Bismillah

671

۲۸ربیع الاول تا۴ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۷تا۱۳دسمبر۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 663

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 663)

چنانچہ اس نے لوہا اور تانبا استعمال کر کے اس پھاٹک کو بند کردیا اور دھات کی ایک سد قائم کردی جس کے آثار و نشان اس وقت بھی موجود ہیں، چنانچہ ہیروڈوٹس اور زنبو فن دونوں یونانی مؤرخ تصریح کرتے ہیں کہ گورش نے فتح لیڈیا کے بعد سیتھین قوم کے سرحدی حملوں کی روک تھام کے لیے خاص انتظامات کیے۔

 اور یہ حقیقت عن قریب واضح ہوجائے گی کہ گورش کے زمانہ میں یاجوج و ماجوج قبائل میں سے یہی سیتھین تھے جو حملہ آور ہو کر قریب کی آبادیوں کو تاخت و تاراج کرتے رہتے تھے۔

 فتح بابل

اب جبکہ گورش یا خورس کی فتوحات اس درجہ وسیع ہوچکی تھیں کہ ایران کے مغرب اقصیٰ میں وہ بحر شمال سے لے کر بحیرئہ اسود( بحر الجین) کے آخری ساحل تک قابض تھا اور مشرقی اقصیٰ میں مکران کے پہاڑوں تک بلکہ داراکے رقبۂ حکومت کی تفاصیل کو مستند مان لیا جائے تو دریائے سندھ تک فتح کر چکا تھا اور شمال میں کاکیشیا کے پہاڑی سلسلہ تک حکمران تھا تو اس کو عراق کی مشہور اور متمدن مگر قاہر و جابر حکومت بابل کی جانب متوجہ ہونا پڑا چنانچہ اس کی تفصیل بھی تاریخ ہی کی زبانی سنئے:

’’خورس سے تقریباً پچاس برس پہلے بابل کی حکومت پر بنو کدنذر( بخت نصر) نظر آتا ہے اور اس زمانہ کے ضمنی عقائد کے مطابق وہ نہ صرف بادشاہ تھا بلکہ بابلی اصنام میں سے سب سے بڑے صنم کا مظہر اور دیوتا بھی سمجھا جاتا تھا اور اس لیے اس کا حق تھا کہ وہ جس حکومت کو چاہے اپنے قہر و غضب کا شکار بنا کر اس کے باشندوں کو ہولناک اور سخت عذاب میں مبتلا کرے ان کو ہلاک کر ے یا غلام بنا کر ان پر وحشیانہ مظالم کو روارکھے، اس لیے اس بادشاہ کے مظالم بے پناہ اور اس کا تسخیر ممالک کا طریقہ سخت و حشیانہ تھا جیساکہ گذشتہ سطور میں بیان ہوچکا ہے اس نے اپنے دور حکومت میں یروشلم( بیت المقدس) پر تین مرتبہ حملے کیے اور فلسطین تباہ و برباد کر کے تمام باشندوں کو مویشیوں کی طرح ہنکا کر بابل لے گیا ایک یہودی مؤرخ جو زیفس کہتا ہے کہ کئی سخت سے سخت بے رحم قصائی بھی اس وحشت و خونخواری کے ساتھ بھیڑوں کو مذبح میں نہیں لے جاتا جس طرح بنو کدنذر بنی اسرائیل کو بابل میں ہنکا کر لے گیا( دائرۃ المعارف للبستانی (بابل))

بابل کی حکومت اومشوری حکومت کی تباہی کے بعد اور بھی زیادہ مضبوط اور قاہر سلطنت ہوگئی تھی اور اس زمانہ میں قرب و جوار کی طاقتوں میں کسی کو بھی یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس جابر حکومت کے قہر وظلم کا استیصال کر سکیں لیکن فتح بیت المقدس کے کچھ عرصہ بعد بخت نصر مرگیا اور اس کا جانشین نایونی دس مقرر ہوا مگر اس نے حکومت کا تمام بارشاہی خاندان کے ایک شخص بیل شازار پر ڈال دیا یہ شخص اگر چہ بہت عیاش اور ظالم تھا مگر بخت نصر کی طرح بہادر اور جری نہیں تھا اس کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے قیدیوں میں سے حضرت دانیال علیہ السلام نے اپنی حکیمانہ فراست سے بابلی دربار کو اس درجہ مسخر کرلیا تھا کہ وہ حکومت کے مشیر خاص سمجھے جاتے تھے، حضرت دانیال نے بیل شازار کو بار بار اس کے مظالم اور عیاشیانہ زندگی کے خلاف تہدید و تنبیہ کی مگر اس نے کچھ شنوائی نہیں کی حتیٰ کہ انہوں نے حکومت کے معاملات سے کنارہ کشی کرلی۔

توراۃ کے بیان کے مطابق اسی زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ بیل شازار نے اپنی ملکہ کے اکسانے پر ایک شب یہ حکم دیا کہ یروشلم سے جو ہیکل کے مقدس ظروف بنو کدنذر لوٹ کر لایا تھا وہ لائے جائیں اور ان میں شراب پلائی جائے۔ یہ جشن ہو ہی رہا تھا کہ کسی غیبی ہاتھ نے بادشاہ کے سامنے دیوار پر ایک نوشتہ لکھ دیا تو راۃ میں ہے:

اسی گھڑی میں کسی آدمی کے ہاتھ کی انگلیاں ظاہر ہوئیں اور انہوں نے شمعدان کے مقابل بادشاہی محل کی دیوار کے گچ پر لکھا اور بادشاہ نے ہاتھ کا وہ سرا جو لکھا تھا دیکھا تب بادشاہ کا چہرہ متغیر ہوا اور اس کے اندیشوں نے اسے گھبرادیا۔ اور نوشتہ جو لکھا گیا سویہ ہے ’’منے منے تقیل اوفیر سین‘‘( دانیال کا صحیفہ باب ۵ ب آیات ۲۵۔۵)

تب شاہ نے گھبرا کر نجومیوں اور فال گیروں کو بلایا مگر کوئی اس کا مطلب نہ بتا سکا آخر ملکہ کے مشورہ سے دانیال علیہ السلام کو بلایا انہوں نے اول اس کے مظالم اور اس کی عیاشی کے خلاف پندونصیحت فرمائی پھر بتایا کہ تونے چونکہ بیت المقدس کے ظروف کی توہین کر کے اس ظلم کی تکمیل کردی اس لیے نوشتہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے تیری مملکت کا حساب کیا اور اسے تمام کرڈالا تو ترازو میں تو لاگیا اور کم نکلا تیری مملکت پارہ پارہ ہوئی اور مادیوں اور فارسیوں کو دے د ی گئی۔

ادھر یہ واقعہ پیش آیا کہ اہل بابل عرصہ سے بیل شازار کے مظالم سے چھٹکارا پانے کی تجویزیں سوچ رہے تھے کہ ان کے بعض سرداروں نے مشورہ کیا کہ قریب کی زبردست طاقت ایران سے مدد حاصل کی جائے اور اس کے عادل فرماں روا سے یہ عرض کیا جائے کہ وہ ہم کو بیل شازار کے مظالم سے نجات دلائے اور اس کو یہ اطمینان دلایاجائے کہ اہل بابل ہر طرح اس کی مدد کرنے کو آمادہ ہیں چنانچہ ۵۴؁ ق م بابلی سرداروں کا ایک وفد خورس کے پاس اس وقت پہنچا جبکہ وہ اپنی مشرقی مہم میں مصروف تھا خورس نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو اطمینان دلایا کہ وہ اپنی اس مہم سے فارغ ہو کر ضرور بابل پر حملہ کرے گا اور ان کو بیل شازار جیسے ظالم و عیاش بادشاہ سے نجات دلائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online