ(اس زمانے میں امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار سمجھ لیا جائے گا۔

اس کا حاصل بھی وہی ہے کہ جھوٹ اور مکرو فریب اس قدر بڑھ جائے گا کہ اما نت دار کون ہے اور خائن کون ہے؟ اس میں امتیا ز مشکل ہوجائے گا اور لوگ غلط فہمی کاشکار ہوجائیں گے اور امانت دار کو بھی شک کی وجہ سے خائن سمجھ لیں گے اور خائن کو اس کی دھوکے کی باتوں سے متاثر ہوکر امین سمجھ لیں گے، یہ صورتِ حال بھی آج معاشرے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

ایک حد یث میں آیا ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دوباتیں بیان فرمائیں: ایک تو میں نے دیکھ لی، دوسری کا انتظار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں میں رکھ دی گئی ہے؛ پھر انھوں نے قرآن وسنت کو سیکھا؛ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ آدمی سوئے گا اور امانت اس کے دل سے اٹھالی جائے گی، تو اس کا اثر صرف ایک دھبے کی طرح رہ جائے گا؛ پھر آدمی سوئے گا اور باقی حصہ بھی اٹھا لیا جائے گا اور اس کا اثر صرف ایسا رہ جائے گا جیسے تو اپنے پاؤں پر چنگاری گِر ا بیٹھے اور دیکھنے پر آبلہ نظر آئے؛ لیکن اس کے اندر کوئی چیز نہ ہو، صبح ہونے پر لوگ خرید وفروخت کریں گے، تو انہیں ایک بھی امانت دار نہیں ملے گا ؛بل کہ یوں کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں فلاں شخص امانت دار ہے ۔(صحیح البخاری)

اس حدیث میں ایک آخری اہم بات یہ بیان ہوئی ہے کہ:

4)رُوَیْبَضَہ (گرے پڑے نا اہل لوگ )قوم کی طرف سے نمائندگی کریں گے۔

رُوَیبَضَۃ ’’ربض‘‘سے ہے اور’’رابضۃ ‘‘ کی تصغیر ہے اور ’’ربض‘‘کے معنے عاجز ہونے کے ہیں اور رُوَیبَضَۃ کے معنے ہیں: ’’عالی امور کے حاصل کرنے سے عاجز‘‘؛ یعنی نکما اور ناقابل انسان اور ایک روایت میں حضو صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ’’الرجل التافہ‘‘ یعنی کم عقل آدمی،جو عام لوگوں کے معاملات میں رائے زنی کرتا ہو ا ور ایک حدیث میں ’’الفویسق ‘‘سے اس کی تفسیر آئی ہے؛ یعنی فاسق وگنہگار، جو معاملاتِ ملیہ میں رائے زنی کرے، اس میں اشارہ ہے کہ آخری زمانے میں قیامت کے قریب مسلمانوں کے ملی امور، جاہل وفاسق لوگوں کے ہاتھ میں چلے جائیں گے اور وہ اپنی جہالت وفسق وفجور کی وجہ سے غلط اور غیر دانش مندانہ فیصلے کریں گے اور ملت کو تباہ وبرباد کریں گے اور آج یہ بات بھی کھلی آنکھوں دیکھی جارہی ہے کہ ہر بڑے چھوٹے ملی ودینی اداروں پر فساق وفجار اور جاہلوں کا قبضہ ہے اور علما وصلحا ان کے تابع ومحکوم ہیں اور اس کی وجہ سے ملت تباہی کی طرف بڑھتی جارہی ہے۔

اَللّٰہم احفَظْنا مِنْ شُرُوْرِ أَنفُسِنَا وَمِن سَیِّاٰتِ أَعمَالِنَا۔

اللہ تعالیٰ سے دعاءہے کہ وہ ہمیں اپنے نفسوں اور ہمارے برے اعمال کے شرور سے ہمیں محفوظ بنا دے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor