Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 663

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 663)

حضرت اسما ء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:میں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ بہت ہی برا ہے وہ بندہ جس نے ( اپنی برائی کا جھوٹا) خیال باندھا اور اترانے لگا اور بڑائی والے عالی شان خدا کو بھول گیا، اور بہت ہی برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر و سرکشی کی اور اس جبار کو جو سب سے برتر ہے بھول گیا ، بہت ہی برا ہے وہ بندہ جو غفلت میںمدہوش اور لہو ولعب میں مشغول ہوگیا، اور قبروں کو اور بوسیدہ ہوجانے کو بھول بیٹھا، بہت ہی برا ہے وہ بندہ جس نے فساد مچایا اور حد سے نکل گیا اور اپنی ابتداوانتہا کو بھول گیا، بہت ہی برا ہے وہ بندہ جو دین کے ذریعے کا شکار کرتا ہے، بہت برا ہے وہ بندہ جو شبہات کے ذریعے دین کا شکار کرتا ہے، بہت ہی برا ہے وہ بندہ کہ طمع اور لالچ اس کا قائد ہو، بہتر ہی برا ہے وہ بندہ کہ خواہشات اس کو راستے سے بہکار ہی ہوں،بہت ہی برا ہے وہ بندہ کہ دنیا کی رغبت اسے ذلیل کر رہی ہو۔‘‘

حضرت ابو سعید خدریؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:جس مومن نے کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت کے پھلوں سے کھلائیں گے، اور جس مومن نے کسی پیاسے مومن کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسکو سر بمہر شرابِ طہور سے پلائیں گے ،اور جس مومن نے کسی برہنہ مومن کو لباس پہنایا اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبزحلوں کا لباس پہنائیں گے۔‘‘

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

جو شخص ڈرے وہ اول سحر میں سفر شروع کردیتا ہے اور جو شخص اولِ سحر میں صبح سویرے چل پڑے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے، سنو! بے شک اللہ کا سامان نہایت قیمتی ہے، سنو! بے شک اللہ کا سامانا جنت ہے۔‘‘

تشریح:یعنی جس شخص کو دشمن کا خطرہ ہو وہ صبح صادق ہونے سے پہلے سفر شروع کردیتا ہے اور جو شخص صبح سویرے سفر شروع کردیتا ہے وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کو اپنی آخرت کی فکر اور شیطان کے گمراہ کرنے کا اندیشہ ہو وہ تہجد سے اپنی تیاری شروع کردیتا ہے اور جو شخص اول سحر یعنی تہجد کے وقت سے سفر شروع کردے وہ ان شاء اللہ منزل پر پہنچ جاتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ:خوب یاد رکھو! کہ تم نے جس سامان کا اللہ سے سودا کیا ہے وہ بہت زیادہ قیمتی ہے اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ وہاں ایک چھڑی رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ وہاں ایک چھڑی رکھنے کی جگہ دنیا و مافیہا سے زیادہ قیمتی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ:اللہ تعالیٰ کا یہ قیمتی سامان جنت ہے جس کی کیفیت اور کمیت ہماری عقل وقیاس سے باہر ہے۔

 حق تعالیٰ شانہ، ہمیں دنیا کے مکر اور دھوکے سے محفوظ فرما کر دنیا میں پاک و صاف زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائیں ،کلمۂ طیبہ’’لا الہ الا للہ محمد رسولاللہ‘‘ پر ہمارا خاتمہ فرمائیں اور اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم سے بغیر حساب و کتاب کے ہمیں جنت میں داخل فرمادیں۔

 کمالِ تقویٰ کیا ہے؟

حضرت عطیہ سعدیؓ، آنحضرتﷺ کے صحابہ میں سے تھے، وہ آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:بندہ اس مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا کہ اس کا شمار متقیوں میں ہو، یہاں تک کہ وہ ایسی چیزوں کو بھی چھوڑ دے جن میں کوئی حرج اور گناہ نہیں ان چیزوں سے احتراز کرنے کے لئے جن میں حرج اور گناہ ہے۔‘‘

تشریح:مطلب یہ کہ کمال تقویٰ یہ نہیں کہ آدمی صرف ناجائز اور ممنوع چیزوں سے پرہیزکرے، بلکہ کمالِ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی ایسی مباح اور جائز چیزوں سے بھی احتراز کرے جن سے یہ اندیشہ ہو کہ ہو ناجائز اور ممنوعات کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

 انسان کے دِل کی کیفیت ہر وقت یکساں نہیں رہتی

حضرت حنظلہ اسیدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:اگر تم ہمیشہ اسی حالت پر رہا کرو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تم پر اپنے پروں سیایہ کریں گے۔

تشریح:یہ حدیث یہاں مختصر نقل کی گئی ہے ،صحیح مسلم( ج: ۲ ص:۳۵۵) میں یہ تفصیل سے مروی ہے ،حضرت حنظلہ اسیدی رضی اللہ عنہ جو آنحضرتﷺ کے کاتبوں میں سے تھے، فرماتے ہیں کہ:میں ایک بارحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے حال احوال پوچھا، میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہوگیا! انہوں نے فرمایا:سبحان اللہ! کیا کہہ رہے ہو؟میں نے کہا کہ:ہم آنحضرتﷺ کے پاس ہوتے ہیں اور آنحضرتﷺ ہمارے سامنے جنت دووزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ گویا ہم جنت و دوزخ کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن جب وہاں سے اٹھ کر گھر آتے ہیں تو بیوی بچوں اور زمین کے دھندوں میں مشغول ہوجاتے ہیں تو وہ خاص کیفیت جو آنحضرتﷺ کی مجلس میں ہوتی ہے وہ نہیں رہتی اور ہم بہت سی باتیں بھول جاتے ہیں۔

 حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :بخدا! یہ صورت تو مجھے بھی پیش آتی ہے چنانچہ میں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے کہا:یا رسول اللہ! حنظلہ تو منافق ہوگیا۔ فرمایا:کیا بات ہوئی؟عرض کیا:یا رسول اللہﷺ ! ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں، آہ ہمیں جنت و دوزخ کی یاددلاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم سر کی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہے ہیں، پھر جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر گھروں میں جاتے ہیں اور بیوی بچوں میں مشغول ہوتے ہیں تو نسیان اور غفلت کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online