Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

ایک نشہ

 ایک نشہ

Madinah Madinah

مجھے نہیں معلوم کہ یہ تحریر آپ میں سے کس کس کو پہنچے گی۔ آپ میں سے بہت سے لوگ اپنے فون میں مشغول ہوں گے،ویڈیوز دیکھ رہے ہوں گے،ویڈیو گیم کھیل رہے ہوں گے،اپنے دوستوں کے ساتھ چیٹ کررہے ہوں گے،سوشل میڈیا پر کومنٹ کر رہے ہوں گے یا فیس بک کی دیواریں پھلانگ رہے ہوں گے ۔ ایسے میں ایک مضمون پڑھنا یقیناً آپ کی ترجیحات کی لسٹ میں سب سے نیچے ہوگا۔پھر بھی اگر اس تحریر پر آپ کی نظر پڑے،تو آپ اسے ضرور پڑھیں۔یہ اہم مضمون ہے اور اس کا براہ راست تعلق آپ کی اور میری زندگی سے ہے۔

جی ہاں!ہم پاکستان کی وہ پہلی نوجوان نسل ہیںجسے اسمارٹ فونز اور سستا انٹرنیٹ ڈیٹا ملا ہوا ہے اور ہم اس پر روزانہ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ ہم سے بیشتر اگرموبائل فون کے سکرین پر صرف کیے جانے والے وقت کا جائزہ لیںتو روزانہ کے حساب سے پانچ سے سات گھنٹے بنتے ہیں۔یہ ایک بہت ہی محتاط اندازہ ہے ۔ یہ انتہائی قیمتی وقت ہماری حالت بیداری کا ایک تہائی اہم حصہ ہے یا یہ کہیں کہ زندگی کا ایک تہائی حصہ ہے۔کسی بھی دوسری منشیات کی طرح یہ فون کی لت بھی ہماری زندگی کے ایک حصے کو کھاتی جارہی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے ۔ چاہ کر بھی ہم اسے خود سے الگ نہیں کر سکتے۔ اصل مسئلہ تب ہے جب یہ ایک عادت بن جائے۔ فون کی لت کے بہت سے نقصانات ہیں سب سے پہلا تو یہ کہ یہ وقت کی بربادی کا باعث ہے،جسے کسی دوسرے نفع بخش کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔آپ تصور کیجیے کہ اگر روزانہ فون پر استعمال ہونے والے تین گھنٹے آپ بچاتے ہیں اور انھیں کسی دوسرے کام مثلاً ورزش،کوئی ہنر سیکھنے،مطالعہ کرنے،کوئی اچھی مصروفیت تلاش کرنے،کسی نیک مقصد کو ڈھونڈنے، تلاوت کرنے یادینی علوم کو سیکھنے میں وقت صرف کر سکتے ہیں۔ اس سے ہمیں کتنا فائدہ ہوسکتا ہے اورہم کہاں سے کہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔دوسر نقصان یہ ہے کہ فون پر بیکار چیزیں دیکھنے سے آپ کی قوتِ مدرکہ متاثر ہوتی ہے۔ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں:ایک جذباتی اور دوسرا ادراکی یا علمی۔ تندرست اور صحیح سالم دماغ وہ ہے جس کے دونوں حصے کام کرتے ہوں۔جب ہم بیکار چیزیں دیکھتے ہیںتو دماغ کے علمی حصے پر منفی اثر پڑتا ہے اور اس کی قوت کم ہوتی جاتی ہے۔ پھر بتدریج  قوتِ فکر اور قوتِ استدلال ختم ہونے لگتی ہے اور ہمارے اندرکے اندر مختلف نقطہ ہائے نگاہ کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رہتی۔مختلف حالات کو سمجھنے اور برتنے کی قوت نہیں رہتی۔مثبت و منفی احوال کی درست تشخیص اور اس کے مطابق فیصلہ لینے کی صلاحیت نہیں رہتی۔جب دماغ کی قوتِ مدرکہ کام کرنا بند کر دیتی ہےتو پھرہم صرف اس کے جذباتی حصے سے کام لیتے ہیں اورجو لوگ محض جذباتی سوچ سے کام لیتے ہیں وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوپاتے۔اس سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ اپنے دماغ کو بیکار چھوڑنے کی بجاے اسے زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز امور میں استعمال کیجیے۔تیسرا نقصان یہ ہے کہ مسلسل گھنٹوں سکرین پر گزارنے سےہمارا حوصلہ اور انرجی کم ہوتی جائے گی۔زندگی میں کامیابی و کامرانی تب ملتی ہے جب کوئی ہدف مقرر کیا جائے اوراس کے تئیں پر امید رہا جائے اور اس کے حصول کے لیے جاں توڑ کوشش کی جائے۔ جبکہ مستقل موبائل اسکرین سے چپکے رہنا سست بناتا ہےہماری شخصیت میں خوف کی نفسیات پیدا کردیتا ہے،پھرہم کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے گھبرانے لگتے ہیںہمیں یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ کام ہمارے بس کا ہے۔

اب یہ کس طرح معلوم ہو کہ ہمیں فون کی لت لگ چکی ہے یاہم فون کے ایڈکٹ( نشئی) ہو چکے ہیں تو اس کے لئے بڑے آسان سے طریقے ہیں۔ چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ آپ اپنے موبائل پر اس سے زیادہ وقت خرچ کر رہے ہیں جتنا آپ کو اصل میں (کم) محسوس ہوتا ہے؟

 کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ لا شعوری طور پر اور باقاعدگی سے اپنا وقت موبائل فون پر گزار رہے ہیں؟

 کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ جب آپ اپنے موبائل فون پر لگے ہوئے ہوں تو آپ کو اپنے وقت کے گزر نے کا پتہ ہی نہیں چلتا؟

 کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ اپنے موبائل پر پیغام رسانی میں، ای میلنگ میں یا ٹوئیٹنگ کرتے ہوئے اس سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں جتنا آپ اپنی روزمرہ زندگی میں لوگوں کے ساتھ بات چیت میں خرچ کرتے ہیں؟

 کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کا موبائل فون پر صرف ہونے والا وقت روز بروز بڑھتا جارہا ہے؟

کیا آپ اپنے موبائل کو آن حالت اپنے سرہانے کے نیچے یا اپنے نزدیک رکھ کر سوتے ہیں؟

 کیا آپ کو ایسا لگنے لگا ہے کہ آپ کا ہفتے بھر میں موبائل پر پیغام رسانی یا ای میلنگ میں گزرنے والا وقت آپ کی دوسری مصروفیات میں رکاوٹ بنتا جارہا ہے؟

 کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کی اپنے سمارٹ فون پر مصروفیت آپ کے دیگر پیداواری کام پورے نہ ہو سکنے میں رکاوٹ بن رہی ہے؟کیا آپ کو اپنے موبائل فون کے بغیرچاہے وہ چند لمحات ہی کی بات کیوں نہ ہو، الجھن اور بے چینی ہوتی ہے؟ کیا آپ لا شعوری طور پر، یا غیر حاضر دماغی حالت میں بھی دن میں کئی کئی بار اس کے باوجود اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ کچھ نیا نہیں ہے اور کوئی نئی چیز دیکھنے والی نہیں ہے آپ اپنا موبائل کھول کر چیک کرتے رہتے ہیں؟

 یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہر شخص اپنے آپ کو جانچ سکتا اور پرکھ سکتا ہے۔ اگر ان میں سے اکثر کا جواب ہاں ہے تو آپ موبائل کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ وہ دنیاوی نقصانات ہیں جو ہماری روز مرہ کی زندگی کو دیمک کی طرح ختم کئے جا رہے ہیں اور اس کا اثر نسلوں میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ ایک نقصان دینی بھی ہے اور یہ نقصان دنیاوی نقصانات سے بڑھ کر ہے۔ روز مرہ کے دینی امور میں سے سب سے اہم نماز ہے ۔ آج ہماری نمازوں جاندار نہیں جس کا ایک بڑا سبب یہی موبائل کی نحوست ہے۔

موبائل نے ذوقِ تلاوت چھڑا دی

 موبائل نےنماز کی لذت چھڑا دی

موبائل نے خود میں ہی مصروف رکھا

موبائل نے مسجد کی رغبت چھڑا دی

یاد رکھیئے موبائل محض ایک اوزار ہے زندگی کا اپنایا ہوا سٹائل ہرگز نہیں۔ بہتر ہے کہ ہم کسی دن بیٹھ کر حساب لکھ لیں کہ ایک دن میں اندازاً دینی و دنیاوی کس طرح اور کس قدر اپنا نقصان کر رہے ہیں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor