Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 651

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 651)

اور پھر اس پر معیتِ الٰہی کا جو وعدہ فرمایا گیا ہے یہ تو ایسی دولت ہے کہ کوئی دولت اس کے برابر نہیں ہو سکتی، اور پھر مزید عنایت یہ کہ اگر بندہ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے تو حق تعالیٰ شانہ ،بھی رضا وقبول کے ساتھ اسے تنہائی میں یاد فرماتے ہیں اور بند ہ کسی محفل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے بہتر محفل یعنی ملأ اَعلیٰ میں فخرو مباہات کے ساتھ اس کا تذکرہ فرماتے ہیں۔

 تیسرا مضمون اس حدیث میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ اگر بندہ ایک بالشت اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھے تو اس کی رحمت و عنایت دوبالشت آگے بڑھ کر اس کا استقبال کرتی ہے اور اگر بندہ ایک ہاتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھے تو حق تعالیٰ دوہاتھ آگے بڑھ کر اس کی پذیرائی فرماتے ہیں، اور اگر بندہ لڑکھڑاتے قدموں سے اللہ تعالیٰ کی طرف چلے تو اللہ تعالیٰ دوڑ کر اسے منزل قرب طے کرادیتے ہیں۔

 اس ارشاد میں ایک تو حق تعالیٰ شانہ، کی عنایت بے پایاں کابیان ہے کہ وہ کس طرح اپنے بندوں کے ٹوٹے پھوٹے اعمال کی پذیرائی فرماتے اور ان پر انعام و اکرام کی بارشیں فرماتے ہیں، دوسرے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تقرب الی اللہ کی منزلیں انسان کی سعی و کوشش سے طے نہیں ہوتیں، بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جب بندہ اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق حقیرسی سعی بجالاتا ہے تو جذب الٰہی اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، اور وصول الی اللہ کے منازل درحقیقت اسی جذبِ الٰہی سے طے ہوتے ہیں، کیونکہ بندے کی تمام تر محنت و کوشش محدود ہے، اور وصول الی اللہ کی راہ غیر محدود۔ اس کا کوئی امکان نہیں کہ محض بندے کی طاعت و عبادت اور اس کی محنت و مجاہدہ سے یہ غیر محدود راستہ طے ہوجائے نیز اس ارشادِ پاک میں اس طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کو بندوں سے بعد نہیں بعد اوردوری جتنی ہے وہ خود بندے کے نفسانی حجابات کی وجہ سے ہے، جب حق تعالیٰ کی نظر ِ عنایت کسی بندے کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو اس کے ان نفسانی حجابات کو اٹھا کر اسے سوئے منزل گامزن کردیتے ہیں، اور جب وہ حق تعالیٰ شانہ کی رضا کو مقصود بنا کر سفرِطاعت شروع کرتا ہے تو اسے راستہ طے کرادیتے ہیں۔ یا اللہ! محض اپنے لطف و کرم سے ہمارے لئے تمام منزلیں آسان فرمادیجئے اور اپنی رحمت ورضانصیب فرما دیجئے۔

نیکی اور بدی کا بیان

 حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے نیکی اور بدی کے بارے میں دریافت کیا( اور دوسری روایات میں ہے کہ یہ سوال انہوں نے خود کیا تھا کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے؟) پس آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور بدی وہ چیز ہے جو تیر ے دل میں کھٹک پیدا کرے اور تجھے یہ بات ناپسند ہو کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔‘‘

تشریح:یہ حدیث پاک جامع کلمات میں سے ہے، جس کے مختصر الفاظ میں دریائے معانی بند ہے۔

 حدیث پاک کے پہلے جملے’’نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے‘‘ کا مطلب سمجھنے کے لئے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ خالق و مخلوق کے معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے کا نام ’’حسنِ اخلاق‘‘ یا’’خوش خلقی‘‘ ہے ،شرح اس کی یہ ہے کہ کسی شخص کے ساتھ ہمارے معاملے کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں:

ایک یہ کہ نیکی کابدلہ برائی کے ساتھ دیا جائے۔ یہ ’’کمینگی اور بدخلقی‘‘ ہے۔

 دوم یہ کہ نیکی کا بدلہ نیکی کے ساتھ دیا جائے ،یہ کمال نہیں بلکہ یہ محض قرض ادا کرنا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے:

لیس الواصل بالمکافی و لکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہ و صلھا‘‘(مشکوۃ ص:۴۱۹)

’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو باری کا بدلہ اُتارے ،بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے وہ تب بھی صلہ رحمی کرے۔‘‘

سوم یہ کہ برائی کا بدلہ اچھائی سے دیا جائے، اس کا نام’’ خوش خلقی‘‘ ہے اور اعلیٰ درجے کا کمال ہے، دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ خوش خلقی اس کا نام ہے کہ دوسروں کے جو حقوق اپنے ذمے لازم ہیں ان کو پورے طور پر ادا کیا جائے، اور اپنے حقوق جو دوسروں کے ذمے لازم ہیں ان کا مطالبہ نہ کیا جائے، ظاہر ہے جس شخص کا معاملہ مخلوق کے ساتھ ایسا ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے میں کس طرح کو تاہی کر سکتا ہے؟جبکہ بندہ اللہ تعالیٰ شانہ کے انعامات و احسانات میں ہر لمحہ سرتا پا غرق ہے، پس خالق یا مخلوق میں سے کسی کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرنا حسنِ اخلاق کے منافی ہے، اس مختصر سی وضاحت سے واضح ہوجاتا ہے کہ حدیث پاک کا یہ چھوٹا ساجملہ’’البر حسن الخلق‘‘پورے دین پر حاوی ہے۔

 حدیث پاک کا دوسرا جملہ ہے کہ:’’گناہ وہ چیز ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور تمہیں لوگوں کا اس پر مطلع ہونا ناگوار ہو‘‘ شرح اس کی یہ ہے کہ بعض چیزوں کی اچھائی یا برائی تو بالکل کھلی ہوئی ہوتی ہے اور ان کی اچھائی یا برائی میں آدمی کو کوئی تردد نہیں ہوتا، مثلاـ : اس بارے میں کبھی دورائیں نہیں ہو سکتیں کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، والدین کی خدمت گزاری اور صلہ رحمی وغیرہ اچھے کام ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہر ذی فہم جانتا ہے کہ ظلم و ستم ، بے ایمانی و بددیانتی اور شراب نوشی و رِشوت ستانی وغیرہ گندے اور برے کام ہیں۔ لیکن بعض امور ایسے پیش آجاتے ہیں جن میں آدمی کو اشتباہ اور خلجان ہوجاتا ہے اور وہ فیصلہ نہیں کرپاتاکہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یا کرنا چاہتا ہوں ،یہ صحیح ہے یا غلط؟اور اچھا کام ہے یا بُرا؟ پس ایسا کام جس کے جوازوعدم جواز میں آدمی کو شک وتردد ہو، وہ اس کو کرتے ہوئے دل میں کھٹک اور چبھن محسوس کرے، اور یہ چاہے کہ لوگ اس پر مطلع نہ ہوں، یہ اس امر کی علامت ہے کہ یہ کام اچھا نہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online