Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 648

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 648)

دوسرا مضمون اس حدیث میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی نے محض رضائے الٰہی کے لئے پوشیدہ طور پر عمل کیا تھا، نہ عمل کرتے وقت مخلوق کی رضا اس کے پیش نظر تھی اور نہ اس کی یہ خواہش تھی کہ اس کایہ عمل لوگوں کو معلوم ہوجائے، اس کے باوجود اگر اتفاقاً اس کا پوشیدہ عمل لوگوں پر ظاہر ہوجائے اور اس پر طبعی مسرت ہو تو اس کایہ عمل ریاکاری میں شمار نہیں ہوگا،بلکہ اس پر اس کو دہرا اجر ملے گا ،ایک اجر پوشیدہ عمل کا اور دوسرا اجر علانیہ عمل کرنے کا۔ ریاکاری تو اس لئے نہیں کہ اول و آخر اس کا مقصود محض اللہ تعالیٰ کی رضا تھی۔ اب اس کے ظاہر ہونے پر اسے جو خوشی ہو رہی ہے وہ طبعی ہے، چنانچہ اگر خدانخواستہ کسی بُر ی حالت میں کوئی شخص اس کودیکھ لیتا تو طبعاً اس کو ناگواری ہوتی اسی طرح اگر کسی نے اس کو اچھی حالت میں دیکھ لیا تو اس پر غیر اختیاری خوشی بھی طبعی امر ہے، اس لئے اس طبعی خوشی کو ریاکاری میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ اور دہراا اجر اس کو اس لئے ملے گا اس نے جب یہ عمل کیا تھا تو محض رضائے الٰہی کے لئے پوشیدہ طور پر کیا تھا اور یہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے سو اس کے اس عمل پر کوئی دوسرا شخص مطلع ہو، اس لئے وہ پوشیدہ عمل کے اجر کا مستحق ہوا۔ پھر جب اس کا عمل غیر اختیاری طور پر ظاہر ہوگیا تو وہ پوشیدہ عمل نہ رہا بلکہ علانیہ بن گیا اور علانیہ عمل میں بھی اگر محض رضائے الہیٰ مقصود ہو تو وہ اجر و ثواب کا مستحق ہوتا ہے جیسے نماز ِ پنچ گانہ اوردیگر فرائض علانیہ ہی ادا کئے جاتے ہیں اور اس علانیہ عمل سے شاید دوسروں کوبھی اعمالِ صالحہ کی ترغیب ہو اس لئے اس کے موجب اجر ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کسی نے محض لوجہ اللہ کوئی نیک عمل کیا ہو اور حتی الوسع اس کے اخفا کی بھی کوشش کی ہو، اس کے باوجود اگر وہ ظاہر ہوجائے یا لوگ اس عمل پر اس کی تحسین و تعریف کریں تو اس عمل کااجر باطل نہیں ہوتا، تاوقتیکہ عمل کنندہ کی نیت میں بگاڑ نہ آئے۔

 البتہ اگر عمل کرتے وقت یہ خواہش ہو کہ لوگوں کو اس کا علم ہوجائے تاکہ وہ میری تعریف کریں، یاخود نمائی کے ارادے سے خود اس عمل کا اظہار کرے تو یہ ریاکاری ہے۔

انسان کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے

 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت رکھتا ہے اور اس کو وہی ملے گا جو اس نے کمایا ہو۔‘‘

دوسری روایت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ ! قیامت کب برپا ہوگی؟ آنحضرت ﷺ ( سائل کے سوال کا جواب دینے کے بجائے ) نماز  کے لئے کھڑے ہوگئے۔

 جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاکہ:’’وہ صاحب کہاں ہیں جنہوں نے قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں سوال کیا تھا؟ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہﷺ! میں حاضر ہوں ۔فرمایا:تو نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا :یارسول اللہﷺ! میں نے اس کے لئے( فرائض کے علاوہ) کوئی زیادہ نماز روزہ تو نہیں کیا، مگر یہ بات ضرور ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتاہوں۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہر آدمی اُس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہو اور تو اُس کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت رکھتا ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: مسلمانوں کو اسلام کے بعد کسی بات کی خوشی اتنی نہیں ہوئی جتنی کہ اس ارشاد سے ہوئی۔‘‘

حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک اعرابی جس کی آواز بہت بلند تھی،حاضر خدمت ہوا اس نے کہا: اے محمد! ایک آدمی ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن( اپنے اعمال کے لحاظ سے ) ابھی تک ان کے ساتھ نہیں مل پایا( اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟)رسول اللہﷺ نے فرمایا:آدمی اُنہیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے وہ محبت رکھتاہے۔

 تشریح:ان احادیث میں ان حضرات کے لئے بڑی بشارت ہے جو آنحضرتﷺ ،حضراتِ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور مقبولانِ الٰہی سے سچی محبت رکھتے ہیں، اِنْ شاء اللہ ان کا حشر بھی ان مقبولانِ الٰہی کے ساتھ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی معیت ورفاقت ان شاء اللہ اِن کو نصیب ہوگی۔

 ہمارے حضرت امام ابو حنیفہؒ کی طرف یہ شعر منسوب ہے:

اُحِبُّ الصَّالِحِیْنَ وَ لَسْتُ مِنْھُمْ

لَعَلَّ اللّٰہَ یَرْزُقُنِیْ صَلَاحاً

 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے محبت رکھتا ہو،اگرچہ میں ان میں سے نہیں ہوں، حق تعالیٰ شانہ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ مجھے بھی نیکی و پارسائی نصیب فرمائیں۔

 ان احادیث کا مضمون قرآنِ پاک کی آیت:

ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین و الصدیقین و الشھداء والصلحین وحسن اولیک رفیقا۔( النسائ)

سے ماخوذ ہے۔

اس سلسلے میں دوباتیں خوب اچھی طرح سمجھ لینے کی ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندوں سے سچی محبت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ان کی عادات و اطوار کو دل و جان سے پسند کرے، اور حتی الوسع ان کے نقش قدم پرچلنے کی کوشش بھی کرے اور ان کی پیروی میں اگر اس سے کچھ کوتاہی ہوتی ہو تو اس سے ندامت محسوس کرے، جو شخص اپنی شکل و صورت اور اپنے اعمال و اشغال میں سنت نبوی اور طریقۂ صالحین کی پروا نہیں کرتا، اس کا دعوائے محبت صحیح نہیں، اور قیامت کے دن سچی محبت کی قیمت ہوگی، محبت کے جھوٹے دعووں کی کوئی قیمت نہیں۔بہت سے لوگ آنحضرتﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن آنحضرتﷺ کی پاک سنتوں کا ان کی زندگی میں نہ صرف یہ کہ کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا،بلکہ نعوذ باللہ…ثم نعوذ باللہ آپﷺ کی پاکیزہ سنتوں کو نفرت و حقارت سے دیکھتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online