Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 648

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 648)

’’عزرا کی کتاب‘‘ میں ہے کہ اگرچہ خورس کی بدولت یہود کو دوبارہ آزادی اور خوش حالی نصیب ہوئی اور ہیکل کی تعمیر بھی شاہی خزانہ سے شروع ہوگئی مگر ابھی تکمیل نہیں ہوئی تھی کہ خورس کا انتقال ہوگیا اور اس کا بیٹا کیقباد(کموچہ) بھی جلد مرگیا تب آٹھ سال کے اندر ہی دار اجوخورس کا چچا زاد بھائی تھا اسکا جانشین ہو ا۔ اس درمیان میں بعض مخالف افسروں نے یروشلم کی تعمیر کو حکماً روک دیا تب حجی نبی اور زکریا نبی نے دارا کے دربار میں ایک مراسلہ بھیجا جس میں تعمیر بیت المقدس کے متعلق لکھتے ہوئے اس کو بتایا تھا کہ سرکاری دفتر میں خورس کا وہ حکم نامہ ضرور موجود ہوگا جس میں بیت المقدس کی تعمیر کا حکم اور خزانہ شاہی سے اخراجات کا ذکر کیا گیا ہے، آپ اس کو نکلوائیں اوراپنے متعلقہ افسروں کو حکم دیں کہ جو بھی اس کی تعمیر میں حائل ہورہے ہیں ان کو روک دیں تاکہ ہم باطمینان اس کی تعمیر کر سکیں چنانچہ دار انے جب خورس کا حکم نامہ دفتر سے طلب کیا تو اس میں یہ تحریر تھا:

خورس بادشاہ کی سلطنت کے پہلے سال مجھ خورس بادشاہ نے خدا کے گھر کی بابت جو یروشلم میں ہے یہ حکم کیا کہ وہ گھر اور وہ مکان جہاں قربانیاں کرتے ہیں بتایاجائے اور اس کی بنیادیں مضبوطی سے ڈالی جائیں اور خرچ بادشاہ کے خزانہ سے دیا جائے اور خدا کے گھر کے سنہرے رو پہلے برتن بھی جنہیں بنو کدنزر( یروشلم) کی ہیکل سے نکال لایا اور بابل میں لارکھا سو پھیر دیے جائیں اور یروشلم کی ہیکل میں اپنی اپنی جگہ رکھ دئیں جائیں یعنی خدا کے گھر میں رکھ دیے جائیں۔( عزرابا۲ آیات۵۔۱)

پس اس حکم کے مطابق دارانے یروشلم کی تکمیل کا حکم دیااور افسروں کو سختی کے ساتھ روک دیا کہ کوئی اس پر ہرگز مزاحم نہ ہو اور یروشلم اور خدائے یروشلم کے ساتھ اپنی اور اپنے پیشرو کی عقیدت کاان الفاظ میں اظہار کیا:

میں ایک اور حکم کرتا ہوں کہ جو شخص اس فرمان کو ٹال دے اس کے گھر پرسے کوئی لٹھا کھینچ کر نکالا جائے اور وہ کھڑا کیا جائے اور وہ اس پر پھانسی دیا جائے اس بات کے لئے اس کا گھر کوڑے کا ڈھیر کردیا جائے پھر وہ خدا جس نے اپنا نام دہان رکھا ہے سب بادشاہوں اور لوگوں کو جو اس حکم کو بدل کے، خدا کا وہ گھر جو یروشلم میں ہے بگاڑنے کو ہاتھ بڑاتے ہوں غارت کرے میں( دارا) حکم دے چکا اس پر جلد عمل کرنا چاہیے۔( باب ۶ آیت ۱۲۔۱۱)

 چنانچہ جلد ہی حجی اور زکریا( علیہما السلام) انبیاء بنی اسرائیل کی نگرانی میں دارا کے نہرپار کے صوبہ دار تنتی اور شتر بوزنی اور ان کے رفقاء نے اس تعمیر کو مکمل کرادیا۔ عزرا کی کتاب میں ہے:

چنانچہ انہوں نے اسرائیل کے خدا کے حکم کے مطابق فارس کے بادشاہ خورس اور دارااور تخششتا کے حکم کے مطابق تعمیر کی اور کام کو انجام تک پہونچایا(باب ۶آیات ۱۴ ۔ ۳ ۱) 

یہودبنی اسرائیل کو اب پھر ایک بار امن و اطمینان نصیب ہو اور انہوں نے ارض یہوداہ میں دوبارہ اپنی حکومت کو استوار کیا اور چونکہ شاہ بابل نے توراۃ کے تمام نسخوں کو بھی جلا کر خاک کردیا تھا اور ستر برس تک وہ خدا کی اس کتاب سے محروم رہے تھے اس لئے ان کے اصرار پر حضرت عزیر( عزرا) علیہ السلام نے اپنی یادداشت سے ازسر نواس کو تحریر کیا۔

شرارتِ یہود کا دوسرا دور

یہود کی قومی خصائل و عادات سے متعلق کافی معلومات کے بعد آپ کے لئے یہ بات حیرت انگیز نہیں ہو سکتی کہ اتنی سخت ٹھو کر کھانے اور ذلت ورسوائی کی اس عبرت ناک سزاکو برداشت کرنے کے باوجود جن کی تفصیلات ابھی سپرد قلم ہوچکی ہیں ان کی چشم عبرت اور گوش حق نیوش میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوئی اور ان کی حالت اس آیت کا مصداق ثابت ہوئی لھم قلوب لا یفقھون بھا ولھم اعین لایبصرون بھا ولھم آذان لا یسمعون بھا یعنی آہستہ آہستہ انہوں نے پھر ظلم و فساد اور بغاوت و سرکشی پر کمر باندھ لی اور گذشتہ بداخلاقیوں اور بدکرداریوں کا مظاہرہ شروع کردیا۔

کچھ یہ بھی نہیں تھا کہ کوئی ان کوسمجھانے اور تنبیہ کرنے والا نہیں تھا کیونکہ خدائے تعالیٰ کے سچے پیغمبروں کا سلسلہ ان میں جاری تھااور وہ ان کو سیدھی راہ پر لگانے اور بُری راہ سے بچانے کے لئے برابر پندو نصیحت اورر موعظت و بصیرت کا حق اداکرتے رہتے تھے مگر ان کے قومی مزاج کا توازن اس درجہ خراب ہوچکا تھا کہ ان پر کسی اچھی بات کا اثر ہی نہیں ہو تا تھا اور بادشاہ سے لے کر رعایا تک سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ وہ پیغمبر انِ حق کا مذاق اڑاتے، باطل کو شی کو شیر مادر سمجھتے اور اپنی حرکات بدپر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرتے رہتے تھے، پھر صورتحال اس حد پر جا کر بھی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسی درمیان میں ایک ایسا ہوش ربا حادثہ پیش آگیا جس نے یہود کی د نائت اور باطل کوشی کو دوست دشمن دونوں کی نگاہ میں بخوبی روشن کردیا۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قتل

 اس ہوش ربا حادثہ کی تفصیل یہ ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے یہ عہد حضرت یحییٰ علیہ السلام کی تبلیغ و دعوت کا عہد تھا اور ارض یہودیہ میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کے مواعظ کایہ اثر ہو رہا تھا کہ بنی اسرائیل کے قلوب مسخر ہوتے جاتے تھے اوروہ جس جانب بھی نکل جاتے تھے جماعت کثیر ان پرپروانہ وار نثار ہونے لگتی تھی، ادہر تویہ حالت تھی اور دوسری جانب یہود کا بادشاہ ہیرودیس نہایت ہی بدکار اور ظالم تھا وہ حضرت یحییٰ کی مقبولیت دیکھ دیکھ کر لرزہ براندام تھا اور خوف کھاتا تھا کہ کہیں یہودیہ کی بادشاہت میرے ہاتھ سے نکل کر اس مردِہادی کے پاس نہ چلی جائے۔ سوئِ اتفاق کہ ہیرودیس کے سوتیلے بھائی کاانتقال ہوگیا، اس کی بیوی بیحد حسین تھی اور ہیرودیس بھاوج ہونے کے علاوہ اس کی علاتی بھتیجی بھی تھی،ہیرودیس اس پر عاشق ہوگیا اور اس سے عقد کرلیا۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online