Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد…سنن نسائی) 648

مشعل (ترجمہ:  کتاب الجہاد…سنن نسائی)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 648)

تیر اندازی کی فضیلت

حدیث نمبر۳۸۔ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو برسر منبر یہ کہتے ہوئے سنا: (آپ نے سورۂ انفال کی آیت: ۶۰ پڑھی) ’’ان کفار کے مقابلے میں جس قدر ہوسکے قوت بہم پہنچائو۔‘‘ (اس کی تشریح میں آپ نے فرمایا) خبردار! تیراندازی ہی قوت ہے۔ خبردار! تیر اندازی ہی قوت ہے۔ خبردار! تیر اندازی ہی قوت ہے۔

 دنیا کی طلب میں جہادکرنے والا

حدیث نمبر۳۹۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جہاد دو قسم کا ہے۔ جس نے اللہ کی رضا چاہی، امام کی اطاعت کی، عمدہ مال خرچ کیا، اپنے شریک کار سے نرمی کا برتائو کیا اور فساد سے بچتا رہا، تو بلاشبہ ایسے مجاہد کا سونا اور جاگنا سبھی اجروثواب کا کام ہے لیکن جس نے فخر، دِکھلاوے اور شہرت کی نیت رکھی، امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد کیا تو بلاشبہ ایسا آدمی (ثواب تو کیا) برابری کے ساتھ بھی نہیں پلٹا۔ (گناہ سے بچ آنا بھی مشکل ہے)۔

حدیث نمبر۴۰۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک انسان جہاد کے لیے نکلتا ہے مگر وہ دنیا کا مال چاہتا ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس کے لئے کوئی اجر نہیں۔ لوگوں نے اس فرمان کو بہت گراں جانا، انہوں نے اس آدمی سے کہا: دوبارہ پوچھو، شاید تم اپنی بات واضح نہیں کرسکے ہو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک انسان جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلتا ہے اور وہ دنیا کا مال چاہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کے لئے کوئی ثواب نہیں۔ لوگوں نے اس آدمی سے کہا: رسول اللہﷺ سے پھر پوچھو۔ اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا تو بھی آپ نے اسے یہی فرمایا: اس کو کوئی ثواب نہیں۔

 جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی نیت سے قتال کرے

حدیث نمبر۴۱۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: ایک آدمی قتال کرتا ہے شہرت کے لئے، کوئی قتال کرتا ہے تعریف کے لئے اور کوئی غنیمت کے لئے اور کوئی مرتبہ (بہادری وشجاعت) دِکھانے کے لئے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اس غرض سے لڑے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوتو وہی اللہ کی راہ میں ہے۔

حدیث نمبر۴۲۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میں نے کہا) اے اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوے کے متعلق ارشاد فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ اور اجر کی نیت سے قتال کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں صبر کرنے والوں اور اجر کے طلب گاروں میں اُٹھائے گا اور اگر تم دِکھلاوے اور مال جمع کرنے کی غرض سے قتال کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ریا کار اور مال جمع کرنے والوں میں اُٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! جس حال (اور نیت) میں بھی تم نے لڑائی کی (جہاد کیا) یا تمہیں قتل کردیا گیا تو اللہ تمہیں اُسی حالت پر اُٹھائے گا۔

شہادت کی فضیلت

حدیث نمبر۴۳۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد میں شہید کردیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پرندوں میں کردیا جو جنت کی نہروں پر آتے ہیں، وہاں کے پھل کھاتے ہیں اور پھر سونے کی قندیلوں میں لوٹ جاتے ہیں جو عرش کے سائے میں لٹک رہی ہیں۔ جب انہوں نے وہاں کے کھانے پینے اور آرام وراحت کے مزے دیکھے تو کہا: کون ہے جو ہمارا پیغام ہمارے بھائیوں تک پہنچادے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، ہمیں رزق دیا جاتا ہے تاکہ وہ جہاد سے بے رغبت نہ ہوجائیں اور لڑائی میں بزدلی نہ دکھائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی:

ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا…

وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے بارے میں یہ خیال ہرگز نہ کیجئے کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online