Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 663

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 663)

ابو علی احمد بن جعفرؒ دنیوری

یہ بھی اس دور کے جلیل القدر علماء میں سے ہیں۔’’فراء‘‘ کی مرتبہ کتاب ’’معانی القرآن‘‘ کا اختصار بہ نام’’ضمائر القرآن‘‘ لکھا ۲۸۹ھ؁ کو وفات ہوئی۔

عبداللہ بن احمد بن محمد بن حنبلؒ

۲۱۳ھ؁ کو پیداہوئے۔ اپنے گرامی قدر والد اور اس طبقہ کے دوسرے علماء سے علم حاصل کیا البتہ آپ کو اپنے والد ماجد نے’’علی بن الجعد‘‘ سے روک دیا تھا امام نسائی اور دیگر جلیل القدر محدثین آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔’’علامہ احمد بن المنادی‘‘لکھتے ہیں۔’’عبداللہ بن احمدؒ سے زیادہ امام احمد بن حنبلؒ کے علوم کو سننے والا کوئی نہیں۔‘‘آپ نے اپنے والد ماجد سے’’تیس ہزار‘‘مسند احادیث اور ایک ’’لاکھ بائیس ہزار تفسیری‘‘ ارشادات سنے۔ ۲۹۰؁ھ کو وفات ہوئی۔

ابو العباس احمد بن یحییٰ الشیبانی

 آپ ثعلب کے نام سے مشہور ہیں ۲۰۰؁ھ کو کوفہ میں پیداہوئے عراق کے مشہور علماء ابن اعرابی، زبیر بن بکارو غیر ہما سے علم نحو، لغت، ادب حاصل کیا اور ان علوم میں امام وقت مانے گئے۔ اخفش اصغر اور ابو بکر انباری جیسے علماء آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ ثعلب نے قرآنی موضوع کے متعلق کتاب معانی القرآن، کتاب اعراب القرآن، اور غریب القرآن لکھیں۔ آپ کی وفات ۱۷/جمادی الاولی ۲۹۱؁ھ کو ہوئی۔

ف۔ابو بکر بن مجاہد کا بیان ہے کہ ایک دن امام ثعلب نے افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل قرآن، اہل حدیث اور اہل فقہ دینی علوم کی برکت سے کامیاب ہوگئے اور ہم ان علوم عربیہ ہی میں پھنسے رہے۔ ابو بکر کہتے ہیں کہ میں نے رات کو خواب میں سید دو عالمﷺ کی زیارت کی۔ آپﷺ نے فرمایا۔ ابو العباس ثعلب کو میراسلام کہہ دو کہ تو علم مستطیل کا ماہر ہے۔‘‘ یعنی تیرے علوم کے بغیر تو کوئی فن اور علم کا مل ہو ہی نہیں سکتا۔

 ابراہیم بن معقل بن الحجاج

آپ کی کنیت ابو اسحق مشہور ہے۔ علوم قرآن وفقہ میں ممتاز حیثیت کی بناء پر اپنے زمانہ میں’’نسف‘‘کے قاضی مقرر ہوئے علم حدیث میں مسند کبیر اور تفسیر میں قرآن حکیم کی ایک تفسیر لکھی ذوالحج ۲۹۵ھ؁ کو فوت ہوئے۔

ابو جعفر محمد بن عثمان ابی شیبہ

کوفہ میں پیدا ہوئے قرآن کریم کی ایک تفسیر بھی لکھی۔ ۲۹۷ھ؁ کو فوت ہوئے۔

 چوتھی صدی کے مفسرین قرآن مجید
 محمد بن عبدالجبارؒ

۲۳۵؁ھ میں بصرہ کے قریب جبی نامی ایک گائوں میں ولادت ہوئی، تفسیر قرآن حکیم میں کافی بلکہ تھا مگر عقائد میں اعتزال تھا، اپنے نام پر ایک نئے فرقہ ’’جبائیہ‘‘ کی بنیاد رکھی ، قرآن عزیز کی ایک تفسیر لکھی جس سے قاضی عبدالجبار اور زمخشری نے اپنی اپنی تفاسیر میں استفادہ کیا ہے،۳۰۳ کو انتقال ہوا۔

 علی بن موسیٰ بن یزدادؒ

( بعض علماء نے یزید بھی لکھا ہے)قصبہ قم میں ولادت کی نسبت سے قمی مشہور ہوئے، محمد بن حمیدرازی وغیرہ علماء مصر سے اکتساب کیا زندگی کا اکثر حصہ تدریس میں گذرا، نیشاپور میں ان کا حلقہ درس وسیع تھا، احکام القرآن کے موضوع پر قرآن حکیم کی ایک تفسیر لکھی، ۳۰۵ھ؁ کو انتقال ہوا۔

ف۔امام ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ اپنے وقت کے اہل الرائے کا امام تھے۔

 ابو الاسود موسیٰ بن عبدالرحمن بن حبیبؒ

قطان کے نام سے شہرت پائی، امام محمد اور ابن سخنون کے شاگردرشید تھے علم نبوت میں کامل دسترس حاصل تھی، ’’احکام القرآن‘‘ کے نام سے قرآن عزیز کی ایک تفسیر بارہ جلدوں میں مرتب فرمائی، ذیقعدہ ۳۰۶ھ؁ کو فوت ہوئے۔

 ف۔ایک زمانہ میں آپ کو طرابلس کا قاضی مقرر کیا گیا ہے چونکہ آپ نے ہر مظلوم کی مدد کی اور ہر ظالم کو سزا دی جس کی پاداش میں آپ کے خلاف سازش کر کے آپ کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ اسی اثنا میں مندرجہ ذیل واقعہ پیش آیا۔

 ’’ایک آدمی نے مچھلی خریدی جب اس کا پیٹ چاک کیا تو اندر سے دوسری مچھلی نکلی، بائع اور مشتری میں اس پر جھگڑا ہوگیا بائع نے کہا میں نے ایک مچھلی بیچی ہے اس لئے دوسری واپس کردی جائے، مگر مشتری نے کہا جو میں نے خریدی وہ ایک ہی ہے اس میں سے دوسری مچھلی نکلی ہے لہذا دونوں میری ہیں۔ طرابلس کے حاکم نے یہ معاملہ قطان کے پاس جیل میں بھیجدیا۔ آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ اگر مچھلی کو تول کر بیچا ہے تو دونوں مچھلیاں مشتری کی ہیں اور اگر ایک مچھلی کر کے تولنے کے بغیر بیچی ہے تو پھر مچھلی واپس کردے۔‘‘

جب طر ابلس کے حکم کو آپ کی دانشمندی کا علم ہو ا تو فوراً آزاد کردیا۔

 ابو عبداللہ بن محمد بن وہب الدینوریؒ

ابن وہب کے نام سے مشہور تھے، قرآن عزیز کی ایک تفسیر لکھی، فیروز آبادی نے ’’تنویر المقیاس فی تفسیر ابن عباس‘‘ میں اس سے استفادہ کیا ہے ابن وہب کا انتقال ۳۰۸؁ھ میں ہوا۔

 ف۔ اس تفسیر کا ایک مخطوطہ خزانہ ابا صوفیہ میں محفوظ ہے جس کا نمبر ۲۱۱،۲۲۲ ہے اور ایک نسخہ سورہ اخلاص تک خزانہ آصفیہ حیدر آباد دکن میں موجود ہے یعنی صرف آخری دو سورتوں کی تفسیر کم ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ چھٹی صدی ہجری کا مخطوطہ ہے۔

 ابو الطیب محمد بن المفضل بن سلمہ بغدادیؒ

آپ بغداد کے ذہن اور فطین علماء میں سے تھے۔ معانی، ادب ،فقہ، میں کئی مفید کتابیں لکھیں۔ خلیل کی’’کتاب العین‘‘ پر استدراک لکھا۔’’معانی القرآن ‘‘ کے عنوان پر ایک کتاب لکھی جس کا نام’’ضیاء القلوب‘‘ ہے جو بیس اجزاء سے زیادہ پر مشتمل ہے، محرم الحرام ۳۰۸؁ھ کو فوت ہوئے۔

 امام ابو بکر محمد بن ابراہیم بن لمنذرؒ

آپ کی ولادت تو نیشاپور میں ہوئی مگر اقامت مکہ مکرمہ میں اختیار کی، وہاں کے جلیل القدر اساتذہ محمد بن میمون ،محمد بن اسمعیل الصائغ سے اکتساب علم کیا، اپنے زمانہ کے ’’امام مجتہد‘‘ مشہور ہوئے، آپ کے شاگردوں میں ابو بکر بن المقری جیسے جلیل القدر علماء بھی تھے ،قرآن عزیز کی ایک تفسیر لکھی ۳۰۹ھ؁ کو فوت ہوئے۔

 ف۔یہ سال وفات مشہور ہے مگر امام ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ۳۱۶ھ؁ میں ابن المنذر سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ ( واللہ اعلم بالصواف)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online