Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

برکت

برکت

Madinah Madinah

کیا آپ نے زندگی میں کبھی ایسا محسوس کیا ہے کہ آپ کا وقت گزر جاتا ہے اور آپ کے کام نتیجہ خیز نہیں ہو پا رہے ؟آپ بظاہر مصروف تو بہت ہیں لیکن آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کچھ کمی ہے؟ کیا ایسا ہوتا ہے کہ آپ صبح وقت پر بیدار نہیں ہو پارہے، اسکول یا کام پر جاتے تو ہیں لیکن روبوٹ کی طرح دن گزر جاتا ہے؟ آپ کے شب و روز میں بد نظمی و بے ترتیبی نظر آتی ہے؟ زندگی مخصوص دائروں میں گھوم رہی ہے؟ ماہ و سال گزرتے جارہے ہیں اور آپ جن مقاصد کا حصول چاہتے ہیں وہ پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ؟ آپ معاشی طور پہ استحکام چاہتے ہیں لیکن وہ بھی نہیں آ پا رہا ؟

ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ایک دن میں ہمارے کاموں کے لئے 24 گھنٹے کافی نہیں ہیں۔ زندگی جیسے جیسے آگے بڑھتی جاتی ہے، آپ کی ذمہ داریاں بھی مزید بڑھتی جاتی ہیں، لیکن آپ ان ذمہ داریوں سے اچھی طرح عہدہ برآ نہیں ہو پارہے ہوتے۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہورہا ہے یا ایسا ہوتا ہے تو اس کی وجہ عموماً یہ نہیں ہوتی کہ آپ کا کام بہت زیادہ ہے بلکہ اس کا سیدھا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے وقت میں برکت نہیں ہے اور آپ اوقات کو منظم کرنے کے فن سے آشنا نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر انسان کو دن میں چوبیس گھنٹے ہی دئیے ہیں لیکن آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ان ہی چوبیس گھنٹوں کو استعمال کر کے بہت سے افراد اور اقوام بہت کچھ کر جاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس وقت سے فائدہ نہیں اُٹھا پاتے۔

 یہ وقت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک بیش قیمت تحفہ ہے اور اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس ملنے والے قیمتی تحفے کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ اور آیا ہم اپنی دنیا اور آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے، اپنی اور اپنے متعلقین کے معاملات کو نبھانے، کاروبار یا ملازمت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے وغیرہ تک جو کچھ ہم کرنا چاہتے ہیں وہ ہم اچھے طریقے سے کر پاتے ہیں یا نہیں۔ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ آپ کے وقت میں برکت ہے یا نہیں؟

مثال کے طور پر آپ کو فجر کے لئے اُٹھنا مشکل ہوتا ہے، آپ روزانہ کی بنیاد پر اپنے کاموں کو ختم کرنے سے قاصر ہیں یعنی آپ کے کام دن کے اختتام پر نامکمل رہ جاتے ہیں، آپ ان چیزوں میں زیادہ وقت گزار دیتے ہیں جن سے آپ کو کوئی دنیوی یا اُخروی فائدہ نہیں ہوتا ہے، آپ کو اپنی زندگی میں بے اطمینانی اور بے برکتی کا احساس رہتا ہے، آپ اپنے گھر کی، دفتر کی اور دین کی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے۔برکت ہے کیا؟ کم وسائل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کا حصول ، کم وقت میں بہت کچھ کرجانا اور تھوڑی کوشش کے ساتھ زیادہ بہتر نتائج کا آجانا جو کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ "میرے وقت میں برکت نہیں ہے، آج کل تو پیسے میں برکت نہیں ہے، نیند بھی ٹھیک سے نہیں ہورہی، سو جاتا ہوں لیکن ایسا لگتا ہے کہ نیند میں بھی برکت نہیں ہے، پتا ہی نہیں چلتا وقت کہاں گزر جاتا ہے اور کام سارے ویسے کے ویسے ہی پڑے رہ جاتے ہیں۔" ایک جید عالم دین نے ایک مرتبہ ایک عجیب بات کہی۔ کہنے لگے کہ برکت کسی بھی چیز کے ساتھ اللہ کا خاص انعام ہے لہٰذا اگر کسی کم چیز میں برکت ہوگی تو اس میں اضافہ ہوجائے گا اور اگر کوئی چیز پہلے ہی زیادہ ہے تو اس میں فائدہ بہت بڑھ جائے گا اور برکت کا سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ تم یہ دیکھو گے کہ ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ اپنی خوشنودی کے بہت سارے کام لے لیں گے،خواہ بظاہر اس کے اندر دنیا کے مروجہ اصولوں کے مطابق قابلیت ہو یا نہ ہو کیونکہ اللہ کے ہاں قابلیت سے زیادہ قبولیت معنی رکھتی ہے۔  مجھے پختہ یقین ہے کہ برکت کوئی کھویا ہوا خزانہ نہیں ہے بلکہ یہ آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ خزانہ نہ صرف دستیاب ہے بلکہ اگر کوئی چاہنے والا ہو تو اس کے کام آنے کو بھی تیار ہے۔

بہت سے لوگوںنے اپنی زندگی سے برکت کے حصول کے لئے کچھ چیزیں سیکھی ہیں اور اپنی زندگی میں ان سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔ انہی میں سے چند چیزوں / کاموں کی فہرست ذیل میں لکھ دیتا ہوں لیکن یہ کوئی مکمل فہرست نہیں ہے اور اس کے علاوہ بھی چیزیں ہوں گی جن سے برکت کا حصول ممکن اور آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کم سے کم چیزیں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بغیر  برکت کا حصول ممکن نہیں ہو پائے گا۔

1) صحیح نیت کا ہونا: اگر آپ برکت کا حصول چاہتے ہیں تو اپنے ہر کام کے اندر اللہ کو راضی کرنے کی نیت کریں۔ اللہ کے فضل سے ان کاموں میں برکت ہونا شروع ہو جائے گی۔

2) اللہ تعالیٰ پر یقین اور بھروسہ: اللہ تعالیٰ سورہ طلاق میں فرماتے ہیں:

 وَمَنۡ يَّتَّقِ اللّٰهَ  يَجۡعَل لَّهٗ مَخۡرَجًا  وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗ(جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لئے مشکل سے نکلنے کا راستہ پیدا کردے گا، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے کام بنانے کے لئے کافی ہے)

ہر کام کرتے ہوئے اللہ پر یہ یقین رکھیں کہ وہ یہ کام کروا دے گا اور راستے بنا دے گا۔

3) روزانہ قرآن کریم کی تلاوت: آپ یقین کریں کہ قرآن کریم کی روزانہ تلاوت برکت کا بہت بڑا سر چشمہ ہے لیکن کم ہی لوگ اس چشمے سے پانی پیتے ہیں۔ آپ روزانہ قرآن پڑھنے کا معمول بنا لیں اور اپنی آنکھوں سے اپنی زندگی میں برکت کا مشاہدہ کر لیں۔ آپ قرآن کی تلاوت سے جتنے دور ہوں گے، یہ بات یقینی ہے کہ آپ کی زندگی میں برکت اتنی ہی کم ہوگی۔ تلاوت کے لئے ایک مقدار کا تعین کر لیں، ایک پارہ، آدھا پارہ، ایک رکوع یا جو بھی آپ مستقل بنیادوں پر کر سکیں۔ یہ نہ ہو کہ جوش میں آئے تو تین پارے پڑھ لئے اور نہ پڑھے تو مہینوں مہینوں نہ پڑھے۔

4) ہر کام سے پہلے بسم اللہ کہنا: اللہ کے نام سے ہر کام شروع کریں بلکہ اکثر معمولات زندگی کی دعائیں ہمارے نبی کریم ﷺ نے سکھائی ہیں وہ یاد کر لیں اور اپنے معمولات کا حصّہ بنا لیں۔

5) اپنے دستر خوان کو وسیع کریں: ہر وہ شخص جو لوگوں کو گھر پر بلاتا ہے، دعوت کرتا ہے اور کھلاتا پلاتا ہے اوہ اس بات کو سمجھتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ اگر گھر میں چھ افراد ہیں تو کھانا سات یا آٹھ یا دس افراد کا بنائیں اور اضافی کھانادوسروںلوگوں کو کھلائیں۔ جوآپ کے بہن بھائی، عزیز و اقارب، پڑوسی، نوکر چاکرمیں سے، یہاں تک کہ رستے سے گزرنے والا کوئی فرد بھی ہو سکتا ہے۔

6) اپنے کام اور کاروبار میں ایمانداری: آپ ملازمت کرتے ہیں یا اپنا کام کرتے ہیں، اس میں ایمانداری کو سرفہرست رکھیں۔ دیتے ہوئے زیادہ دے دیں اور لیتے ہوئے کم پر راضی ہوجائیں۔ صرف اپنے حقوق کی ہی فکر نہ کریں بلکہ اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دیں۔ آج ہم سب اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن شاذ ہی فرائض کو پورا کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ نتیجہ معلوم! زندگی سے برکت ختم ہوجائے گی اور معاشرے میں آپ کو ہر سو ایک بےچینی اور بے اطمینانی نظر آئے گی۔

7) دعاء پڑھیں نہیں بلکہ مانگیں: ہم عام طور پہ دعائیں پڑھتے ہیں، مانگتے نہیں ہیں۔ مانگنا اسے کہتے ہیں جیسے ایک بچہ کسی کھلونے کے لئے اپنے والدین سے لگ لپٹ کر مانگتا ہے، پیچھے لگ جاتا ہے، روتا ہے، ضد کرتا ہے۔ اللہ سے باتیں کریں، سرگوشیاں کریں، مانگیں اور دیکھیں کیسے کام ہونا شروع ہوتے ہیں۔

8) اہل رائے لوگوں سے مشورہ کریں: زندگی کے اہم معاملات میں اہل رائے لوگوں سے جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں اور جو ان معاملات کے ماہرین بھی شمار ہوتے ہوں ،سے مشورہ کریں کیونکہ مشورے میں برکت ہوتی ہے۔ یہاں یہ خیال رہے کہ مشورے کے لئے لوگوں کا چناؤ صحیح ہونا چاہئے۔

9) استخارہ کریں: ہر اہم معاملے میں استخارہ کریں۔ یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے ہمارے لئے یعنی اللہ سے مشورہ کرنا، سبحان اللہ! اور پھر دل جس طرف مطمئن ہو وہ قدم اٹھا لیں۔ یاد رہے کہ استخارے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو کوئی خواب آئے گا اور اس میں سبز یا سرخ رنگ نظر آئے تو آپ فیصلہ کریں گے۔ ایسی کوئی بات نبی کریم ﷺ نے ہمیں نہیں بتائی۔ استخارے کی دعاء اور طریقہ آپ کو دعاؤں کی کسی مستند کتاب میں مل جائے گا یا جید علماء سے پوچھ لیں۔

10) صلہ رحمی: اپنے بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کے ساتھ بہترین معاملہ کریں۔ ان پر خرچ کریں، ان کو تحفے دیں۔ اگر وہ کوئی مشورہ مانگیں تو انہیں صحیح مشورہ دیں۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہیں اور آپ ان کی مدد کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔ کچھ نہیں تو ہمّت ہی بڑھائیں۔ ان کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔

11) صدقہ دیں: اللہ نے جو کچھ آپ کو دیا ہے اس میں سے مستقل مزاجی کے ساتھ روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ صدقہ کریں۔ اپنی آمدنی میں سے، اپنے وقت میں سے اور اپنی صلاحیتوں میں سے۔ صدقہ صرف مال کا نہیں ہوتا بلکہ مختلف نعمتوں کا ہو سکتا ہے۔

12) فرض نمازوں کی پابندی: فرض نمازوں کی پابندی کریں، کوئی نماز قضا نہ ہو اور بہتر ہے کہ جماعت کے ساتھ ہو (مرد حضرات کے لئے) نوافل کا اہتمام کریں خصوصاً تہجد کی کوشش کریں۔

13)استغفار اور درود شریف: استغفار کا خوب ورد کریں۔ خوب دررود شریف پڑھیں۔ دن میں دونوں چیزوں کی ایک کم سے کم مقدار کا تعین کر لیں ۔ کم از کم سو سو مرتبہ۔ چلتے پھرتے، گاڑی چلاتے زبان بھی ہلاتے رہیں۔ ان دو چیزوں کے نتیجے میں برکت کا حصول ایسے ہوگا جیسے موسم برسات میں بوندیں برستی ہیں۔

اوپر لکھی ہوئی چیزوں کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں ہیں جن سے برکت کا حصول آسان ہو جاتا ہے لیکن مضمون کی طوالت کی وجہ سے فی الحال اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں، وقت میں، مال میں، گھر میں، کاروبار میں، ملازمت میں برکت ہو تو آج سے یہ کام شروع کر دیں اور تھوڑے ہی دنوں میں اپنے معاملات میں برکت کا مشاہدہ کریں۔ ان شاء اللہ العزیز

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor