Bismillah

659

۳تا۹محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۴تا۲۰ستمبر۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 651

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 651)

۲)منکرین حق اور باطل پر ست قوموں کو اگر عبرت وبصیرت کے پیش نظر دنیا میں کسی قسم کی سزا دی جاتی یا ان کو عذاب الہٰی میں پکڑا جاتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان پر سے آخرت کا عذاب( عذاب جہنم) ٹل جاتا اور معاف ہوجاتا ہے بلکہ وہ اسی طرح قائم رہتا ہے جو اپنے وقت پر ہو کر رہے گا:

وجعلناجھنم للکافرین حصیرا

 ۳)اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو اس کی بد کرداریوں اور اس کے مظالم و مفاسد کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کرتا اور اپنے پاداش عمل کے قانون کوان پر نازل کرنا چاہتا ہے تو سنت اللہ یہ جاری ہے کہ وہ بداعمالیوں کے بعد فوراً ہی ایسا نہیں کرتا بلکہ ایک عرصہ تک اس کو مہلت دیتا اور ہادیوں اور پیغمبروں کی معرفت ان کو ترغیب و ترہیب کی راہ سے ہدایت پر لانے کے تمام مواقع بہم پہنچاتا ہے تاکہ خدا کی حجت ہر طرح تمام ہوجائے، پس اگر اس کے بعد بھی ان کی سرکشی اور بغاوت اور ظلم وعدوان کا تسلسل اسی طرح قائم رہتا ہے تو اس کی بطش شدید اچانک مجرم قوم کو اس طرح دبوچ لیتی ہے کہ پھر کیفرکردار پر پہنچے بغیر رستگاری ناممکن ہوجاتی ہے اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مشاہدہ صورت میںنمودار ہوجاتا ہے:

 فسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون

عنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس طریقۂ انقلاب کے ذریعہ وہ الٹ دیئے جائیں گے۔

ذوالقرنین

یہ واقعہ اپنی دلچسپ تاریخی روایت کے لحاظ سے تین اہم حصوں پرمنقسم ہے:: ذوالقرنین کی شخصیت؟ سد ذوالقرنین؟ یاجوج و ماجوج؟ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان ہر سہ( ۳) مسائل کو جدا جدا بیان کر کے اس واقعہ کی اصل حقیقت کو واضح کیا جائے۔

 زیر بحث مسائل اور علماء اسلام

 سلف میں اگر چہ مسائل زیر بحث کے متعلق ایسے اقوال بہ کثرت ملتے ہیں جو ان مسائل کی تفسیر و تفصیل کی غرض سے بیان کیے گئے ہیں لیکن علماء متاخرین نے اس سلسلہ میں دو جدا جداراہیں اختیار کر لی ہیں، ایک جماعت سلف کے بعض اقوال کو نقل کر نے کے بعد یہ کہہ دینے پر اکتفا کرتی ہے کہ زیر بحث مسائل سے متعلق منقول اقوال چونکہ قرآن کی بیان کردہ شخصیت ذوالقرنین کے ساتھ پوری طرح مطابقت نہیں کرتے اس لئے ہمارے لیے یہ کافی ہے کہ ایک جانب یہ یقین و اعتقاد رکھیں کہ قرآن عزیز نے جس حد تک ذوالقرنین کی شخصیت، سد اور یاجوج و ماجوج پر روشنی ڈال دی ہے وہ بلاشبہ حق ہے اور باقی تفصیلات یعنی اس کی شخصیت کا تاریخی مصداق، سد کاجائے وقوع اور قوم یاجوج و ماجوج کا تعین، سوان کے علم کو سپردبخدا کردیناچاہیے کیونکہ ’’تفویض‘‘ کاطریقہ ہے لیکن جب ایک تحقیق طلب طبیعت اس پر قانع نظر نہیں آتی اور وہ اضطراب و تردد میں پڑجاتی ہے تو یہ جماعت اس کو مطمئن کرنے کے لیے اس طرح سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ جبکہ دنیوی اسباب علم اور وسائل معلومات کے اس حیرت زادور میں بھی محققین علم الآثار کو یہ اعتراف ہے کہ ابھی وہ اس دنیا کے مستور تاریخی خزانوں اور نظروں سے اوجھل تاریخی حقائق کے معلوم کرنے میں سمندر میں سے قطرہ کی مقدار حاصل کر پائے ہیں اور جبکہ ہم چند صدی قبل تک دنیا کے چوتھے براعظم امریکہ کی دریافت سے بھی قاصر رہے تھے تو کون سے تعجب کی بات ہے اگر ابھی تک دنیا اور موجودہ علوم تحقیق سدذوالقرنین کی شخصیت کا تعین نہ کر سکے ہوں اور ہو سکتا ہے کہ پہلے دو امور وقت موعود تک یعنی قریب بہ قیامت منکشف ہو کر ہمارے سامنے آجائیں اور ان دونوں کے اکتشاف سے ذوالقرنین کی شخصیت کا بھی بآسانی تاریخی تعین ہوجائے، پھر کون سی وجہ ہے کہ اگر ہم ان امور کی تاریخی تفصیلات کو آج نہ بیان کر سکیں تو اس بناء پر ان امور کو محض افسانوی داستان سمجھ لیا جائے۔ خصوصاً جبکہ قرآن عزیز وحی الہٰی کے علم و یقین کے ذریعہ ان کے وجود کی اطلاع دیتا ہے اور جبکہ اہل علم کا یہ مسلمہ نظریہ ہے کہ ہمارا کسی شے کو نہ جاننا اس کی دلیل نہیں ہو سکتا کہ وہ شے حقیقتاً بھی وجود نہیں رکھتی پس ایک مسلمان کے لئے تو اسی قدر کافی ہے کہ نفس مسئلہ پر یقین کرتے ہوئے تفصیلات کو سپرد بخدا کردے اور منکرین وحی الہٰٰی کے لئے زیادہ سے زیادہ تو قف کی گنجائش ہو سکتی ہے نہ کہ انکار پر اصرار کی۔

اس کے برعکس علماء اسلام میں سے دوسری جماعت ان مسائل کی تحقیق کے درپے ہے اور وہ قرآن عزیز کی عطا کردہ روشنی میں ان کے حقائق کی تفصیلات کو واضح کرنا نہایت ضروری جانتی اور قرآن حکیم کی اہم تفسیری خدمت یقین کرتی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مسائل زیر بحث میں تفویض کے طریقہ کو اختیار کر کے ہم اپنی ذمہ داری سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہو سکتے اور یہ اس لیے کہ قرآن نے ذوالقرنین کے معاملہ کو یہود کے سوال کرنے پر بیان کیا ہے اور اسی بناء پر وہ اسلوب بیان اختیار کیا ہے جس سے سوال کرنے والی جماعت اس اقرار کرنے پر مجبور ہوجائے کہ ’’نبی اُمّی‘‘ نے وحی الہٰی کے ذریعہ ان پر سہ مسائل کے متعلق جو تفصیلات بیان کی ہیں بلاشبہ وہ صحیح ہیں اور سورئہ بنی اسرائیل میں’’روح‘‘ کے سوال پر قرآن کا جواب اس کے برعکس اسلوب پر مذکور ہے اور دریافت کرنے والوں کو صرف اس قدر بتا کر کہ’’روح‘‘خدا کے حکم و امر میں سے ایک ایسی شے ہے جو اس کے حکم سے جسم میں داخل ہو جاتی ہے مزید تفصیلات کو ان کی عقول کے لحاظ سے غیر ضروری قرار دیدیا ہے، لہٰذا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن عزیز ذوالقرنین سے متعلق تفصیلات کے درپے ہے اور یہود کو یا مشرکین اور یہود دونوں کو ان کی معلومات کے مطابق مطمئن کرنا چاہتا بلکہ اس سلسلہ میں ان کے یہاں بعض تفصیلات نے جو افسانوی شکل اختیار کر لی تھی اس کے خلاف حقائق واقعیہ کو کھول دینا چاہتا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online