Bismillah

655

۲۱تا۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۰تا۶ااگست۲۰۱۸ء

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 648

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 648)

جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے:

’’ جو آدمی مسنون زندگی اختیار کرنا چاہتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان لوگوں کے نقش قدم پرچلے جو دنیا سے پہلے جا چکے ہیں اسلئے کہ زندہ آدمی وقتی فتنوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور یہ قابل اتباع گر وہ محمد رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ کا گروہ ہے جو اس امت کا بہترین گروہ تھا دل کے پاکیزہ، علم کے گہرے، بہت کم بناوٹی، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کے لئے پسند فرمالیا تھا اور دین کی اقامت اور اشاعت کے لئے۔

 پس تمہیں لازم ہے کہ ان کی فضیلت کا اعتراف کرو اور ان کی پیروی کرو اور حتی المقدور ان کے اَخلاق اور اَطوار سے راہ نمائی حاصل کرو کیونکہ وہ لوگ صراط مستقیم پر تھے۔‘‘(مشکوۃ، کتاب العلم)

حافظ الحدیث امام حاکم نے مستدرک میں کہا ہے کہ:

’’کوئی صحابی جب قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر کرے تو وہ صحابی کا قول نہ سمجھا جائے گا بلکہ اس کا حکم حدیث مرفوع کا ہوگا۔‘‘( مناہل العرفان ج ۱ ص ۴۷۹)

اور اگر سب صحابہ کرام کسی حکم ثابت یا  استنباط شدہ مسئلہ پر اجماع کرلیں تو اجماع صحابہ کرام اسی طرح غیر متزلزل اور محکم ہوگا جیسا کہ کتاب اللہ سے ثابت شدہ حکم یقینی ہوتا ہے۔ امام سرخسیؒ نے فرمایا:

جس بات پر صحابہ کرام اجماع کرلیں تو وہ بمنزلہ کتاب اللہ سمجھی جائے گی۔‘‘

(اصول سرخی ص ۳۱۸)

اور اگر صحابہ کرام سے کسی آیت کی تفسیر ماثور نہ پائی جائے تو تابعین کے اقوال میں اس آیت کی تفسیر اور تشریح تلاش کی جائے۔

اس لئے حسب ارشاد نبی کریمﷺ خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم۔

 تابعین بھی خیر القرون میں داخل ہیں۔

ابن کثیر نے فرمایا:

جب تابعین کسی بات پر اجماع کرلیں تو اس کے صحیح ہونے اور اس کے دلیل ہونے میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔( مقدمہ ابن کثیر)

اور اگر سب تابعین کا اجماع تو نہ ہو مگر تابعی صرف ایک تابعی سے کسی آیت کی تفسیر صحت اور سند کے ساتھ منقول ہو تب بھی وہ تفسیر بعد کے مفسرین کی تفسیر سے مقدم اور زیادہ بہتر سمجھی جائے گی۔ ابن کثیر ہی کا ارشا ہے کہ:

ایسی صورت میں اکثر ائمہ تفسیر نے تابعین کے قول پر اعتماد کیا ہے اور اس تفسیر ماثور کو ترجیح دی ہے جیسا کہ مشہور تابعی مجاہد کی تفسیر کو دوسری تفاسیر پر فوقیت حاصل ہے۔

 کیوں کہ تابعین کامنبع علم اور استناد صحابہ کرام ہی تھے مشہور تابعی عامر شعبی م  ۱۰۹؁ھ نے فرمایا کہ میں نے پانچ سو صحابہ کرام کو پایا اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے قرآن کریم کی ہر آیت کی تفسیر صحابہ کرامؓ سے پوچھی ہے۔( رواہ الطبری)

ف۔صحابہ ہی کے دور میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ عراق بھی علوم نبوت کا مرکز بن چکا تھا چنانچہ ان مدارس تفاسیر سے مندرجہ ذیل جلیل القدر تابعین ،مفسرین قرآن عزیز سند یافتہ ہو کر نکلے۔

 ۱۔مکہ مکرمہ کا مدرسہ تفسیر قرآن عزیز: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کی سر پرستی میں قائم تھا جس سے سعید بن جبیر ،مجاہدبن جبیر، عکرمہ بربری، طائوس بن کیسان یمانی، عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہم فارغ ہوئے۔

 ۲۔مدینہ منورہ کا مدرسہ تفسیر قرآن عزیز: حضرت اُبی بن کعب کی سرپرستی میں قائم تھا جس کے مشہور تلامذہ ابو العالیہ، رفیع بن مہران، محمد بن کعب قرظی، زید بن اسلم عدویؒ تھے۔

۳۔عراق کا مدرسہ تفسیرقرآن عزیز: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی سر پر ستی میں قائم تھا جس کے مشہور تلامذہ علقمہ بن قیس کوفی، مسروق بن اجدع ہمدانی کوفی، اسود بن یزید نخعی، حسن بصری، قتادہ بن دعامہ السد وسی ؒ تھے۔

 خلاصہ یہ نکلا کہ تفسیر کے لئے سب سے پہلے تفسیر ماثور کو تلاش کیا جائے۔

 تنبیہہ:جولوگ تفسیر قرآن حکیم کے لئے سب سے پہلے لغت عرب کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی کو ترجیح دے کر تفسیر ماثور تک کا انکار کردیتے ہیں وہ اصول تفسیر کے خلاف ہے کیونکہ جس طرح منشائِ وحی الٰہی کو جناب رسول اکرمﷺ سمجھتے تھے، وہ ایک لغوی اور ادیب نہیں سمجھ سکتا۔ امام لغت ابن قتیبہ اور مشہور مسلمان فلسفی اور مورخ ’’ابن خلدون‘‘ نے کہا ہے:

’’عرب کے لوگ قرآنی معارف اور قرآنی الفاظ کی تقسیم غریب اور متشابہ وغیرہ اصطلاحات کی معرفت میں سارے کے سارے برابر نہیں بلکہ بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے اس لئے قرآنی معارف اور احکام کے سمجھنے کے لئے صرف عربی لغت ہی کافی نہیں بلکہ بسا اوقات سید دوعالمﷺ کی اس راہ نمائی کی طرف بھی محتاج ہوئے جو آپ کو الہامی طور پر تعلیم کی گئی تھی۔‘‘

 یہی قاعدہ متاخرین کے ہاں بھی ہے دور آخر کے مشہور محقق، مفسر مفتی عبدہ نے فرمایا:

’’قرآن عزیز علم فقہ ، علم نحو اوردوسرے تمام مروجہ علوم کے قوانین اور اصول سے بالاتر ہے، دراصل تمام اصول کا منبع اور معیار قبول و رد تو صرف قرآن عزیز ہے۔ اس لئے جو قانون ، ضابطہ، کسی بھی علم کا قرآن عزیز کے موافق ہوگا وہ تو قبول ہوگا اور جو اس کلام الٰہی کے خلاف ہو اس کو رد کردیا جائے گا۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ اہمیت اوراعتماد اسی بات کو حاصل ہے جو صحابہ کرام اور تابعین نے فرمایایہی چیز ہمارے لئے فہم کلام کے لئے سب سے بڑی معاون ہے۔‘‘ (المنار، سورۃ المائدۃ)

  اس لئے ضروری ہے کہ مفسر القرآن کی نظر صاحبِ وحی جنا ب محمد رسول اللہﷺ کے ارشادات عالیہ پر ہو، محض کسی لغت غیرہ کاایسا ااعتبار نہ کیا جائے کہ وحی ربانی اور ارشادات نبوی کے مقابلہ میں اس کوترجیح دی جائے۔

تاویل:

تد برفی القرآن کے سلسلے میں تاویل کا سمجھنا بھی ضروری ہے۔

 تاویل کا لفظی معنیٰ تو پھیرنا ہے مگر اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ ارشادات باری تعالیٰ میں اصول تفسیر کو مد نظر رکھتے ہوئے غور و فکر کے بعد ایک یا چند معانی متعین کردئیے جائیں۔

تاویل کا کلمہ قرآن حکیم میں آیا ہے۔ ارشاد فرمایا:

بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولما یاتھم تاویلہ( یونس نمبر ۳۹)

’’بلکہ جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر قابو نہ پایااورابھی آئی نہیں اس کی حقیقت ان کے سامنے‘‘۔

 یعنی جس ارشاد قرآنی کی حقیقت کو اس وقت نہ سمجھ سکے اس کاانکار ہی کردیا جیسا کہ معراج جسمانی کا انکار آج سے کچھ زمانہ پہلے اس لئے کیا گیا کہ ٹھوس چیز کس طرح اوپر جاسکتی؟

خود سید دوعالمﷺ نے ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ کے لئے یہ دعا فرمائی:

اللھم فقھہ فی الدین وعلمہ التاویل

 یا اللہ اس کودین میں سمجھ عطا فرما اورقرآن سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online