Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 651

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 651)

۷)بغوی، ابو القاسم، ابو العباس،الہروی رجاء بن عبداللہ، ملک بن سلیمان الہروی، ابو محشر محمدبن کعب قرظیؒ ۱۱۸؁ھ

۸)بغوی، حسن بن محمد، احمد بن کامل، یونس بن عبدالاعلیٰ، عبداللہ بن وہب، عبدالرحمن بن زید بن اسلم م ۱۳۶؁ھ

۹)بغوی، شیخ ابو عبداللہ المروزی، ابو مسعود محمد بن مروان، محمد بن السائب الکلبی م ۱۴۶؁ھ

۱۰) بغوی، الاستاد ابو اسحق ثعلبی، ابو القاسم حسن بن محمد السدوسی، ابو عمرواحد بن محمد، جعفر بن محمد احمد بن محمد، ابو معاذ عبید بن سلیمان الباہلی، الضحاک بن مزاحم الہلالی م ۱۰۳؁ھ

۱۱)بغوی، عبداللہ بن حامد، احمد بن محمد بن عیدوس، اسماعیل بن قتیبہ، ابو خالدنیشا پوری، بکیر بن محمود بلخی، ابو معاذ مقاتل بن حبان( م قبل از ۱۵۰؁ھ)

۱۲)بغوی، ابو اسحق بن محمد الہرجانی ، ابو محمد عبدالخالق المعروف بابن ابی روئبہ عبداللہ بن ثابت ،ہذیل بن حبیب عن مقاتل بن سلیمان خراسانی ۱۰۵؁ھ

۱۳)بغوی، ابو القاسم الحسن بن محمد ابو الطیب محمد بن عبداللہ احمد بن محمد، عمر بن طلحہ، اسیاط سدی م ۱۲۷؁ھ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین

بالفاظ دیگر امام بغوی کی مرتبہ تفسیر’’معالم التنزیل‘‘ ان تفاسیر کا مجموعہ ہے جو بواسطہ تابعین اور صحابہ کرامؓ صاحبِ وحی سید دوعالمﷺ تک پہنچتی ہیں۔

اسی طرح آٹھویں صدی ہجری کے عظیم مفسر قرآن عزیز ابن حبان اندلسی م ۷۵۴؁ھ نے اپنی تفسیر’’البحر المحیط‘‘ کااستناد دو عظیم مفسرین’’علامہ زمخشری‘‘ اور ’’ابن عطیہ‘‘ کے اقوال تفسیر سے کرتے ہوئے اپنی سند کویوں بیان کیا ہے:

ابو حبان اندلسی، ابو جعفر، احمدبن ابراہیم ، قاضی ابن الخطاب محمد بن احمد الکسونی، ابو طاہر بن ابراہیم  ابو الحسن بن احمد المقدسی، ابو طاہر الخشوعی عن جار اللہ زمخشری( صاحب تفسیر کشاف)

ابو حبان اندلسی القاضی ابو علی الحسن بن عبدالعزیز، حافظ ابو الربیع بن سلیمان الکلاعی، عبدالرحمن بن محمد انصاری عن ابی عطیہ… یہی طریق کار محققین علماء تفسیر کا ہے۔

 ان آداب اور قواعد کے بغیر جوتفسیر ہوگی وہ تفسیر بالرائے ہوگی جو کہ ’’تحریف‘‘ کہلاتی ہے، تحریف کی دوقسمیں ہیں:تحریف’’لفظی‘‘ اور تحریف’’معنوی‘‘

اہل بدعت اور فساق جب اپنے کسی غلط عندیہ کے لئے قرآن عزیز کے ارشادات کی تحریف معنوی کرتے ہیں تو کبھی کبھی تحریف لفظی سے بھی نہیں چوکتے۔ ایسی تاویلات باطنہ اور تحریف کے کچھ نمونے میری کتاب معارف القرآن میں مذکور ہیں( جواب پانچویں بار طبع ہوچکی ہے)

تفسیر بالرائے پر عالم اسلامی کے جلیل القدر ادیب کی تنقید

مصر کے سابق وزیر تعلیم ڈاکٹر طٰہٰ حسین مرحوم نے فرمایا ہے کہ:

’’میں کہہ سکتا ہوں کہ مووّلین( قرآن عزیز کی تفسیر بالرائے کرنے والے) خواہ قدماء میں سے ہوں یا فلاسفہ میں سے، ان کی تاویلات دورازکار ہیں، انہوں نے عقل کو راہ نمائی سونپی اور دھوکہ کھاگئے انہوں نے وہ باتیں کیں جو ان کے منہ سے نہیں نکلنی چاہئیں تھیں، ان کو سزاوار یہ تھا کہ حد سے قدم آگے نہ بڑھتے جس جگہ ان کی قوت فہم وادراک اور شعور و بلوغ ختم ہوگئی تھی وہیں پر ٹھٹھک کر رہ جاتے ۔ یہ ان کے لئے بھی بہتر ہوتا اور ان لوگوں کے لئے بھی جنہیں انہوں نے فتنے میں مبتلا کردیا تھا۔ان دوراز کار تاویلات نے عجیب عجیب گل کھلائے ہیں مثلاً قرآن مجید میں ’’طیرا ابابیل‘‘ کا ذکر آیا ہے یعنی وہ چڑیاں جنہوں نے مکے پر حملہ آور حبشی فوج پر کنکریاں پھینک کر اسے تباہ کردیا تھا یہ عقل پر ست’’ طیرا ابابیل‘‘ سے و بامراد لیتے ہیں اور کنکریوں سے غیر مرئی جراثیم۔ یہ تاویل انہوں نے اپنی طرف سے کی حالانکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اور آپ کے صحابہ کرامؓ نے’’سورۃ الفیل‘‘ کا یہ مطلب نہیں لیا اور نہ ہی اس نہج پر اسے سمجھا تھا اور وہ اس نہج پر سمجھ بھی نہیں سکتے تھے یہ ان کے لئے زیب کب تھا وہ میکروب( جراثیم) سے بالکل ناواقف تھے۔ اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن عزیز میں’’سبع سموت‘‘ سے مراد کو اکب و سیارہ ہیں یہ بھی اٹکل پچو بات ہے یہ ایسی بات کررہے ہیں جو نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے صحابہ ؓ نے کبھی نہیں فرمائی۔( اسلام منزل بمنزل ص ۳۰۶)

اس مختصر مگر جامع اور ضروری مقدمہ کے بعد کتاب کے موضوع کو پیش کیا جارہا ہے، اگرچہ مفسرین قرآن عزیز کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے جس کا متعین کرنا دشوار ہے مگر تاہم جس قدر راقم کو معلوم ہو سکے ان کا تذکرہ پیش کیا جارہا ہے، ترتیب وار حالات کے ذکر سے پہلے قرآن عزیز کی تفاسیر کا کتابی شکل میں ہونا اور تفسیر کی مختصر سی سرگزشت کے ساتھ ساتھ برصغیر میں تفسیر قرآن کی خدمات پر چند سطور پیش کی جاتی ہیں۔

’’تفسیر قرآن عزیز کتابی شکل میں‘‘

ابتداء اسلام میں حدیث اور تفسیر قرآن عزیز کو یکجا ہی جمع کرلیا جاتا تھا چنانچہ یہ طریقہ بعد میں جاری رہا اور ہے، ہر محدث نے اپنی مُرتبہ کتاب حدیث میں ’’ابو اب التفسیر‘‘ کو جمع کردیا ہے۔ مگر پھر بھی جلیل القدر تابعی حضرت مجاہد م ۱۰۲؁ھ نے تفسیرقرآن عزیز کو کتابی شکل میں جمع کردیا تھا جس سے امام شافعیؒ اور امام بخاریؒ جیسے جلیل القدر ائمہ کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں استشہاد کیا ہے، اسی طرح حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی مرتبہ تفسیر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی تفسیر قرآن عزیز روایت کردہ علی ابن ابی طلحہ م ۱۴۳؁ھ پر بھی اعتماد کیا گیا ہے۔ علی ہذا القیاس تفسیر ابن جریج بھی مکتوبہ شکل میں تھی بلکہ’’ابن خلکان‘‘ کی رائے میں تو اولین تفسیر قرآن عزیز جو کتابی شکل میں تھی وہ ابن جریج ہی کی ہے ( واللہ اعلم)

’’تفسیر قرآن عزیز منزل بہ منزل ‘‘

قرآن عزیز کی تفسیر زمانہ نبوت سے لے کر آج تک متعدد اور متنوع طریقوں پر چلی آرہی ہے اور تفسیر کی ساری سرگزشت دین اسلام سے محبت اور قرآن عزیز کے ساتھ قلبی لگائو کا نشان ہے، دور اول میں چونکہ مسلمانوں میں عملی زندگی عروج پر تھی اور وہ تفصیلی ابحاث کو سمجھنے کی بجائے ارشادات قرآنی سے منشاء خداوندی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اس لئے ان تفاسیر میں زیادہ تفصیلی ابحاث موجود نہیں،البتہ ادبی اور معنوی لحاظ سے الفاظ قرآنی کی تشریح بھی خیر القرون ہی سے چلی آتی ہے گویا یوں کہا جا سکتا ہے کہ ارشادات قرآنیہ کی عملی تفسیر جو صاحب وحی سید دو عالمﷺ نے فرمائی کو بھی جمع کیا گیا جیسا کہ ابن جریر کی تفسیر میں… اور الفاظ قرآنی کی وضاحت کی طرف بھی زمانہ سابق میں توجہ دی گئی جس کے لئے ابن تغلب م ۱۴۱؁ھ، محمد بن السائب الکلبی م ۱۴۶؁ھ، قطرب م ۲۰۶؁ھ، فراء م ۲۰۷؁ھ، کسائی م ۱۸۲؁ھ، اخفش م ۲۱۶؁ھ کے اسماء گرامی سر فہرست ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online