Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا نسخہ

 اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا نسخہ

Madinah Madinah

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشادمبارک ہے:

’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعوانی یحببکم اللہ‘‘

’’اے میرے حبیبﷺآپ فرمادیجئے اگر تم اللہ رب العزت سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘

درج بالا آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص نبی علیہ السلام کی سنت پر عمل کرے، اپنے آپ کو سنت سے مزین کرے تو وہ اللہ رب العزت کا محبوب بن جاتا ہے۔

حضور اکرمﷺ ہماری پوری زندگی کے امام ہیں، ہماری زندگی ایک نماز کی مانند ہے اور نبی علیہ السلام اس کے امام ہیں، ہم مقتدی جس کام کو نبیﷺنے جس طریقہ سے کیا، اسی طریقے پر کریں گے تو زندگی اللہ کے ہاں قبول ہوگی اور اگراپنی مرضی کریں گے تو یہ زندگی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوگی تو نبی علیہ السلام کی ایک ایک عادت کو اپنانا، رفتار میں، گفتار میں، کھانے میں، پینے میں، معاشرت میں، زندگی کے ہر کام میں، یہ چیز انسان کو اللہ رب العزت کا محبوب بنادیتی ہے، جتنی زندگی نبی علیہ السلام کی سنتوں کے مطابق ہوتی ہے، اتنا انسان اللہ رب العزت کی نظر میں محبوب بنتا چلا جاتا ہے۔

قرآن مجید کے بعد سنت رسول ا اسلام کا اہم اور بنیادی ستون ہے جس کے بغیر اسلام کی عمارت ہی ناقص رہتی ہے، قرآن مجید میں اس کی اہمیت بتلانے کیلئے بار بار ’’اطیعواﷲ‘‘ کے ساتھ ’’اطیعو الرسول‘‘ کا حکم آیا ہے بلکہ سورۃ النساء کی ایک آیت مبارکہ میں یہاں تک ارشاد فرمایا گیا ہے:

’’پس تیرے رب کی قسم! وہ لوگ اس وقت تک ایماندار نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میںآپ (ﷺ)کو حکم (فیصلہ کرنے والا) نہ بنالیں پھر وہ اپنے دلوں میں آپ (ﷺ)کے فیصلے کی طرف سے کوئی تنگی بھی نہ پائیں اور پوری طرح اپنے آپ کو سونپ دیں‘‘

حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید اور سنت رسول ا کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور ایک کو دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ قرآن مجید اگر متن ہے تو سنت اس کی شرح ہے، قرآن مجید اگر اجمال ہے تو سنت اس کی تفصیل ہے، قرآن مجید اگر قول ہے تو سنت عمل ہے، قرآن مجید اگر گفتار ہے تو سنت کردار ہے، قرآن مجید اگر روح ہے تو سنت اس کیلئے جسم۔ غرض کہ دونوں لازم وملزوم ہیں۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے ہمیشہ جیسے قرآن مجید کو واجب الاطاعت سمجھا اسی طرح آپ ا  کے ارشادات گرامی کی تعمیل کو بھی لازمی جانا۔ یہی ساری امت کا مسلک ہے اور تمام مسلمان قرآن مجید کی طرح سنت رسول ا کا بھی احترام کرتے ہیں۔

لیکن ایک فتنہ پرور طبقہ ایسا بھی پیدا ہوا جس نے یہ کہنا شروع کیا کہ (نعوذباﷲ) ہمیں سنت رسول کی ضرورت نہیں ہمارے لیے صرف اﷲ کی کتاب کافی ہے۔ خدا کی قدرت دیکھئے اﷲ کے رسول ا اس طبقے کے بارے میں صدیوں پہلے ہی امت کو بتا گئے تھے۔ چنانچہ ارشاد گرامی ہے:

’’مجھے قرآن مجید اور اس کے ساتھ اس جیسی چیز (سنت) عطا کی گئی ہے۔ خبردار عنقریب زمانہ آئے گا جب ایک پیٹ بھرا ہوا شخص اپنے مزیّن تخت پر بیٹھ کر کہے گا کہ اس قرآن کو تم لازم پکڑو۔ پس اس میں تمہیں جو حلال ملے اسے حلال سمجھو اور جو تم اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو حالانکہ (اصل بات یہ ہے کہ) اﷲ کے رسول نے جس چیز کو حرام قرار دیا وہ بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح اﷲ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز‘‘ (ابو داؤد بحوالہ مشکوٰۃ)

رسول اﷲ ا کی اتباع اور پیروی کی طرف قرآن مجید نے کس خوبی سے مسلمانوں کو متوجہ کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔‘‘ (آل عمران)

غور کیجئے کہ اتباع نبوی ا سے پہلے لوگوں کی طرف سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ ہے لیکن اتباع سنت کے بعداﷲ تعالیٰ بندے سے محبت فرمانے لگتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اتباع سنت کے بغیر عشق نبوی کی طرح عشقِ الٰہی کا دعویٰ بھی محض خام خیالی ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں بارہا اﷲ کے رسول ا کو اہل ایمان کیلئے اسوۂ حسنہ قرر دیا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ اﷲ کے ہاں زندگی اور عمل صرف وہی محبوب ومطلوب بلکہ مقبول ہے جوسنت رسول کے معیار پر پورا اترتا ہو۔

چنانچہ اس بارے میں آپ ا کا واضح ارشاد گرامی ہے:

’’میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا، کسی نے پوچھا کہ انکار کرنے والا کون شخص شمار ہوگا؟ آپ ا نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی وہی انکار کرنے والا ہے‘‘ (بخاری بحوالہ مشکوٰۃ)

عجیب بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے بانیانِ مذہب اور پیغمبروں میں سے یہ اعزاز صرف خاتم النبیین ا کو حاصل ہے کہ آپ ا کی زندگی کا ہر گوشہ آپ کے ماننے والوں کیلئے بالکل واضح ہے۔ آپ ا کی پیدائش سے لے کر موت تک کا وقت صبح سے شام تک کے طریقے اور انفرادی واجتماعی زندگی کے سلیقے سب کچھ حدیث، تاریخ اور سیرت کی کتابوں کے اوراق میں بالکل محفوظ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ بانیانِ مذہب کی سیرتوں کا تو کیا علم ہوتا خود ان کے وجود کے بارے میں ہی محققین سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس امت نے اس چیز کی قدر نہیں کی اور شکل وصورت سے لے کر لباس تک، خوشی سے لے کر غمی تک اور پیدائش سے لے کر موت تک سب طریقے غیروں کے اپنانے شروع کردئیے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس امت کو سنت رسول ﷺکی شکل میں ایسی کسوٹی دیدی ہے جس کی بنیاد پر وہ ہر زمانے میں کھرے کو کھوٹے سے، اصل کو نقل سے اور دین کو لادینیت سے جدا کرسکتے ہیں۔ مندرجہ ذیل حدیث میں اس کا واضح ثبوت موجود ہے:

’’حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ تین حضرات حضور ﷺکی ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہن کے پاس آئے اور آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں ان سے پوچھنے لگے، جب انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اس عبادت کو کم سمجھا اور کہنے لگے کہ کہاں ہم اور کہاں آپ ا کا مقام۔ آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو ہمیشہ رات کو نماز پڑھا کروں گا۔ دوسرے صاحب نے کہا میں ہمیشہ دن کو روزہ رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے صاحب نے کہا میں ہمیشہ عورتوں سے جدا رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔ پس جب نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ ا نے پوچھا کہ تم ہی لوگ ہو جنہوں نے یہ باتیں کی تھیں۔ ( پھر آپ ا نے فرمایا) اﷲ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اﷲ سے ڈرنے والا اور اﷲ کی نافرمانی سے بچنے والا ہوں لیکن میں (کبھی) روزہ رکھتا اور (کبھی) افطار کرتا ہوں اور میں نماز پڑھتا ہوں اور میں سوتا بھی ہوں اور میں نے عورتوں سے شادی بھی کی ہے۔ پس جس شخص نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘ (بخاری و مسلم بحوالہ مشکوٰۃ)

حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دور میں ایران فتح ہوا تو ایک ایرانی سردار نے کھانے کی دعوت کی۔ کھانے کے دوران ایک صحابی (مشہور روایت کے مطابق حضرت حذیفہؓ) کے ہاتھ سے لقمہ گرگیا، تعلیم نبوی ا کے مطابق وہ اٹھانے لگے تو ساتھ والے صاحب نے اشارہ کیا کہ اسے چھوڑ دو! یہاں کے لوگ اس طرح اٹھا کر کھانے کو معیوب سمجھتے ہیں۔ صحابی نے یہ سن کر وہ لقمہ اٹھایا، سب کو دکھایا اور پھر کھالیا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے صاحب کو کہا:

’’کیا میں اپنے حبیب (ا ) کی سنت کو ان احمقوں کی وجہ سے چھوڑ دوں؟ ‘‘

حضرات صحابہ کرامؓ نے اتباع سنت اور پیرویٔ رسول میں اپنے اور بیگانے کسی کی پرواہ نہیں کی۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ سفیرِ نبوت بن کر مکہ تشریف لے جاتے ہیں۔ میزبان جب آپ کے ٹخنوں کو ننگا دیکھتا ہے تو کہتا ہے:

 ’’عثمان! مکہ کے سردار اس کو معیوب سمجھتے ہیں‘‘

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ جواب دیتے ہیں: ’’میرے نبی (ا ) کا ازار ایسے ہی ہوتا ہے‘‘

آج وقت ہے اللہ کے نبی سے وفا دکھانے کا، ہم کم از کم اپنے سراپا کو نبیﷺکی مبارک سنت کے مطابق بنالیں تاکہ اگر ملک الموت آئے ہمارے اعضاء کو ٹٹولے، سنتِ نبوی سے مزین نظر آئے، ہمارے دل کو ٹٹولے عشق نبوی سے بھرا نظر آئے اور ہم کل قیامت کو محبوبﷺکے سامنے حاضر ہوں تو اللہ کا محبوبﷺ ہمیں مسکرا کر دیکھے، ہاں میری سنت کا شیدائی، میرے طریقوں کو اپنانے والا، میرے نقش قدم پر چلنے والا، آج آگیا ہے۔ اللہ کے حبیبﷺاپنے ہاتھوں سے جام حوض کوثر عطا فرمائیں گے۔ اللہ کے سامنے جب حاضری ہو ہم اس وقت یہ کہہ رہے ہوں۔

تیرے محبوب کی یا رب شباہت لے کر آئے ہیں

حقیقت اس کو تو کر دے ہم صورت لے کر آئے ہیں

للہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمیں سنت کا شیدائی بنائے۔ آمین

٭…٭…٭

 

دو قرآنی دعائیں

 اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ  إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

اے اللہ! حق کے جس معاملے میں اختلاف کیاگیا ہو ، آپ مجھے اس میں سیدھی راہ پر چلا دیجیے، بے شک آپ جسے چاہتے ہیں صراطِ مستقیم کی ہدایت عطاء فرما دیتے ہیں۔ (ماخوذ از سورۃ البقرۃ، آیت:213)

اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِي بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ

اے اللہ! مجھے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی پکی بات (یعنی کلمہ طیبہ) پر جَما دیجیے۔ (ماخوذاز سورۃ ابراہیم، آیت:27)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor