Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

الفقہ 648

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 648)

صدقہ فطر کے مسائل۔

صدقہ فطر کے مسائل حسب ذیل ہیں۔

۱…صدقہ فطر ہرمسلمان پر جبکہ وہ بقدر نصاب مال کا مالک ہو واجب ہے۔

۲…جس شخص کے پاس اپنی استعمال اور ضروریات سے زائد اتنی چیزیں ہوں کہ اگر ان کی قیمت لگائی جائے تو ساڑھے باون تولے چاندی کی مقدار ہو جائے تو یہ شخص صاحب نصاب کہلائے گا اور اس کے ذمہ صدقہ فطرواجب ہوگا۔(چاندی کی قیمت بازار سے دریافت کر لی جائے)

۳…ہر شخص جو صاحب نصاب ہواس کو اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطرادا کرنا واجب ہے اور اگر نابالغوں کا اپنا مال ہوتو اس میں سے ادا کیا جائے،

۴…جن لوگوں نے سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے روزے نہیں رکھے،صدقہ فطران پر واجب ہے،جبکہ ہ کھاتے پیتے صاحب نصاب ہوں۔

۵…جو بچہ عید کی رات صبح صادق طلوع سے پہلے پیدا ہوااس کا صدقہ فطرلازم ہے اور اگر صبح صادق کے بعد پیدا ہواتو لازم نہیں۔

۶…جو شخص عید کی رات صبح صادق سے پہلے مر گیا اس کا صدقہ فطر نہیں،اور اگر صبح صادق کے بعد مرا تو اس کا صدقہ فطرواجب ہے۔

۷…عید کے دن عید کی نماز کو جانے سے پہلے صدقہ فطرادا دینا بہتر ہے، لیکن اگر پہلے نہیں کیا تو بعد میں بھی ادا کرنا جائز ہے، اور جب تک ادا نہیں کرے گا اس کے ذمہ واجب لادار ہے گا۔

۸…صدقہ فطر ہر شخص کی طرف سے پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت ہے اور اتنی قیمت ہے اور اتنی قیمت کی اور چیز بھی دے سکتا ہے۔

۹…ایک آدمی کا صدقہ فطر ایک سے زیادہ فقیروں محتاجوں کو دینا بھی جائز ہے اور کئی آدمیوں کا صدقہ ایک فقیر محتاج کو بھی دینا درست ہے۔

۱۰…کو لوگ صاحب نصاب نہیں ان کو صدقہ فطر دینا درست ہے۔

۱۱…اپنے حقیقی بھائی بہن،چچاپھوپھی کو صدقہ فطر دینا جائزہے، میاں بیوی ایک دوسرے کو صدقہ فطر نہین سے سکتے، اسی طرح ماں باپ اولاد کو اور اولاد ماں باپ، دادا دادی کو صدقہ فطر نہیں دے سکتی۔

۱۲…صدقہ فطر کا کسی محتاج فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے، اس لئے صدقہ فطرکی رقم مسجد میں لگانا یا کسی اور اچھائی کے کام لگانا درست نہیں۔

نماز عیدین کی نیت

س…نماز عیدین کی نیت کیس طرح کی جاتی ہے؟

ج :نماز عید کی نیت اس طرح کی جاتی ہے کہ مین دورکعت نماز عید الفطر یا عیدالاضحیٰ واجب مع تکبیرات زائد کی نیت کرتا ہوں۔

بلا عذرنماز عید مسجد میں پڑھنا  مکروہ ہے

س:عیدگاہ کی بجائے نماز عید مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟

ج:بغیر عذر کے عید کی نماز مسجد میں پڑھنا مکروہ ہے۔

اگر نماز عید میں مقتدی کی تکبیرات نکل جائیں تو نماز کس طرح  پوری کرے

س:عید کی نماز میں اگر مقتدی دیر سے پہنچا اور اس کی زائد تکبیرات نکل جائیں تو مقتدی زائد تکبیریں کس طرح پوری کرے گا؟ اور اگر پوری رکعت نکل جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج:اگر امام تکبیرات سے فارغ ہوچکا ہو، خواہ قرات شروع کی ہویا نہ کی ہو، بعد میں آنے والا مقتدی تکبیر تحریمہ کے بعدزائد تکبیریں بھی کہہ لے اور اگر امام رکوع میں جاچکا ہے اور یہ گمان ہو کہ تکبیرات کہہ کر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہو جائے گا تو تکبیر تحریمہ کے بعد کھڑے کھڑے تین تکبیریں کہہ کر رکوع میں چلاجائے، اور رکوع میں رکوع تسبحات کے بجائے تکبیرات کہہ لے ہاتھ اٹھائے بغیر، اور اگر اس کی تکبیریں پوری نہیں ہوئی تھیں امام رکوع سے اٹھ گیا تو تکبیریں چھوڑ دے امام کی پیروی کرے اور اگر رکعت نکل گئی تو جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رکعت پوری کرے گا تو پہلے قرات کرے پھر تکبیریں کہے اس کے بعد رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے۔

خطبہ کے بغیر عیدکا کیا حکم ہے

س:اگر کوئی امام عید کی نماز کے بعد خطبہ پڑھنا بھول جائے یا نہ پڑھے تو کیا عید کی نماز ہوجائے گی؟ اگر ہوجائے گی تو خطبہ چھوڑنے کے متعلق کیا حکم ہے؟

ج:عید کا خطبہ سنت ہے اس لئے عید خلاف سنت ہوئی۔

نماز عید پر خطبہ،دعا اور معانقہ

س:کیا عید پر گلے ملنا سنت ہے؟

ج:یہ سنت نہیں،محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے اس کو دین کی بات سمجھنا، اور نہ کرنے واے کو لائق ملامت سمجھنا بدعت ہے۔

۲۔عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے دعا بعض حضرات نماز کے بعد کرتے ہیں اور بعض خطبہ کے بعد،دونوں کی گنجائش ہے آنحضرتﷺ،صحابہ کرام اور فقہاء سے اس سلسلہ میں کچھ منقول نہیں۔

عیدین کی جماعت سے رہ جانے والا شخص کیا کرے

س: اگر کوئی عید الفطر یا عید الاضحی کی نماز باجماعت نہ پڑھ سکے تو کیا وہ شخص گھر میں نماز ادا کرسکتا ہے یا اس نماز کے بدلے میں کسی شخص کو کھانا وغیرہ کھلادیا جائے توکیا نماز پوری ہوجائے گی یا  نہیں؟

ج:عید کی نماز کی قضا نہیں، نہ اس کا کوئی کفارہ ادا کیا جاسکتا ہے،صرف استغفار کیا جائے۔

کیا جمعہ کی عید مسلمانوں پر بھاری ہوتی ہے۔

قرآن و حدیث یا اکابر کے ارشادت سے اس خیال کی کوئی سند نہیں ملتی، اس لئے یہ خیال محض غلط توہم پر ستی،جمعہ بجائے خود عید ہے اور اگرجمعہ کے دن عید بھی ہو تو گویا’’عید میں عید‘‘ ہوگئی،خدانہ کرے کہ کبھی عید بھی مسلمانوں کے لئے بھاری ہونے لگے۔

کھانا نماز سے پہلے یا نماز کے بعد؟

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکا معمول یہ تھا کہ آپ عیدالفطر کی نماز کے لیے کچھ کھاکر تشریف لے جاتے تھے اور عیدالاضحیٰ کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہیں کھاتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)

صحیح بخاری میں حضرت انسؓ کی روایت سے یہ بھی مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن نماز کو تشریف لے جانے سے پہلے آپ چند کھجوریں تناول فرماتے تھے اور طاق عدد میں تناول فرماتے تھے۔

عیدالاضحیٰ کے دن نماز کے بعد کھانے کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ اس دن سب سے پہلے قربانی ہی کا گوشت منہ میں جائے جو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی ضیافت ہے اور عیدالفطر میں علی الصبح نماز سے پہلے ہی کچھ کھا لینا غالباً اس لیے ہوتا ہے کہ جس اللہ کے حکم سے رمضان کے پورے مہینہ دن میں کھانا پینا بالکل بند رہا، آج جب اس کی طرف سے دن میں کھانے پینے کا اذن ملا اور اسی میں اس کی رضا اور خوشنودی معلوم ہوئی تو طالب ومحتاج بندہ کی طرح صبح ہی اس کی ان نعمتوں سے لذت اندوز ہونے لگے۔ بندگی کا مقام یہی ہے۔

گرطمع خواہد زمن سلطان دیں

خاک برفرق قناعت بعد ازیں

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online