Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

الفقہ 651

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 651)

نماز میں نوٹ یا بس پاس وغیرہ جیب میںرکھنا

 س:اگر کسی کی جیب میں identyکارڈ،بس پاس یا نوٹ ہوں جن پر تصویریں ہوتی ہیں، تو کیا اس کی نماز میں کوئی کراہت پیدا ہوگی ،یا نماز کی حالت میں ان کا نکال کر رکھ دینا ضروری ہے؟

ج:جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان کی حفاظت کے لئے بسااوقات انہیں جیب میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، دوسرے بعض فقہاء نے ایسی تصویر کو نماز میں کراہت کا باعث قرار نہیں دیا ہے جو نمازی کے پیچھے یا اس کے پائوں کے نیچے ہو، یا جیب اور غلاف کے اندرہو:

’’فلو کانت الصورۃ خلفہ او تحت رجلیہ ففی شرح عتاب لاتکرہ الصلاۃ‘‘

نیز علامہ شامیؒ نے ’’البحرالرائق‘‘ نامی کتاب کے حوالہ سے نقل کیا ہے:

’’و مفادہ کراھہ المستبین لا المستتر بکیس او صرۃ او ثوب آخر‘‘

اس لئے نمازی کا یہ چیز جیب میں رکھنا درست ہے۔

 نمازی اور تصویریں

س:تصویر اگر سامنے ہو تو نماز نہیں ہوتی، لیکن اگر حالت نماز میں جیب سے شناختی کارڈ وغیرہ جس میںتصویر لگی ہو، وہ سامنے گر جائے تو کیا کرنا چاہئے؟

کیامکہ ومدینہ منورہ کی تصویر اور خوبصورتی کے لئے لگائی جانے والیscenariesکے چارٹ اگر نمازی کے سامنے ہو تو کیا نماز درست ہوگی؟جائے نماز پر اگر مکہ و مدینہ نقش ہوں تو کیا نمازدرست ہوگی؟ اور اگر غلطی سے کوئی جائے نماز پر کھڑا ہوجائے جس میں مکہ و مدینہ کی تصویر ہو تو کیا سزا کا مستحق ہوگا؟تفصیل سے بتائیں۔

ج: اگر تصویر سامنے ہو تو نماز تو ہوجائے گی لیکن یہ فعل سخت مکروہ ہے۔ مکہ ومدینہ کی تصویر یا ایسی تصویریں جن میں ذی روح کی قابل شناخت صورت نظر نہ آتی ہو، کی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ چونکہ اس سے نمازی کی توجہ ہٹ جاتی ہے اس لئے ایسی تصویریں بھی نمازی کے سامنے نہ رہیں تو بہتر ہے۔

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

’’رسول اللہﷺ نے ایک ایسے کپڑے میں نماز ادا فرمائی جومنقش تھا، اس کے نقوش پر آپﷺ کی نظر پڑی، نماز سے فارغ ہوئے تو آپﷺ نے یہ کپڑا ابو جہم صحابی رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا، جنہوں نے یہ کپڑا آپﷺ کو تحفہ پیش کیا تھا اور ارشاد فرمایا کہ اس کی وجہ سے نماز میں میری توجہ ہٹ گئی:’’فانھا الھتنی عن صلاتی‘‘۔

لہٰذا نمازیوں کے سامنے بے روح چیزوں کی تصویریں بھی نہ رہنی چاہئیں جو توجہ کو بانٹنے والی ہوں۔

 جائے نماز پر آکل حرمین شریفین کے نقش کا رواج سا ہوگیا ہے، ایسی جا نمازوں پر کھڑا ہونا ان مقامات مقدسہ کی توہین نہیں،کیونکہ تصویر یں اصل کا درجہ نہیں رکھتیں، اور عام حالات میں کھڑے ہونے والے کی نیت توہین کی نہیں ہوتی، ہاں! اگر کوئی بدبخت توہین کی نیت سے کھڑا ہو تو یقینا گناہ ہے، بلکہ کفر کا اندیشہ ہے، لیکن حرمین کی تصویروں کو جائے نماز پر منقش کرنا بجائے خود کوئی مناسب بات نہیں،بلکہ خیال ہوتا ہے کہ یہ بھی اہل مغرب کی سازش ہے، اور اس کا مقصود فی الجملہ شعائر اسلامی کی اہانت ہے، اس لئے سادہ اور غیر منقش جائے نماز کا استعمال بہتر ہے، جیساکہ سلف صالحین کے زمانہ میں ہواکرتا تھا۔

 اگر شناختی کا رڈنیچے گر جائے اور وہ سجدہ کے مقام پر نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، اگر معمولی عمل کے ذریعہ اٹھا سکتے ہوں تو اٹھا لیں، ورنہ اسی حال میںچھوڑ دیں، لیکن اگر سجدہ گاہ میں ہو تو سجدہ کے وقت ضرور ہٹا لینا چاہئے، کیونکہ اس میں تصویر کوسجدہ کرنے کا ایہام ہوتا ہے، اسی لئے فقہاء نے مقام سجدہ میں بچھی ہوئی تصویر کو بھی منع فرمایا ہے:

’’والصحیح انہ لا یکرہ علی البساط اذا لم یسجد علی التصاویر وھذا اذا کانت الصورۃ کبیرۃ تنبو للناظر بغیر تکلف‘‘

دوکان میں نمازی کے سامنے با تصویر ڈبے

س:دوکان میں بعض اوقات نماز پرھنی پڑتی ہے او ر سامان کے ڈبوں پر مختلف قسم کی تصاویر ہوتی ہیں،ایسی حالت میں کیا نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

 ج:نماز کی حالت میں سامنے تصویریں ہوں، اس میں شدید کراہت ہے، دائیں، بائیں تصویروں کا ہونابھی کراہت سے خالی نہیں، لیکن بمقابلہ سامنے ہونے کے اس میںکراہت کم ہے، اس لیے نماز پڑھتے ان تصویروں پر کوئی کپڑا ڈال دینا چاہئے، تاکہ وہ حجاب بن جائے اور تصویروں کا سامنا نہ ہو۔

 اگر چار کی نیت کر کے دو رکعت نفل  ادا کرے؟

ج:نقل کی ہر دو رکعت کی حیثیت مستقل نماز کی ہے، اس لئے ایسی صورت میں امام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ دو رکعت ہی کافی ہوجائے گی، دورکعت یا چار رکعت کی قضاء واجب نہیں ہوگی:

’’وان شرع فی التطوع بنیۃ الاربع…ثم قطع…فان کان قبل قبل القیام الی الثالثۃ یلزمہ شفع واحد عندہ وعندھما لا یلزم شییٔ‘‘

نماز میں گھڑی دیکھنا

 س:مسجد میں ایک صاحب نماز پڑھنے کے لیے آتے ہیں ،اور سنت ادا کرتے ہیں، لیکن نماز کے دوران رکوع سے اٹھتے وقت ، دیوار میں لگی ہوئی گھڑی کو بار باردیکھتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور وہ صاحب سترہ سال امامت کرچکے ہیں؟

ج:اولاً تو دوسروں کے بارے میں اس قدر تجسس سے بچنا چاہئے کہ کون کس وقت کہاں دیکھ رہا ہے، اور اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے، جہاں تک گھڑی دیکھنے کی بات ہے، تو نماز میں کوئی ایسا عمل جو نماز کی طرف سے توجہ کو ہٹا دے، کراہت سے خالی نہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ بھی ان افعال میں سے ہے، اس لے اس سے اجتناب کرنا چاہئے، تاہم اگر گھڑی دیکھ کر ٹائم کو سمجھ لیں، لیکن زبان سے کوئی لفظ نہ بولے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی، چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے کہ محراب پر قرآن کے علاوہ کچھ لکھا ہوا ہے، نمازی اسے دیکھے اور سمجھ لے تو نماز فاسد نہیں ہوگی:

’’اذا کان المکتوب علی المحراب غیر القرآن فنظر المصلی الی ذلک و فھم فعلی قول ابی یوسف لا تفسد وبہ اخذ عامۃ مشایخنا‘‘

نماز میں اِدھر اُدھر کے  خیالات آئیں

س:نماز میں ادھر ادھر کے خیالات آتے رہتے ہیں، ایسی صورت میں اسے کیا کرنا چاہئے؟

ج:نماز چونکہ نیکی اور بھلائی کا عمل ہے بلکہ سب سے افضل ترین عبادت ہے، اس لئے شیاطین خاص طور سے نمازی کی توجہ کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے برخلاف اگر آدمی کسی برے کام میں مشغول ہو، توشیطان کوئی خلل پیدانہیں کرتا، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص تو ہماری ہی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے، اس سے گھبرانا نہ چاہئے، یہاں تک کہ رسول اللہﷺ سے بھی کبھی کبھی نماز میں سہو ہوجایا کرتا تھا۔ ایسے موقع پر حتی المقدور خیالات کو یکسوئی کرنا چاہئے، اور اس کے باوجود بھی جو بے التفاتی ہو، اس کے لئے نماز کے بعد استغفار کرلینا چاہئے، لیکن بہر حال اس کیفیت سے عاجز آکر نماز کی ادائیگی سے غافل نہ ہوں۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online